المنهل
العذب المورود شرح سنن ابي داؤدکا تعارف
شارح کا نام: علامہ محمود محمد خطاب السبکی رحمۃُ
اللہِ علیہ
تحقیق و تصحیح: امین محمود محمد خطاب (مصنف
کے صاحبزادے نے حصہ ششم کے بعد کام کیا )
ناشر: مطبعۃ الاستقامہ، قاہرہ (مصر)
اشاعت: پہلی طباعت ۱۳۵۱ھ
تا ۱۳۵۳ھ
بعد میں مصر
اور بیرونِ ملک کی مختلف مطابع نے اس کی نقل (تصویر) شائع
کی، جن میں سے بعض نے غلطی سے ”الطبعۃ الثانیۃ “ لکھ دیا حالانکہ وہ پہلی
طباعت ہی کی نقل تھی۔
ٹوٹل مجلدات:10 جلدوں پر مشتمل ہے۔
اہم نوٹ:
۞ ہر
جلد کے آخر میں اہم تصحیحات اور استدراکات شامل ہیں، جن سے استفادہ کرنا مفید ہے۔
۞یہ
شرح باب الہَدْی من المناسک (یعنی حج کے ابواب) تک
پہنچ کر ختم ہوتی ہے، کیونکہ مصنف اسی دوران وفات پا گئے۔
۞آپ رحمۃ
اللہ علیہ
کے صاحبزادے امین محمود محمد خطاب نے اس کی تکمیل کے طور پر ایک نیا حصہ لکھا: فتح الملك
المعبود تكملة المنهل العذب المورود جو کتاب
الطلاق کے آخر تک پہنچتا ہے۔یہ تکملہ چار جلدوں میں شائع ہوا۔مگر وہ بھی وفات کے
باعث اسے مکمل نہ کر سکے۔
یوں ”المنهل
العذب المورود“
اور ”تکملہ
فتح الملك المعبود“ مجموعی طور پر سنن ابی داؤد کے تقریباً آدھی احادیث
پر مشتمل شرح ہے۔
شرح کی خصوصیات
۞راویوں کی سوانح کو بیان کیا گیا ہے۔
۞احادیث
کے الفاظ کی شرح اور اس كے معانی کو واضح
کر کے بیان کیا گیا ہے۔
۞ احادیث سے حاصِل ہونے والے احکام و فوائد کو بیان کیا
گیا ہے۔
۞اگر کسی
حدیث میں کوئی اختلاف ہے تو اختلاف کے پہلوؤں کو واضح کر کے بیان کیا گیا ہے۔
۞ حدیث کی تخریج بیان کرتے ہیں خواہ وہ ائمۂ ستہ میں سے ہوں یا اِن کے علاوہ
ہے تو اس نے کس سے نقل کی ہے؟اس کو بیان کیا گیا ہے۔
۞حدیث
کی سند کی حیثیت بیان کرتے ہیں ،مثلاً :حدیث
صحیح ،حسن ہے یا کوئی اور درجہ رکھتی ہے۔
(المنہل العذب المورود شرح سنن ابی
داؤد،جلد:1،صفحہ:3،مطبوعۃ الاستقامۃ، القاهرة - مصر)
محمود بن محمد سبکی رحمۃُ اللہِ علیہ کا تعارف
کنیت : ابو محمد
القابات: ٭الامام الجليل
٭
المحقق ٭العارف
الربانی ٭
المدقق٭محی
السنۃ٭
قامع البدعۃ٭
صاحب الفضيلۃ اور ٭الارشاد
الشيخ
نام: محمود بن محمد بن احمد بن خطاب السبکی
ولادت: ۱۲۷۴ھ (1857ء) میں
پیدا ہوئے۔
مقلد :علامہ محمود خطاب السبکی رحمۃُ اللہِ
علیہ
فقیہِ مالکی اور ازہری عالم تھے۔
مقامِ پیدائش:آپ رحمۃُ اللہِ
علیہ کی پیدائش مصر کے صوبہ منوفیہ کے ایک گاؤں سبك
الاحد (قریہ
اشمون)
میں ہوئی۔
دینی تعلیم:ابتدائی تعلیم کے بعد آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے جامعۃ الازہر سے اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی،
وہیں آپ رحمۃُ اللہِ
علیہ بڑے عالم بنے اور تدریس کے فرائض انجام دیتے
رہے۔
اصلاحی تنظیم کی بنیاد:آپ رحمۃُ اللہِ
علیہ نے ”الجمعية الشرعية“ کے
نام سے ایک مشہور دینی و اصلاحی تنظیم قائم کی اور سنہ ۱۳۳۱ھ
سے ۱۳۵۲ھ تک اس کے صدر رہے۔یہ انجمن عوامی
اصلاح، دینی تعلیم اور سنت کی ترویج میں بہت مؤثر ثابت ہوئی۔
تصوف:علامہ سبکی رحمۃُ اللہِ علیہ تصوف کی ایک معروف سلسلہ سے بھی وابستہ تھے ۔
وفات: آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کا انتقال ۱۳۵۲ھ (1933ء) کو
قاہرہ (مصر)
میں
ہوا۔
تصنیفات:آپ رحمۃُ اللہِ علیہ نے مختلف دینی موضوعات پر کئی اہم تصنیفات کیں،
جن میں سے چند یہ ہیں:
۞الدین الخالص
یہ 6 جلدوں پر مشتمل عظیم دینی تصنیف، جسے ”ارشاد الخلق الى دين الحق“ کے
نام سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ کتاب خالص دینِ اسلام کی تعلیمات اور اصلاحِ عقائد پر
مبنی ہے۔
۞تحفۃ الابصار والبصائر، فی بيان كيفية السير مع الجنازة الى المقابر
جنازے
کے ساتھ قبرستان تک جانے کے آداب و احکام پر مفصل رسالہ ہے ۔
۞الرسالة البديعة الرفيعة،
في الرد على مَن طغى فخالف الشريعة
ایک
فتاویٰ نما رِسالہ ہے، جس میں مختلف بدعات و انحرافات کی تردید کی گئی اور سنت کے
مطابق عمل کی ترغیب دی گئی ہے۔
۞غاية التبيان، لما به ثبوت
الصيام والافطار في شهر رمضان
رؤیتِ
ہلال اور رمضان المبارک کے روزے و افطار کے ثبوت سے متعلق ایک مفصل تحقیقی کتاب۔
۞المنهل العذب المورود شرح
سنن ابي داؤد
۞فصل القضية في المرافعات وصور
التوثيقات والدعاوي الشرعية
یہ
قضایا و عدالت سے متعلق کتاب ہے، جس میں شرعی دعوؤں، دستاویزات اور عدالت کے اصول
و طریقۂ کار کو بیان کیا گیا ہے۔
(الاعلام خير الدين ، الزركلی الدمشقی، جلد:7، صفحہ:186، مطبوعہ:دار العلم
للملايين)
از قلم: ابو مبین محمد امین مدنی
انسان خطاکار
ہے۔ انسان کی زندگی لغزشوں، کوتاہیوں اور غفلتوں سے خالی نہیں مگر اسی کے ساتھ
اللہ پاک نے انسان کو رجوع، ندامت اور
اصلاح کا دروازہ بھی عطا فرمایا ہے، جسے توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ محض چند الفاظ کی
ادائیگی یا وقتی جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی سچی
ندامت، گناہوں کو فوراً ترک کرنے اور
آئندہ نہ کرنے کے پختہ عزم کا نام ہے۔ یہی کیفیت جب اخلاص، خوفِ خدا اور محبتِ
الٰہی کے ساتھ جمع ہو جائے تو اسے حقیقی توبہ کہا جاتا ہے۔
مسلمانوں کے
چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے ایک اعرابی کو کہتے ہوئے سنا: اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْتَغْفِرُكَ
وَاَتُوْبُ اِلِيْك یعنی :اے اللہ !میں
تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور میں تیری
بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔آپ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا:اے
شخص! زبان سے جلدی جلدی توبہ کہنا جھوٹوں کی توبہ ہوتی ہے۔اس نے عرض کی:پھر توبہ
کیا ہے؟آپ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا:بے
شک توبہ 6 چیزوں کا مجموعہ ہے:
(1):
گزشتہ گناہوں پر سچی ندامت اور پشیمانی۔
(2): فرض
عبادات کی ادائیگی یعنی اگر رہ گئی ہوں تو ان کی قضا خواہ نماز ہو، روزہ ہو، زکوٰۃ ہو یا دیگر
فرائض۔
(3): حقوق
العباد کی ادائیگی اور جن لوگوں کا حق مارا ہو ان سے معافی طلب کرنا۔
(4): پختہ
ارادہ کرنا کہ آئندہ کبھی بھی گناہ کی طرف
واپس نہ لوٹے گا۔
(5): اپنے
نفس کو اللہ کی اطاعت میں اس طرح گھلا دینا جیسے اسے گناہوں میں پروان چڑھایا تھا۔
(6):نفس
کو اطاعت کی مشقت اور کڑواہٹ چکھانا جیسے اسے گناہوں کی لذت چکھائی تھی۔
(تفسیر روح البیان ،پارہ28،سورۂ تحریم،زیرِ آیت:8،جلد:10،صفحہ:61 دارالفکر
بیروت)
اس روایت سے
معلوم ہوا کہ توبہ صرف الفاظ کا نام نہیں اور صرف اَسْتَغْفِرُكَ
وَاَتُوْبُ اِلِيْك کہہ دینا کافی
نہیں بلکہ دل کی کیفیت، ندامت اور عملی اصلاح ضروری ہے اور اسی بارے میں اللہ پاک
فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ
تَوْبَةً نَّصُوْحًا ؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اللہ کی طرف
ایسی توبہ کرو جس کے بعد گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو ۔(پارہ:28، التحریم:8)
یعنی اے ایمان
والو!اللہ پاک کی بارگاہ میں ایسی سچی
توبہ کرو جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اَعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہوجائے اور
وہ گناہوں سے بچتا رہے۔
حقیقی توبہ
کرنے والے عابد کا واقعہ ملاحظہ کیجئے؛حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ
اللہِ علیہ
فرماتے ہیں :میں نے ایک عابد کو دیکھا کہ اس کا ایک پاؤں عبادت خانہ سے باہَر پڑا
ہے اور اس سے پیپ بہہ رہی ہے ۔میں نے اس سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے جواب
دیا کہ ایک مرتبہ ایک عورت میری زیارت کرنے کے لیے آئی اور میری عبادت گاہ کے قریب
سو گئی ،میں نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کرنے
کا ارادہ کیا۔ اس ارادے سے میں نے یہ پاؤں
باہَر نکالا تو مجھ پر خوفِ خدا طاری ہو گیا ۔میں نے قسم کھائی کہ اب اس فاجر پاؤں
کو اپنے ساتھ نہ ملاؤں گا۔
(تفسیر
روح البیان،پارہ:21،سورۂ روم،زیرِ آیت:41،جلد:7،صفحہ:47 دار الفکر بیروت)
معزز قارئین
کرام !یہ حکایت اپنے اندر زہد و تقویٰ اور
خوفِ خدا کے گہرے موتی سموئے ہوئے ہے۔ اس
سے ہمیں چند باتیں سیکھنے کو ملیں:
۞خوفِ خدا
گناہ سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ جب بندے کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہو
جائے تو وہ گناہ کے قریب جا کر بھی رک جاتا ہے۔
۞نفس کا
محاسبہ (Self-Accountability)؛کیونکہ
عابد نے اپنے نفس کو سزا دی اور عہد کیا کہ اس پاؤں کو اپنے ساتھ نہ ملائے گا۔ یہ
نفس کے احتساب کی اعلیٰ مثال ہے۔
۞بزرگ کے
تقویٰ کا اعلیٰ درجہ ؛کیونکہ بزرگانِ دین
کی حساسیت عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتی
ہے؛ وہ چھوٹی سی لغزش کو بھی بڑی کوتاہی سمجھتے ہیں۔عام لوگ گناہ کرنے کے بعد بھی بے پرواہ رہتے ہیں ۔
۞برے ارادے
سے فوراً رجوع کر لینا نجات کا سبب ہے؛ عابد نے فوراً گناہ کا ارادہ چھوڑ دیا۔ یہ سچی توبہ اور رجوع الی اللہ کی علامت ہے۔
لہٰذا ہمیں
گناہوں کے ایسے اسباب، حالات اور مواقع سے
بچنا ضروری ہے جو انسان کو لغزش کی طرف لے جائیں۔حقیقی توبہ دراصل روح کی پاکیزگی،
دل کی بیداری اور کردار کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو مایوسی سے نکال کر امید
کی روشنی عطا کرتی ہے اور گناہوں کی تاریکی سے نکال کر قربِ الٰہی کے انوارکی
منازل تک پہنچاتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں حقیقی توبہ کی توفیق عطا فرمائیں ۔اٰمین بجاہِ النبیین الامین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم
تحریر:
ابو مبین محمد امین مدنی
ضلع تھرپارکر، سندھ کے شہر مِٹھی میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں
مؤرخہ 10 مئی 2026 کو شروع ہونے والا 12 دن پر مشتمل ”رہائشی معلم کورس“21
مئی 2026 کو اختتام پذیر ہوا جس میں پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں سے آنے والے
معلمین بالخصوص شعبہ مدنی کورسز کے اراکین
شریک تھے۔
ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق بعد نمازِ
فجر تفسیر کے حلقوں میں قرآنِ کریم کی تعلیمات سکھانے، اشراق و چاشت پڑھنے، مختلف
دینی معمولات سیکھنے اور صبح و شام معلمین
کی تربیت کرنے کا سلسلہ جاری تھا جبکہ مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے بتایا کہ ایک معلم
کا کردار، اخلاق، اندازِ گفتگو اور نیکی کی دعوت کا طریقہ کیسا ہوناچاہیے؟۔
علاوہ ازیں شرکائے کورس کو دعوتِ اسلامی کے دینی
ماحول، حسنِ اخلاق، اخوت، سنتوں بھرے انداز اور اسلاف کے جذبۂ دینی سے بھرپور
انداز میں روشناس کروایا گیا۔(رپورٹ: دیدار حسین عطاری ،ڈویژن
ذمہ دار شعبہ مدنی کورسز میرپور خاص سندھ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران کا اسپیشل
ایجوکیشن سینٹر، کوٹلی کشمیر کا دورہ
دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کے سلسلے میں اسپیشل
پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ داران نے گزشتہ روز اسپیشل ایجوکیشن سینٹر، کوٹلی کشمیر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سینٹر کے
اسٹاف سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں نیکی کی دعوت پیش کی جس کا مقصد دینی تعلیمات و
اخلاقی اقدار کو فروغ دینا تھا۔
پچھلے دنوں دعوتِ اسلامی کے تحت کوٹلی کشمیر میں
واقع مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا جس
میں اسپیشل پرسنز کے لیے حلقہ لگایا گیا۔
20 مئی 2026ء بروز جمعہ، کراچی سٹی کے علاقے
کھارادر ٹاؤن اور لیاری ٹاؤن میں اسپیشل پرسنز ڈپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے تحت احکام
قربانی کورس کا انعقاد کیا گیا ۔
معلومات کے مطابق نگرانِ ڈیپارٹمنٹ عمیر ہاشمی عطاری
نے جامع مسجد فیضان رضا میں ہونے والے احکامِ قربانی کورس میں بیان کیا اور حاضرین
کو قربانی کے شرعی احکام، اہمیت اور طریقۂ کار کے بارے میں بتایا۔
ڈسٹرکٹ جھنگ میں اسپیشل پرسنز کے لیے نکاح کے
احکام سے متعلق سیکھنے سکھانے کا حلقہ
دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت
8 مئی 2026ء کو فیصل آباد ڈویژن، پنجاب کے ڈسٹرکٹ جھنگ میں اسپیشل پرسنز کے لیے سیکھنے
سکھانے کا حلقہ منعقد کیا گیا۔
اس حلقے میں اسپیشل پرسنز کو اشاروں کی زبان میں
نکاح کے احکام، اس کی اہمیت اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ازدواجی زندگی گزارنے کے
بارے میں رہنمائی دی گئی۔
دورانِ حلقہ نکاح کی فضیلت، میاں بیوی کے حقوق،
حسنِ اخلاق، محبت اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کے موضوعات پر تربیت کی گئی
تاکہ اسپیشل پرسنز بھی آسان و مؤثر انداز میں دینی معلومات حاصل کر سکیں۔
اس موقع پر نگرانِ ڈسٹرکٹ جھنگ اور صوبائی ذمہ
دار محمد وقاص عطاری بھی موجود تھے۔ صوبائی ذمہ دار نے اشاروں کی زبان میں ترجمانی
کی اور اسپیشل پرسنز کی دینی تربیت کے اس اہم عمل کو سراہتے ہوئے مزید دینی کاموں
کے لیے حوصلہ افزائی کی نیز ہفتہ وار اجتماعات
میں شرکت کی اہمیت پر زور دیا اور دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنے کی
ترغیب دلائی۔(رپورٹ: مولانا محمد نعمان عطاری مدنی ،
فیصل آباد ڈویژن اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت 10
مئی 2026ء کو فیصل آباد ڈویژن میں ڈسٹرکٹ ذمہ دار اسلامی بھائیوں کا مدنی مشورہ
منعقد ہوا جس میں ڈیپارٹمنٹ کے تحت ہونے والے دینی کاموں کا جائزہ لیا گیا اور
آئندہ کے اہداف و مقاصد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی ذمہ دار محمد وقاص عطاری نے
ذمہ داران کی دینی خدمات و نمایاں کارکردگی
کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی اور مزید بہتری کے لیے آئندہ کے اہداف دیے۔
اس کے
علاوہ فیصل آباد ڈویژن میں اسپیشل پرسنز کے درمیان دینی سرگرمیوں کو مزید مضبوط و
فعال بنانے، ہفتہ وار اجتماعات میں اضافہ کرنے، دیگر اسلامی بھائیوں پر انفرادی
کوشش کرنے اور ٹریننگ سیشنز کے حوالے سے مشاورت کی۔
آخرمیں صوبائی ذمہ دار نے ذمہ دار اسلامی
بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے مضبوط وابستگی برقرار رکھنے، اخلاص کے
ساتھ دینی خدمات میں حصہ لینے اور اسپیشل پرسنز کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی
توجہ دینے کا ذہن دیا۔(رپورٹ: مولانا محمد نعمان عطاری مدنی ،
فیصل آباد ڈویژن اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت 12
مئی 2026ء کو منڈی بہاؤالدین میں واقع اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کا دورہ کیا گیا جس دوران سینٹر کے پرنسپل سے ملاقات بھی ہوئی اور ڈیپارٹمنٹ کے تعارف نیز اس کے تحت ہونے والے
دینی و فلاحی اقدامات سے انہیں آگاہی دی
گئی۔
بعدازاں خصوصی اسٹوڈنٹس کے درمیان ”درودِ پاک
کے فضائل“ کے موضوع پر بیان کیا گیاجسے
گجرات ڈویژن کے ذمہ دار محمد نبیل عطاری نے اشاروں کی زبان میں بیان کیا تاکہ اسپیشل
اسٹوڈنٹس کو آسان و مؤثر انداز سے دینی معلومات فراہم کی جا سکیں۔ دورانِ بیان
مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اسپیشل اسٹوڈنٹس کو درودِ پاک پڑھنے کی اہمیت، اس کی برکتیں
اور روزمرہ زندگی میں اخلاقی اقدار اپنانے کی ترغیب دلائی۔
آخر میں اسپیشل اسٹوڈنٹس کو دعوتِ اسلامی کے
ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی دعوت دی گئی تاکہ وہ دینی ماحول سے وابستہ رہ کر مزید
دینی و اخلاقی تربیت حاصل کرسکیں۔(رپورٹ: اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ،
کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
حضرت سعد بن
عبادہ کی دعا
حضرت
سعد بن عُبادہ رَضِیَ
اللہُ عنہ یہ دعا مانگا
کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي مَالًا وَفَعَالًا فَاِنَّهُ لا يَصْلُحُ
الْفَعَالُ اِلَّا الْمَال ترجمہ:اے اللہ!
مجھے مال اور اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرما کیونکہ اچھے کام مال کے بغیر
نہیں ہو سکتے ۔
(روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،صفحہ: 263 دار الكتب العلمیہ )
ایک
مسلمان کو مال کی دعا اور مال کی خواہش کا مقصد صرف دنیاوی آرام و سکون اور
آسائشوں کے لیے نہیں بلکہ نیکی کے کاموں
خرچ کرنے ، خدمتِ خلق اور اعمالِ صالحہ کرنے کے لیے کرنی چاہئے۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مال کی دعا کرتے وقت یہ نیت کریں کہ اللہ پاک ہمیں ایسا پاکیزہ مال
اور رزق عطا فرمائے جو دین کی خدمت، محتاجوں کی مدد اور دیگر بھلائی کے کاموں میں
معاون ثابت ہو۔
پیارے
اسلامی بھائیو!ہم اللہ پاک سے مختلف اچھے کاموں کی توفیق مانگ سکتے ہیں ؛مثلاً: ۞ گھر والوں
۞والدین
۞رشتہ
داروں اور ۞پڑسیوں
سے حسنِ سلوک کرنا ،نیز۞ صدقہ و خیرات کرنا ۞نیکی کی دعوت
دینا اور بُرائی سے منع کرنا اور ۞دیگر
دین کے کاموں میں اپنا خرچ کرنا وغیرہ۔
اس سے
معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے پہلے مال کی دعا کی پھر مختلف اچھے اور دینِ
اسلام کے کاموں خرچ کرنے کی توفیق مانگی کیونکہ مال سے ہونے والے اچھے کام ا ب فی زمانہ مال کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ہمیں بھی اللہ پاک سے حلال مال کی دعا کرنی چاہیے اور پھر اس مال کو اچھے کاموں میں
خرچ کرنے کی بھی توفیق مانگنی چاہیے۔اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین ۔
نیکی اور
احسان کی ابتدا کس سے کریں؟
اب
سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہم اچھے کاموں کی ابتدا کس سے اور کن سے کریں؟تو اس حوالے سے حضرت ابو حاتم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:عقلمند پر لازم ہے کہ نیکی اور
احسان کی ابتدا سب سےپہلے فرض اور ضروری کاموں سے کرے ،اس کے بعد سب سے پہلے اپنے
بھائیوں اور پڑسیوں پر پھر جو درجہ بدرجہ قریب ہوں ۔نیکی اور احسان کرنے میں علمائے کرام اور دینداروں
کا خاص خیال رکھے ۔
(روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،صفحہ: 255 دار الكتب
العلمیہ )
اس سے
معلوم ہوا کہ نیکی اور مدد کا آغاز اپنے گھر والوں سے کرنا چاہیے، پھر رشتہ داروں،
پڑوسیوں اور قریبی لوگوں کی طرف بڑھنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور دیندار
افراد کے ساتھ خاص طور پر احسان اور حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔
از
قلم:ابو مبین محمد امین عطاری مدنی
فیضان مدینہ کراچی میں مدرسۃ المدینہ کے اساتذہ
و ناظمین کا تین روزہ اجتماع جاری
عالمی سطح پر دنیا بھر کے لوگوں کو قرآنِ کریم
سے روشناس کرانے والی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدارس المدینہ (پاکستان) کے اساتذہ و ناظمین
کے لیے 3 دن کا خصوصی ”تربیتی اجتماع“ شروع ہو چکا ہے۔
یہ خصوصی ”تربیتی اجتماع“ جس کا انعقاد دعوتِ
اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں ہوا ہے، 1 جون 2026ء سے 3 جون
2026ء تک جاری رہے گا۔
اس اجتماع میں مختلف اوقات میں مبلغینِ دعوتِ
اسلامی، اراکینِ شوریٰ، نگرانِ شوریٰ اور بالخصوص شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے زیرِ
رہنمائی شرکا کو سنتوں کی تعلیمات سے روشناس کروایا جائے گا۔
ذرائع
سے ملنے والی معلومات کے مطابق پہلے دن یعنی 1 جون 2026ء بروز پیرمرکزی مجلسِ
شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا جبکہ نمازِ
عشا کی ادائیگی کے بعد مدنی مذاکرے کا بھی
انعقاد کیا گیا۔
مدنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے حاضرین و ناظرین کے
سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے اور مختلف امور پر تربیت کرتے ہوئے انہیں مدنی
پھولوں سے نوازا۔
بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں؟ از بنتِ مدثر،فیضان فاطمۃ الزہراء صدر راولپنڈی
جدید ٹیکنالوجی
نے انسانی زندگی کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ آپس کے رابطوں کو تیز
اور آسان بنا دیا۔عقلِ انسانی کی مرہونِ منت ان ایجادات میں سے کئی انسانی زندگی
کا جُزْوِ لَا یَنْفَک(جدا نہ ہونے والا حصہ )بن گئیں۔انہی
میں سے ایک موبائل فون بھی ہے۔ایک ہاتھ میں سما جانے والا یہ چھوٹا سا آلہ اپنے
اندر کئی جہاں سموئے ہوئے ہے۔چند دہائیوں قبل ہاتھوں میں آتے ہی موبائل فون کو
قبولیتِ عامہ ملنا شروع ہوئی اور آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بڑا ہو یا چھوٹا،بزرگ
ہو یا جوان ،مرد ہو عورت ہر ایک موبائل فون کے بغیر اپنی زندگی ایک حد تک نا مکمل
محسوس کرتا ہے۔ایسے حالات میں بچوں سے موبائل فون چھڑوانا ایک نہایت مشکل امر ہے۔موبائل
فون سے بچوں کو کلی طور پر روک دینے کے سبب بچے خود کو پنجرے میں قید پرندہ شمار
کرنے لگتے ہیں اور ان کے ننھے دلوں میں روکنے والے کے لئے منفی جذبات جنم لینے
لگتے ہیں۔مزید یہ کہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہوئے ایسے بچے چوری چھپے دوسروں کے
موبائل میں جھانکتے نظر آتے ہیں۔لہٰذا بچوں کو موبائل فون کے استعمال سے مکمل طور
پر روک دینے کی بجائے ان کا اسکرین ٹائم کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا زیادہ مفید
ہے۔آئیے!اس کے لیے چند ٹپس جانتی ہیں:
1-بچوں
کے اسکرین ٹائم کو فکس کر دیجئے اور اس کی پابندی کرنے کی صورت میں ان کی حوصلہ
افزائی کیجئے۔
2-اسکرین
کے کثرتِ استعمال کے سبب ذہنی اور جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے
بچوں کو آگاہ کیجئے۔
3-بچوں
کو موبائل فون کا متبادل (Alternate)فراہم کیجئے۔ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں مختلف انڈور اور آؤٹ ڈور
ایکٹیویٹیز میں مشغول کیجئے۔
4-بچوں
کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارئیے۔
5-بچوں
کے سامنے خود بھی موبائل فون استعمال کرنے سے حتی الامکان گریز کیجئے۔
6-بچوں
کو درست اور غلط کی تمیز سکھائیے تاکہ وہ موبائل فون کا مثبت استعمال سیکھ سکیں۔بچوں
کے اسکرین ٹائم کے دوران غیر محسوس طریقے سے ان کی نگہداشت کرتے رہیے تاکہ بچوں کو
بے جا پابندی کا احساس نہ ہو اور آپ ان کی اسکرین ایکٹیویٹیز سے مطلع بھی رہ سکیں۔
7-موبائل
کے مختلف فیچرز جیسے اسکرین لاک،پیرینٹل کنٹرول،ڈیجیٹل ویل بینگ وغیرہ کا استعمال
بھی مفید ہے۔
8-الحمد
للہ الکریم دعوتِ اسلامی مختلف ایپس،کارٹونز اور کلپس کے ذریعے بچوں کی اسلامی تربیت
کیلئے کوشاں ہے۔لہٰذا اپنے بچوں کو صرف اور صرف کڈز مدنی چینل دکھائیے تاکہ بچے
قوم و ملت کے بہترین معمار بن سکیں۔اللہ پاک ہمیں اور ہماری نسلوں کو جدید دور کے
فتنوں سے محفوظ رکھے۔آمین
Dawateislami