حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت محمد یوسف،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام کی عظیم ہستیوں میں حضرت علی المرتضیٰ شیرِ
خدا کرم اللہ وجہہ الکریم کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ حضور نبی کریم ﷺ کے چچا زاد
بھائی، داماد اور عشرہ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی ہیں۔ آپ کی فضیلت پر بے
شمار احادیث وارد ہیں، اور رسولِ اکرم ﷺ کی آپ سے محبت ایک کھلی حقیقت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! تو مجھ سے ہے اور
میں تجھ سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740) اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ مولا علی رضی
اللہ عنہ کا تعلق حضور ﷺ سے نہایت گہرا اور قلبی تھا۔
ایک اور حدیث مبارک میں فرمایا: جس کا میں مولا ہوں
اس کا علی بھی مولا ہے۔(ترمذی، 5/398، حدیث: 3733)یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مولا
علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور مقام خود حضور ﷺ نے امت کو بتایا۔
نبی پاک ﷺ نے یہ بھی فرمایا: اے علی! تجھ سے محبت
صرف مومن کرے گا اور تجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) یہ
ارشاد حضور ﷺ کی مولا علی سے بے مثال محبت کا مظہر ہے اور ساتھ ہی مومن و منافق کی
پہچان بھی بیان فرما دی گئی۔
حضور ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری بھی بہت
محبوب تھی۔ جنگ خیبر کے موقع پر جب صحابہ کرام کو بار بار لشکر کی قیادت دی گئی
لیکن کامیابی نہ ملی، تو حضور ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں
گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے
محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)پھر یہ جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو
عطا کیا گیا اور اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ نے نہ صرف اپنا
داماد بنایا بلکہ اپنے قریب ترین رازداروں میں بھی شامل رکھا۔ آپ کی شجاعت، علم،
عبادت اور قربانی سب حضور ﷺ کو محبوب تھیں۔ اسی لیے آپ کو باب مدینۃ العلم یعنی
علم کا دروازہ فرمایا گیا۔
مولا علی رضی اللہ عنہ کو حضور ﷺ اپنے اہلِ بیت میں
خاص محبت و عزت سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ ان سے محبت دراصل رسولِ اکرم ﷺ کی محبت ہے
اور یہ ایمان کا حصہ ہے۔
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت محمد نواز،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
پیارے آقا ﷺ کو مولا علی سے بہت محبت تھی، مولا علی
بچوں میں سب سے پہلے بچے تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا مولا علی ہاشمی قرشی
صحابی ہیں، اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں، عشرہ مبشرہ میں شامل ہونے کے ساتھ کاتب رسول
ﷺ ہونے کا اعزاز حاصل ہے
حضور کی مولا حضرت علی سے محبت مظاہر:
روایت ہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرماتے ہیں رسول
اللہ ﷺ نے جناب علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس درجہ میں ہو جو ہارون کو موسیٰ سے
تھا اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
روایت ہے حضرت عمران بن حصین سے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا کہ علی مجھ سے ہیں میں علی سے ہوں اور ہر مومن کے ولی ہیں۔ (ترمذی، 5/397،
حدیث: 3732) ایک اور روایت میں ہے: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ (ترمذی،
5/398، حدیث: 3733)
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں جب رسول
اللہ ﷺ سے مانگتا تو آپ ﷺ مجھے عطا فرماتے اور جب میں خاموش ہوتا تو آپ ﷺ مجھ سے
کلام کی ابتداء فرماتے۔ (ترمذی، 5/402، حدیث: 3743)
روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے علی سے منافق محبت
نہیں کرتا اور ان سے مومن بغض نہیں رکھتا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے
جس نے علی کو برا کہا اس نے مجھ ﷺ برا کہا۔ (مسند احمد،10/228،حديث:26810)
ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ آقا ﷺ کو حضرت علی کرم
اللہ وجہہ الکریم سے کتنی محبت تھی۔ آپ کو آقا ﷺ کو غسل دینے کی سعادت ملی اور
حضرت علی نے آقا ﷺ جسم اقدس کو قبر منور میں اتارا اور حضرت فضل بن عباس اور حضرت
قثم بن عباس اور حضرت عباس بھی شامل تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو علم کا
دروازہ کہا جاتا ہے اور اللہ پاک نے آپ کو بہت زیادہ طاقت سے نوازا۔
حضور کی مولا علی
سے محبت از بنت محمد احسن،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام کی تاریخ میں اگر ہم محبتِ رسول ﷺ کو دیکھیں
تو اس کی سب سے بڑی جھلک رسولِ اکرم ﷺ کی اپنی اہلِ بیت اور خاص طور پر حضرت علی
کرم اللہ وجہہ الکریم کے ساتھ محبت و الفت میں نظر آتی ہے۔ قرآن کریم کی آیات،
احادیثِ نبویہ اور اقوالِ صحابہ اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو نہ صرف اپنا قریبی عزیز بلکہ ایمان، وفاداری اور قربانی میں بے مثال
ساتھی پایا۔
حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
محبت پر احادیث:
1۔ محبتِ رسول،محبتِ علی: نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)
2۔ علی اور رسول ﷺ کا تعلق: رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے علی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/400،
حدیث: 3736)
3۔ خیبر کا دن: جب خیبر کا
قلعہ فتح نہ ہو رہا تھا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا
جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے
ہیں۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3009)
یہ جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا اور اللہ نے ان کے
ہاتھوں خیبر فتح کروایا۔
4۔ حدیثِ منزلت: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: اے علی! تم میرے لیے ایسے ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر میرے بعد
کوئی نبی نہیں۔(بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
5۔ اہلِ محبت کی پہچان: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: اے علی! تم سے محبت صرف مومن کرے گا، اور تم سے بغض صرف
منافق رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240)
رسول اکرم ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے
محبت محض رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں تھی، بلکہ ایمان، اخلاص، بہادری، وفاداری اور
دین کے لیے بے مثال قربانیوں کی بنا پر تھی۔ قرآن و حدیث سے یہ بات روزِ روشن کی
طرح عیاں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا خاص محبوب قرار دیا۔
لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے محبت کرے، کیونکہ یہ محبت دراصل رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے، اور رسول ﷺ سے
محبت ایمان کا سب سے بڑا درجہ ہے۔
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت یاسین، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
آقاﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بےحد محبت فرماتے
تھے جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول الله ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دو دو صحابہ
کو بھائی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر
ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک
صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی
رہ گیا تو سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی،
5/401، حدیث: 3741)
اور حضرت ام سلمہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ رسول
الله ﷺ نے فرمایا: جس نے علی کو برا بھلا کہا تو تحقیق اس نے مجھ کو بُرا بھلا
کہا۔ (سنن کبری للنسائی، 5/133، حدیث: 8476)
یعنی حضرت علی کو حضور سے اتنا قرب اور نزدیکی حاصل
ہے کہ جس نے انکی شان میں گستاخی و بے ادبی کی تو گویا کہ اس نے حضور کی شان میں
گستاخی و بے ادبی کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کی توہین کرنا حضور کی توہین کرناہے۔
العیاذ بالله تعالیٰ
اور طبرانی
و بزار حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور ترمذی و حاکم حضرت علی سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96،
حدیث: 4693)
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سچے دل سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ذکر
اللہ دلوں کا سکون اور روح کی غذا ہے۔ بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ پاک
کے ذکر کو اپنا معمول بنا لیتا ہے، اس کے دل سے غفلت دور اور ایمان تازہ ہو جاتا
ہے۔ بے شک ذکرِ الٰہی مصیبتوں میں راحت،
پریشانیوں میں اطمینان اور اللہ پاک کی قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
عاشقانِ
رسول کو زبان و دل سے ہر وقت ذکر اللہ کرتے رہنے کا ذہن دینے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد
الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے 16 صفحات کا رسالہ ”ذکرُ اللہ کے
واقعات“ پڑھنے/سننے کی
ترغیب دی ہے اور پڑھنے/سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”ذکرُ
اللہ کے واقعات“ پڑھ یا سن لے اُسے دونوں جہاں میں سکون اور چین
عطا فرماکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
حضور کی مولا علی
سے محبت از بنت جنید عطاری، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
رسول اللہ ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے
محبت ایک روشن حقیقت ہے۔یہ محبت صرف رشتہ داری یا قریبی ہونے کی وجہ سے نہیں تھی
بلکہ حضرت علی کے ایمان، تقوی، علم،شجاعت اور دین کے لیے قربانیوں کی بنیاد پر تھی۔نبی
کریم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو واضح فرمایا اور امت کو انکی محبت کا درس دیا۔
(1)دنیا و آخرت کے بھائی:جب
رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کیا،تو
حضرت علی نے عرض کیا:یا رسول اللہ! آپ نے سب کو بھائی بنا دیا مگر مجھے کسی کے
ساتھ نہیں جوڑا اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔(ترمذی،
5/401، حدیث: 3741)
اس حدیث مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو سب کے مقابلے میں اپنا قریب ترین کہا۔
(2) علی رضی اللہ عنہ سے محبت کو اپنی
محبت قراردیا:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی کی محبت
دراصل حضور ﷺ سے ہی محبت ہے اور ان سے بغض رکھنا گویا نبی کریم ﷺ سے بغض رکھنا ہے۔
(3) علی کرم اللہ وجہہ الکریم علم کا
دروازہ ہے:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے۔ (مستدرک، 4/96، حدیث:
4693)
اس سے واضح ہوا کہ علم نبوی تک رسائی کے لیے حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا وسیلہ ضروری ہے۔وہ علم و حکمت کے امین تھے اور نبی کریم ﷺ نے
انہیں اپنی علمی میراث کا دروازہ فرمایا۔
(4)غزوہ تبوک اور حضرت ہارون کا مقام:غزوہ
تبوک کے موقع پر حضور علیہ السلام نے حضرت علی کو مدینہ میں چھوڑا۔حضرت علی رضی اللہ
عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔اس
پر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا مقام میرے نزدیک وہی ہے جو
ہارون کا موسیٰ کے ساتھ تھا،سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟ (بخاری، 3/144،
حدیث: 4416)
اس حدیث کو حدیث منزلت کہا جاتا ہے،جو حضرت علی کے
اعلیٰ مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
ان احادیث و واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ:
حضور ﷺ کی حضرت علی سے محبت اللہ کی رضا اور دین کی
سربلندی کے لئے تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے اپنا بھائی،علم
کا دروازہ اور امت کا ولی قراردیا۔
ان سے محبت دراصل نبی کریم ﷺ سے محبت اور ان سے
دشمنی نبی کریم ﷺ سے دشمنی کے مترادف ہے۔
اللہ ہمیں حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم
کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ہمیں انکا صدقہ نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت اسلم، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
اللہ پاک نے اپنے محبوب ﷺ کو رحمت اللعالمین بنا کر
بھیجا۔آپ نے اپنی امت کو ایمان محبت اور اخوت کا درس دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
میں بعض کو آپ سے خصوصی نسبتیں اور قربتیں حاصل تھی ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا
مقام سب سے منفرد اور بلند ہے رسول اللہ ﷺ کی ان سے بے پناہ محبت اور شفقت قرآن و
حدیث سے واضح ہے۔
احادیث مبارکہ سے دلیل:
1۔ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی، 5/401،
حدیث: 3740)
2۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے خیبر والے دن فرمایا: میں
کل ضرور اس آدمی کو یہ جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا وہ اللہ اور اس
کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی یعنی محمد ﷺ بھی محبت کرتے
ہیں جب صبح ہوئی تو سب لوگ سویرے سویرے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے ہر آدمی یہ
چاہتا تھا کہ جھنڈا اسے ملے آپ ﷺ نے پوچھا: علی بن ابی طالب کہاں ہے؟ لوگوں نے
جواب دیا: یا رسول اللہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں آپ نے فرمایا انہیں بلاؤ
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعب مبارک ڈالا
تو وہ فورا اس طرح ٹھیک ہو گئے جیسے کبھی بیمار ہی نہیں تھی آپ نے حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا: اللہ کی قسم اگر تیری وجہ سے ایک آدمی بھی
ہدایت پر آجائے تو تیرے لیے یہ مال غنیمت اور سرخ کے اونٹوں سے بہتر ہے۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3009)
اللہ تعالی نے غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت سیدنا علی
رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا
کتنا بلند مقام ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ان سے محبت کرتے ہیں۔
3۔ مشہور جلیل القدر صحابی اور فاتح قدسیہ حضرت
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی سے
فرمایا: تیری میرے ساتھ وہی منزلت ہے جو ہارون کی موسی علیہ السلام سے ہے سوائے اس
کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ (بخاری، 3/144، حدیث: 4416)
اس حدیث سے حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا عظیم
الشان ہونا ثابت ہوتا ہے لیکن یاد رہے کہ اس کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں اس حدیث
سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا لیکن
نبی کریم ﷺ نے اس حدیث میں حضرت ہارون سے نسبت اس لیے کی کہ جیسے حضرت موسی کو
حضرت ہارون علیہ السلام سے محبت تھی نبی کریم ﷺ کو ایسے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ
سے محبت ہے۔
حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان کی علامت ہے مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے اور اس کے
راوی یعنی حدیث بیان کرنے والے خود حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ ہیں فرماتے ہیں
مجھے اس ذات کی قسم جو دانے کو پھاڑتی یعنی درخت سے نکالتی ہے اس ذات کی قسم جس نے
روح کو پیدا کیا بے شک نبی امی ہاشمی محمد عربی ﷺ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ مجھ سے
محبت نہیں رکھے گا مگر مومن اور مجھ سے بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔(مسلم، ص 57،
حدیث: 240)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ
کی محبت ایمان کی علامت ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بغض منافقت کی علامت ہے
علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں سابق کرام رضی اللہ عنہ کے ہاں یہ طریقہ
تھا کہ کسی پہ ایمان یا منافقت کو جاننا ہوتا تو بغض علی سے جانتے تھے جس کو
دیکھتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہے جان لیتے کہ یہ منافق ہے۔ (مسلم،
ص 50، حدیث:78)
4۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں صحابہ کرام کے درمیان مواخات قائم فرمائی تو سیدنا علی
المرتضی رضی اللہ عنہ بھی ساختہ رو دیے اور کہا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے صحابہ کے
درمیان مواخات کروائی لیکن میری کسی کے ساتھ مواحات نہیں کرائی تو اس پر رسول اللہ
ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کے بارے میں ارشاد فرمایا
جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے رب
العزت سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے مجھ
سے بغض رکھا اس نے اللہ رب العزت سے بغض رکھا۔
اللہ کے رسول ﷺ کے اصحاب میں سے علی بن ابی طالب کے
بے شمار فضائل و مناقب ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آپ سابق الاسلام ہونے کے علاوہ
نبی کریم ﷺ کے قرابت دار ہیں اور آپ کو تربیت کے لیے نبی کریم ﷺ کی پاک گود میں
ڈالا گیا تو ان کا مرتبہ قرابت مزید دوبالا ہو گیا اور آپ کی شان میں اضافہ ہو گیا
سیدنا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کو آپ کے عقد میں دے دیا تو مزید فضیلت حضرت
سیدنا علی المرتضی کے شامل حال ہو گئی۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں بھی حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے سچی اور پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محترم قارئینِ کرام! اگر ہم کسی سے محبت کریں تو یہ
اتنا قابلِ تعریف نہیں ہوتا جتنا کہ کوئی ہم سے محبت کرے تو وہ قابلِ تعریف ہے پھر
محبت کرنے والے کا رتبہ جس قدر بلند ہو اسی قدر اس کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جیسے
دنیا کی ہی مثال لے لیجیے کہ اگر کسی حکمران یا افسر کی توجہ مل جائے یا کوئی ان
کا منظورِ نظر ہو جائے تو اس کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں لگ رہے ہوتے۔ یہ تو ہم
گناہگاروں کی حالت ہے اگر ہم صحابہ کرام کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ان کی محبت ہی
حقیقی معنوں میں محبت تھی اور تمام صحابہ کرام تو آقا علیہ السلام سےبلاشہ بے پناہ
محبت کرتے ہی تھے لیکن خود حضور علیہ السلام نے بھی اپنے پیارے صحابہ کرام کو اپنی
محبت سے نوازا ان ہی میں سے ایک عظیم الشان صحابی، دامادِ رسول اللہ علیہ السلام،
فاتحِ خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہت سی خصوصیات
میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ آقا علیہ السلام کے داماد اور چچا زاد بھائی
ہونے کے ساتھ عقدِ مواخاۃ میں بھی آپ کے بھائی ہیں۔ جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آقا علیہ السلام نے جب مدینہ طیبہ
میں اخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا کہ دودو صحابہ کو بھائی بھائی بنایا تو حضرتِ
علی روتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے سارے
صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی۔ ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھے
کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا تو آقا علیہ السلام نے فرمایا: تم دنیا
اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741)
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ سرکارِ اقدس
ﷺ نے فرمایا: علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور مومن علی سے بغض و عداوت نہیں رکھتا۔
(مسلم، ص 57، حدیث: 240)
اس کے علاوہ بھی بہت سی احادیث مبارکہ میں آقا علیہ
السلام کی حضرت علی سے محبت واضح ہوتی ہے۔ آقا علیہ السلام نے آپ کو ابو تراب کا
لقب بھی عطا فرمایا تھا جو حضرت علی کو تمام القاب میں سب سے زیادہ محبوب تھا۔
اللہ پاک ہمیں بھی محبتِ رسول حاصل کرنے والے کام
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت ارشد محمود، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
اسلام میں اہل بیت اطہار کا مقام نہایت بلند ہے ان
میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات مبارکہ کو خاص فضیلت حاصل ہے، رسول کریم
ﷺ نے ان سے بے حد محبت فرمائی اور اس محبت کو ایمان و نفاق کی کسوٹی قرار دیا۔
مومن کی پہچان، علی سے محبت: حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تجھ سے صرف مومن ہی محبت
کرے گا اور تجھ سے بغض صرف منافق ہی رکھے گا۔ (مسلم، ص 57، حدیث: 240) یہ واضح
اعلان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا نشان ہے جبکہ ان سے دشمنی
نفاق کی علامت۔
علی سے محبت، نبی سے محبت: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے
بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (مستدرک، 3/130، حدیث: 4652) گویا حضرت علی سے محبّت،دراصل رسول کریم ﷺ سے محبت ہے۔
چار افراد سے محبت کا حکم: حضرت
بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار افراد
سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے، ان میں
سے ایک علی ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)
منافق کی پہچان بغض علی سے: صحابہ
کرام فرماتے ہیں کہ ہم منافقین کو علی سے بغض رکھنے کی وجہ سے پہچانتے تھے۔ (مسند امام
احمد، 1/128، حدیث: 972) اس سے حضرت علی کی عظمت اور محبت کی اہمیت واضح ہے۔
غزوہِ خیبر اور محبت رسول اللہ: غزوہِ
خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ
اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے
ہیں، اگلے دن حضور ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر ان کی آنکھ پر لعاب دہن
لگایا، وہ فوراً شفا یاب ہو گئے اور انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔ (بخاری، 2/312، حدیث:
3009)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی
سے۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3740)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
سرکار دو عالم ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی: اے اللہ! علی کے سینے کو
علم، عقل ودانائی، حکمت اور نور سے بھر دے۔ (روشن ستارے ماہنامہ مئی 2021)
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت شکیل احمد، لطیف آباد نمبر 8 حیدرآباد سندھ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم پیارے آقا ﷺ کے چچا
زاد بھائی ہیں پس آپ بھی اہلِ بیت اطہار میں داخل ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سب
سے پہلے وہ نوجوان ہیں جو اسلام کی دولت سے فیضیاب ہوئے اور آغوشِ نبوت میں پرورش
پاتے رہے یہی وجہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو رسولِ اکرم ﷺ کی خصوصی شفقت و محبت
نصیب ہوئی۔ (کراماتِ شیر خدا، ص 31)
اہلِ سنت والجماعت کی بہت سی کتبِ حدیث میں ایسی
روایات موجود ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کی
دلیل ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
حضرت علی سے محبت ایمان کی علامت: رسول
پاک ﷺ اپنے چچا زاد بھائی، داماد، علم و شجاعت کے پیکر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ
عنہ سے ہمیشہ اس قدر محبت فرماتے کہ آپ سے محبت کرنے کو ایمان کی علامت قرار دے دیا
چنانچہ مسلم شریف کی حدیث ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: اس کی
قسم جس نے دانہ چیرا اور ہر جان کو پیدا کیا کہ مجھ سے نبی امی ﷺ نے عہد فرمایا کہ
مجھ سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور مجھ سے نہ بغض رکھے گا مگر منافق۔ (مسلم، ص 57،
حدیث: 240)
حضرت علی سے محبت کا حکم: جب
کوئی شخص کسی سے محبت کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ سب اُس سے محبت کریں اور اس کی عزت
کریں۔پیارے آقا ﷺ چونکہ مولا علی شیر خدا سے محبت کرتے تھے لہٰذا آپ ﷺ نے حضرت علی
رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یہ علی ہیں تم میری
محبت کے ساتھ ساتھ ان سے بھی محبت رکھو اور میری عزت کے ساتھ ان کی بھی عزت کرو۔ (مولا
علی شیر خدا، ص 9)
حضور کی حضرت علی سے محبت کا عملی
اظہار: غزوہ
خیبر کے موقع پر حضور ﷺ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا عملی اظہار یوں ہوا
کہ جب قلعہ قموس کو فتح کرنے کے لیے شیخین کریمین نے يكے بعد دیگرے مختلف دنوں میں
حملے کیے مگر قلعہ قموس فتح نہ ہو سکا اور اس قلعہ کو فتح کرنے میں مشکل و دشواری
پیش آئی تو ایک دن رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کل میں اُس آدمی کو جھنڈا دوں گا
جس کے ہاتھ پر اللہ فتح دے گا وہ اللہ و رسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی ۔ (بخاری،
2/312، حدیث: 3009)
دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اس نعمت عظمیٰ
کے لیے ترس رہے تھے مگر اللہ و رسول کا محب و محبوب ہونے کا یہ اعزاز و شرف حضرت
علی رضی اللہ عنہ کو نصیب ہوا۔ (سیرت مصطفی، ص 387)
پیارے آقا ﷺ نے خود بھی حضرت علی المرتضی سے بے
پناہ محبت فرمائی اور اپنی امت کو بھی آپ رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے کا حکم ارشاد
فرمایا ہمیں چاہئے کہ ہم حکمِ رسول ﷺ پر عمل کریں۔
ہمارے لیے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی محبت
وہ محبت ہے جو نجات دلانے والی ہے اگر ہم محبتِ علی رضی اللہ عنہ میں شریعت کی
مقرر کردہ حدود کو توڑیں تو یہ محبت ہلاک کرنے والی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ خود
فرماتے ہیں: لوگو سن لو! میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے، میری محبت میں
افراط کرنے والے (یعنی حد سے بڑھنے والے)، مجھے اُن صفات میں بڑھائیں گے جو مجھ
میں نہیں۔ مجھ سے بغض رکھنے والوں کا بغض اُنہیں اُبھارے گا کہ مجھ پر بہتان
لگائیں۔ (شانِ علی بزبان نبی، ص 14)
پس لازم ہے کہ ہم محبتِ علی رضی اللہ عنہ میں نہ
افراط کے مرتکب ہوں اور نہ بغض و عداوت کی تفریط میں پڑیں، بلکہ اعتدال کے ساتھ
وہی محبت رکھیں جو ایمان کی علامت اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت پرویز اختر، لطیف آباد نمبر 8 حیدرآباد سندھ
پہلی مبارک غذا: جب آپ رضی
اللہ عنہ پیدا ہوئے تو حضور اکرم ﷺ نے ان کا نام علی رکھا اور اپنا لعاب آپ رضی
اللہ عنہ کے منہ میں ڈالا اور اپنی مبارک زبان انہیں چوسنے کے لیے دی۔ (سيرة حلبیہ،
1/382)
شانِ علی بزبانِ نبی: حضرت
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے علی سے محبت
کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی جس نے
علی سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے اللہ سے
دشمنی کی۔ (معجم كبير، 32/380، حديث: 901)
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار صحابہ کرام کے درمیان بھائی
چارہ قائم فرمایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ آپ نے مجھے
کسی کا بھائی نہ بنایا؟ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:تم دنیا و آخرت میں میرے
بھائی ہو۔ (ترمذی،5/401، حدیث: 3741)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: تم مجھ سے ہو اور
میں تم سے ہوں۔ (ترمذی، 5/199، حدیث: 3736)
بابرکت نکاح: حضرت علی رضی
اللہ عنہ کو بچپن ہی سے حضور نبی کریم ﷺ کی تربیت ملی، فیضان نبوت کا فیض بلا
واسطہ ملا پھر آپ رضی اللہ عنہ کے نصیب کی یاوری کہ آپ رضی اللہ عنہ کو دامادِ
رسول بننے کی بھی سعادت ملی، جب آپ رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا
رشتہ طلب کیا تو رسول الله ﷺ نے قبول فرمایا اور خوشی کا اظہار فرمایا۔
محبت بھرا جواب: ایک مرتبہ
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض
کی، یا رسول الله ﷺ! آپ کو وہ (حضرت بی بی فاطمہ) مجھ سے زیادہ پیاری ہیں یا میں؟
تو نبی کریم ﷺ نے بڑا ہی پیارا جواب ارشاد فرمایا: وہ مجھے تم سے زیادہ اور تم اس
سے زیادہ پیارے ہو۔ (مسند حمیدی، 1/22،
حدیث: 38)
فاتح خیبر: غزوۂ خیبر میں
نبی کریم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پرچمِ اسلام عطا فرمایا، چنانچہ حدیث مبارکہ میں
ہے کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ اللہ فتح دے گا وہ اللہ اور اس
کے رسول سے محبت کرتا ہے نیز اللہ اور رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 2/312،
حدیث: 3009)
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلت میں بہت سی
حدیثیں وارد میں بلکہ امام احمد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جتنی حدیث شریف آپ رضی
اللہ عنہ کی فضیلت میں ہیں کسی اور صحابی کی فضیلت میں اس قدر تعداد میں حدیث پاک
نہیں ہیں۔ ایک روایت ہے: علی المرتضیٰ کو دیکھنا عبادت ہے۔ (مستدرك، 4/118، حدیث: 4737)
حضور کی مولا
علی سے محبت از بنت عبدالوحید خان،لطیف آباد نمبر 8 حیدرآباد سندھ
یوں تو نبی کریم ﷺ کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین سے ہی محبت تھی جس کا ذکر ہمیں کثیر احادیث کریمہ میں ملتا ہے حضور ﷺ
کے تمام صحابہ گویا ان میں سے جن کی اقتداء کی جائے ستاروں کی طرح اور شمع رسالت
کے پروانے ہیں اور تمام صحابہ میں سے اسلام کے چوتھے خلیفہ حیدر کرار ابو الحسن
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی ہے جن سے حضور سرکارِ دوعالم ﷺ بے حد محبت
فرماتے تھے آپ رضی اللہ عنہ حضور کے چچا زاد بھائی ہیں آپ داماد رسول اللہ ﷺ ہے
حضور ﷺ نے آپ سے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا
رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا۔ اور یہی نہیں حضور ﷺ کی نسل کی اصل کہ حضور کی
اولاد آپ ہی سے چلی، حسنین کریمین کے والد، ولادت کے مرکز شریعت کے دریا ناپیدا
کنار، آپ پنجتن پاک میں بھی داخل ہے اور یہی نہیں آپ چار یاروں میں بھی ہے،آپ کے
گھر میں حضور کی پرورش ہوئی اور حضور اقدس ﷺ نے آپ کو پرورش کیا، غسل ولادت سرکار ﷺ
نے جنابِ علی کو دیا اور غسل وفات حضرت علی نے حضور ﷺ کو دیا، حضور کی امت میں
قاسمِ ولایت آپ ہی ہے ہر ولی کو آپ سے فیضِ ولایت ملتا ہے غرض یہ کہ آپ کے فضائل
ریت کے ذروں آسمان کے تاروں کی طرح بے شمار ہیں، آپ کے فضائل اور حضور کو آپ سے
کتنی محبت تھی اس کا اندازہ احادیث کریمہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں: چنانچہ
1۔ اے علی تم مجھ سے ہو: حضور
نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے علی، تم مجھ سے ہو اور میں تم
سے ہو۔ (بخاری، 2/212، حدیث:2699) حضرت علی کا بیان ہے کہ یہ فرمان عالیشان سن کر
میں خوشی سے اچھل پڑا۔ (مسند امام احمد، 2/213، حدیث :857) اس کی شرح میں ہے یعنی
تم علم، قرابت داری اور نسب کے اعتبار سے مجھ سے متصل (ملے ہوئے ہو) اور میں بھی
نسب اور علم کے اعتبار سے تم سے متصل ہو۔ (عمدۃ القاری،11/441)
2۔ نبی کریم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بے حد
محبت تھی لہذا فرمایا: اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے
ہو جیسے حضرت موسیٰ کے لیے ہارون تھے لیکن میرے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوگا۔ (بخاری،
3/144، حدیث: 4416) یہ فرمان عالی شان سن کر حضرت علی عرض گزار ہوئے میں راضی ہوں
میں راضی ہوں۔ (ارشاد الساری، 8/232، تحت الحدیث:3706)
سبحان اللہ کیا شان و مرتبہ ہے مولی کائنات حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا کہ حضور فرمارہیں ہے کہ تم مجھ سے راضی ہو تم میرے لیے مثال
ہارون علیہ السلام ہو۔ سبحان اللہ بس یہی نہیں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا۔ اے علی
تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (ترمذی، 5/401، حدیث: 3741) سبحان اللہ قربان
جائیے شان علی رضی اللہ عنہ پر کہ حضور ﷺ کو آپ رضی اللہ عنہ سے کس قدر محبت ہے کہ
سرکار ﷺ نے حضرت علی کو 2 مرتبہ اپنا بھائی بنانے کا اعزاز بخشا۔ (التوضیح شرح
الجامع الصحیح، 3/538)
3۔ جس کا میں مددگار و کارساز ہوں تو علی بھی اس کے
مددگار و کارساز ہیں۔ (ترمذی، 5/ 398، حدیث: 3733) مزید فرمایا کہ علی المرتضی کے
چہرے کی زیارت کرنا عبادت ہے۔ (معجم کبیر، 10/76، حدیث: 10006)
نبی کریم ﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کس قدر محبت
فرماتے تھے اس کا اندازہ اس فرمان عالی سے لگائے لہذا
4۔ ارشاد فرمایا: اے علی میں تمہارے لئے وہی پسند
کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں اور تمہارے لئے وہی ناپسند کرتا ہوں جو اپنے
لئے ناپسند کرتا ہوں۔ (ترمذی،1/309، حدیث: 282) یہاں خصوصی پسندیدگی مراد ہے اور
اس حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی انتہائی عظمت کا اظہار ہے ورنہ نبی
ساری امت کے ماں باپ سے زیادہ خیرخواہ ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 2/87)
5۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ اقدس میں عرض
کی یارسول اللہ ﷺ آپ کو میں زیادہ محبوب ہوں یا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سرکار ﷺ
نے ارشاد فرمایا: فاطمہ مجھے تم سے زیادہ محبوب ہے لیکن تم میرے نزدیک اُس سے
زیادہ معزز ہو۔ (سنن کبری للنسائی،5/150، حدیث: 8531)
6۔ اللہ پاک نے مجھے 4 افراد سے محبت کرنے کا حکم
دیا ہے اور مجھے یہ خبر دی ہے کہ وہ بھی ان سے محبت فرماتا ہے۔ حاضرین نے عرض کی
یارسول اللہ ہمیں انکے نام بتا دیجئے حضور ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: علی ان
میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ابو ذر غفاری و مقداد اور سلمان فارسی رضی اللہ
عنہم اجمعین۔ (ابن ماجہ، 1/99، حدیث: 149۔ ترمذی، 5/400، حدیث:3739)
حضرت علامہ مولانا علی بن سلیمان قاری رحمۃ اللہ
علیہ اس حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ان
حضرات کا نام اس لیئے پوچھا کہ اللہ و رسول کی محبت کی اتباع میں ہم بھی اِن چاروں
حضرات سے محبت کریں نام بتاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام
تین مرتبہ لیا اس میں یہ اشارہ ہے کہ آپ بقیہ تینوں حضرات سے افضل ہیں یا پھر حضور
کو بقیہ تینوں حضرات سے جتنی محبت ہے اتنی محبت اکیلے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح، 10/622)
اللہ پاک ہمیں بھی اپنے محبوب ﷺ کے صدقے مولائے
کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بے لوث محبت نصیب فرمائے آمین اللہ پاک
کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین
Dawateislami