محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ از بنت فضل الحق، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
دورِ حاضر میں
دیکھا جائے تو غالباً یوں کہا جا سکتا ہے مسلمانوں کی اکثریت مہنگائی کی زد میں ہے
غریب طبقہ پریشان اور مایوسی کا شکار ہے کیونکہ آمدنی محدود ہوتی ہے لیکن اخراجات
زیادہ ہوتے ہیں یوں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ گھر کے گھر برباد ہو رہے ہوتے ہیں
کسی کی زوجہ شوہر کو کم آمدنی پر ستاتی ، طعنے دیتی ، اور زیادہ پیسوں کا مطالبہ کرتی ہے ، تو کسی کے
بچے اپنی فرمائشیں پوری نہ ہونے پر والد کو ستاتے اور بے چین رکھتے ہیں یوں مایوسی
کے سبب بعض اوقات خود کشی کرنے کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں اس سلسلے میں الحمدلله
دینِ اسلام کفایت شعاری کا درس دیتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔
مشہور کہاوت
ہے ’’ضرورت‘‘ تو فقیر کی بھی پوری ہوجاتی ہے لیکن ’’خواہش‘‘بادشاہ کی بھی پوری
نہیں ہو پاتی ۔
امامِ اعظم
ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شہزادے کو نصیحت فرمائی : اپنے پاس موجود مال میں
حُسنِ تدبیر (یعنی کفایت شِعاری) سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا ۔ (1)
کفایت شعاری
خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ ، اور فضول خرچی بربادی کا پیشِ خیمہ ہے ،
دینِ اسلام ہمیں دین و دنیا کے تمام معاملات میں بہترین انداز کی طرف گامزن کرتا
ہے ، دینِ اسلام ہمیں اخراجات میں کفایت شعاری کا درس دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی
کی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں۔
پیارے آقا ﷺ
نے فرمایا : خرچ میں مِیانہ رَوی آدھی زندگی ہے۔ (2)
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : خوش حالی کا دار و مدار
دو چیزوں پر ہے: (1) کمانا (2) خرچ کرنا ۔
مگر اِن دونوں
میں ”خرچ کرنا“ بہت ہی کمال ہے ، کمانا سب جانتے ہیں ، خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا
ہے ، جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ ان شاء الله ہمیشہ خوش رہے گا۔ (3)
کفایت شعاری
سے کام لینا اخراجات میں میانہ روی ہے ، انسان کو چاہئے کہ مال و دولت کو ضرورت کے
مطابق خرچ کرے ، کیونکہ اخراجات میں میانہ روی ، اِسراف اور بخل کے درمیان کی راہ
ہے ، جیسا کہ آقا ﷺ نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرنے والا کبھی مفلس نہیں ہوتا۔
(4)
دیکھا جائے تو
گاڑی ہمیشہ دو پہیوں سے چلتی ہے لہٰذا مرد و عورت دونوں کو میانہ روی اختیار کرنی
چاہئے کہ اگر شوہر کی آمدنی کم ہو تو عورت کو صبر کرنا چاہئے اپنے شوہر کی ہمت
بندھانی چاہئے اسکی ڈھال بننا چاہئے نہ کہ طعنے دے ذلیل کرنا چاہئے ایسی عورتیں
دنیا میں بھی پچھتاتی ہیں اور آخرت بھی خراب کرتی ، اسی طرح شوہر کو بھی چاہئے
اپنی طرف سے کمی نہ کرے ، بعض اوقات عورت حق پر ہوتی مرد ہی سست ہوتا ہے لہٰذا مرد
کو بھی چاہئے حلال کما کر اپنے بیوی بچوں کی کفالت کر کے ثواب کا حق دار بنے۔
حوالہ
جات:
(1) امام اعظم
کی وصیتیں، ص 32
(2) معجم
الاوسط ، 5 / 108 ، حدیث : 6744
(3) مراٰۃ
المناجیح ، 6 / 634
(4) مسند احمد
، 3 / 157 ، حدیث : 4269
موضوع کا نام
پڑھ کر آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ آج جو موضوع
ہے اس کی اکثر ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ محدود، معین، کم ، جس سے قیمتی آسائشات ہم نہ
خرید سکے اس آمدنی کا بجٹ کیا ہونا چاہیے؟اب اگر میں آپکو کوئی پلان بتا دوں کہ
اتنے پیسے رکھ لیجئے اتنے پیسے خرچ کر لیں اور آپ کچھ دن بعد فکر مند ہوں گے کہ
کیا کریں خرچے پورے نہیں ہو رہے سارے ہی لگ رہے ہمارے پاس پیسے بچ نہیں رہے کیا
کریں؟ کیونکہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ منصوبہ (plan)
کیا بنانا ہے جس سے فائدہ ہو اس لئے آپ کو خوداپنا پلان بنانا ہوگا میں آپکو چند
باتیں(Tips)
بتاؤں گی۔ سب سے پہلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ ہے اپنے منصوبے (plan)
کو سر پے سوار نہیں کرنا کہ میں کیا کروں میں نے تو یہاں لگانے تھے یہ یہاں لگ
گئے۔
دوسرا کام:
پہچانیے کہ
1۔ آپ کی
ضرورت کیا ہے؟ جیسے کپڑے کھانا گھر۔ اگر آپ ایک لڑکی ہیں اور آپکے ابو یا شوہر ہیں
تو یہ چیز ان پر لازم ہے کہ وہ کیسے آپکو کھلائیں گے ضرورت کے کپڑے لے کر دیں گے
آپ پر نہیں۔ اللہ پاک نے ان پر یہ ذمہ داری لگائی ہے۔ دوسروں کی ذمہ داری کا بوجھ
نہ اٹھائیں۔ ان سے سوال کریں کہ یہ میری ضرورت ہے۔
2۔ آپکو آسانی
کیلئے کیا چاہیے؟جیسے زیادہ کپڑے،زیادہ جوتے، زیادہ عبایا وغیرہا۔ اگر آپکے ابو یا
شوہر نہیں دیتے تو یہ آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔
3۔ آپکی
خواہشات (اچھی نیت والی جائز خواہشات) جیسے مہنگے کپڑے، مہنگی گاڑی، مہنگا گھر
وغیرہا۔
تیسرا کام:
اللہ کی راہ میں دیں اور بہت زیادہ دیں اتنا جس سے آپکا دل تنگ نہ ہو۔ جب آپ مال
کو جانے دیتے ہیں تو یہ آپکے پاس آتا ہی رہتا ہے۔ جب آپ اسے روک لیں تو اس میں سے
برکت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ کسی برتن میں پڑا پانی خراب ہو جاتا ہے اگر اس پانی کو
ہم خرچ نہیں کریں گے صرف رکھ دیں گے یا پھر اچھی جگہ خرچ نہیں کریں گے تو وہ زیادہ
اور اہم فائدہ نہیں دے گا۔ پانی کو اگر کسی اچھے پودے کی آبیاری کیلئے استعمال
کریں گے تو وہ پودا آپکو فائدہ دے گا اور اگر اس پانی کو محض برتن دھونے کیلئے
استعمال کریں گے تو اتنا فائدہ نہیں دے گا۔
چوتھا کام: جب
بازار جائیں تو گھر سے سامان لکھ کر لے کر جائیں کہ کیا کیا چاہیے اور جو چیز آپکو
نئی لگے اسے نا خریدیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ آپکو اس چیز کا اسی لئے نہیں معلوم
کہ وہ آپکی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی بھی چیز خریدنے سے پہلے سوچیں کہ یہ اس قابل ہے کہ
اتنے گھنٹے یا دنوں کی کمائی اس پر خرچ کی جائے جیسے کوئی دن کا 3 ہزار کماتا ہے
اور 3 گھنٹے کام کر کے کماتا ہے۔ تو کیا 10 ہزار والا سوٹ اس قابل ہے کہ آپ اپنے
یا اپنے کفیل کے 10 گھنٹے کی کمائی سے یہ خریدیں؟ ایک چیز جو ہم میں ہے وہ ہے
چیزوں کو زیادہ مقدار میں خریدنا (راشن وغیرہا کی بات الگ ہے) جیسے اب کوئی بازار گیا
اور ایک چھری 50 کی تھی وہ 10 لے آیا کہ بعد میں کام آئے گی۔ اب ضرورت تو صرف 2 کی
تھی مگر یہ باقی آٹھ بعد کیلئے رکھ دی یہ فائدہ مند نہیں ہے۔ 400 روپے آپ بچا سکتے
تھے یا کسی اور اہم چیز میں خرچ کر سکتے تھے۔
پانچواں کام:
اگر خرچے بڑھ رہے ہیں تو اپنے کمانے کے وسائل زیادہ بنائیں۔آج کے دور میں ایک کام
سے گھر مشکل سے چلتے ہیں۔ مگر وہ وسائل اپنائے جن کو آپ کر سکتے ہو جن کے آپ اہل
ہو۔معتدل انداز میں خرچ کریں۔
پیسوں کو ہاتھ
میں روک کر نہ رکھیں۔ اگر اللہ پاک نے دیا ہے تو اس کی راہ میں خرچ کریں اچھی نیت
کیساتھ اس کی نعمت کا اظہار بھی کریں اور اگر آپ کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں مطلب
آپ اس کے اہل نہیں تھے ابھی جب اہل ہوں گے مال بھی مل جائے گا۔ کوشش کرتے رہیےیقین
کیساتھ وظائف پڑھیے دعا مانگئے۔
وظیفہ:
کاغذ
پر 35 مرتبہ تسمیہ(بسم اللہ) لکھ کر گھر میں لٹکا دیجئے، رزق حلال میں خوب برکت
ہوگی۔ ان شاء اللہ
یا رزّاق ہمیں
اپنے خزانوں میں سے عطا فرما۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
نیکی کے کاموں کے لئے قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی
کو دیں ، امیر اہلسنت کی اپیل
07ذو
الحجۃ الحرام 1447ھ بمطابق 23 مئی 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں
پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل
شرکت کی۔
مذاکرہ
کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے
ہوا جس کے بعد عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ
اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور
عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی کی۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال: قربانی کی کھالیں جمع کرنے اورکروانے کے بارے میں امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
مدنی پھول عطافرمائے ۔
جواب:تمام عاشقان رسول ثواب کی نیت سے اپنے ہاں ہونے والی قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کو دیں ،دعوتِ اسلامی بہت سے دینی کام کرتی ہے ،اس میں آپ کا بھی
حصہ شامل ہوجائے گا۔اللہ پاک کی رضا کے لیے کھالیں جمع بھی کرنی ہیں۔عموماً لوگ آکر
کھالیں جمع نہیں کرواتے، جاجاکر جمع کرنی ہوں گی ،آپ عاشقانِ رسول سے ملاقات کریں اوران کی قربانی کی کھالیں بک کریں ۔خود بھی نیت کریں کہ جب تک
زندگی ہے،دعوت اسلامی کے لیے کھالیں جمع کروں گا اوردینے والے بھی نیت کرلیں کہ
زندگی بھر اپنے قربانی کےجانورکی کھال دعوتِ اسلامی کودُوں گا،اس نیت کا بھی ثواب
ملے گا۔ان شاء اللہ الکریم
عام
طورپرکھالیں جمع کرنے والوں کے کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں ،پاک کپڑوں کا جوڑاشاپر میں ساتھ رکھیں ،کھالیں جمع کرنے کےدوران بھی پاک
کپڑے پہن کر باجماعت
نمازاداکریں ،کوئی بھی نمازقضا نہیں ہونی
چاہئے،چاہے کیسی ہی مصروفیت ہو ۔
سوال: قربانی کی کھالیں اورقربانی کاگوشت ضائع نہ ہو، اس
کے لیے کیا احتیاط کریں؟
جواب: آج کل گرمی ہے ،اس لیے قربانی کی کھالوں کو پھیلاکرالگ الگ رکھیں،کھال کو
فوراً نمک لگادیں۔قربانی کا گوشت برف میں
رکھیں ،اس کے لیے بڑے برتن کا استعمال کریں،گوشت کے چاروں طرف برف رکھ دیں اورگوشت
کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں ۔چھوٹے پیکٹ بنا کرفریزرمیں رکھیں ۔گوشت کوہمیشہ کے لیے
محفوظ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ
پاک کی رِضا کے لیے عاشقان ِرسول میں تقسیم کردیں ،یہ نیکی ہے اورنیکی ہمیشہ کے
لیے باقی رہتی ہے ۔جو بَٹ گیا(یعنی غریبوں میں
تقسیم ہوگیا) وہ
بچ گیا جو کھالیا وہ فنا ہوگیا۔
سوال: بچےبکرے
کو گھُماتے ہوئے کیا احتیاط کریں ؟
جواب:اس کی دُم اورکان نہ کھینچیں ،رسی بھی زورسے نہ کھینچیں کہ جس سے تکلیف ہواوریہ آپ کو بھی تکلیف نہ دے
۔
سوال: بڑی
عمروالوں کو کون سے شوز (Shoes)پہننے
چاہئیں؟
جواب: میڈیکیٹڈ شوز(Medicated
Shoes) استعمال کریں،ان میں پھسلنے کے چانس کم ہوتے ہیں اورچلنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔
سوال: سوداخریدتے ہوئے بھاؤکم کروانا کیسا ؟
جواب: یہ سنت ہے ،کم کروانے والا بہت کم قیمت بتائے تو دوکاندارکو ناراض نہیں ہونا چاہئے ۔کم زیادہ کروانے
میں دوکانداراورخریدارکو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ۔
سوال: قربانی کے
جانورکے گوشت کے کتنے حصے
کرنےچاہئیں؟
جواب: قربانی کرنے والا تمام گوشت کا مالک ہے ،اس کے لیے اس کے3 حصے کرنا مستحب ہے ،ایک اپنے لیے ،ایک فقراء(غریبوں) کے لیےاور ایک رشتے داروں کے لیے ۔اگرکوئی ساراگوشت اپنے پاس ہی رکھ
لے توبھی جائزہے،اُسے بُرا نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے بُراکہنا بُراہے ۔
سوال: جانورسرکشی نہ کرے ،اس کے لیے کوئی وظیفہ
بتادیں ؟
جواب: نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے
غلاموں، جانوروں اور بچوں میں سے کسی کا اخلاق بِگڑ جائے (یعنی وہ سرکش و نافرمان ہو جائے)، تو اس کے کان میں (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ
اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ
یُرْجَعُوْنَ) پڑھو۔
(المعجم الاوسط، جلد 1، صفحہ 27،
رقم الحدیث: 64، الدعوات الکبیر للبیہقی، جلد 2، صفحہ 264، رقم الحدیث: 615)
سوال: جانورکو
ذَبح کرتے وقت کیا پڑھنا ہوتاہے؟
جواب: اللہ
پاک کا نام لیا جائے ،بِسْمِ اللّٰهِ
اَللّٰهُ اَکْبَرپڑھنامُستحب ہے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ فضول
باتوں سے بچنے کی فضیلت ‘‘ پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا ربَّ المصطفٰے! جو کوئی 18 صفحات کارسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی
فضیلت“ پڑھ یا سُن لے، اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ
مدینہ کا شرف عطا فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی دینی و دنیاوی ہر معاملے میں احسن
انداز میں راہنمائی کرتا ہے اور جو ان تعلیمات پر عمل کرتا ہے وہ دنیاوی و اخروی
زندگی میں سرخرو ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ہماری زندگی کا ایک پہلو خانگی و عائلی
معاملات میں میانہ روی اختیار کرنا بھی ہے اگر ان میں اسراف و فضولیات سے نہ بچا
جائے تو ایک پرسکون زندگی محض خواب ہی لگتی ہے۔
اللہ رب العزت
نے اپنے کلامِ عظیم میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ
الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) (پ
8، الانعام:141) ترجمہ کنز الایمان: اور بےجا نہ خرچو بےشک بے جا خرچنے والے اسے
پسند نہیں۔
اس آیت مبارکہ
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اسراف سے متعلق مختلف اقوال ہیں: حضرت سفیان
ثوری کا قول ہے کہ اللہ کی اطاعت کے سوا اور کام میں جو مال خرچ کیا جائے وہ قلیل
بھی ہو تو اسراف ہے۔ امام زہری کا قول ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ معصیت میں خرچ
نہ کرو۔ امام مجاہد نے کہا کہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرنا اسراف ہے۔ بروز محشر مال
کے متعلق سوال ہوگا اگرچہ کم ہو یا زیادہ چنانچہ مدینے والے آقا ﷺ کا ارشادِ پاک
ہے: قیامت کے دن انسان کے قدم نہ ہٹیں گے حتی کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے میں
سوال کیا جائے گا ( جن میں سے ایک) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور
کہاں خرچ کیا۔ (ترمذی، 4/188، حدیث: 2424)
مندرجہ بالا
باتوں سے یہ واضح ہوا کہ بلا شبہ ہمارا پیارا دین اسلام ہمیں میانہ روی ، صبر و
شکر اور قناعت کا درس دیتا ہے اگر دنیاوی معاملات میں زیادہ ملوث ہوں تو اخراجات
خود بخود بڑھ جاتے ہیں چاہے آمدنی لاکھوں میں ہو یا چاہے کمانے والے ایک سے زائد
ہی کیوں نہ ہوں فضول خرچی کی عادت سے محدود آمدنی میں اچھا گزر بسر کرنا انتہائی
مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی ضروریات کے مطابق گھر کا بجٹ بنائیں اور اس
پر سختی سے عمل بھی کریں تو نہ صرف ایک خوشگوار زندگی کا وجود عمل میں آ سکتا ہے بلکہ
ماہانہ کچھ نہ کچھ بچت بھی ممکن ہے یہاں اس حوالے سے چند نکات پیش خدمت ہیں:
آمدنی
اور اخراجات کا توازن: اسلام اسراف اور فضول خرچی سے سختی سے منع کرتا ہے۔
جیسا اوپر آیت مبارکہ ذکر کی گئی اس لیے آمدنی کے مطابق ضروری اور جائز اخراجات کو
ترجیح دیں، غیر ضروری چیزیں خریدنے سے پرہیز کریں۔
بجٹ
کی ترتیب: ہر
مہینے کی آمدنی اور متوقع اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھیں۔ بجٹ بناتے وقت راشن،
بلز، تعلیم، علاج، صفائی، مرمت اور صدقہ کے لیے مخصوص رقم مختص کریں گھر کے افراد
کی مشاورت سے اخراجات پر نظر رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
بچت
اور مستقبل کی منصوبہ بندی: اسلام منصوبہ بندی اور بچت کی ہدایت
دیتا ہے تاکہ ناگہانی اخراجات یا مشکل وقت میں پریشانی نہ ہو۔ کم آمدنی میں بچت
کرنا مشکل ضرور ہے، لیکن اگر ضروری اخراجات کو ترجیح دیں اور غیر ضروری اخراجات کم
کرلیں تو بچت ممکن ہے۔
آمدنی
میں برکت کے ذرائع: اسلامی تعلیمات کے مطابق رزق میں برکت کے لئے کھانے
سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونا، گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا، سچ بولنا، بسم
اللہ پڑھ کر کھانا اور باجماعت نماز پڑھنا رزق میں برکت لاتا ہے۔
راہِ
خدا میں خرچ کرنا: اسلام میں صدقہ اور خیرات کو بڑا اہم مقام حاصل ہے۔
محدود آمدنی کے باوجود کچھ رقم اللہ کی راہ میں خرچ کریں، کیونکہ صدقہ برکت اور
امن کا ذریعہ بنتا ہے صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے بڑی موت سے بچاتا ہے۔
اصولِ
کفایت شعاری: آمدنی
کم ہو تو مہنگے علاقوں یا غیر ضروری چیزوں سے پرہیز کی جائے، سستے علاقے میں گھر
لیا جائے، سادگی سے زندگی گزاری جائے اور اخراجات میں توازن رکھا جائے۔
الغرض اسلامی
تعلیمات کے مطابق بجٹ بنا کر، اخراجات میں میانہ روی اپنا کر، راہِ خدا میں خرچ کر
کے اور رزق میں برکت کے اصولوں پر عمل کر کے محدود آمدنی میں بھی سکون اور خوش
حالی کے ساتھ زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔
علاقہ کلاس والا، تحصیل پسرور میں مولانا ضیاء الدین مدنی کے عرس
کا عظیم الشان اجتماع
خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت قطبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین
مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے آبائی علاقے کلاس والا، تحصیل پسرور میں اِن کے عرس کے موقع
پر ایک عظیم الشان اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس میں قرب و جوار سے کثیر عاشقانِ
رسول اور ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی نے شرکت
کی۔
اس موقع پر تلاوتِ قرآن و نعتِ شریف کے بعد دعوتِ
اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن مولانا حاجی محمد اسد عطاری مدنی نے بیان کیا
جس میں انہوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی سیرت کے حوالے سے روشنی ڈالی اور حاضرین کو دینِ
اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دلائی۔
خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت کی مولانا عارف عطاری مدنی کی زوجہ کے انتقال پر اُن سے تعزیت
18 مئی 2026ء کو خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت حضرت
مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نےشعبہ جامعۃالمدینہ بوائز کے رکن مولانا عارف عطاری مدنی کی زوجہ کے انتقال پر اُن کے گھر جا کر تعزیت کی۔
اس موقع
پر خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی کے ہمراہ رکنِ مرکزی مجلسِ شوری حاجی فضیل رضا عطاری سمیت دیگر اہم ذمہ دار اسلامی بھائی
بھی موجود تھے۔
خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت مدظلہ العالی نے مرحومہ کے لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا
فرمائے نیز انہوں نے مولانا عارف عطاری مدنی اور دیگر اہلِ خانہ کو صبر و استقامت
کی تلقین بھی فرمائی۔
خلیفۂ امیرِ اہل سنت کی جامعۃالمدینہ گرلز فیضانِ سیّدہ آمنہ (نکیال،
کشمیری) آمد
نکیال، کشمیر:
پچھلے
دنوں دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں خلیفۂ امیرِ اہل سنت حضرت مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ
العالی نے کشمیری
علاقے نکیال کی 4 ہزار 700 فٹ کی بلند چوٹی پر واقع جامعۃالمدینہ گرلز فیضانِ سیّدہ
آمنہ رضی اللہ عنہا کا دورہ کیا۔
اس موقع پر خلیفۂ امیرِاہل سنت نے بتایاکہ امیرِاہل
سنت مولانا الیاس عطار قادری دَامَتْ
بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی یہ
خواہش ہے کہ ہر گھر میں ایک عالم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماں عالمہ ہو گی
تو بچے نمازی بنیں گے کیونکہ بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ان شاء اللہ الکریم ایک ماہ کے اندر درسِ نظامی کا آغاز کیا
جائے گا جس کے بعد اگلے سال دورۃالحدیث شریف کا بھی انعقاد کیا جائے گا نیز انہوں
نے واضح کیا کہ درسِ نظامی کا کورس صرف بچیوں کے لیے نہیں بلکہ بڑی عمر کی اسلامی
بہنیں بھی اس کورس میں داخلہ لے سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ وہاں موجود رکنِ شوریٰ حاجی سیّد ابراہیم
عطاری نے کہا کہ جو اسلامی بہنیں درسِ نظامی نہیں کر سکتیں وہ فیضانِ صحابیات میں
ہونے والے مختلف کورسز میں حصہ لے سکتی ہیں، جو کہ تین منزلہ عمارت نیچے واقع ہے۔
دعوتِ اسلامی کی اس اہم کوشش کے ذریعے علاقے میں
علم و عمل کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔ تمام اسلامی بہنوں اور طالبات سے درخواست ہے
کہ جلد از جلد داخلہ لے کر فیضانِ علم سے مستفید ہوں۔
تراڑکھل ، کشمیر ، 13
مئی 202ء:
تراڑ کھل کشمیر میں قائم اسپیشل پرسنز کے ڈیف ریچ
(Deaf Reach)اسکول میں ایک ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد
بچوں کو اساتذہ کا ادب و احترام کرنے اور چوری کرنے کے عذاب کے بارے میں بتانا تھا۔
امام مساجد و ذمہ داران (Europe) کے لیے ”احکام
قربانی واجتماعی قربانی کورس“ کا اہتمام
19 مئی 2026 کو انٹرنیشنل افئیرز امام مساجد ڈیپارٹمنٹ کے تحت
Europe ، UK اور USA کے امام مساجد و ذمہ داران کےلیے ”احکام
قربانی واجتماعی قربانی کورس“ کا اہتمام کیا گیا ۔
اس کورس میں رکنِ شوری ٰ مولانا حاجی محمد عقیل
عطاری مدنی نے امام مساجد اور ذمہ داران کو قربانی کے بنیادی احکام، قربانی واجب
ہونے کی شرائط، قربانی کے جانور کی عمر و شرائط، قربانی کے وقت اور اجتماعی قربانی
کے احکام و احتیاطیں آسان و مؤثر انداز میں سکھائیں۔
کورس کے دوران رکنِ شوریٰ کا کہنا تھا کہ امام
مساجد و ذمہ داران یہی کورس مقرر کرکے اپنی مساجد و جائے نماز میں مقتدیوں اور اہلِ علاقہ کو قربانی کے احکام کو
سمجھائیں اور یہ نیت کریں کہ یہ علم دوسروں تک پہنچائیں گے۔
اس کورس کا مقصد ذمہ داران کو قربانی کے شرعی
احکام سے روشناس کرانا اور ان کی عملی تربیت کرنا تھا تاکہ وہ اپنے علاقے میں دینی
و تنظیمی فریضہ احسن انداز میں انجام دے سکیں۔(رپورٹ:مولانا محمد عابد عطاری مدنی معاون رکن شوری حاجی
محمد عقیل عطاری مدنی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
امام مساجد و ذمہ داران (آسٹریلیا) کے لیے
”احکام قربانی واجتماعی قربانی کورس“ کا اہتمام
انٹرنیشنل افئیرز امام مساجد ڈیپارٹمنٹ کے تحت 19
مئی 2026 کو آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،نیپال،بنگلہ
دیش،عمان،بحرین اور قطر کے امام مساجد و ذمہ داران کےلیے ”احکام قربانی واجتماعی قربانی کورس“ کا
اہتمام کیا گیا ۔
اس کورس میں رکنِ شوری ٰ مولانا حاجی محمد عقیل
عطاری مدنی نے امام مساجد اور ذمہ داران کو قربانی کے بنیادی احکام، قربانی واجب
ہونے کی شرائط، قربانی کے جانور کی عمر و شرائط، قربانی کے وقت اور اجتماعی قربانی
کے احکام و احتیاطیں آسان و مؤثر انداز میں سکھائیں۔
کورس کے دوران رکنِ شوریٰ کا کہنا تھا کہ امام
مساجد و ذمہ داران یہی کورس مقرر کرکے اپنی مساجد و جائے نماز میں مقتدیوں اور اہلِ علاقہ کو قربانی کے احکام کو
سمجھائیں اور یہ نیت کریں کہ یہ علم دوسروں تک پہنچائیں گے۔
اس کورس کا مقصد ذمہ داران کو قربانی کے شرعی
احکام سے روشناس کرانا اور ان کی عملی تربیت کرنا تھا تاکہ وہ اپنے علاقے میں دینی
و تنظیمی فریضہ احسن انداز میں انجام دے سکیں۔(رپورٹ:مولانا محمد عابد عطاری مدنی معاون رکن شوری حاجی
محمد عقیل عطاری مدنی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
امام مساجد و ذمہ داران (ہانگ
کانگ) کے لیے ”احکام قربانی واجتماعی قربانی کورس“ کا
اہتمام
انٹرنیشنل افئیرز امام مساجد ڈیپارٹمنٹ کے تحت19
مئی 2026 کو ہانگ کانگ، ساوتھ کوریا،
تھائی لینڈ اور جاپان کے امام مساجد و ذمہ داران کے درمیان ”احکام قربانی
واجتماعی قربانی کورس“ کا اہتمام کیا گیا ۔
اس کورس میں رکنِ شوری ٰ مولانا حاجی محمد عقیل
عطاری مدنی نے امام مساجد اور ذمہ داران کو قربانی کے بنیادی احکام، قربانی واجب
ہونے کی شرائط، قربانی کے جانور کی عمر و شرائط، قربانی کے وقت اور اجتماعی قربانی
کے احکام و احتیاطیں آسان و مؤثر انداز میں سکھائیں۔
کورس کے دوران رکنِ شوریٰ کا کہنا تھا کہ امام
مساجد و ذمہ داران یہی کورس مقرر کرکے اپنی مساجد و جائے نماز میں مقتدیوں اور اہلِ علاقہ کو قربانی کے احکام کو
سمجھائیں اور یہ نیت کریں کہ یہ علم دوسروں تک پہنچائیں گے۔
8 مئی 2026ء، اوکاڑہ شہر:
دعوتِ اسلامی کے تعلیمی شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی
بوائز کے تحت اوکاڑہ شہر میں ایک مدنی
مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں شعبے کے شفٹ ذمہ داران نے شرکت کی جس میں دینی اور تنظیمی امور کی بہتری کے لیے کلام کیا
گیا۔
اس مدنی مشورے میں ڈویژن ذمہ دار مولانا
عبدالرؤف عطاری مدنی نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو قافلے کے نظام، اجتماعی قربانی
اور ہوم ڈیلیوری سروس کے اہم امور پر مشاورت کی۔
Dawateislami