صوبائی دارالحکومت اسلام آباد سیکٹر G-11 میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے تحت غسل میت و کفن کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی بھائیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

معلومات کے مطابق نگرانِ شعبہ صابر عطاری اور صوبائی ذمہ دار مولانا محمد مزمل عطاری مدنی نے کورس کرواتے ہوئے شرکا کو غسل میت کے شرعی احکام، سنت کے مطابق غسل دینے کے مراحل نیز پانی کے استعمال سے متعلق احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا ۔

کورس کے دوران خاص طور پر تختۂ غسل پر پانی زیادہ نہ بہانے، پانی کے مستعمل نہ ہونے اور غسل کی فضیلت کے حوالے سے حدیث پاک کی روشنی میں تفصیلات بیان کی گئیں جبکہ عوام الناس میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ۔

اس کورس میں سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں شرکا نے اپنے سوالات کے تسلی بخش جوابات حاصل کیے۔ بعد ازاں نگرانِ شعبہ نے دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لینے بالخصوص 12 ماہ کے قافلے میں سفر کرنے کا ذہن دیا جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ڈویژن گجرات میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے تحت ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ڈویژن و ڈسٹرکٹ ذمہ داران اور محارم اسلامی بھائیوں کی شرکت ہوئی۔ 

دورانِ میٹنگ نگران شعبہ غلام الیاس عطاری اور صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے فیضانِ صحابیات کی آبادکاری، یوسی نگران اسلامی بہنوں کی تقرری، اجتماعی قربانی کے کھالوں کی کارکردگی اور عشر کے موضوعات پر کلام کیا تاکہ شعبے کے دینی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

آخر میں میٹنگ میں شریک ڈویژن و ڈسٹرکٹ ذمہ داران اور محارم اسلامی بھائیوں نے شعبے کی ترقی نیز اس میں مزید بہتری کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ: محمدوسیم عطاری، صوبائی آفس ذمہ دار پنجاب ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


ڈویژن گجرانوالہ میں شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت ایک اہم مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈویژن و ڈسٹرکٹ ذمہ داران اور محارم اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔ 

اس تقریب میں نگران شعبہ غلام الیاس عطاری اور صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے فیضان صحابیات کی آبادکاری اور یوسی نگران اسلامی بہنوں کی تقرر ی کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی تاکہ شعبے کی دینی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ مدنی مشورے میں موجود ڈویژن و ڈسٹرکٹ ذمہ داران اور محارم اسلامی بھائیوں نے شعبے کی ترقی نیز اس میں مزید بہتری کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ: محمدوسیم عطاری، صوبائی آفس ذمہ دار پنجاب ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں نکاح کی تقریب منعقد ہوئی جس میں خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے خوش نصیب اسلامی بھائیوں کا نکاح پڑھایا۔

ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس تقریبِ نکاح میں خلفیۂ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے نہ صرف خطبۂ نکاح پڑھا بلکہ اسلامی بھائیوں سے قبولِ نکاح کروایا اور اُن کے لیے خیر و برکت کی دعا کروائی۔

نکاح کی اس تقریب میں موجود تمام اسلامی بھائیوں نے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی جانب سے عطا کردہ کلام پڑھا اور خوب دلجمعی سے مبارک باد پیش کی ۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکا نے خلیفۂ امیرِ اہلسنت سے ملاقات کی۔


حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے آقا ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۔ عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال ظاہری فرمائی آپ حضرت علی سے راضی تھے۔ (ترمذی، 5/400، حدیث: 3736)

حضرت علی کی شان و شوکت: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا حضرت علی کو تین ایسی فضیلتیں ملی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے ایک بھی مل جاتی تو میرے نزدیک وہ تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہوتی لوگوں نے پوچھا وہ فضائل کیا ہیں تو آپ نے فرمایا: اول حضور ﷺ نے ان سے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ کا نکاح کیا دوم آپ نے ان دونوں کو مسجد میں رکھا اور ان کے لیے وہ حلال کیا جو مجھے حلال نہیں تیسرے جنگ خیبر میں علم (جھنڈا)علی کو عطا فرمایا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 369)

نبی رحمت ﷺ کو علی سے محبت کا حکم: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت رکھنے کا حکم دیا ہے اور مجھے یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اللہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ہمیں ان کے نام بتا دیجئے آپ نے ارشاد فرمایا ان میں سے ایک علی ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)

پیاری پیاری اسلای بہنو! ہمارے پیارے آخری نبی ﷺ کی حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ نہ صرف پیارے آقا ﷺ بلکہ اللہ پاک بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہے اور حضرت علی سے محبت کا حکم بھی دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ حضرت علی سے محبت کریں اور آپ کی سیرت پاک عمل بھی کریں۔

محبت کا نرالا پہلو:مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں خیال رہے کہ حضرت علی میں رب نے دو بزرگیاں/فضیلتیں جمع فرمائی ہیں صحابیت اور حضور کا اہل بیت میں سے ہونا آپ کے گھر میں حضور نے اور حضور کی گود میں آپ نے پرورش پائی غسل ولادت حضور نے جناب علی کو دیا اور غسل وفات جناب علی نے حضور کو دیا ادھر چار یار میں داخل ادھر پنجتن پاک میں شامل۔ (مراۃ المناجیح، 8/295)

دعائے مصطفی: حضرت علی سے روایت ہے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک علی پر کرم فرما اے اللہ وہ جدھر رخ کریں حق بھی ادھر ہی ہو جائے۔ (عقائد اہل سنت صحاح ستہ کی روشنی میں، ص 574)


ا خوت رسول اللہ: حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ سرکار اقدس ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ، عقد مواخاۃ، میں بھی آپ کے بھائی ہیں جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

علی کا مقام خاص: روایت ہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجے میں ہو جو ہارون کو موسی سے تھا بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

محبتِ رسول اللہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں یا اللہ جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اسے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (مسند امام احمد، 1/250، حدیث: 950)

عطائے رسول اللہ: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول اللہ ﷺ سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتدا فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)

علی علم کا دروازہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

قرب بے مثال: روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی۔

جس نے آپ کو برا کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

علی کا دشمن، اللہ کا دشمن ہے: حضور ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 135)


حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے زیر سایہ پرورش پائی، بچوں میں سے سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر آٹھ برس تھی، آپ رضی اللہ عنہ بہادری اور علم میں ہے مثال تھے۔

حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اندازہ درج ذیل واقعات اور احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:

سرکار اقدس ﷺ نے جب اللہ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ سے مدینہ طیبہ کی ہجرت کا ارادہ فرمایاتو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلاکرفرمایاکہ مجھےخدائے رحمن کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہوجاؤں گا تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سورہو تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں ان کے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینے چلے آنا۔ (خلفائے راشدین، ص 255)

اُخوتِ رسول ﷺ:حضرت علی رضی اللہ عنہ سرکار اقدس ﷺ کے داماد اور چچازاد بھائی ہونے کے ساتھ عقد مواخاۃ میں بھی آپ ﷺ کے بھائی ہیں۔چنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دودو صحابہ کو بھائی بھائی بنادیا حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث:3741)

انتہائی قریبی رشتہ: حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری اور مدد کی تعریف کی تو حضور ﷺ نے فرمایا: بےشک علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں مطلب یہ ہے کہ علی کو مجھ سے کمال قرب حاصل ہے نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کو سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: میں تم دونوں سے ہوں۔ (الکامل فی التاریخ، 2/28)

جس نے آپ کو براکہا: حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھے برا بھلا کہا۔ (سنن کبری للنسائی،5/133، حدیث:8476)

یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے ان کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویاکہ اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بےادبی کی۔ خلاصہ یہ ہےکہ ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے۔

اللہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت عطافرمائے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں بلکہ امام احمد رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جتنی حدیثیں آپ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اتنی حدیثیں نہیں ہیں۔

1۔ مومن بعض نہیں رکھ سکتا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بعض وعداوت نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

سبحان اللہ! حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی کیا ہی بلند وبالا شان ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ سے محبت نہ کرنے کو منافق ہونے کی علامت ٹھہرایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے بعض وعداوت رکھنے کو مومن نہ ہونے کا معیار قرار دیا۔

یعنی جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت نہ کرے وہ منافق ہے اور جو ان سے بعض وعداوت رکھے وہ مومن نہیں ہے۔

2۔ جس نے آپ کو برا کہا:حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو برا بھلا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)

یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضور ﷺ سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی وبے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی وبے ادبی کی۔

الغرض ان کی توہین کرنا حضور ﷺ کی توہین کرنا ہے۔ العیاذ باللہ تعالیٰ

3۔علی بھی اس کے مولیٰ: حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کھلے ہوئے میدان میں بہت سے لوگوں کو جمع کرکے فرمایا کہ میں اللہ کی قسم دے کر تم لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم غدیر میں میرے متلعق کیا ارشاد فرمایا؟ تو اس مجمع سے تیس آدمی کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے گواہی دی کہ حضور ﷺ نے اس روز فرمایا تھا: یعنی میں جس کا مولی ہوں علی بھی اس کے مولی ہیں۔ یااللہ! جو شخص علی سے محبت رکھے تو بھی اس سے محبت رکھ اور جو شخص علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ (مسند حمید، 1/250، حدیث: 950)

4۔ شہر علم کا دروازہ: طبرانی وبزار حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی وحاکم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یعنی میں اس علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

5۔علی کا دشمن، اللہ کا دشمن: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یعنی جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے دشمنی کی۔ (معجم کبیر، 23/ 380، حدیث: 901)

6۔ محبت بھرا منظر اور محبتوں بھرا جواب: مسلمانوں کے چوتھےخلیفہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک مرتبہ بار گاہ رسالت ﷺ میں عرض کی: یارسول اللہ ﷺ آپ کو وہ (حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا) مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یا میں؟ تو میرے لجپال مدنی آقا ﷺ نے بڑا ہی خوبصورت جواب ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس سے زیادہ پیارے ہو۔ (فیضان فاطمہ زہرا، ص 13)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے پاس سردار عرب کو بلاؤ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ فرمایا میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی عرب کے سردار ہیں۔ (اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے)

دعا ہے اللہ پاک ہمیں بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سچی پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے صاحبزادے ہیں اور آپ نے بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی۔ جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ بہادری شجاعت اور علم میں بے مثال ہیں ۔

حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا اندازہ درج زیل احادیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے:

1۔ قربِ مصطفیٰ: حضرت علی سے روایت ہے, فرماتے ہیں کہ مجھے رسول الله ﷺ سے وہ قرب و منزلت تھی جو مخلوق میں کسی کو نہ تھی۔ میں آپ کی خدمت میں سویرے تڑکے آتا تھا عرض کرتا تھا:آپ پر سلام اے الله کی نبی تو اگر آپ کھنکار دیتے تو میں اپنے گھر لوٹ جاتا ورنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔

شرح حدیث:واقعی حضرت علی کو حضور سے وہ قرب حاصل ہے جو کسی بشر بلکہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں،آپ حضور کے چچا کے بیٹے ہیں،حضور ﷺ نے آپ کے گھر میں اور آپ نے حضور کی آغوش میں پرورش پائی ہے،آپ جناب فاطمہ کے خاوند ہیں،آپ حضور ﷺ کی نسل کی اصل ہیں آپ ساری مخلوق میں منفرد ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 8/349)

2۔ دین و دنیا میں بھائی ہونے کا مرتبہ: روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ کرایا تو علی آئے ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں عرض کیا کہ آپ نے اپنے صحابہ میں بھائی چارہ کرا دیا مجھے کسی کا بھائی نہ بنایا تو رسول الله ﷺ نے فرمایا تم دین و دنیا میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)

3۔ انتہائی قریبی رشتہ: اسی طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو(گویا)اس نے مجھے برا بھلا کہا۔(مسند احمد،10/228،حديث:26810)

اس كی وجہ یہ ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا اور آپ کے نَسَب میں طَعْن کرنا حضور ﷺ کو برا بھلا کہنے اور آپ کے نسب میں طَعْن کرنے کو لازم ہے کیونکہ ان دونوں مقدس ہستیوں کے درمیان انتہائی قریبی رشتہ ہے۔ (لمعات التنقیح، 9/663)

اس حدیثِ پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے مصطفیٰ کریم ﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے درمیان ایسا اِتّحاد ہے کہ ایک ہستی کی محبت دوسرے کی محبت جبکہ ایک سے نفرت دوسرے سے نفرت کو لازم ہے،لیکن اس فرمانِ عالیشان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما سے افضل ہونا ثابت نہیں ہوتا، عقائد کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ (فیض القدیر،6/190)

4۔ خصوصی دعا کا شرف: سرکارِ دوعالَم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر ارشاد فرمایا: اے الله! جو علی سے محبت کرے اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ، جو علی کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو علی کی مدد نہ کرے اس کی مدد نہ فرما۔ (مسند امام احمد،1/253،حدیث:964)

5۔ کلام کی ابتدا فرمانا: حضرت علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول الله ﷺ سے مانگتا تھا تو آپ مجھے عطا فرماتے تھے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ مجھ سے کلام کی ابتداء فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)

اللہ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


نبی کریم ﷺ کو حضرت علی سے بے پناہ محبت تھی کئی مواقع پر آپ ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار فرمایا۔ احادیث کی روشنی میں آپ کے فضائل بیان کئے جاتے ہیں۔

1۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب یہ آیت ”نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ- (پ 3، آل عمران:61) ترجمہ: ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں۔“ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا پھر فرمایا اے اللہ یہ میرے اہل (اہل بیت) ہیں۔

2۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:بے شک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور علی ہر مومن کے ولی ہیں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)

یعنی رسول اللہ ﷺ علی سے محبت کرتے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور ہر مومن حضرت علی سے محبت کرتا ہے۔

3۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق حضرت علی سے محبت نہیں کر سکتا اور کوئی مومن ان سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ (ترمذی، 5/635، حدیث:1121)

4۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جس کا میں مولی ہوں علی اسکے مولی ہیں۔ (ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)

5۔ مشہور جلیل القدر صحابی اور فاتح قادسیہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تیری میرے ساتھ وہی منزلت ہے جو ہارون کی موسی علیہ السلام سے ہے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

اللہ پاک ہمیں آقا دو جہاں ﷺ کے تمام صحابہ کرام سے سچی پکی محبت نصیب فرمائے۔ آمین


امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپ شیر خدا ہیں، آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن جھنڈا عطا فرمایا۔ آپ ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ میرے آقا ﷺ نے کئی مقامات پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کا اظہار فرمایا: ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی کو مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسیٰ کو ہارون سے تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

ایک اور مقام پر میرے آقا ﷺ نے حضرت علی سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔(ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)

سبحان اللہ! قربان جائیے محبت رسول اللہ ﷺ پر کہ آپ ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! ہمیں جس سے محبت ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سب اس سے محبت کرے۔ کوئی اس سے بعض و عداوت نہ رکھے پیارے نبی ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے دشمنی رکھی۔ (کنز العمال، 11/622، حدیث: 33024)

حضور ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کے متعلق ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے: غدیر خم کے مقام پر رسول اللہ ﷺ نے قیام فرمایا ایک درخت کے سائے میں آپ ﷺ کے لیے جگہ صاف کی گئی یہاں آپ ﷺ نے نماز ظہر ادا کی۔ نماز کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا: (اے میرے صحابہ) کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم میں سے ہر ایک کی جان سے زیادہ مالک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرمایا: اے میرے صحابہ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں ۔ صحابہ کرام نے پھر عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں لیا اور فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ پھر آپ نے دعا فرمائی! اے اللہ پاک! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔ (فضائل صحابہ لاحمد بن حنبل، ص 596، حدیث: 1016)

سبحان اللہ! میرے نبی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرنے والوں کو دعاؤں سے بھی نوازا میرے نبی بذات خود حضرت علی سے محبت فرماتے تھے اور اپنی امت کو بھی اس کی تلقین کی کہ تم بھی حضرت علی سے محبت رکھو۔

غزوہِ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں کل پرچم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)

اگلے دن یہ پرچم حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو دیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ ﷺ کے نزدیک نہایت محبوب اور مقام و مرتبہ رکھنے والے صحابی تھے۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث: 4693)

یہ حدیث حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی علمی عظمت کو ظاہر کرتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں امت کی علمی میراث کا محافظ قرار دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علی سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہوگا اور علی سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)

یہ حدیث ایمان اور نفاق کے درمیان ایک معیار ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت یا بغض سے ظاہر ہوتا ہے۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ حضور ﷺ نے ان کی محبت کو ایمان کی علامت قرار دیا، ان کے لیے دعا کی، اور امت کو بھی ان کی ولایت اور محبت کا حکم دیا اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ حضرت علی سے محبت رکھے اور ان کے مقام کو پہچانے۔

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرنے اور آپ کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


شیر خدا حضرت علی المرتضیٰ ایک افضل صحابی، نبی کے چچا زاد بھائی اور پیارے نبی ﷺ کی چھوٹی صاحبزادی کے خاوند تھے۔ نبی کریم ﷺ کو آپ کرم اللہ وجہہ الکریم سے بہت محبت تھی میرے نبی نے کئی مقامات پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کا اظہار فرمایا، ایک موقع پر حضرت علی سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا! علی کو مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسی کو ہارون سے تھی۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)

ایک اور مقام پر فرمایا! علی مجھ سے ہے میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)

سبحان اللہ میرے نبی حضرت علی سے محبت کا اظہار کس قدر حسین انداز میں فرما رہے ہیں

ہمیں جس سے محبت ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سب اس سے محبت کرئے کوئی اس سے بغض و عداوت نہ رکھے پیارے نبی ﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا!جو کوئی علی سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو کوئی علی سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے دشمنی کرتا ہے۔ (کنز العمال، 11/622، حدیث: 33024)

سلیمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: تجھ سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ بغض رکھنے والا ہے۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)

ان احادیث مبارکہ سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پیارے آقا ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کے متعلق ایک واقعہ ہے حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ غدیر خم کے مقام پر حضور ﷺ نے قیام فرمایا ایک درخت کے سائے میں آپ ﷺ کے لیے جگہ صاف کی گئی یہاں آپ ﷺ نے نماز ظہر ادا فرمائی نماز کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا! (اے میرے صحابہ) کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا:کیوں نہیں یا رسول اللہ (یعنی یارسول اللہ آپ ہم میں سے ہر ایک کی جان سے زیادہ مالک ہے) نبی کریم ﷺ نے دوبار ہ فرمایا:(اے میرے صحابہ) کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میں مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہوں۔ صحابہ کرام نے پھر عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے پیارے صحابی حسنین کریمین کے والد محترم حضرت علی کا ہاتھ اپنے ہاتھ مبارک میں لیا اور فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں پھر آپ نے دعا فرمائی اے اللہ پاک! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی فرما۔ (فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل، ص 596، حدیث: 1016)

سبحان اللہ میرے نبی نے سیدنا علی سے محبت کرنے والوں کو دعاؤں سے بھی نواز دیا میرے نبی بذات خود بھی حضرت علی سے محبت فرماتے تھے اور اپنی امت کو بھی تلقین کی کہ حضرت علی سے محبت رکھے۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں مولا کائنات مولا علی سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔