علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم رسول کریم ﷺ کے ایک جلیل القدر صحابی بھی ہیں اور آپ کے اہل بیت اظہار کے ایک مقدس فرد بھی آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو دنیا و آخرت میں اپنا بھائی قرار دیا آپکو یہ سعادت ملی کہ خدائی منصوبے کے تحت آپکی تربیت کاشانہ نبوت میں ہوئی یہ اسی تربیت کا فیضان تھا کہ آپ کی ذات گرامی فیضان نبوت کا مظہر اتم بن گئی آپکو یہ سعادت ملی کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد آپ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا حضرت علی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں اپنی دامادی کا شرف بخشا اپنی سب سے لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں دی۔

رسولِ کریم ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: علی سے محبت ایمان کی علامت ہے اور آپ سے بغض منافقت کی نشانی ہے۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) اس حدیث پاک سے حضور کی حضرت علی سے محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ پاک نے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اللہ پاک نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ بھی ان چاروں سے محبت کرتا ہے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ وہ چار افراد کون کون سے ہیں؟فرمایا: ان میں سے ایک علی بن ابی طالب ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت کا عالم دیکھئے کی آپ فرماتے ہیں کہ جنت آپ پر عاشق ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت تین بندوں پر عاشق ہے: حضرت علی،حضرت عمار اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہ۔

حضرت علی کو اذیت دینا رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے: رسول اللہ ﷺ کو حضرت علی سے اتنی محبت تھی کہ آپ نے بارہا فرمایا کہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں یہ انتہائی قرب اور محبت کو بیان کرنے کا ایک اسلوب ہے حضرت عمران بن حصین فرمائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا اور اس شکر کا سپہ سالار حضرت علی کو متعین فرمایا تو دوران سفر کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جو صحابہ کرام میں سے چار لوگوں کو نامناسب لگا انہوں نے آپس میں طے کیا کہ وہ واپس جاکر اسکا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کریں گے حضرت عمران فرماتے ہیں جب ہم اس سفر سے واپس آئے تو ہم سب سے پہلے بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے ہم میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ حضرت علی نے اس اس طرح کیا تو آپ نے یہ سن کر روئے زیبا دوسری طرف پھیر لیا پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے بھی یہی کہا آپ نے اس سے بھی اعراض کیا پھر تیسرا کھڑا ہوا اور اس نے بھی یہی کہا آپ نے اسکی بات سے بھی اعراض کیا جب چوتھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ بے شک علی نے اس اس طرح کیا تو اس کی بات سن کر آپکا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: علی کو کچھ نہ کہا کرو! علی کو کچھ نہ کہا کرو! بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد بھی ہر مومن کا محبوب ہے بعض روایات کے مطابق آپ نے آخری جملے تین بار دہرائے اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو حضرت علی سے اتنی محبت تھی کہ آپ نے واضح فرمایا کہ علی کو اذیت دینا مجھے اذیت دینا ہے علی کو اذیت دینا رسول اللہ کو اذیت دینے کے قائم مقام ہے۔ (مسند امام احمد ، 33/154، حدیث: 19928)

حضرت علی ہر مومن کے مولی ہیں: احادیث مبارکہ میں حضرت علی کی یہ فضیلت اور یہ منقبت بھی بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ حضرت علی ہر مومن کے مولی ہیں جو بھی رسول اللہ ﷺ کو مولی مانتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ حضرت علی کو بھی اپنا مولی مانے حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم غدیر خم پر اترے اور اعلان کیا الصلوۃ جامعۃ رسول اللہ ﷺ کے لیے دو درختوں کے سائے میں جگہ صاف کردی گئی آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں سے بڑھ کر انہیں محبوب ہوں سب نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ میں ہر مومن کو اسکی جان سے بڑھ کر محبوب ہوں سب نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا جس کا میں مولی اس کا علی مولا ہے اے اللہ! اس سے محبت فرما جو علی سے محبت رکھے اور اس سے دشمنی رکھ جو علی سے دشمنی رکھے۔ (سیدنا علی بن ابی طالب، ص 353)

رسول اللہ ﷺ نے اتنے پہلوؤں سے حضرت علی کی قرب و منزلت اور آپ کے فضائل و مناقب کو بیان فرمایا ہے کہ جن کا شمار ممکن نہیں جنکا ایک پہلو یہ ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416) یہ حدیث مبارکہ حضرت علی کی عظمت و شان پر اور رسول اللہ ﷺ کے اظہار محبت پر واضح دلیل ہے۔

اللہ پاک اور رسول کی بے پناہ محبتوں کا شرف: حضرت علی کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے ساتھ اللہ پاک اور اپنی محبت کا ذکر منفرد طور پر فرمایا حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں رسول اللہ کو سب سے بڑھ کر محبوب کون تھا انہوں نے فرمایا حضرت فاطمۃ الزہرا تھیں ان سے عرض کی مردوں میں سے کون تھا تو انہوں نے فرمایا ان کے شوہر جہاں تک میں جانتی ہوں۔ (مستدرک، 3/171، حدیث: 4744)

ایک اور موقع پر حضرت عائشہ نے فرمایا میں نے حضرت علی سے بڑھ کر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کو محبوب نہیں دیکھا اور نہ ہی انکی زوجہ سے بڑھ کر کسی عورت کو رسول اللہ کے نزدیک محبوب دیکھا۔

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پرندہ لایا گیا تو آپ نے دعا کی اے اللہ! میرے پاس اس شخص کو بھیج جو تیری پوری مخلوق میں تجھے سب سے بڑھ کر محبوب ہو اور وہ میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے تو حضرت علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ وہ پرندہ کھایا۔(ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

رسولِ خدا ﷺ کی حضرت علی سے محبت کے بے شمار واقعات ہیں جن سے سرکار دوعالم کی محبت چھلکتی ہے آپ کے فضائل و مناقب کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سرکار ﷺ نے آپ کے لئے خصوصی طور پر دعائیں فرمائیں حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اکرم نے میرے لئے یہ دعا بھی فرمائی: اے اللہ! انہیں گرمی اور سردی سے محفوظ فرما آپ فرماتے ہیں کہ اسکے بعد نہ کبھی مجھے گرمی کی تکلیف محسوس ہوئی نہ سردی کی۔ (سنن کبری للنسائی، 7/411، حدیث:8343)

ان تمام احادیث مبارکہ اور واقعات سے حضرت علی کے فضائل و مناقب کے ساتھ ساتھ ان کی بلند شانوں کے متعدد پہلو واضح ہوتے ہیں اور جن سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ پاک کے نزدیک اور رسول اللہ کی نگاہ نبوت میں حضرت علی کا مقام اور مرتبہ کیا ہے اللہ پاک ہمیں بھی خلیفہ چہارم حضرت علی سے محبت کرنے اور آپکافیض پانے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین

دیدِ علی عبادت،ذکرِ علی عبادت کیا شان ہے علی کی،کیا مرتضیٰ علی ہے


ہمارے معاشرے میں ایک بہت عام برائی یہ ہے کہ لوگ دوسروں کے درمیان جھگڑا کرواتے ہیں۔ کسی کی بات آگے بڑھا کر فساد کر دینا، کسی کی غیبت و چغلی لگا کر تعلقات خراب کر دینا، یہ سب شیطان کے پسندیدہ کام ہیں۔ لوگوں میں فساد کروانے کے لئے ان کی باتیں ایک دوسرے تک پہنچانا چغلی بھی کہلاتا ہے۔

جھگڑا کروانے کی چند مثالیں: کسی سے جا کر اس طرح کہنا: فلاں آدمی نے تمہارے بارے میں ایسے ایسے کہا ہے اس نے کہا کہ تم بڑے دھو کے باز ہو۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) (پ 2، البقرۃ: 205) ترجمہ: اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یعنی فساد پھیلانا اللہ تعالیٰ کی ناپسندیدگی کا سبب ہے۔

فرمان مصطفے ﷺ : طعنہ زنی، غیبت، چغل خوری اور بے گناہ لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کو اللہ پاک (قیامت کے دن ) کتوں کی شکل میں اٹھائے گا۔ (الجامع فی الحديث، 1/534، حدیث: 428)

جھگڑا کروانے والے کے بارے میں دنیاوی و اخروی نقصان:

دنیا میں ایسے سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔ عزت و اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جھگڑا کروانے کے گناہ میں مبتلا ہونے کے بعض اسباب:

جھگڑا کروانے کے چند اسباب درج ذیل ہیں: غصہ، بغض و کینہ، حسد، لگائی بجھائی (یعنی ادھر کی بات ادھر اور ادھر کی ادھر کہتے پھرنے) کی لت (ایسا شخص کبھی دو فریقوں میں لڑائی جھگڑا کروا کر اپنے طور پر تفریح کر رہا ہوتا ہے )، زیادہ بولنے کی عادت( ایسے شخص کا غیبت وچغلی و لڑائی جھگڑا کروانے اور دوسرے کئی طرح کے گناہوں سے بچنا بہت دشوار ہوتا ہے )، لا علمی، چغل خوری کی عادت ( ایسا شخص ایک دوسرے کی باتیں پہنچا کر جھگڑا کرواتا ہے)۔

جھگڑا کروانے سے بچنے کے لیے کرنے والے کام:

1۔لڑائی جھگڑا کروانا اور اس کے علاوہ بہت سارے گناہ زیادہ تر زبان سے ہی ہوتے ہیں لہذا فضول گوئی سے بچا جائے 2۔ سنتوں کے پابند سنجیدہ شخص کی صحبت اختیار کی جائے 3۔علم دین حاصل کیا جائے 4۔نمازوں کی پابندی کی جائے 5۔جھگڑے مٹا کر مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر محبت کے ساتھ رہا جائے اس کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ فرمان مصطفیٰ ﷺ: جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ختم کرے میں اسے جنت کے کنارے ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔ (ابو داود،4/332، حدیث: 4800)

ظاہری گناہوں سے بچنے کے لیے کتاب کا مطالعہ کرتے رہیئے اور مدنی چینل دیکھتے رہیے۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ان ظاہری گناہوں سے محفوظ رکھے۔


لڑائی جھگڑا کروانا ہر زمانے، ہر ملک، ہر علاقے،ہر گوشے میں برا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ہمیشہ اس شخص سے کراہت محسوس کرتے ہیں جو دوسروں کی لڑائی کروا کے ان میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔لڑائی کروانا نہایت ہی قبیح اور برا امر ہے۔

ایسا شخص نہ صرف اپنی عزت کھو دیتا ہے بلکہ دوسروں کی نظروں سے بھی گر جاتا ہے۔ خود حضور ﷺ نے لڑائی کروانے کی مذمت فرمائی۔ حضرت عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: خدائے تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ (انوار الحدیث، ص 395) جدائی ڈالنے سے مراد دو لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈال کر ان میں لڑائی کروانا ہے جسے حدیث مبارکہ میں بد ترین شخص کہاگیا ہے۔

ایسے شخص کے ساتھ کوئی دوستی کرنا تو درکنار ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتا۔ جھگڑا کروانا یہ ایسا عمل ہے جو معاشرے میں بد نظمی، انتشار، باہمی اختلافات کا سبب بنتا ہے ؛جس کی وجہ سے دلوں میں کدورت،نفرت، رشتوں میں دراڑیں اور تعلقات میں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ تاہم ہر طرح سے لڑائی جھگڑے کروانا برا فعل ہے۔ اس کی چند وجوہات ہوسکتی ہیں جو مع علاج ذکر کی جاتی ہیں:

بغض: کسی کے درمیان بھی لڑائی جھگڑا کروانے کا ایک سبب بغض بھی ہے۔ یعنی کسی سے بے جا نفرت رکھنا، اپنے دل میں بوجھ جاننا،اور دوسروں کے دلوں میں اس کیلئے نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ بالفرض اگر کوئی شخص کسی سے بغض رکھتے ہوئے جھوٹ بول کر دو لوگوں کے درمیان لڑا‏ئی کروا بھی دے تو اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ جب حقیقت سامنے آئے گي تو ممکن ہے ان دونوں کی دوبارہ صلح ہوجائے مگر یہ شخص نظروں سے گر جائے اور اس سے ان کا اعتماد اٹھ جائے گا کوئی بھی کبھی اس کی بات پر دوبارہ یقین نہیں کرے گا۔ لہذا ایسے شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ بغض کی مذمت پر وارد ہونے والی آیات و احادیث مبارکہ پر نظر رکھے۔اپنے اندر خشیت الہی پیدا کرے اور دوسروں کے درمیان لڑائی کروا کر نفرتیں پھیلانے سے گریز کرے تاکہ معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکے۔

حسد: حسد ایک ایسی بیماری ہے جو نہ صرف انسان کا اپنا سکون تباہ کر دیتا ہے بلکہ دوسروں کے درمیان لڑائیاں کروانے کا ایک بڑا سبب بنتا ہے۔حاسد شخص اپنے اندر کی آگ کو بجھانے کیلئے دوسروں کے درمیان لڑائی کروا دیتا ہے ؛ وقتی طور پر وہ خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنے لئے ایک دائمی آگ کی تیاری کر رہا ہے۔
ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے قلب کی اصلاح کرے اور جان لے کہ دوسروں کے درمیان لڑائی جھگڑا کروانے سے صرف اور صرف فساد پیدا ہو گا اور اس کیلئے جہنم کی آگ تیار ہوگی۔

غصہ: دوسروں کے درمیان لڑائی جھگڑا کروانے کا ایک بڑا سبب غصہ ہے۔ غصہ دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے اور نفرت دوسرں کے ساتھ برا کرنے پر ابھارتی ہے۔ بندہ کسی بھی سبب سے انتقام لینے کی خواہش میں کسی کی بنی بنائی بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
یوں انسان دو لوگوں کے درمیان لڑائی کروا کے اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایسے انسان کو چاہئے کہ وہ غصہ کرنے کے نقصانات پر نظر رکھے اور جان لے کہ اس سے وقار اور اعتماد گرتا ہے، معاشرے میں انتشار اور جذباتی نقصان ہوتا ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں۔

الغرض لڑائی جھگڑا کروانا چھوٹی سوچ اور عارضی فائدے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات لوگ حسد، ذاتی منافع یا گروہی فخر کے تحت لوگوں کو اکساتے ہیں، مگر یاد رکھیے، فتح جب رشتوں کے ٹوٹنے کی صورت میں ملتی ہے تو وہ جھوٹی اور عارضی ہوتی ہے۔ ایسا کرنا نفسیاتی زخم، سماجی انتشار اور کام یا خاندان میں خلل لا سکتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو تنازع میں اضافے کے بجائے امن کے راستے تلاش کرے: افواہوں کی تصدیق کرے، دونوں جانب کی بات سنے، اور اگر معاملہ شدید ہو تو ایک منصفانہ ثالث سامنے لائے۔ معافی اور سمجھوتہ باہمی احترام بڑھاتے ہیں؛ دشمنی دیرپا زہر بن جاتی ہے۔ آخر میں اپنی نیت کو چیک کریں، کیا آپ کا مقصد لوگوں کی بھلائی ہے یا ذاتی فائدہ؟ نیک نیتی اور عدل ہی معاشرے کو طاقتور بناتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں لڑائی جھگڑے کی آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین


ایک باغ میں دو چڑیاں رہتی تھیں۔ صبح شام ساتھ ساتھ دانہ چگتیں اور گھونسلے کے لیے تنکے جمع کرتی تھیں۔ ان کی دوستی باغ کی رونق اور حسن تھی۔ سب پرندے ان دونوں کی محبت کو دیکھ کر خوش ہوتے۔ لیکن باغ کے کونے میں ایک کانٹے دار جھاڑی بھی تھی جو ہمیشہ تنہا رہتی اور دوسروں کی خوشی کو دیکھ کر جلتی۔ ایک دن اس نے حسد کی آگ میں فیصلہ کیا کہ ان دونوں کے درمیان جھگڑا کروائے گی۔ اس نے ایک چڑیا سے کہا کہ دوسری تمہارے بارے میں کہتی ہے کہ تم کمزور ہو اور محنت نہیں کرتی۔ پھر دوسری سے بھی یہی کہا۔ دونوں چڑیاں ایک دوسرے سے ناراض ہوگئیں اور آپس میں جھگڑنے لگیں۔ وہ دوستی جو مثال تھی، دشمنی میں بدل گئی اور باغ کی رونق بھی ختم ہوگئی۔

یہ قصہ فرضی ہے لیکن حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بعض لوگ اسی کانٹے دار جھاڑی کی طرح ہوتے ہیں جو خود بھی تنہا اور ناخوش ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی طرح دیکھنا پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو لڑوانے کا کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جھگڑا کروانے والے کے محرکات کیا ہیں۔ کبھی حسد کی بنا پر، کبھی انتقام لینے کے لیے، کبھی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اور کبھی صرف توجہ حاصل کرنے کے شوق میں وہ دوسروں کے درمیان بدگمانی ڈال دیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ سب لاعلمی یا غلط فہمی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے لیکن نتیجہ ہمیشہ منفی نکلتا ہے: ٹوٹے ہوئے رشتے، پامال شدہ عزت اور ایک ایسا ماحول جہاں اعتماد باقی نہ رہے۔

اہم بات یہ ہے کہ جھگڑا کروانا صرف ظاہری بحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ دلوں میں نفرت، بدگمانی اور انتقامی ذہنیت کو جنم دیتا ہے۔ ایک معمولی تنازع نسل در نسل تلخیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ محبت اور یقین کی جگہ شک اور بداعتمادی لے لیتے ہیں۔ انسان دوسروں کے بارے میں منفی سوچنے لگتا ہے اور سب سے زیادہ نقصان دراصل اسی کو ہوتا ہے جو دوسروں کو لڑواتا ہے، کیونکہ یہ برائی آخرکار اس پر بھی لوٹ کر آتی ہے۔

اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مسلمان صلح کروانے والا ہوتا ہے، نہ کہ لڑائی کروانے والا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اس برائی سے بچیں۔ دوسروں کی باتوں میں آکر اپنے قریبی رشتے نہ توڑیں۔ ہمیشہ حسن ظن رکھیں، صبر اور برداشت سے کام لیں، اور اگر کہیں تنازع ہو تو اسے سلجھانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں جھگڑا کروانا ایک خاموش زہر ہے جو رشتوں اور معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے، جبکہ صلح اور محبت امن و سکون کو جنم دیتے ہیں۔


ارشاد باری ہے: وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵) (پ 13، الرعد:25) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کا عہد اس کے مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے لعنت ہی ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے۔

صحابی رسول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی خادم کو اس کے گھر والوں کے خلاف اکسایا وہ ہم میں سے نہیں اور جس شخص نے کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف اکسایا وہ ہم میں سے نہیں۔

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے، لوگوں میں فساد پھیلانے کی وعیدات بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں میں صلح کروانے کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں دین اسلام چونکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ اور معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کا سب سے زیادہ حامی ہے اسی لیے اس دین نے انسانی حقوق تلف کرنے اور معاشرتی امن میں بگاڑ پیدا کرنے والے ہر فعل سے روکا ہے معاشرتی سکون کو برباد کرنے والے افعال میں سے سر فہرست لوگوں کے درمیان جھگڑا کروانا ہے۔

افسوس!! مشاہدہ ہے کہ اج کے دور میں ہر تیسرا شخص ہی اپنے ایمان کی معرفت کھوئے ہوئے احکام شریعت کو پس پشت ڈال کر مختلف طریقوں سے اس فعل کو سرانجام دینے میں مشغول ہے۔گھر ہو یا خاندان، آفس یا کلاس روم، چھوٹا بڑا، پڑھا لکھا ان پڑھ، مذہبی اور غیر مذہبی ہر طبقے میں ہی ایسے منفی سوچ کے حامل افراد پائے جاتے ہیں جو وجہ اور بلاوجہ لڑائی جھگڑے کے بیچ بونے اور لوگوں میں پھوٹ ڈلوانے کا باعث ہوتے ہیں حتی کہ بعض اوقات بغیر کسی تعلق،بنا کسی دشمنی اور اختلافات کے بھی لوگوں کے درمیان نفرتیں پھیلانے میں اپنا وقت صرف کر رہے ہوتے ہیں گویا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہم لوگوں کو خوش دیکھنا انہیں مشکل لگتا ہے ایسے منفی لوگوں سے فاصلہ رکھیے، جھگڑا کروانے سے بھی بچیں اور جھگڑا کروانے والوں سے بھی کہ بے شک یہ آپ کی دنیا و آخرت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

حدیث مبارکہ میں ہے: بے شک اللہ کو لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند وہ لوگ ہیں جو سخت جھگڑالو ہیں۔ (بخاری، 2/130، حدیث: 2457)

نہ خود کسی سے لڑائی جھگڑے کریں نہ ہی باہم مسلمانوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کروانے کا سبب بنیں کہ اس میں اللہ پاک کی ناراضی ہے اور اس کے ذریعے انسان بہت سے گناہوں میں ملوث ہو جاتا ہے۔

جھگڑا کروانے کے اسباب: کبھی جان کر کسی مقصد کے تحت، کسی کی خوشیوں اور کامیابیوں سے حسد اور جلن کے نتیجے میں لوگوں سے دور کرنے کے لیے یا نظروں میں برا بنانے کے لیے بدگمانیاں پیدا کرکے تو کبھی انجانے میں غیبت، چغلی،ادھر کی بات ادھر کرنے کی عادت سے مجبور ہونے کے باعث انسان مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے کا سبب بن جاتا ہے۔

اپنا محاسبہ کر لیجئے کہ کہیں ہم بھی تو ان میں سے کسی سبب سے مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے والوں میں سے تو نہیں۔

باہم مسلمانوں میں جھگڑا کروانا اور فساد پھیلانا گناہ کبیرہ ہے نہ صرف ایک گناہ کبیرہ بلکہ دیگر کئی کبیرہ گناہوں کو بھی فروغ دیتا ہے۔

جھوٹ، غیبت، چغلی،بغض، حسد، جلن، راز فاش کرنا، بدگمانیاں پیدا کرنا، مہلکات میں سے ہے جن میں مبتلا ہونا بیمار قلب کی علامت ہے مومن کا دل تو پاک صاف نور ایمان سے چمکتا اور خوف خدا سے دھڑکنے والا ہونا چاہیے۔

اپنے دل کو پاک صاف رکھیے۔ لوگوں میں محبتیں اور خوشیاں بانٹنے والے بنیں نہ کہ نفرتوں کو جنم دینے والے کہ کہا جاتا ہے جس کے پاس جو ہوتا ہے وہی دوسروں کو بانٹتا ہے۔ ہمیشہ دوسروں کیلئے خیر خواہی کا جذبہ رکھیں۔ لوگوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارگی کا سبب بنیں۔ جدائیاں ڈالنے والے نہیں بلکہ روٹھوں کو منانے والے، بچھروں کو ملانے والے بننے کی کوشش کیجیے۔ باہم مسلمانوں کے درمیان جھگڑا کروانے والوں کی بجائے صلح کروانے والوں میں خود کو شامل رکھیے۔

مسلمانوں کے درمیان صلح کروانے کا اجر بہت زیادہ ہے جبکہ جھگڑا کرنے اور کروانے کو قرآن و احادیث میں ایسا عمل بتایا گیا ہے جو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی، اللہ پاک کی ناراضگی، غضب اور لعنت کا سبب بنتا ہے لہذا! اس شیطانی عمل سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازمی و ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اتنا فہم و فراست،شعور و ادراک حاصل کرنا چاہیے کہ کوئی شریر آدمی بدگمانیاں پیدا کر کے ہمارے درمیان لڑائی اور پھوٹ پیدا نہ کر سکے کیونکہ مومن کی شان تو یہی ہے کہ نہ دھوکہ دیتا ہے اور نہ دھوکہ کھاتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں باہم جھگڑا کرنے اور کروانے والوں کے شر سے بھی محفوظ رکھے۔


انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور عطا فرمایا اور باہمی محبت و اخوت کے ذریعے معاشرتی زندگی کو حسین بنایا۔ دین اسلام نے امن، سکون اور بھائی چارے کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بارہا تاکید فرمائی گئی ہے کہ مسلمان آپس میں محبت، خیرخواہی اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہیں۔ اس کے برعکس جھگڑا کروانا یا فساد کو ہوا دینا ایسا عمل ہے جو معاشرے کو بگاڑتا، دلوں میں کدورت پیدا کرتا اور اخوت کے رشتے کو توڑ دیتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔

جب صلح کروانے کو اتنی فضیلت حاصل ہے تو جھگڑا کروانے کی قباحت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حسد سے بچو کیونکہ یہ نیکیوں کو کھا جاتاہے۔ (ابو داود، 4/360، حدیث: 4903)

جو شخص دو افراد یا دو خاندانوں کے درمیان اختلاف کو بڑھاتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

1۔ اللہ کی ناراضی: جھگڑا کروانے والا اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق بنتا ہے کیونکہ وہ فساد کو فروغ دیتا ہے۔

2۔ معاشرتی بگاڑ: جھگڑوں سے خاندان ٹوٹتے ہیں، رشتے ناطے ختم ہو جاتے ہیں اور محلے یا بستی میں نفرت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

3۔ دلوں میں کینہ و بغض: ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی اور دشمنی بڑھتی ہے جو نسلوں تک چلتی ہے۔

4۔ وقت اور وسائل کا ضیاع: جھگڑوں میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، مال برباد ہوتا ہے اور بعض اوقات انسانی جانیں تک تلف ہو جاتی ہیں۔

5۔ قیامت کے دن پکڑ: حضور ﷺ نے فرمایا: سب سے برے لوگ وہ ہیں جو دو دوستوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں۔

یہ وعید جھگڑا کروانے کے انجام کو واضح کرتی ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں جھگڑا کروانے کے بجائے صلح کرانے کا حکم دیتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے صلح صفائی کو نفل عبادتوں سے بہتر قرار دیا۔ مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی دو افراد یا خاندانوں میں اختلاف دیکھے تو آگ بجھانے والا بنے نہ کہ اس میں تیل ڈالنے والا۔

ہمیشہ نرم کلام اور خوش اخلاقی کو اپنائیں۔ دوسروں کی بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے یا غیبت کرنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی جھگڑا ہو تو ثالث بن کر انصاف کے ساتھ حل نکالنے کی کوشش کریں۔ اپنی مجالس اور محفلوں میں صلح و خیر کی باتیں کریں تاکہ معاشرہ محبت کا گہوارہ بن سکے۔

جھگڑا کروانا ایک بڑا گناہ اور انتہائی نقصان دہ عمل ہے جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے بلکہ دنیاوی زندگی کو بھی اجیرن بنا دیتا ہے۔ اسلام کا پیغام امن و محبت ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے قول و فعل سے صلح و آشتی کو فروغ دیں، تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔ اللہ کریم ہمیں جھگڑے سے بچنے اور اخوت و محبت پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے


معاشرہ میں جب لوگ ساتھ رہتے ہیں تو بعض مرتبہ لڑائی جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں اور لڑائی جھگڑوں کے اسباب میں عموماً تین چیزیں، زن، زر اور زمین ہوتی ہیں۔ انہیں اسباب کی ایک شاخ سیاسی دشمنی بھی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو مسلمانوں کے آپسی جھگڑے کسی قیمت پر پسند نہیں، بلکہ حکم یہ ہے کہ حتی الامکان آپس کی رنجشوں اور جھگڑوں کو، باہمی نفرتوں اور عداوتوں کو کسی بھی طرح ختم کیا جائے۔ اگر بالفرض کبھی جھگڑا ہوجائے تو دوسرے فریق کو معاف کرکے جھگڑا ختم کردینا چاہئے، کیونکہ آپس میں صلح کرنے اور جھگڑا ختم کرنے کی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بہت ترغیب دی گئی ہے۔ ذیل میں لڑائی جھگڑے کی مذمت سے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے مبغوض اور ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑا لو ہو۔ (بخاری، 2/193، حدیث:2457)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی سے جھگڑا مت کر، اور اس کے ساتھ نامناسب مذاق مت کر، اور اس کے ساتھ ایسا وعدہ نہ کر کہ (جس کو تو پورا نہ کرسکے اور) وعدہ خلافی کرے۔ (ترمذی،3/400، حدیث:2002)

عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ( مکمل ) منافق ہو گا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے۔ (بخاری، 1/25، حدیث:34)

عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے جھگڑا کرنا کفر ہے۔ (مسلم، ص 54، حدیث: 221)

جو شخص حق پر ہونے کے باوجود یہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں حق کا زیادہ مطالبہ کروں گا تو جھگڑا کھڑا ہوجائے گا، اس لئے اس حق کو چھوڑتا ہوں تاکہ جھگڑا ختم ہوجائے تو اس کے لئے حضور اکرم ﷺ نے جنت کے بیچوں بیچ گھر دلوانے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ سرکار دو عالم ﷺ کو جھگڑا ختم کرانے کی کتنی فکر تھی۔ ہاں اگر کہیں معاملہ بہت آگے بڑھ جائے اور قابل برداشت نہ ہوتو ایسی صورت میں اس کی اجازت ہے کہ مظلوم ظالم کا مقابلہ کرے اور اس سے بدلہ لے لے، لیکن حتی الامکان کوشش یہ ہو کہ جھگڑا ختم ہوجائے۔

معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا آپس میں لڑائی جھگڑا ناپسندیدہ ہے، اور اختلاف کے وقت صلح کرانا محمود اور مطلوب ہے، بلکہ درج ذیل حدیث شریف کی رو سے نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی افضل ہے۔

ان احادیث کی روشنی میں ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ جھگڑوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہے، آج آپ کو موقع ملا تو آپ نے اپنے مخالف کو نقصان پہنچا لیا، کل اسے موقع ملے گا تو وہ آپ کو نقصان پہنچائے گا، اور یہ سلسلہ زمانہ جاہلیت کے جھگڑوں کی طرح چلتا رہے گا، نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ نے زمانہ جاہلیت کے جھگڑوں کو ختم فرما دیا اور ایک دوسرے کے جانی دشمن شیر وشکر ہوگئے، ایک دوسرے کی جان لینے والے ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے والے بن گئے۔ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے سامنے آپ کے جانی دشمن اور آپ کو ہر طرح سے تکلیف پہنچانے والے جب بے بس کھڑے تھے اور دس ہزار تلواریں آپ کے ایک اشارہ کی منتظر تھیں کہ ان کی گردنیں ان کے سروں سے اتار دی جائیں تو ایسے وقت جبکہ آپ ﷺ کفار مکہ پر پوری طرح قابو پاچکے تھے تب آپ نے انہیں بغیر کسی شرط کے معاف کرکے معافی اور درگذر کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے۔

کیا یہ سارے واقعات صرف پڑھنے اور سننے کے لیے ہیں؟ کیا ہم ان پر عمل کرکے اپنی دنیا اور آخرت سنوار نہیں سکتے؟ کیا ہم دوسروں کو معاف کرکے امن اور سکون والی زندگی نہیں گزار سکتے؟ کیا ہم دو لڑنے والوں کے درمیان صلح کروا کر اجر عظیم کے مستحق بننے کی کوشش نہیں کرسکتے؟ کیا ہم میں سے کوئی نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، جنتی جوانوں کے سردار سیدنا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دو گروہوں میں صلح کروانے والی اس اہم سنت اور خوبی کو زندہ کرنے والا نہیں ہے؟ کیا ہم سب صرف تماشہ دیکھنے اور مزہ لینے والے ہیں؟ یا پھر ذاتی مفاد کے لیے دو لڑنے والوں کو آپس میں مزید لڑانے والے بن رہے ہیں؟ جبکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ یعنی حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان (اگر کوئی رنجش یا لڑائی ہوگئی ہو تو تمہیں چاہئے کہ ان کے درمیان صلح کراؤ اور) تعلقات اچھے بناؤ، اور (صلح کرانے میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔ (آسان ترجمہ قرآن، 3/1583)

بچپن میں جب بچوں کی آپس میں لڑائی ہوا کرتی ہے تو فوراً ہی صلح بھی ہوجایا کرتی ہے، اور عموماً کوئی تیسرا صلح کروایا کرتا تھا اور صلح کروانے والا یہ جملہ کہتا تھا کہ لڑائی لڑائی معاف کرو، مسجد میں جاکر نماز پڑھو۔ آج ہم بھی ہر طرح کے جھگڑے کرنے والوں سے خواہ وہ ذاتی ہوں یا سیاسی، ان سے یہی کہیں گے کہ اللہ کے لیے لڑائی لڑائی معاف کرو، مسجد میں جاکر نماز پڑھو۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو لڑائی جھگڑوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور بوقت ضرورت صلح کرنے اور کرانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو امن، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ اس کے باوجود بعض لوگ دوسروں کو لڑانے اور جھگڑا کروانے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ نہایت بری عادت ہے۔

جھگڑا کروانے کی اصل جڑ شیطان ہے، کیونکہ وہی انسانوں کے دلوں میں بغض اور نفرت ڈال کر انہیں باہم لڑواتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ (پ 7، المائدۃ: 91) ترجمہ: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے۔

جھگڑا کروانے والا شخص دراصل چغلی کرنے والا ہوتا ہے اور چغلی اسلام میں سخت گناہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ۔ فرمایا: وہ لوگ جو چغلی کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ (المعجم الاوسط، 5/386، حدیث: 7697)

اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ جھگڑا کروانے والے اللہ اور رسول ﷺ کے نزدیک بدترین لوگ ہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی نفرت کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی سخت عذاب بھگتیں گے۔

رسول اکرم ﷺ نے ایک اور حدیث میں فرمایا: چغلی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 65، حدیث 290) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھگڑا کروانے کی عادت انسان کو جنت سے محروم کر دیتی ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ لوگوں میں فساد ڈالتا اور ایک کی بات دوسرے کو پہنچا کر انہیں لڑواتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فرمایا: چغلی کرنے والے کی بات پر یقین مت کرو، کیونکہ وہ دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتا ہے۔ (تنبیہ الغافلین، ص 133) اس واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور ان کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔

اسلام میں جھگڑا کروانا گناہ کبیرہ ہے، جبکہ صلح کروانا باعث ثواب ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان والوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ لڑائی جھگڑا کروانے کے بجائے آپس میں صلح کرائیں۔

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نہ خود جھگڑا کروائیں اور نہ ہی دوسروں کی باتوں پر یقین کرکے کسی کے درمیان اختلاف پیدا کریں۔ بلکہ ہمیں صلح کرانے والے، بھائی چارے اور محبت پھیلانے والے بننا چاہیے تاکہ دنیا بھی پرسکون ہو اور آخرت بھی سنور جائے۔

اے اللہ! ہمیں صلح کرنے والوں میں شامل فرما، ہمیں چغلی اور جھگڑوں سے نجات عطا فرما اور ہمیں ہمارے والدین اور ہمارے مشائخ کو اپنی رحمت سے بخش دے۔ آمین


جھگڑا کروانا کی تعریف یہ ہے کہ کسی معاملے میں جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر ایسی بات یا ایسا رویہ اختیار کرنا جس کے نتیجے میں دو یا زیادہ افراد کے درمیان اختلاف بڑھ جائے اور وہ لڑائی جھگڑے میں مبتلا ہوجائیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیے کہ جھگڑا کروانا یعنی لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا، اختلاف کو ہوا دینا یا کسی وجہ سے جھگڑے کا سبب بننا۔

حدیث مبارکہ میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات کہنا یا جھوٹی گواہی دینا۔ (مسلم، ص 60، حدیث: 259)

یہاں جھوٹی بات جھوٹی گواہی کا مطلب ہے فساد اور جھگڑے کو بڑھاوا دینا جو کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: چغل خور یعنی جو لوگوں کے درمیان فساد اور جھگڑا کرواتا ہے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (مسلم، ص 65، حدیث 290)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جھگڑا کروانا اور لوگوں کے درمیان فساد ڈالنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ یہ جنت میں جانے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے میرے سب سے محبوب وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں، جو نرمی کرنے والے ہوں، جن سے لوگ الفت رکھتے ہوں اور وہ دوسروں سے الفت رکھتے ہوں۔ اور تم میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ ہیں جو چغلی کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں۔ (المعجم الاوسط، 5/386، حدیث: 7697)

آیت مبارکہ میں ہے: اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ (پ 7، المائدۃ: 91) ترجمہ: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے۔

جھگڑا کروانا گناہ کبیرہ ہے۔ ایسا شخص اللہ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ فساد اور جھگڑے کی بجائے صلح اور محبت پھیلائیں، کیونکہ اصل مومن وہ ہے جو بھائی چارہ اور خیر خواہی کو عام کرے۔


عالمی سطح پر دینِ اسلام کی دعوت عام کرنے والی تنظیم دعوت اسلامی کے زیرِ اہتمام آج مؤرخہ 04 جون 2026ء بروزجمعرات عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک اور شہروں میں ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوگا۔

معمول کے مطابق یہ اجتماعات نمازِ مغرب کے بعد مدنی مراکز فیضان مدینہ، مختلف مساجد اور اسلامی سینٹرز میں منعقد کئے جائیں گے جہاں قرآنِ کریم کی تلاوت، نعت و درود شریف، اصلاحی بیانات اور سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر عمل کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ دعوتِ اسلامی کے مطابق یہ ہفتہ وار اجتماعات پاکستان سمیت دنیا بھر میں باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور معاشرے میں نیکی کو فروغ دینا ہے۔

ان اجتماعات میں اراکین شوریٰ اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی شرکا سے خطاب کریں گے جبکہ اجتماعی دعا بھی کی جائے گی۔ ان اجتماعات میں نوجوانوں، بزرگوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مدنی مرکز فیضان مدینہ فیصل آباد مدینہ ٹاؤن سے مدنی چینل پر براہ راست (Live) نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ فیض مدینہ مسجد کریلا اسٹاپ نارتھ کراچی میں رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ میانہ گوندل تحصیل ملکوال میں رکن شوریٰ مولانا حاجی عقیل عطاری مدنی، مدنی مرکز فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن حیدر آباد میں رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ نزد ڈارسن فیکٹری وزیر آباد میں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری، جامع مسجد عبد الجلیل سیتاکنڈ چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ Huddersfield 75 New North Road HD1 5NDمیں رکن شوریٰ حاجی خالد عطاری اور مدنی مرکز فیضان مدینہ لطیف آباد نمبر 4 حیدر آباد میں مولانا حاجی محمد رضا عطاری مدنی سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تمام عاشقانِ رسول سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی درخواست ہے۔


جھگڑا دراصل اختلاف رائے کو دشمنی اور فساد میں بدل دینا ہے، جس سے دلوں میں نفرت پیدا ہو اور تعلقات خراب ہو جائیں۔ اسلام امن، محبت اور بھائی چارے کا دین ہے۔ لوگوں میں صلح کرانا نیکی ہے اور جھگڑا کروانا یا فتنہ پیدا کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ جو شخص دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان نفرت، حسد اور دشمنی پیدا کرے وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔

جھگڑا عام طور پر ضد، غصے اور انا کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ دو افراد، خاندانوں یا گروہوں کے درمیان ہو سکتا ہے۔ اسلام میں بلاوجہ جھگڑنے سے منع کیا گیا ہے اور صلح کرنے کو نیکی قرار دیا گیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے: وَ اِنْ طَآىٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَاۚ-فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰى تَفِیْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِۚ-فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹) (پ 26، الحجرات: 9) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم ان میں صلح کرادوپھر اگران میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے پھر اگر وہ پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروادو اور عدل کرو، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔

اس کا شا ن نزول کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے جارہے تھے،اس دوران انصار کی مجلس کے پاس سے گزرہوا تووہاں تھوڑی دیر ٹھہرے، اس جگہ دراز گوش نے پیشاب کیا تو عبداللہ بن ابی نے ناک بند کرلی۔یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضور اکرم ﷺ کے دراز گوش کا پیشاب تیرے مشک سے بہتر خوشبو رکھتا ہے۔ حضور تو تشریف لے گئے لیکن ان دونوں میں بات بڑھ گئی اور ان دونوں کی قومیں آپس میں لڑپڑیں اور ہاتھا پائی تک نوبت پہنچ گئی، صورت حال معلوم ہونے پر سرکار دو عالم ﷺ واپس تشریف لائے اور ان میں صلح کرادی، اس معاملے کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا اے ایمان والو!اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو تم سمجھا کر ان میں صلح کرادو،پھر اگران میں سے ایک دوسرے پر ظلم اور زیادتی کرے اور صلح کرنے سے انکار کر دے تو مظلوم کی حمایت میں اس زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے،پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ دونوں گروہوں میں صلح کروادو اور دونوں میں سے کسی پر زیادتی نہ کرو (کیونکہ اس جماعت کو ہلاک کرنا مقصود نہیں بلکہ سختی کے ساتھ راہ راست پر لانا مقصود ہے) اور صرف اس معاملے میں ہی نہیں بلکہ ہر چیز میں عدل کرو، بیشک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے تو وہ انہیں عدل کی اچھی جزادے گا۔ (جلالین، 5/1992، 1993)

جھگڑا کروانے کے نقصانات: دلوں میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور گھر برباد ہو جاتے ہیں۔معاشرتی سکون اور محبت ختم ہو جاتی ہے۔ اللہ کی رحمت اور برکت ختم ہو جاتی ہے۔

ہمیں کبھی بھی جھگڑا کروانے یا چغلی کرنے کا کام نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اگر کہیں جھگڑا ہو تو صلح کرانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ قرآن میں صلح کرانے کو نیکی قرار دیا گیا ہے۔

اللہ پاک ہمیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین


انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے، جو دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات قائم کر کے زندگی گزارتا ہے۔ اگر ان تعلقات میں محبت، ایثار اور اعتماد ہو تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، لیکن اگر تعلقات نفرت، حسد اور دشمنی کی بنیاد پر قائم ہوں تو معاشرہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ انہی برائیوں میں سے ایک برائی جھگڑا کروانا ہے، جو نہ صرف افراد کے دلوں کو آپس میں جدا کر دیتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے امن کو بھی برباد کر دیتا ہے۔

جھگڑا کروانے کی حقیقت: جھگڑا کروانا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی شخص دوسروں کے درمیان شرارت یا فتنہ ڈال کر ان کے دلوں میں بدگمانی اور نفرت پیدا کرتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر چغلی، غیبت یا بات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی بات لگتی ہے لیکن اس کے نتائج بڑے تباہ کن ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فساد پھیلانے والوں کی مذمت فرمائی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) (پ 1، البقرۃ: 11، 12) ترجمہ: جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں، یاد رکھو! حقیقت میں یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے۔

جھگڑا کروانے والے بھی بظاہر کہتے ہیں کہ ہم مذاق یا خیرخواہی کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ معاشرے میں فساد پھیلا رہے ہوتے ہیں۔

سورۃ الحجرات میں ارشاد ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ (پ 26، الحجرات: 10) ترجمہ: مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کو صلح کرانی چاہیے، نہ کہ جھگڑا کروانا۔

احادیث مبارکہ:

(1) نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ پاک کے ہاں سب سے ناپسندیدہ شخص وہ ہے، جو بہت زیادہ جھگڑالو ہو۔ (بخاری، 2/193، حدیث:2457)

(2) فرمایا: جوشخص بےجاجھگڑتاہے،وہ ہمیشہ اللہپاک کی ناراضی میں ہوتاہے،یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ (موسوعۃ لابن ابی الدنیا، 7/111، حدیث: 153)

(3)فرمایا: کوئی قوم ہدایت پر رہنے کےبعد گمراہ نہیں ہوئی مگرجھگڑوں کے سبب۔ (ترمذی، 5/170، حدیث:3264)

(4) فرمایا: بندہ ایمان کی حقیقت میں اس وقت تک کمال کو نہیں پہنچ سکتا، جب تک کہ وہ حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا نہ چھوڑ دے۔ (موسوعة لابن ابی الدنیا، 7/101، حدیث: 139)