اللہ پاک نے اس کائنات میں کئی طرح کی مخلوقات کو وجود بخشا ہے۔ان تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ سب سے اعلیٰ مخلوق ہےجسے اللہ پاک نے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرمایا اور اس کی عظمت و وقار کو بلند کیا ہے۔اگر انسان کا موازنہ دیگر مخلوقات سے کیا جائے تو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ انسان میں روز بروز ترقی کرنے کی خواہش اور آرزو بھی زیادہ ہے۔انسان اپنی فکر اور شعور کے ذریعے کائنات کی تسخیر میں مسلسل لگا ہوا ہے اور نئی نئی چیزوں کی ایجاد میں زندگی صرف کر رہا ہے۔کسی نے سچ کہا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

دورِ جدید میں اسی ایجاد کا ایک حصہ موبائل فون بھی ہے جس نے موجودہ دور کے انسانوں کو ہر طرح سے اپنے جال میں جکڑ رکھا ہے۔نوجوان،بچے اور بوڑھے ہی کیوں نہ ہوں آج کل ہر کوئی اسمارٹ فون استعمال کرنے کا عادی ہے اور یہ عادت انسان کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

اسمارٹ فون کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنا ہمیں آنکھوں اور سر درد کے مسائل سمیت مختلف بیماریوں کی طرف لے جاتا ہے۔

1-چھوٹے بچوں پر موبائل فون کے برے اثرات:

آج ایسا کوئی گھر نہیں بچا جہاں ایک سال سے اوپر کے بچے موبائل فون کے عادی نہ بنے ہوں۔ایک دور ہوا کرتا تھا کہ گھروں سے صبح و شام بچے سیر کے لیے جایا کرتے تھے اور دادا،دادی کے ساتھ وقت گزارتے تھے جو انہیں کہانیاں سنایا کرتے تھے لیکن آج انہی مکانوں سے موبائل کی آوازیں گونجتی ہیں اور بچے گھنٹوں گھنٹوں اس میں مصروف ہیں۔آج کے دور میں ایسا کوئی گھر نہیں ہوگا جس گھر کے بچے موبائل دیکھے بغیر کھانا کھاتے ہوں۔ادھر ویڈیوز جاری ہے اور ماں لقمے پر لقمہ بچے کر منہ میں دے رہی ہے حالانکہ ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کا کھانا،کھانا یعنی موبائل کو دیکھتے ہوئے کھانا مینڈلس ایٹنگ(Mindless eating) کہلاتا ہے،بچے کو احساس ہی نہیں ہوتا میں کیا کھا رہا ہوں،کھانے کا ذائقہ کیسا ہے،کتنا کھا لیا،مجھے اور کتنا کھانا ہے،بس مسلسل وہ لقمے کو نگلتا رہتا ہے اور موبائل کی اسکرین کو دیکھتا رہتا ہے۔اس طرح چھوٹے بچوں کے کثرتِ موبائل کے استعمال سے طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔

2:موبائل فون کے مضر اثرات سے آگاہی:

یہ بہت ضروری ہے کہ گھر میں موجود بچوں کو موبائل فون کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بات چیت کر کے انہیں آگاہ کیا جائے تاکہ کوئی بھی موبائل فون کا زائد استعمال کرنے سے پہلے ایک بار اس کے نقصانات کے بارے میں ضرور سوچے۔

بچوں کو موبائل فون کی عادت سے چھٹکارا دلوانے کے لیے چند تجاویز پیش ِخدمت ہیں جن پر عمل کر کے آپ کافی حد تک اس عادت پر قابو پا نے میں کامیاب ہو سکتی ہیں:

1-بستر پر لیٹنے سے پہلے موبائل فون دور رکھ دیجیے:

اپنے گھر میں یہ اصول تمام افراد کے لیے مقرر کر دیں کہ رات میں بستر پر لیٹتےوقت ٹی وی اور موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ ہم سب سے زیادہ بستر پر سوتے وقت لیٹ کر موبائل فون استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ہماری عادت بن جاتی ہے جو صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔

2-پڑھنے کی عادت ڈالیے:

بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے لیے انہیں پڑھنے کی عادت ڈالیے۔اب پڑھنے کے بھی چند اصول ہیں۔اپنے بچوں کو دنیا جہان کی کتابیں اٹھا کر مت دیجیے بلکہ تقریری مہارتوں پر مبنی منطقی سوچ کے حوالے سے کتابیں مؤثر ثابت رہیں گی اور جب موقع ملے تو بچوں کو اچھی کہانیاں پڑھ کر سنائیے اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں ڈھالنے کی کوشش کیجیے۔

3-کھیلوں کی ترغیب دیجیے:

بچے اگر کھیلیں گے تو ان کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہو گا۔ کوشش کیجیے کہ بچوں کو باہر لے جائیے،ان کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کیجیے،ان کے ساتھ کھیلیے تاکہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات بن سکیں ۔یہ سرگرمی بھی بچوں کو موبائل فون سے دور رکھے گی۔

4-گھر کے کام میں مدد کیجیے:

گھر کے کاموں میں مدد کرنا بھی بچوں کو موبائل سے دور رکھ سکتا ہے اور جب وہ کام کریں گے تو ان کا وقت بھی اچھا گزرے گا اور کام میں مدد بھی ہو جائے گی۔اس طرح آپ وقت بھی بچا سکیں گی اور بچے کے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا ہوگا۔

5-تمام موبائل فونز بچوں کے کمروں سے باہر رکھیے:

موبائل فونز بچوں کے کمروں سے باہر رکھیے،رات کی نیند بچوں کی دماغی اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔تحقیق کے مطابق رات کو سونے کے دوران موبائل فون قریب ہونے سے بچوں کی نیند متاثر ہو سکتی ہے۔

6-موبائل فون استعمال کرنے کا وقت متعین کیجیے:

موبائل فون کا استعمال محدود کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ الیکٹرونک آلات پر پابندی عائد کر دی جائے لیکن جان لیجیے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال بچے کے دماغ کو غیر فعال کر سکتا ہے۔اس لیے حکمتِ عملی کے ساتھ شیڈول ضروری ہے۔صبح کے اوقات میں موبائل فون استعمال مت کیجیے کیونکہ اس وقت بچوں کا ذہن تازہ ہوتا ہے۔اللہ پاک ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

آج کے جدید دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔لیکن جب بات بچوں کی آتی ہے تو یہی سہولت ایک بڑی پریشانی کا باعث بن جاتی ہے۔بچوں کی موبائل سے بڑھتی ہوئی دلچسپی نہ صرف ان کی صحت اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ان کی ذہنی اور سماجی نشوونما کو بھی متاثر کرتی ہے۔والدین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کو اسکرین کے استعمال سے بچائیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف کچھ اصول بنائیں بلکہ انہیں عملی طور پر بھی اپنائیں۔موبائل فون کی دنیا سے باہر بھی بچوں کے لیے ایک خوبصورت اور دلچسپ دنیا موجود ہے جسے دریافت کرنا والدین کے لیے بہت ضروری ہے۔چنانچہ اس حوالے سے یہاں کچھ اہم نکات بیان کیے جاتے ہیں:

بچوں کے ساتھ وقت گزاریے:

y بچوں کے ساتھ وقت گزارنے سے ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ انہیں موبائل سے زیادہ آپ کی ضرورت ہے۔

y ایک ساتھ کھانا کھائیے یا گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ان کی مدد لیجیے۔

y ان کے اسکول کے کاموں میں دلچسپی لیجیے اور ان کی کامیابیوں پر ان کی تعریف کیجیے۔

حدیثِ مبارک میں ہے:اپنے اولاد کو 3 باتیں سکھاؤ:اپنے نبی کی محبت،اہل ِ بیت کی محبت اور قراءتِ قرآن ۔(صحابیات وصالحات کے اعلی اوصاف،ص109 )

ذاتی مثال قائم کیجیے:

f بچوں کے سامنے خود موبائل کا کم سے کم استعمال کیجیے۔جب وہ دیکھیں گے کہ آپ خود موبائل کا زیادہ استعمال نہیں کر رہے تو وہ بھی اس میں آپ کی نقل کریں گے ۔

f خود کھانے کے وقت اور فیملی کے ساتھ بیٹھے ہوئے موبائل کا استعمال مت کیجیے۔ بلکہ ان کے ساتھ وقت گزاریے۔

متبادل سرگرمیوں کو فروغ دیجئے:

موبائل فون کا بہترین متبادل یہ ہے کہ بچوں کو ایسی سرگرمیاں کروائی جائیں جن سے وہ لطف اندوز ہوں،مثلاً:

1) بچوں کے ساتھ کتابیں پڑھیے یا کوئی دلچسپ کھیل کھیلیے۔

2) بچوں کو گھر کے باہر لے جا کر کھیل کود،سائیکلنگ یا واکنگ کے لیے حوصلہ دیجیے۔

3) بچوں کو ڈرائنگ،پینٹنگ یا دوسرے تخلیقی کاموں میں مصروف رکھیے۔

اسکرین ٹائم کے قوانین بنائیے:

1) دن میں صرف ایک سے دو گھنٹے اسکرین ٹائم کی اجازت دیجیے۔

2) رات کو سونے سے ایک گھنٹہ پہلے موبائل فون کا استعمال بالکل بند کروا دیجیے۔

3) کھانے کے وقت موبائل فون کے استعمال سے گریز کیجیے۔

اسکرین ٹائم کے دوران موبائل کا استعمال:

اگر بچوں کو اسکرین ٹائم کے دوران موبائل دیا جائے تو بہتر ہے کہ ان کی ان سرگرمیوں میں شریک ہوں اور ان کے ساتھ بیٹھیے،انہیں بتائیے کہ کیا چیز ان کے لیے فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ ہے۔

بچوں کو اسکرین سے پیدا ہونے والے نقصانات کے بارے میں بتائیے:

بچوں کو یہ بات سمجھائیے کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے صحت کو کس طرح کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جیسے نظر کمزور ہو سکتی ہے یا نفسیاتی مسائل ہو سکتے ہیں وغیرہ۔

اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بچوں کو موبائل فون سے دور کرنے کی کوشش میں ان پر دباؤ مت ڈالیے تاکہ انہیں یہ نہ لگے کہ آپ ان سے ناراض ہیں بلکہ انہیں بتائیے کہ آپ ان کی بھلائی چاہتی ہیں۔

مثبت رویہ اپنائیے:

بچوں کو سختی سے روکنے کے بجائے ان سے پیار اور نرمی سے بات کیجیے،انہیں سمجھائیے کہ موبائل فون کا زیادہ استعمال ان کے لیے کیوں نقصان دہ ہے۔ان کے ساتھ مل کر اسکرین ٹائم کی منصوبہ بندی کیجئے اور اس پر عمل در آمد بھی یقینی بنائیے۔

یہ بات ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ بچوں کو موبائل سے دور رکھنا ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔والدین کو ایک ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں بچے موبائل کے بجائے دوسرے صحت مند مشاغل میں دلچسپی لیں۔یاد رکھیے!آپ کی توجہ،پیار اور وقت وہ سب سے قیمتی تحفہ ہے جو آپ اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں اور یہ تحفہ کسی بھی موبائل یا اسکرین کی لت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔


ہمارا دینِ اسلام بچوں کی پرورش۔ان کی اخلاقی تربیت اور اُن کی ذہنی حفاظت کے لئے نہایت واضح اصول بیان کرتا ہے،لیکن آج کے دور میں بچوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ موبائل فون کی صورت میں نکلا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ موبائل فون علم و ہنر کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے اور گناہوں،وقت کو برباد کرنے اور ذہنی  بیماریوں کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔آج کے دور میں موبائل ایک ضرورت بھی ہے اور ایک آزمائش بھی۔بڑے تو پھر بھی کسی حد تک قابو کر لیتے ہوں گے مگر بچوں کے لیے یہ ایک کھلونا۔مشغلہ اور عادت بن گیا ہے۔ہمارے معصوم بچے اس کے اسیر ہو چکے ہیں جیسے کسی پرندے کو پنجرے میں قید کر دیا جائے اس کی بچوں کا ذہن اور دل اسکرین کے اندر قید ہوگیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ بچے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور نظر آتے ہیں اور اس کے اثرات بچوں کے کردار۔ان کی شخصیت۔مہارتوں اور صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔کچھ تحقیقات کے مطابق موبائل فون کے اثرات خاص کر بچوں پر اس طرح پڑ رہے ہیں:

موبائل کے اثرات:

نیند کی کمی،موبائل کی روشنی آنکھوں اور دماغ کو متحرک رکھتی ہے،غصہ،ذہنی دباؤ،توجہ کی کمی،گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ میل جول کم ہو جاتا ہے،بات چیت کم ہوتی ہے،پڑھائی پر دھیان نہیں ہوتا،کمزور بدن،چڑچڑےپن کے اثرات بڑھ جاتے ہیں، وزن بڑھانا،آنکھوں کی کمزوری ،موبائل ایک ایسی بیماری ہے جس کی کوئی آواز نہیں مگر آنکھوں کی روشنی اور دماغی صحت کو بہت متاثر کر رہی ہے۔

اب والدین پریشان رہتے ہیں کہ بچے پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں کے بجائے موبائل میں زیادہ مشغول رہتے ہیں اور زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے کیسے اور کس طرح روکنا چاہیے؟وہ بھی اس طرح کہ ان کی ضد نہ بڑھے اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس کی ضرورت سے زیادہ استعمال سے رک جائیں۔

بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے روکنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقے کار اور تدابیر کو اختیار کیا جائے تو ممکن ہے کہ بچوں کو موبائل کے استعمال سے روکنے میں کامیاب ہو جائیں۔

موبائل سے دور رکھنے کے طریقے

1-پریکٹیکل:

بچے وہی کرتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔لہٰذا اگر والدین خود موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں تو خود موبائل کا استعمال کم سے کم کریں۔کیونک بچے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں نہ کہ نصیحت ہے۔

2- موبائل کے بجائے دلچسپ مشغلے:

جب بھی بچے موبائل کا مطالبہ کریں آپ انہیں کھلونے،تخلیقی کام،رنگ بھرنا، ڈرائنگ بنانا وغیرہ اور اس جیسی دیگر سرگرمیاں جیسے سائیکلنگ،گھر میں موجود پالتو جانوروں سے کھیلنا،پودے لگانا وغیرہ میں مشغول کرنے کی کوشش کیجیے۔

3- وقت کی پابندی:

بچوں کے لئے اسکرین ٹائم شیڈول بنائیے مثلاً:صرف آدھا یا ایک گھنٹہ موبائل فون دیا جائے اور اس میں بھی کوشش کی جائے کہ اسلامک کارٹونز یا کچھ اچھی و مثبت چیزیں ہی دیکھے اور ٹائم مکمل ہوتے ہی موبائل لے لیا جائے۔

4- خاص انداز اپنائیے:

بچوں سے سیدھا یہ نہ کہیے کہ موبائل کا استعمال نہ کرو بلکہ انہیں کہانی یا مثال کے ذریعے سمجھائیے،مثلاً:ایک بچہ موبائل زیادہ استعمال کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا۔دوسرا بچہ موبائل کم استعمال کرتا تھا وہ اچھا بچہ بن گیا اورصحت مند ہو گیا وغیرہ۔

5- شرائط مقرر کیجیے:

مثلاً:اگر آپ اپنا کام مکمل کریں گے،نمازیں پڑھیں گے،سبق یاد کریں گے تو آپ کو موبائل دیا جائے گا۔

6- توجہ رکھیے:

اکثر بچے توجہ نہ دینے کے سبب موبائل وغیرہ پر زیادہ مشغول رہتے ہیں۔لہٰذا روز کم از کم 15-20 منٹ ان سے باتیں کیجیے،ان کی باتیں سنیے،انہیں کچھ نیا سکھائیے اور اگلے دن ان سے پوچھیے ۔

7-اصول بنائیے:

گھر میں کوئی خاص جگہ یا کوئی ٹیبل وغیرہ مختص کیجئے جہاں تمام گھر کے افراد کے موبائل مخصوص وقت (مثلاً: کھانا،نماز یا فیملی ٹائم) کے دوران جمع کیے جائیں۔

خلاصہ:

یاد رکھیے! بچوں کو موبائل سے بچانا اور ان کی جان چھڑانا یہ صرف عادت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی صحت،علم اور مستقبل کا سوال ہے۔اگر آج ہم نے توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں کمزور دماغ،کمزور اخلاق اور کمزور کردار کی شخصیت کی مالک ہوں گی۔اللہ کریم ہمیں اور ہماری نسلوں کو نیک و صالح بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


دورِ حاضر کی نئی ٹیکنالوجیز نے انسان کے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کی ہیں تو وہی انسان کی زندگی میں اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں لیکن یہاں دورِ حاضر کی ایک ٹیکنالوجی موبائل فون سے اپنے بچوں کو دور رکھنے کے کچھ طریقے بتائیں جائیں گے۔

ہمارے معاشرے میں آج کل والدین اور بچوں کے درمیان ایک فاصلہ آ چکا ہے۔بچے موبائل کی اسکرین اور لیپ ٹاپ پر انٹرنیٹ کی دنیا سے اس قدر متصل ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس والدین کے لیے بھی وقت نہیں ہے اور اسی طرح والدین بھی اکثر اوقات ضروری اور غیر ضروری کاموں کے لیے موبائل کا استعمال زیادہ کیے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بچے ویسے تربیت نہیں لے پا رہے جیسی انہیں لینی چاہیے۔اس مضمون میں آپ کو کچھ ایسے نکات بتائیں جائیں گے جس کی وجہ سے آپ اپنے بچوں کو موبائل سے دور رکھ سکیں گی۔

1-حد مقرر کیجیے:

اس دور میں موبائل کا استعمال ایک ضرورت بن چکا ہے تو اس لیے اب ہم اپنے بچوں کو بالکل ہی اس کے استعمال سے تو منع نہیں کر سکتیں لیکن اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اس کے استعمال کے لیے ایک حد دیں یعنی انہیں بتائیں کہ آپ نے موبائل کے ذریعے یہ کام کرنا ہے اور اس کے علاوہ آپ نے فضول کام سے بچنا ہے۔

2-رول ماڈل بنیے:

بچے اکثر اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں یعنی جو کرتا ہوا انہیں دیکھتے ہیں وہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنی سرگرمیوں پر نظر دوڑائے اور اپنے موبائل کے استعمال کو کم از کم کریں تاکہ بچوں کے لیے ایک رول ماڈل بنیں۔

3-تعلیمی مواد فراہم کیجیے:

جب بچے کو موبائل استعمال کرنے کے لیے وقت دیں تو انہیں کچھ سیکھنے سکھانے کے بھی ذرائع بتائیں۔بچوں کی اخلاقی و عملی تربیت کے لیے دعوتِ اسلامی کے مختلف پروگرامز،غلام رسول کے کارٹونز اور ذہنی آزمائش کی کوئز گیم دکھائیں۔

4-متبادل ایکٹیوٹیز فراہم کیجیے:

بچوں کے موبائل کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مختلف قسم کی سرگرمیاں پیش کیجیے۔والدین بچوں کے ساتھ خود کسی کھیل وغیرہ میں مشغول ہوں۔ان کے لیے آرٹ ورک،کھیل کود،مختلف جائز گیمز وغیرہ مرتب کریں تاکہ بچے ان سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

5-نقصانات کے بارے میں بتائیے:

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل کے نقصانات کے بارے میں آگاہی دیں مثلاً:نظر کمزور ہونے،ذہن پر برا اثر ڈالنے اور وقت کے ضیاع جیسے مختلف نقصانات کے بارے میں بتائیے تاکہ بچے موبائل کو کم سے کم استعمال کرنے پر آمادہ ہو سکیں۔

6-نگرانی کیجیے اور جائزہ لیجیے:

اپنے بچوں کے موبائل کے استعمال پر نظر رکھیے اور اگر ضروری ہو تو ان کے ساتھ خود بھی دیکھیے کہ بچے کس طرح کا مواد دیکھ رہے ہیں۔بچوں کی ان معاملے میں ذہن سازی بھی کرتے رہیے اور وقتاًفوقتاً جائزہ بھی لیتی رہیے۔والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پر موبائل استعمال کرتے وقت نگرانی بھی ضرور کریں اور غیر ضروری چیزیں دیکھنے پر ان کی اصلاح بھی کریں۔

امید ہے کہ والدین ان بتائے ہوئے نکات پر اگر عمل کریں گے تو اپنے بچوں کی موبائل سے جان چھڑا سکنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔اللہ پاک ہمیں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری اولاد کو نیک بنائے۔آمین


انسانی زندگی ضروریات،آسائشات پر مشتمل ہے اور یہ سب کچھ مفت حاصل نہیں ہوتا ان کے لیے رقم خرچ کرنی پڑ تی ہے۔ معاشرے میں عموماً چار طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں: ایک وہ جو بے حساب کماتے اور بے حساب خرچ کرتے ہیں، دوسرے وہ بے حساب کماتے اور حساب سے خرچ کرتے ہیں، تیسرے وہ جو حساب سے کماتے اور حساب سے خرچ کرتے ہیں اور چوتھے وہ جو حساب سے کماتے اور بے حساب خرچ کرتے ہیں اس طرح کے لوگ عموماً تنخواہ دار ہوتے ہیں جو مالی طور پر پریشان رہتے ہیں جس کا اثر ان کی گھریلو زندگی پر پڑتا ہے اور پھر لڑائی جھگڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

محدود آمدنی اور گھریلو بجٹ کیوں ضروری ہے؟ ”آج کل ہاتھ تنگ ہے!“، ”گزارہ نہیں ہوتا“، ”پوری نہیں پڑتی“ جیسے جملے آپ نے سنے ہوں گے۔ لیکن بعض کی بنیادی ضروریات زندگی ہی پوری نہیں ہوتی اور بعض ایسے ہیں جنہیں کمانا تو آتا ہے خرچ کرنا نہیں آتا۔

یاد رہے! خرچ کرنے کے بعد پریشان ہونے سے بہتر ہے کہ ہم آمدنی اور خرچ میں توازن قائم کرنے کے لیے گھریلو بجٹ بنا لیں اور محدود آمدنی میں گزار کریں تو کئی ٹینشنوں سے بچ جائیں گے۔

گھریلو بجٹ بنانے کی ہدایت: بجٹ بنانے سے پہلے چند امور کو مدنظر رکھئے:1 فضول خرچی سے پرہیز کریں اور غیر ضروری اخراجات کو گھریلو بجٹ کا حصہ نہ بنائیں۔ 2جس کام کے لیے گھریلو بجٹ میں جتنی رقم خاص کی گئی اس سے زیادہ خرچ نہ کی جائے۔ 3 گناہوں کے کاموں میں مثلاً سینیما ھال وغیرہ کی ٹکٹوں اور فلمیں، گانے باجے وغیرہ سننے دیکھنے کے لیے، مہنگے ساؤنڈ سسٹم اور ایل سی ڈیز وغیرہ پر خرچ نہ کریں۔ 4 رقم ایک شخص کے پاس جمع ہو اور وہی اخراجات کا تحریری حساب بھی رکھے، جہاں جہاں بچت ممکن ہو کر لی جائے، جتنی بچت زیادہ اتنی پریشانی کم ہو گی۔

گھریلو بجٹ بنانے کا طریقہ: اپنے ماہانہ گھریلو بجٹ کو 10 حصوں میں تقسیم کر لیں (ہر کوئی اپنے رہن سہن کے مطابق اس میں کمی یا زیادتی کر سکتا ہے):

1راشن: اس میں آٹا، چینی، چائے کی پتی، دالیں، سبزیاں، پھل، گوشت، نمک، مرچ، مسالے، دودھ، کوگنگ آئل، گھی اور چاول وغیرہ شامل ہیں۔

2 یوٹیلیٹی بلز :مثلاً گیس، پانی، کیبل، بجلی، انٹر نیٹ اور موبائل کارڈ لوڈ کروانا وغیرہ۔

3علاج :بیماری کی صورت میں ڈاکٹر کی فیس اور دوائی کی قیمت وغیرہ۔

4 صفائی ستھرائی:اس میں گھر، بدن، لباس اور برتنوں کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً صابن، سرف، شیمپو، فنائل، ٹوتھ پیسٹ، مسواک جیسی اشیاء شامل ہیں۔

5کرایہ :جیسے مکان کا کرایہ، دفتر یا کسی کے گھر جانے کے لیے بس یا ٹیکسی، رکشے کا کرایہ وغیرہ، کمیٹی (یعنی بیسی) ڈالی ہو تو اس کی ادائیگی، قرض لیا ہو تواس کی ادائیگی، اگر اپنی بائیک یاکار ہے تو اس کے پیٹرول اور سروس وغیرہ کا خرچہ۔

6 تعلیم :اسکول کالج وغیرہ کی فیس، اسکول وین کی فیس، کتابوں، کاپیوں اور اسٹیشنری پر آنے والے اخراجات اور بچوں کا جیب خرچ اور روزانہ کا اسکول لنچ۔

7گھریلو سامان کی مرمت یا تبدیلی :جیسے فریج، واشنگ مشین، گیس کے چولہے وغیرہ میں خرابی کی صورت میں مرمت کا خرچہ یا پرانا سامان استعمال کے قابل نہ ہونے کی صورت میں نیا خریدنا۔

8 راہ خدا میں خرچ کرنا :کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، بھوکے غریب کو کھانا کھلانا یا مسجد مدرسہ میں فنڈ دینا وغیرہ۔

9غیر متوقع اخراجات :مثلاً اچانک مہمان آگئے یا کسی شادی وغیرہ میں شرکت کرنا پڑی یا کوئی چیز گم ہو گئی، موبائل یا بائیک وغیرہ چھن گئی یا چوری ہو گئی۔

10طویل المدت خرچے :مستقبل میں کوئی شے مثلاً فریج، واشنگ مشین، فرنیچر، بائیک یا زمین وغیرہ خریدنے کا ارادہ ہو تو اخراجات کے بعد بچ جانے والی رقم محفوظ کر لینا۔

کس پر خرچ کرنا ہے؟ اس کے لیے مشورہ ہے کہ سب سے پہلے یہ حساب لگائیں کہ آپ اوپر بیان ہونے والی چیزوں پر اپنے گھر میں کتنا خرچ کرتے ہیں اور کہاں کہاں کٹوتی (یعنی کم کرنے) کی گنجائش ہے؟

اسکے مطابق اپنے ماہانہ خرچ کا حساب کر لیں پھر اپنے گھر کا بجٹ فرضی گھریلو بجٹ کے مطابق بنا لیں، مثلاً راشن:40 ٪ صفائی ستھرائی:5٪ یوٹیلیٹی بلز:10٪ کرایہ:12٪ علاج:5٪ تعلیم:10٪ مرمت یا تبدیلی:3٪ راہ خدا میں خرچ:5٪ غیر متوقع اخراجات:5٪ طویل المدت خرچ :5٪ وغیرہ۔

اللہ پاک کی رحمت سے امید ہے کہ دیئے گئے گھریلو بجٹ اور محدود آمدنی کی تجاویز کے مطابق گھریلو اخراجات کا جائزہ لینے اور بجٹ بنانے میں فضول خرچی سے بچ جائیں گے اور بلاوجہ کسی دوسرے کے آگے سوال بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں آسانی اور عافیت عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین


آج کے دور میں جب مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، محدود آمدنی والے افراد کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں بچت کرنا نہ صرف ضروری بلکہ عقلمندی کی علامت بھی ہے۔

محدود آمدنی سے مراد وہ آمدنی ہے جو ایک خاص حد تک ہو، جیسے تنخواہ یا روزمرہ مزدوری، جس میں اضافی آمدن کا کوئی خاص ذریعہ نہ ہو۔ اسی لیے گھر کا بجٹ بنانا بہت ضروری ہے تاکہ اخراجات آمدنی سے زیادہ نہ ہوں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم محدود آمدنی کے مطابق ہی خرچ کریں اور فضول خرچ کرنے سے بچیں۔

جیسے کہ سورہ فرقان میں ہے: وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) (پ 19، الفرقان: 67) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔

گھر میں بچت کیسے کی جائے؟

1۔ بجٹ بنائیں: ہر ماہ آمدنی اور خرچ کا ایک مکمل بجٹ بنائیں۔ غیر ضروری اخراجات کی نشاندہی کریں اور انہیں کم کرنے کی کوشش کریں۔

2۔ ضروریات اور خواہشات میں فرق: ضروریات جیسے کھانا، بجلی، پانی، تعلیم اور علاج کو ترجیح دیں۔ خواہشات جیسے نئے کپڑے، موبائل یا ہوٹلنگ پر کم خرچ کریں۔

3۔ گھریلو اشیاء کی بچت: بجلی، پانی اور گیس کے استعمال میں احتیاط کریں۔ ان کے بل میں کمی آپ کے بجٹ میں فرق ڈال سکتی ہے۔

4۔ محفوظ سرمایہ کاری: تھوڑی بہت بچت کو کسی محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے بینک یا کمیٹی، تاکہ مستقبل میں کسی ضرورت کے وقت کام آئے۔

گھریلوبجٹ بنانے کا طریقہ: اپنے ماہانہ گھریلوبجٹ کو کچھ حصّوں میں تقسیم کرلیجئے (ہر ایک اپنے رَہَن سَہن(Lifestyle) کے مطابق اس میں کمی یا اضافہ بھی کرسکتا ہے)۔

گھریلو بجٹ کا نمونہ: راشن: 42 فی صد۔ صفائی ستھرائی: 07فی صد۔ کرایہ: 13فی صد۔ علاج: 08فی صد۔ تعلیم: 10فی صد۔ مرمت یا تبدیلی: 04فی صد۔ راہِ خدا میں خرچ: 08فی صد۔ غیر متوقع اخراجات: 03فی صد۔ طویلُ المدت خرچ: 05فی صد۔

(اللہ کی راہ میں لازمی صدقہ و خیرات کریں اس سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے)

اللہ پاک کی رحمت سے اُمید ہے کہ گھریلو اخراجات کا اس طرح جائزہ لینے اور بجٹ بنانے سے فضول خرچی سے بھی جان چھوٹے گی اور بِلاوجہ کسی کے آگے سوال بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ پاک ہمیں آسانی اور عافیت عطا فرمائے۔ آمین

محدود آمدنی کے باوجود اگر سمجھداری سے خرچ کیا جائے اور بچت کی عادت اپنائی جائے تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔ بچت نہ صرف مالی تحفظ دیتی ہے بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک سہارا بھی بن سکتی ہے۔


ہماری زندگی ضروریات سہولیات پر مشتمل ہے اور یہ سب چیزیں مفت میں نہیں ملتی ان کیلئے رقم خرچ کرنی پڑتی ہیں  اور جسکی وجہ سے ہمارا بجٹ ہماری آمدنی سے بڑھ جاتا ہیں جسکی وجہ سے ہمیں ٹینشن جیسی دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آمدنی کے مطابق اپنا بجٹ بنائیں تاکہ ہماری کم آمدنی میں ہی ہماری تمام سہولیات بآسانی پوری ہوسکے۔

ہمارے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام گھر کا بجٹ تیار کرنا ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک چاہتے ہیں کہ مہینے کے آخر میں اس کے پاس کچھ رقم بچ جائے مگر اسے ناکامی ہاتھ آتی ہیں کیونکہ مہنگائی اور ضرورتوں کے اضافے کی وجہ سے گھر کے اخراجات کو کنڑول کرنا مشکل ہوتا چلا جارہا ہے۔

آج اس مضمون میں ہم بچت اور بجٹ کا ایک فارمولا سیکھیں گے۔

جسے 20، 30، 50 کا فارمولا کہہ سکتے ہیں بجٹ سازی کا یہ قاعدہ ہماری مدد کرتا ہے کہ ہماری تنخواہ کے مطابق ہمارا بجٹ ہے یا نہیں اور یہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ ہم اپنے غیر ضروری اخراجات کو کیسے کم کرسکتے ہیں۔

20، 30، 50 گھریلو بجٹ بنانے کا نہایت آسان اور کفایتی طریقہ ہے۔

20، 30، 50 کا مطلب : جب آپکو تنخواہ یا مہینے کا خرچ ملے تو سب سے پہلے 50فیصد ان چیزوں کیلئے مختص کریں جو آپ کیلئے نہایت ضروری ہیں مثلا گھر کا کرایہ ، بجلی کابل ، گیس کا بل ، گھر کا راشن سامان وغیرہ۔

30 فیصد دیگرسہولیات پر خرچ کریں، اس میں تفریح ہوٹل میں کھانا پینا سفر خریداری جیسے اخراجات شامل ہیں۔

20 فیصد قرض کی ادائیگی اور بچت کیلئے آپ مختص کرسکتے ہیں۔ اگر ہم اپنی آمدنی کے مطابق اپنا بجٹ بنالیں تو ہم اپنے اخراجات کو کنڑول کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں مگر بجٹ بناتے وقت ان احتیاطوں کو مد نظر رکھنا ہے۔

گھریلو بجٹ بنانے کی احتیاطیں: بجٹ بنانے سے پہلے چند باتوں کا ضرور خیال رکھیں: فضول خرچی سے پرہیز، غیر ضروری اخراجات نہ ہو، رقم ایک شخص کے پاس جمع ہو اور وہی اخراجات کیلئے رقم ادا کرے اور وہی رقم کا تحریری حساب رکھے، جس کام کیلئے جتنی رقم خاص ہیں اس سے زیادہ خرچ نہ ہو۔

محدود آمدنی سے مراد وہ آمدنی ہے جو کسی فرد یا خاندان کو محدود مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ یعنی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں مثلاً صرف ایک نوکری یا چھوٹا کاروبار اخراجات کی نسبت آمدنی کم ہوتی ہے۔ ہر چیز خریدنے کی گنجائش نہیں ہوتی، اس لیے ترجیحات طے کرنا پڑتی ہیں۔

گھر کا بجٹ ایک منصوبہ ہوتا ہے جس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ دستیاب آمدنی کو مختلف اخراجات پر کیسے خرچ کرنا ہے۔ بجٹ بنانے کا مقصد کا آمدنی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنا، غیر ضروری خرچ سے بچنا، بچت کرنا اور مالی مشکلات سے بچنا ہے۔

محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر دور میں موجود رہا ہے اور اسلام نے اس بارے میں واضح رہنمائی فراہم کی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ کس طرح محدود وسائل میں صبر قناعت شکرگزاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں محدود آمدنی اور بجٹ کی رہنمائی

قناعت پسندی: قناعت کا مطلب ہے جو کچھ موجود ہے اس پر راضی رہنا اور فضول خواہشات سے بچنا۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ- (پ 13، الرعد: 26) ترجمہ: اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔

حديث مبارکہ میں ہے: بے شک وہی شخص غنی (مالدار) ہے جو دل کا غنی ہو، قناعت اختیار کرے۔ (بخاری، 4/233، حدیث: 6446)

اس حدیث مبارکہ سے یہ سبق ہے قناعت دل کو سکون دیتی ہے اور محدود آمدنی میں بھی خوشی سے زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔

اسراف اور فضول خرچی سے بچنا: اسلام فضول خرچی کو سخت ناپسند کرتا ہے، خاص طور پر جب وسائل محدود ہوں۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: اور بے جا خرچ نہ کرو، بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔

بجٹ بناتے وقت ہمیں اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور غیر ضروری اخراجات سے بچنا چاہیے۔

شکرگزاری کا جذبہ: اللہ تعالیٰ شکر کرنے والوں کے رزق میں اضافہ فرماتا ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ (پ 13، ابراہیم: 7) ترجمہ: اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر ہم محدود آمدنی پر شکر ادا کریں تو اللہ تعالىٰ مزید رزق عطا فرماتا ہے۔

صبر اور توکل: صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنا مالی تنگی کے وقت بہت ضروری ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ( پ 2، البقرۃ: 153) ترجمہ: بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

حديث مبارکہ میں ہے: اگر تم اللہ پر ویسا توکل کرو جیسا کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندے کو دیتا ہے، وہ صبح خالی پیٹ نکلتا ہے اور شام کو بھرے پیٹ لوٹتا ہے۔ (ابن ماجہ، 4/452، حدیث:4164)

بچت اور منصوبہ بندی: اسلامی تعلیمات میں بچت اور رزق کی بہتر تقسیم کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کے بادشاہ کو سات سالہ قحط کے دوران غلہ ذخیرہ کرنے کا منصوبہ دیا، جو بہترین مالی منصوبہ بندی کی مثال ہے۔

محدود آمدنی اور گھر کا بجٹ کے طریقے: آمدنی کا حساب لگائیں؛ سب سے پہلے اپنی کل ماہانہ آمدنی کا اندازہ لگائیں: تنخواه، چھوٹا موٹا کاروبار، پنشن یا کوئی اور آمدنی۔

اگر آپ کی ماہانہ آمدنی 30,000 روپے ہے، تو یہی آپ کا بجٹ بنانے کی بنیاد ہوگا۔

ضروری اخراجات کو پہچانیں ترجیحات طے کریں۔ آمدنی کم ہو تو سب سے پہلے بنیادی ضروریات پر خرچ کریں، ضروری اخراجات یہ ہیں: کھانا، کرایہ یا قسط، بجلی گیس پانی کے بل، بچوں کی فیس اور دوا علاج۔

ترجیحات کا مطلب ہے پہلے ضروری چیزیں بعد میں خواہشات۔

بچت کو عادت بنائیں، چاہے تھوڑی سی ہی ہو، کچھ رقم بچانے کی عادت ڈالیں۔ مثلاً روزانہ 50 روپے بچا لیں تو مہینے میں 1500 روپے ہو سکتے ہیں۔ غیر ضروری خرچ سے بچیں، مہنگے کھانے باہر سے نہ کھائیں، ضرورت سے زیادہ کپڑے، موبائل یا چیزیں نہ خریدیں، سیلز یا آفرز میں صرف وہی چیز لیں جو واقعی ضروری ہو، گھر میں چیزیں ضائع نہ کریں، بچا ہوا کھانا دوبارہ استعمال کریں، بجلی پانی کا احتیاط سے استعمال کریں، پرانی چیزوں کو مرمت کر کے دوبارہ استعمال کریں، اضافی آمدنی کے ذرائع تلاش کریں۔

اللہ پاک سے دعا کہ اللہ پاک ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے فضول خرچی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


دینِ اسلام کی بے شمار خصوصیات ہیں ان میں سے ایک خصوصیت میانہ روی (اعتدال) بھی ہے خرچ میں میانہ روی کرنے کو کفایت شعاری کہا جاتا ہے دین اسلام ہمیں ہر چیز میں میانہ روی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے چاہے اس کا تعلق کمانے سے ہو یہاں کھانے سے یا لباس پہننے نوافل ادا کرنے یا عبادات کرنے میں بھی میانہ روی کا درس دیتا ہے۔

فرمان مصطفی ﷺ ہیں: جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اس سے محتاج کر دیتا ہے۔ (مسند بزار،3/161، حدیث: 946)

اخراجات: ہمیں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے نہ تو فضول خرچی میں ہمیں اپنی آمدنی خرچ کرنی چاہیے اور نہ ہمیں جس جگہ پر خرچ کرنے کا حق ہے وہاں خرچ نہ کر کے کنجوسی کرنی چاہیے، بلکہ ہمیں میانہ روی کو اپنانا چاہیے اور سادگی اور صبر سے کام لینا چاہیے۔

اللہ پاک سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 29 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ 15، الاسراء: 29) ترجمہ: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے، کہ بعد میں ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھا رہ جائے۔

اس آیت کے تحت مفتی قاسم صاحب اپنی تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں: خرچ میں اعتدال کو ملحوظ رکھنے کا کہا گیا ہے اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا ہے کہ نہ تو اپنا ہاتھ اس طرح روک لو کہ خرچ ہی نہ کرو، اور نہ ہی اپنا ہاتھ اس طرح کھلا چھوڑ دو کہ اپنی ضروریات کے لیے کچھ نہ بچے۔

نبی کریم ﷺ نے کم آمدنی میں گھریلو اخراجات کے حوالے سے کئی ارشادات فرمائے ہیں ان میں سے ایک مشہور حدیث یہ ہے: خرچ میں میانہ روی نصف زندگی ہے۔

لازمی اخراجات: جب آپ کو تنخواہ یا مہینے کا خرچ موصول ہو تو سب سے پہلے 50 فیصد ان چیزوں کے لیے مختص کریں جو اپ کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ مثلا گھر کا کرایہ، بجلی کا بل،گیس کا بل،وغیرہ۔ان کا شمار اہم کاموں میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گھر کا راشن آفس آنے جانے کا کرایا بچوں کی فیس بھی گھر کے ضروری اخراجات میں شامل ہیں۔ان تمام اہم کاموں کا حساب لگائیں اور دیکھیں کیا آپ کی آمدنی کا 50 فیصد ان ضروری اخراجات میں جا رہا ہے یا نہیں۔اگر آپ کے لیے اخراجات 50 فیصد سے زیادہ ہیں تو اس بات کا جائزہ لیں کہ کہاں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔

مثلاً اگر آپ کے راشن میں بہت زیادہ مشروبات اور غیر ضروری چیزیں شامل ہیں تو آپ انہیں کم کر سکتی ہیں اگر دفتر آنے جانے میں رکشا کا کرایا زیادہ ہے تو ہفتے میں تین سے چار بار بس کا استعمال کریں۔اسی طرح چند تبدیلیاں کر کے اپنے لازمی اخراجات کو پورا کریں۔

آمدنی کے بجٹ کے اصول کی ایک مثال: فرض کیجیے ٹیکس کے بعد آپ کی تنخواہ یا آمدنی بیس ہزار روپے ہے تو آپ اگر 20، 30، 50 کا اصول استعمال کر کے خرچ کریں گے تو آپ کو بیس ہزار کا 50 فیصد یعنی دس ہزار روپے ضروری اخراجات کے لیے مختص کرنے ہوں گے اس کے علاوہ 30 فیصد یعنی 12 ہزار روپے اپنے ان اخراجات کے لیے مختص کرنے ہوں گے جو آپ کے لیے بہت ضروری نہیں ہے مگر آپ کے لطف اور مزے کے لیے ضروری ہیں اور 30 فیصد یعنی 8 ہزار قرض کی ادائیگی یا بچت کے لیے مختص کرنے ہوں گے خواتین اس اصول کو یقینی بنا کر پریشانی سے نجات حاصل کر سکتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی خوشحال وہی شخص رہتا ہے جسے کمانے کے ساتھ خرچ کرنے کا بھی طریقہ آتا ہو کیونکہ کمانا تو سب کو آتا ہے لیکن خرچ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ (مراۃ المناجیح، 6/634)

پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخراجات کا جائزہ لیں اور جو فضول یا زائد چیز نظر آئے تو اسے اپنے اخراجات سے نکال دیں اور جو صحیح معلوم ہو اسے باقی رکھیں پھر ہمیں اپنے سے اوپر والوں کو نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس تو گاڑی ہے اور میرے پاس موٹر سائیکل بھی نہیں اس کے پاس تو اپنا ذاتی گھر ہے اور میرے پاس تو ذاتی گھر بھی نہیں ہمیں ایسی سوچ نہیں رکھنی بلکہ ہمیں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ کتنے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو عزت نہیں اور نہ ہی پہننے کو کپڑے ہیں۔

ان شاءاللہ ایسا کرنے سے میانہ روی کرنے،جو ہے اسی پر صبر کرنے کا جذبہ ملے گا اور ہمیں چاہیے کہ ہم جس حال میں بھی ہیں اللہ پاک کا شکر ادا کریں۔

فرمان مصطفی ﷺ ہے :جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مالدار بنا دیتا ہے اور جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے محتاج کر دیتا ہے۔ (مسند بزار، 3/161، حدیث: 946)

ان احادیث کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اخراجات میں میانہ روی اختیار کریں اور فضول خرچی سے بچیں اور جو کچھ اللہ تعالی نے ہمیں دیا ہے اس پر صبر شکر ادا کریں۔

دنیا میں اللہ پاک نے تمام انسانوں کو ایک جیسا رزق عطا نہیں فرمایا، بعض لوگ امیر ہیں، بعض لوگ غریب ہیں اور بعض متوسط (یعنی درمیانے نہ امیر نہ غریب) ہیں اس میں اللہ پاک کی بے شمار حکمتیں ہیں ۔ ان میں سے ایک حکمت اس حدیث قدسی میں بیان ہوئی ہے چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں جنکے ایمان کی بھلائی مالدار ہونے میں ہے اگر میں انہیں مالدار نہ کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے اور میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ انکے ایمان کی بھلائی مالدار نہ ہونے میں ہے اگر میں انہیں مالدار کروں تو وہ کفر میں مبتلا ہو جائیں گے۔ (ابن عساکر، 7/96)

بعض متوسط اور غریب لوگ آمدنی کم اور اخراجات کے زیادہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو کر اللہ پاک کی جناب میں نا مناسب اور بسا اوقات کفریہ الفاظ بھی بول دیتے ہیں اور انمول دولت ”ایمان“ سے محروم ہو جاتے ہیں تھوڑی آمدنی کی صورت میں اللہ پاک کی رضا میں راضی رہتے ہوئے صبر و قناعت کے ساتھ زندگی گزارئیے اور اسکے فائدے حاصل کیجیے۔

تھوڑے رزق پر راضی رہنے کا فائدہ: رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک سے تھوڑے رزق پر راضی رہتا ہے اللہ پاک اسکے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے۔ (شعب الایمان، 4/139، حدیث : 4585)

کم آمدنی میں بھی پرسکون رہنے کے چند طریقے: (1) ماہانہ راشن، ٹرانسپورٹیشن (سفری اخراجات) ،گیس،بجلی اگر کرائے کا گھر ہے تو اسکا کرایہ اور بچے ہیں تو انکے تعلیمی اخراجات وغیرہ کا اپنی آمدنی کے مطابق ہی بجٹ بنائیے پھر اس پر قائم بھی رہئے۔ (2) گھر والوں کو چاہئے کہ گھر کے سربراہ یا کمانے والے فرد پر زیادہ کمانے کا دباؤ ڈالنے کے بجائے خود کو کم خرچ پر آمادہ کریں۔ آپکے پریشر ڈالنے کی وجہ سے زیادہ کمانے کے چکر میں کہیں وہ دھوکا دہی اور کرپشن (بد عنوانی /حرام روزی کمانے) میں مبتلا نہ ہو جائے۔

اخراجات کم کرنے کے چند طریقے : لوگ عموماً آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ سیلری بڑھ جائے یا میری اِنکم کے ذرائع بڑھ جائیں۔جبکہ اپنے اخراجات کم کرنے کا ذہن کسی کسی کو ہوتا ہے چنانچہ اخراجات کم کرنے کے چند طریقے ملاحظہ فرمائیے: (1) تمام فیملی ممبران آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کریں کہ گھر میں جو شخص اچھے انداز سے خریداری کرنا جانتا ہو گھر کا راشن اور دیگر سامان لینے کی ذمہ داری اس کے حوالے کی جائے (2) جو خریدنا ہو اسکی لسٹ پہلے ہی بنالی جائے اور پھر خریداری کے لئے جایا جائے اور بہتر یہی ہے کہ ہول سیل والی قیمت پر ہی اشیا خریدی جائیں (3) شادی بیاہ اور دیگر اس طرح کے ایوینٹس پر غور کر لیا جائے کہ اگر پہلے سے موجود کپڑے اور جوتے وغیرہ پروگرام میں پہننے کے قابل ہوں تو نئے لینے کے بجائے انہی سے کام چلایا جائے (4) جو بچے تعلیم کے لئے جاتے ہیں انکا لنچ باکس گھر میں ہی بنا کر دیا جائے اسی طرح جو افراد دفتر وغیرہ جاتے ہیں باہر سے کھانا لینے کے بجائے گھر ہی سے لینا شروع کر دیں (5) بجلی سے چلنے والے آلات کو بقدر ضرورت ہی استعمال کریں ضرورت پوری ہو جائے تو بند کر دیں۔

رزق میں برکت: آمدنی چاہے کم ہو یا زیادہ جب تک اس میں برکت نہیں ہو گی بچت کی کوئی بھی تدبیر کار گر نہیں ہو گی لہذا رزق میں برکت کے چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں: (1) کھانا کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونا رزق میں برکت لاتا ہے (2) گھر میں داخل ہوتے ہی سلام اور سورہ اخلاص پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (3) جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (4) سچ بولنے سے رزق میں برکت ہوتی ہے (5) بسم اللہ شریف پڑھ کر کھانا کھانے سے رزق میں برکت ہوتی ہے۔

میری تمام عاشقات رسول سے فریاد ہے کہ ذکر کئے گئے مدنی پھولوں پر عمل اور سادہ طرز زندگی (Life style) اپنا کر اپنے گھریلو اخراجات پر قابو پائیے ان شاء اللہ دین و دنیا کی بے شمار برکات نصیب ہوں گی۔


الحمد للہ! اسلام نے نہ صرف عبادات بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ گھر کا نظام بھی انہی دنیاوی معاملات میں سے ایک ہے جس میں حکمت، منصوبہ بندی اور صبر و قناعت کی اشد ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر اُس وقت جب آمدنی محدود ہو۔

محدود آمدنی سے مراد ایسی آمدنی ہے جس سے صرف بنیادی ضروریات پوری ہوتی ہوں، اور بچت یا اضافی اخراجات کی گنجائش نہ ہو۔ ایسے حالات میں اگر ہم اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھ کر بجٹ بنائیں تو کم وسائل میں بھی عزت اور سکون سے زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

اسلام میں اعتدال اور میانہ روی:

قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- (پ 15، الاسراء: 27) ترجمہ: بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ آمدنی چاہے کم ہو یا زیادہ، فضول خرچی کسی حال میں درست نہیں۔ جو شخص اپنی آمدنی سے بڑھ کر خرچ کرے، وہ خود کو معاشی مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔

قناعت اور شکرگزاری کی برکت: حدیث مبارکہ میں ہے: وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا اور جسے اتنا رزق ملا جو اس کی ضرورت کے لیے کافی ہو، اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قناعت عطا فرمائی۔ (مسلم، ص 406، حدیث: 2426)

یہ حدیثِ پاک واضح کرتی ہے کہ اصل کامیابی قناعت اور شکر میں ہے۔ جب بندہ قناعت اختیار کرتا ہے تو کم آمدنی بھی اس کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔

منصوبہ بندی کے ذریعے بجٹ بنانا: آمدنی خواہ کتنی ہی کم ہو، اگر اسے نیک نیتی، منصوبہ بندی اور اعتدال سے خرچ کیا جائے تو گھر کا نظام بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔

اس لیے گھر کے ہر فرد کو چاہیے کہ اپنی ضروریات اور خواہشات کے درمیان فرق سمجھے۔ آمدنی آنے کے بعد فوری طور پر بجٹ بنائے، ضروریات جیسے کہ کھانا، رہائش، تعلیم، علاج وغیرہ کو ترجیح دے اور باقی خرچوں کو حالات کے مطابق ترتیب دے۔

صدقہ و خیرات کے ذریعے برکت: اگرچہ آمدنی کم ہو، لیکن اللہ کی راہ میں دینا برکت کا ذریعہ بنتا ہے۔ فرمانِ مصطفی ﷺ ہے: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 6592)

یہی وجہ ہے کہ محدود آمدنی والے لوگ بھی اگر صدقہ جاری رکھیں تو ان کے مال میں برکت ہوتی ہے۔

محدود آمدنی کوئی کمزوری نہیں، بلکہ ایک امتحان ہے۔ اگر مسلمان قناعت، شکر، منصوبہ بندی اور فضول خرچی سے اجتناب کو اپنا شعار بنا لے تو وہ کم آمدنی میں بھی باعزت اور خوشحال زندگی گزار سکتا ہے

ترجمہ: اے اللہ! مجھے اپنے حلال سے کفایت عطا فرما اپنے حرام سے، اور مجھے اپنے فضل سے سب کے سوا غنی فرما۔


اللہ تعالیٰ  ہر انسان کو مختلف ذرائع سے آزماتا ہے۔ کوئی زیادہ مالدار ہے تو کوئی کم مالدار ہوتا ہے اور محدود آمدنی کے ذریعے اپنی زندگی گزار لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ہمیں ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو محدود آمدنی والے افراد کو صرف صبر، شکر کرنا سکھاتی ہیں ۔

قرآن کی روشنی میں:

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹) (پ 15، الاسراء: 29) ترجمہ: اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ ہی اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دے، کہ بعد میں ملامت زدہ اور حسرت زدہ بیٹھا رہ جائے۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ فضول خرچی اور بے جا کنجوسی دونوں قابلِ مذمت ہیں۔ اسلام اعتدال اور توازن کا دین ہے اور گھر کا بجٹ بناتے وقت اسی توازن کا خیال رکھنا چاہیے۔

احادیثِ مبارکہ:

نیز فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے عمل کرے۔ (ترمذی، 4/207، حدیث: 2467)

یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ آمدنی خواہ کم ہو، اگر انسان عقل مندی اور دین کی روشنی میں خرچ کرے تو نہ صرف دنیا میں عزت سے جی سکتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔

محدود آمدنی کا مطلب ہے کہ انسان کی ضروریات اس کی آمدنی سے زیادہ نہ ہوں۔ اس کے لیے سب سے پہلے انسان کو قناعت کی صفت اپنانا ہوگی۔ قناعت کا مطلب ہے کہ جو کچھ اللہ نے دیا ہے، اس پر دل سے راضی رہنا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شخص کامیاب ہے جو اسلام لایا، جسے بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے اپنے دیے ہوئے پر قناعت عطا فرمائی۔ (مسلم، ص 406، حدیث: 2426)

گھر کے بجٹ کی ضرورت: محدود آمدنی والے افراد اگر بغیر منصوبہ بندی کے خرچ کریں تو بہت جلد تنگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ترتیب سے خرچ کریں، فضول خرچی سے بچیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کو نہ بھولیں۔

بجٹ سازی کے اسلامی اصول:

آمدنی کا جائزہ لیں کتنی آمدنی ہے اور وہ کہاں کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ ضروریات و ترجیحات طے کریں خو راک، لباس، تعلیم، علاج اور رہائش جیسی بنیادی ضروریات کو پہلے رکھیں۔ زکوٰۃ اور صدقہ نہ بھولیے خواہ تھوڑا ہی ہو، اللہ کی راہ میں دینا باعثِ برکت ہے۔

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- (پ 15، الاسراء: 27) ترجمہ: بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔

ادھار سے پرہیز کریں: قرض صرف ضرورت کے وقت اور سوچ سمجھ کر لینا چاہیے تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔

منظم خرچ سے گھر میں جھگڑے کم ہوتے ہیں۔

برکت شکر گزاری اور صدقہ کرنے سے اللہ آمدنی میں برکت دیتا ہے۔

عزت نفس کی حفاظت کفایت شعاری سے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتا ہے۔

بے چینی و پریشانی بے ترتیب خرچ مالی دباؤ پیدا کرتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے دیئے ہوئے مال کو اچھے طریقے سے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین