موبائل کا حد سے زیادہ استعمال آج کے زمانے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔بچے گھنٹوں گیمز اور سوشل میڈیا میں لگے رہتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے بلکہ صحت،اخلاق اور دینی ذوق بھی برباد ہو رہا ہے۔اللہ پاک نے انسان کو بہترین مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے نہ کہ فضول مشاغل میں عمر ضائع کرنے کے لیے۔قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا (پ18،المؤمنون:115)ترجمہ: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا۔

بچوں کو موبائل کا عادی بنانا ان کی زندگی کو مقصد سے ہٹانا ہے۔

موبائل کے نقصانات

1:تعلیم میں کمزوری

2:نماز اور دینی فرائض میں غفلت

3: آنکھوں اور صحت کے مسائل

4:وقت کا ضیاع اور والدین سے دوری

بچوں کو بچانے کے اسلامی طریقے

1: نیک صحبت دینا:

اولیائےکرام فرماتے ہیں:صحبت انسان کو بنانے یا بگاڑنے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتی ہے۔بچوں کو نیک دوست،مدرسہ اور مسجد کی صحبت ملے تو وہ موبائل سے دور رہیں گے۔

2: اسلامی قصے اور واقعات سنانا:

والدین اپنے بچوں کو صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کی کہانیاں سنائیں تاکہ ان کے دل میں نیکی کا شوق پیدا ہو۔

3:وقت مقرر کرنا:

بچوں کے لیے نماز،تعلیم اور کھیل کے لیے وقت مقرر کیا جائے تاکہ ان کے پاس موبائل کے لیے وقت نہ بچے۔

4:والدین کا نمونہ بننا:

اگر والدین خود موبائل میں ڈوبے رہیں گے تو بچے کیسے بچیں گے؟ والدین جب خود قرآن کی تلاوت اور ذکر و اذکار میں وقت گزاریں گے تو بچے بھی ویسے ہی عمل کریں گے۔

لہٰذا بچوں کو سکھانا ضروری ہے کہ موبائل کا فضول استعمال ایمان کے لائق نہیں۔

رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:آدمی کی اسلام کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کام چھوڑ دے جو اسے نفع نہ دے۔(ترمذی،4/ 142،حدیث 2324)

بچوں کو موبائل فون سے بچانے کے لیے:

بچوں کو موبائل فون کی عادت سے بچانے کے لیے سب سے پہلے گھر میں اصول بنائیے کہ کھانے،سونے اور پڑھائی کے اوقات میں موبائل فون استعمال نہیں ہو گا۔موبائل فون بیڈ روم کے بجائے مشترکہ جگہ پر رکھیےتاکہ بچے اس پر قابو نہ پا سکیں۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کو نیک مشغلے میں لگائیں تاکہ برے مشغلے کی طرف ان کا میلان نہ ہو۔

والدین کے لیے نصیحت :

بچوں کو موبائل سے نجات دلانا ایک مشکل نہیں بلکہ ممکن کام ہے۔بشرطیکہ والدین صبر،محبت اور حکمت کے ساتھ تربیت کریں۔اسلام نے ہر حال میں میانہ روی اور فضولیات سے بچنے کی تعلیم دی ہے۔

دعا:

اے اللہ!ہمیں اور ہماری نسلوں کو موبائل اور ہر فضول مشغلے کے شر سے بچا اور اپنی عبادت اور نیک اعمال میں مشغول فرما۔آمین


آج کے دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔یہ نعمت ہے اگر صحیح استعمال ہو۔لیکن یہی موبائل بچوں کے لیے ایک بڑی آزمائش اور نقصان کا سبب بھی بن رہا ہے۔بچے تعلیم سے غافل،عبادت سے دور،والدین سے بے پروا اور کھیلوں سے کٹ کر ورچوئل دنیا میں کھو جاتے ہیں۔اسلام نے ہمیشہ وقت کی قدر کرنے اور فضول مشاغل سے بچنے کی تلقین کی ہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے:وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)(پ18،المؤمنون:3)ترجمہ:اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔

موبائل کا بے جا استعمال بھی لغو اور بے ہودہ چیزوں میں شامل ہے جس سے ایمان والوں کو بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِترجمہ:آدمی کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ فضول کاموں کو چھوڑ دے۔(ترمذی،4/142،حدیث: 2334)

بچوں کو موبائل سے بچانے کے طریقے

1. صحیح مصروفیات مہیا کرنا:بچے جب فارغ ہوں تو موبائل کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔لہٰذا والدین ان کے لیے سچی اسلامی کہانیاں،تلاوت،نعتیں اور مفید کھیل مہیا کریں۔

2. محبت سے سمجھانا:

سختی سے پیش آنے کی بجائے پیار بھرے انداز میں ان کو سمجھایا جائے کہ موبائل کا بے جا استعمال وقت اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

3. اچھے ماحول کا انتظام:

اگر بچے مسجد،مدرسہ یا دینی ماحول سے وابستہ ہوں تو وہ خود بخود فضول مشغولیات سے دور ہو جاتے ہیں۔

4. کردار سازی:

حضور ﷺ نے بچوں کو نماز سکھانے اور اچھی عادات اپنانے کا حکم فرمایا۔جب والدین خود موبائل کے غلام نہ ہوں گے تو بچے بھی ان کی پیروی کریں گے۔

موبائل فون کی تباہ کاریاں اور ان کا حل:

ہمارے بچے آج کل کارٹونز اور موویز کے عادی ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کے رول ماڈل اور پسندیدہ لوگ بھی کارٹونز ہیں۔

بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ بچوں میں گناہ اور حرام کی تمیز ہی ختم ہوتی جارہی ہے اور دین سے دوری کے کچے ذہنوں کو تباہ وبرباد کر رہی ہے۔بچوں کو اگر سکرین کے ذریعے اخلاقی تربیت دینی ہے تو اس کے لیے بچوں کا مدنی چینل اور اس پر نشر ہونے والے کارٹونز بہت مفید ہیں جن میں بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ہے اور بچے کا اسکرین ٹائم کا شوق بھی پورا ہو جاتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ خود ان کے لیے وقت نکالیں کیونکہ جو وقت آپ دیں گے اس کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی۔

بچوں کی اصلاح کا طریقہ:

بچوں کی اصلاح صرف موبائل چھیننے سے نہیں بلکہ ان کی تربیت،محبت اور صحیح ماحول دینے سے ممکن ہے۔اسلام نے وقت کے بہترین استعمال کا درس دیا ہے۔اگر والدین اس ذمہ داری کو سمجھیں تو ان کے بچے دین و دنیا میں کامیاب رہیں گے۔

دعا:

اے اللہ پاک! ہمارے بچوں کو موبائل کے فتنے سے محفوظ فرما اور انہیں علمِ دین،نماز اور نیک اعمال کی محبت عطا فرما۔آمین


آپ سب یہ تحریر پڑھنے لگی ہیں یعنی آپ اپنے بچوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہیں۔آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بچے موبائل چھوڑ دیں تو ماشاء اللہ یہ بہت اچھا قدم ہے۔اللہ پاک ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے ۔آمین

بچہ موئل ایک دن میں نہیں چھوڑ دے گا جس طرح اس کو عادت بننے میں وقت لگا ہے اسی طرح اس کو ختم کرنے میں بھی وقت لگے گا۔جیسے اگر آپ کا بچہ 2 گھنٹے موبائل دیکھتا ہے تو روزانہ کی تھوڑی سی مقدار میں اس کو کم کیجئے۔روزانہ کا 3 منٹ کم کر لیجیے۔اس کام کو آہستہ آہستہ کیجیے۔اگر ایک ہی دن میں کر دیں گی تو تھوڑے دونوں بعد آپ دیکھے گی کہ پھر سے وہی موبائل دیکھنے کی عادت بن رہی ہے۔

بچوں کے موبائل استعمال کرنے کی وجوہات مع علاج:

1-بچوں کی کوئی سرگرمی(Activity) نا ہو یا سرگرمیاں ہوں تو سہی لیکن بہت کم ہوں یا بچہ سرگرمیاں بھی زیادہ کرتا ہے لیکن موبائل بھی دیکھتا ہے۔بچوں کو ہر وقت کرنے کیلئے کوئی کام چاہیے ہوتا ہے۔جب انہیں کچھ اور نہیں ملے گا تووہ موبائل دیکھیں گے۔

2-جب بچوں کو وقت نا دیا جائے تو بچے موبائل دیکھتے ہیں۔ان کی توجہ موبائل کی طرف ہو جاتی ہے۔آپ اپنے بچوں کیساتھ باتیں کیجیے، چند سرگرمیاں ان کے ساتھ مل کر کیجیے،سرگرمیوں کو دلچسپ بنائیے اور مسلسل کیجیے۔اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کے بچے موبائل کو مسلسل چھوڑیں تو آپ کو بھی ان کے ساتھ مسلسل محنت کرنی ہوگی۔

3-گھر میں بڑے موبائل استعمال کرتے ہوں تو پھر بچہ جو دیکھے گا وہی کرے گا ۔آپ اگر اپنا موبائل کا وقت کم کر دیں اور بچے کے سامنے نا چلائیں تو وہ بھی یوز نہیں کرے گا۔ یہ تبدیلی ایک یا دو دن میں نہیں آئے گی۔جب آپ کا بچہ آپ کو مسلسل ایسا کرتے دیکھے گا کہ آپ موبائل استعمال نہیں کر رہیں تو وہ بھی نہیں کرے گا ۔پہلے کچھ دن یا شاید ہفتے وہ نا چھوڑے۔لیکن جب آپ استقامت اختیار کریں گی تو ان شاء اللہ وہ بھی تھوڑا کم کر دے گا۔

5-بعض بچے ضد کی وجہ سے بھی موبائل دیکھتے ہیں جیسے آپ اگر بہت ڈانٹتی ہیں اور اس کو برا بھلا کہتی ہیں تو وہ ضد کرے گا کہ اب تو میں ضرور موبائل دیکھو گا۔

آپ کا انداز نرم مگر تھوڑا حق والا ہونا چاہیے۔کتنا نرم؟ جتنا خاص مہمانوں کیساتھ ہوتا ہے اور کب تک نرم لہجے میں روکیں گی؟ایک دن؟دو دن؟دس دن؟ایک مہینا؟جی نہیں !بلکہ مسلسل استقامت کے ساتھ۔اگر نہیں مان رہا تو تھوڑا سا ناراض ہو جائیے لیکن برا بھلا نا کہیے۔ایسے توبچہ ڈھیٹ بنے گا یا پھر ڈرپوک۔اللہ پاک ہمیں تمام قسم کے فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العلمین بجاہِ خاتمِ النبیینﷺ


جہاں موبائل فون دورِ حاضر کی اہم ضروریات ہے وہاں اس کے استعمال میں فوائد و نقصان کو مدِّ نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔موبائل فون کا غلط استعمال یا ضرورت سے زیادہ استعمال نہ قابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ایک ریسرچ کے مطابق بچے موبائل کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ دو ہزار بچے دن میں کم از کم چار گھنٹے موبائل فون کا استعمال ضرور کرتے ہیں۔بچوں کی یہ بری عادت دور کرنے کے لیے درج ذیل وجوہات پر غور کرنا چاہیے۔

بچوں کو موبائل فون دینے کی وجوہات پر غور کیجیے:

ان وجوہات پر تحقیق کرنے سے سامنے آتا ہے کہ والدین اپنے کام کاج میں مصروفیت کے باعث اور بچوں کی بوریت دور کرنے کے لیے بچوں کو کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف کرنے کی بجائے موبائل فون جیسا زہر تھما دیتے ہیں جسے ماہرین نے ڈیجیٹل زہر کا نام بھی دیا ہے۔

گھر کا ماحول:

گھر کے ماحول،رہن سہن وغیرہ پر خاص توجہ دیجئے کہ کہیں گھر کا ماحول بچے میں چڑچڑا پن اور ذہنی دباؤ کا باعث تو نہیں بن رہا جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بچہ موبائل فون کا استعمال کرنے کی طرف مائل ہوتا ہو!

اصول بنائیے:

اصول بات کو پختہ کرنے اور اس پر عمل کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لہٰذا ایسے اصول گھر میں نافذ کیجئے کہ جو گھر کے ماحول کو پرسکون رکھیں تاکہ بچہ موبائل فون کی طرف کم سےکم متوجہ ہو اور بچے کے موبائل فون استعمال کرنے پر بھی اصول بنائیے اور اس پر عمل در آمد کروائیے اور نہ عمل کرنے پر کوئی معمولی سی سزا مقرر کیجیے جیسے جیب خرچ(Pocket Money )کا نہ دینا وغیرہ۔

خود مثال بنئے:

بچوں کی موبائل فون کی عادت چھڑانے کے لئے خود مثال بنیے اور موبائل فون کا استعمال کم سے کم کیجیے۔ اگر کوئی ضروری کام ہو تو بچوں کے سامنے موبائل استعمال نہ کیجئے۔

موبائل فون کے نقصانات سے آگاہ کیجیے:

بچوں کو موبائل فون کے نقصانات سے آگاہی فراہم کیجیے کہ یہ نظر کی کمزوری ،پڑھائی اور معاشی سرگرمیوں میں عدم دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔

بعض بچے موبائل کے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس کی Addiction کا شکار نظر آتے ہیں۔اس بری عادت کی وجہ سے جب بچوں کو منع کیا جائے تو بات ماننے کی بجائے غصّے اور چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ایسے بچوں کو موبائل فون سے آہستہ آہستہ دور کیجئےاور استعمال کے وقت خیال رکھیے کہ موبائل فون سے گناہوں بھرے پروگرام نہ دیکھیں۔

ایسے بچوں کو موبائل سے دور رکھنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ انہیں چند ضروری اور دلچسپ چیزوں کا لالچ دیجئے جیسے اگر وہ آج صرف ایک گھنٹہ موبائل استعمال کریں تو انعام میں انہیں کوئی ان کی پسندیدہ چیز تحفۃً ملے گی۔


شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت ضلع لیہ ، پنجاب میں  مدنی مشوے کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع لیہ کے بستہ ذمہ داران نے شرکت کی۔مدنی مشورے کا مقصد شعبہ روحانی علاج کے بستوں کو مضبوط بنانا اور شرعی تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کے حوالے سے رہنمائی کرنا تھا۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق صوبائی ذمہ دار مولانا انیس عطاری مدنی نے شرکا سے کلام کرتے ہوئے بستوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ممتاز کیفیت میں لانے نیز شرعی تقاضوں کو پورا کرنے اور مزید بستے کھلوانے کا ذہن دیا ۔

اسی طرح مدنی مشورے میں آنے والے شرکا کو اپنے علاقے میں جا کر بستوں کو مضبوط کرنے، شرعی ہدایات کے مطابق مریضوں سے اچھے انداز میں گفتگو کرنے اور مزید نئے بستے کھولنے کے بارے میں رہنمائی کی گئی۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے بستہ ذمہ داران کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی تاکہ دینی خدمات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔(رپورٹ: محمدوسیم عطاری، صوبائی آفس ذمہ دار پنجاب ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

ملتان ، پنجاب میں شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت ملتان سٹی کے بستہ ذمہ داران کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس کا مقصد بستوں کو مضبوط بنانا اور شرعی تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کے حوالے سے رہنمائی کرنا تھا۔

معلومات کے مطابق اس مدنی مشورے میں شعبے کے صوبائی ذمہ دار مولانا انیس عطاری مدنی نے شرکا سے کلام کرتے ہوئے بستوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ممتاز کیفیت میں لانے نیز شرعی تقاضوں کو پورا کرنے اور مزید بستے کھلوانے کا ذہن دیا ۔

اسی طرح مدنی مشورے میں آنے والے شرکا کو اپنے علاقے میں جا کر بستوں کو مضبوط کرنے، شرعی ہدایات کے مطابق مریضوں سے اچھے انداز میں گفتگو کرنے اور مزید نئے بستے کھولنے کے حوالے سے رہنمائی کی گئی۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے بستہ ذمہ داران کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی تاکہ دینی خدمات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔(رپورٹ: محمدوسیم عطاری، صوبائی آفس ذمہ دار پنجاب ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


لودھراں ، پنجاب میں شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت لودھراں ڈسٹرکٹ کے بستہ ذمہ داران کا مدنی مشورہ منعقد کیا گیا جس کا مقصد بستوں کو مضبوط بنانا اور شرعی تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کے حوالے سے رہنمائی کرنا تھا۔

اس دوران صوبائی ذمہ دار مولانا انیس عطاری مدنی نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے بستوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ممتاز کیفیت میں لانے کا ذہن دیا نیز شرعی تقاضوں کو پورا کرنے اور مزید بستے کھلوانے کے حوالے سے بستہ ذمہ داران کی رہنمائی کی۔

اسی طرح مدنی مشورے میں آنے والے شرکا کو اپنے علاقے میں جا کر بستوں کو مضبوط کرنے، شرعی ہدایات کے مطابق مریضوں سے اچھے انداز میں گفتگو کرنے اور مزید نئے بستے کھولنے کا ذہن دیا گیا۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے بستہ ذمہ داران کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی تاکہ دینی خدمات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔(رپورٹ: محمدوسیم عطاری، صوبائی آفس ذمہ دار پنجاب ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

بہاولپور، پنجاب میں شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت بہاولپور کے بستہ ذمہ داران کے لیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد بستوں کو مضبوط بنانا اور شرعی تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہونے کے حوالے سے رہنمائی کرنا تھا۔

اس موقع پر صوبائی ذمہ دار مولانا انیس عطاری مدنی نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے بستوں کو مضبوط کرنے اور انہیں ممتاز کیفیت میں لانے کا ذہن دیا نیز شرعی تقاضوں کو پورا کرنے اور مزید بستے کھلوانے کے حوالے سے بستہ ذمہ داران کی رہنمائی کی۔

اسی طرح میٹنگ میں آنے والے شرکا کو اپنے علاقے میں جا کر بستوں کو مضبوط کرنے، شرعی ہدایات کے مطابق مریضوں سے اچھے انداز میں گفتگو کرنے اور مزید نئے بستے کھولنے کا ذہن دیا گیا۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے بستہ ذمہ داران کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی تاکہ دینی خدمات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔(رپورٹ: محمدوسیم عطاری، صوبائی آفس ذمہ دار پنجاب ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پنجاب کے علاقے چمن آباد، مصریال روڈ،  راولپنڈی میں واقع دعوتِ اسلامی کے تعلیمی ادارے جامعۃ المدینہ میں شعبہ کفن دفن کے تحت ایک اہم غسل میت و کفن کورس کا انعقاد کیا گیا ۔

اس کورس میں صوبائی ذمہ دار شعبہ کفن دفن مولانا محمد مزمل عطاری مدنی نے شرکا کو غسل میت کے شرعی احکام، سنت کے مطابق غسل کے سات مراحل اور پانی کے استعمال سے متعلق احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔

صوبائی ذمہ دار نے خاص طور پر تختۂ غسل پر پانی زیادہ نہ بہانے، پانی کے مستعمل نہ ہونے اور غسل کی فضیلت کے حوالے سے حدیث پاک کی روشنی میں تفصیلات بیان کیں نیز عوام الناس میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ۔

اس کورس کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں شرکا نے اپنے سوالات کے تسلی بخش جواب حاصل کیے۔ بعد ازاں، شرکاء کو مسلم فنرل ایپلیکیشن کا تعارف کروایا گیا اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

اسلام آباد کے علاقے جی 11 میں واقع دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضان مدینہ میں شعبہ کفن دفن کے تحت ”ایصال ثواب اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی نمازیوں اور دیگر علاقے کے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

صوبائی ذمہ دار شعبہ کفن دفن مولانا مزمل عطاری مدنی نے ”ایصال ثواب“ کے موضوع پر بیان کیا جس کے بعد وہاں موجود تمام اسلامی بھائیوں نے طالبِ علم زاہد عطاری کے نانا جان( جن کا حال ہی میں انتقال ہوا تھا) کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا کی۔

آخر میں صوبائی ذمہ دارنے شرکا کو دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع و ہفتہ مدنی مذاکرے میں شرکت کرنے کی دعوت دی تاکہ اسلامی تعلیمات سے آگاہی کے ساتھ علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملے۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


مشین محلہ نمبر 3، جہلم:

جہلم، پنجاب کے علاقے مشین محلہ نمبر 3 میں واقع جامع مسجد غوثیہ میں شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے تحت ایک اہم غسل میت و کفن کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی بھائیوں نے بھرپور شرکت کی۔

اس کورس میں صوبائی ذمہ دار شعبہ کفن دفن مولانا محمد مزمل عطاری مدنی نے شرکا کو غسل میت کے شرعی احکام، سنت کے مطابق غسل کے سات مراحل اور پانی کے استعمال سے متعلق احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔

صوبائی ذمہ دار نے خاص طور پر تختۂ غسل پر پانی زیادہ نہ بہانے، پانی کے مستعمل نہ ہونے اور غسل کی فضیلت کے حوالے سے حدیث پاک کی روشنی میں تفصیلات بیان کیں نیز عوام الناس میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ۔

اس کورس کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں شرکا نے اپنے سوالات کے تسلی بخش جواب حاصل کیے۔ بعد ازاں، شرکاء کو مسلم فنرل ایپلیکیشن کا تعارف کروایا گیا اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

تاریخ: 10 مئی 2026ء

ضلع خیرپور، سندھ کے شہر گمبٹ میں شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت 10 مئی 2026ء کو تعویذات کےاجازت یافتہ بستہ ذمہ دار اسلامی بھائیوں کے لیے ”دہرائی اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا ۔

اس اجتماع کا مقصد اجازت یافتہ بستہ ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو نیکی کی دعوت، امت کی خیر خواہی، پبلک ڈیلنگ اور تعویذات کی دہرائی کی بریفنگ دینا تھا تاکہ اپنے کام بہتر انداز میں کرسکیں۔

اس دوران شعبے کے صوبائی ذمہ دار امان اللہ عطاری نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی شرعی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں تعویذات کے احتیاطی اقدامات اور دیگر امور سے آگاہ کیا۔(رپورٹ: نوید احمد عطاری، ڈویژن ذمہ دار شعبہ روحانی علاج سکھر ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)