عیوب ڈَھکنا سیکھ جائیں تو ہمارا معاشرہ صاف ستھرا ہو جائے، مولانا الیاس عطار قادری
لوگوں کو بزگانِ دین کی سیرت سے آگاہ کرنے اور
قرآن و حدیث کی روشنی میں اُن کی رہنمائی
کرنےکے لیے دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر ہفتے کی رات ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا
انعقاد کیا جاتا ہے جوکہ مدنی چینل کے
ذریعے براہِ راست دنیا بھر میں دیکھا جاتا
ہے۔
اسی سلسلے میں 13 جون 2026ء بمطابق 28 ذوالحجہ
1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ عشا تلاوتِ قرآن و
نعت ِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم سے شروع ہوا۔
اس موقع پر براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل
مختلف سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی
حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال وجواب
سوال: سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”پردہ معاشرتی
فساد کوروکتا ہے اور ایک با وقار ماحول پیدا کرتا ہے“اس سے کیا مرادہے ؟
جواب: اس سے مُراد کسی
کے عیب کا پردہ رکھنا یا عورتوں کا اسلامی پردہ ہو سکتا ہے، دونوں صورتوں میں پردہ
مفید ہے ۔عورت کے لیے اسلامی پردہ اور مرد کے لیے آنکھوں کا پردہ ہونا چاہئے، جس چیز
کو دیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی اُسے نہ دیکھے۔کسی کا عیب ہے تو اس کو بھی نہ
دیکھے اور معلوم ہو جائے تو اس کا
پردہ رکھے یعنی اسے چھپائے ۔جو کسی کا عیب چھپاتا ہے وہ جنت پاتا ہے۔ جو
دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا اللہ پاک اس کے دنیا و آخرت کے عیب چھپائے گا۔ یوں بہت سارے
معاملات میں پردہ مفید ہوتا ہے ۔جو اپنی
پڑھائی میں کمزور ہے تو اس کا بھی پردہ رکھا جائے ۔بِلا وجہ کسی کے بارے میں کہنا کہ وہ پڑھتا نہیں، اسی طرح وہ
فیل ہو گیا تو کہنا وہ تیاری نہیں کرتا ،فیل نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ اگر کسی نے
کوئی غلطی کی جس سے کوئی شرعی خرابی پیدا نہیں ہو رہی تو اس
کا بھی پردہ رکھنا چاہئے ۔اسی طرح کسی نے آپ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا
تو اب بھی اس کا پردہ رکھنا چاہئے ۔اس طرح غور کرتے جائیں گے تو پردے رکھنے اور پردہ فاش نہ کرنے کی بہت ساری صورتیں سامنے آتی جائیں گی۔مختلف
ذرائع مثلاً سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے ہم لوگوں کا پردہ فاش نہ کریں اور لوگوں کے
عیوب ڈَھکنا سیکھ جائیں تو ہمارا معاشرہ اتنا صاف ستھرا ہو جائے کہ کئی جھگڑے اور مسائل دم توڑ جائیں گے۔
سوال: کھانے کے وقت کیا احتیاط کی جائے کہ معیوب نہ لگے اور
نظر بھی نہ لگے ؟
جواب: کوئی اچھے کھانے کھائے تو اکیلا کھائے تاکہ نظر نہ لگے ۔کھانا کھاتے ہوئے اور بھی چند باتوں کا
خیال رکھے مثلاً سُورۂ قریش (لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ)پڑھ کر دم کر لے ،کھانے سے پہلے کی دُعا پڑھ لیں
کہ کھانے میں کوئی مضر(نقصان دہ) چیز ہو تو وہ نقصان نہ کرے گی، عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت بھی کر لیں، محض
لذت کے لیے نہ کھائیں کہ قرآنِ پاک میں صرف لذّت کی خاطر کھاتے رہنا کفار کی صفت بیان ہوئی ہے ۔
کھانا کھانے سے پہلے کی دُعا
بِسْمِ
اللّٰہ وَبِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْیٔ ٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا
فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ
ترجمہ : اللہ پاک کے نام سے شروع کرتاہوں جس کے نام کی برکت سے زمین
وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والے۔کھانا
شُروع کرنے سے قبل یہ دُعا پڑھ لی جائے، اگر کھانے پینے میں زَہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہُ
الکریم اَثَر نہیں کرے گا۔( کَنْزُ الْعُمَّال، ج 15، ص 109، حدیث:40792)
سوال: خرگوش(Rabbit) کیسا جانور ہے ؟
جواب: خرگوش بڑا پیارا اور حلال جانور ہے ۔ہند کے صوبے
گجرات میں ایک شہر احمد آباد ہے ،اس میں کافی تعداد مسلمانوں کی ہے ،میں جب وہاں گیا
تو وہاں مجھے بتایا گیا کہ اس شہر کو آباد کرنے والے بادشاہ کا نام احمد تھا ،جب وہ یہاں آیا تو یہاں جنگل
تھا ،اس نے دیکھا کہ ایک خرگوش شیر کے
اوپر بیٹھا ہوا ہے ،اس نے کہا کہ جہاں کا خرگوش اتنا بہادر اور نڈر(یعنی ہمت والا،بے خوف) ہے
کہ شیر کے اُوپر بیٹھا ہواہے تویہاں ایک شہر بسانا چاہئے ،چنانچہ اس نے یہاں احمد
آبادشہر قائم کیا۔
سوال: حضر ت موسیٰ علیہ السلام
کا ایک اُمّتی خرگوش کیسے بنا دیا گیا؟
جواب: عیون الحکایات
میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس کا خلاصہ
کچھ یوں ہے کہ ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ
السلام سے علمِ دین حاصل کیا کرتا
تھا ،ایک مرتبہ اس نے اپنے وطن جانے کی اجازت طلب کی، آپ نے اُسے اجازت دے دی ۔ اس
نے وہاں جا کر لوگوں سے عزت اور مال حاصل کرنے کے لیے کہنا شروع کیا کہ حضرت موسیٰ
علیہ السلام نے مجھ سے یہ فرمایا وہ فرمایا یعنی اپنے آپ کو حضرت
موسیٰ علیہ السلام کامقرب(قریبی آدمی) ظاہر کرنا شروع کیا،لوگ اس کی عزت کرتے اور مال
پیش کرتے ،اللہ پاک اس سے ناراض ہو گیا اور اسے خرگوش بنا دیا
۔
سوال: مردوں میں ہا رٹ اٹیک(Heart Attack) کا مرض عورتوں سے زیادہ ہے، اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟
جواب: کمانے کی زیادہ فکر کرنا کہ گھرکی بعض عورتیں زیادہ رقم کاتقاضا کرتی ہیں ،جبکہ عورتوں کو یہ
فکر نہیں ہوتی ۔مردوں کا کھانے پینے میں
احتیاط نہ کرنا جبکہ عورتیں کھانا پکا پکا کر سیر ہو جاتی ہیں، کھانے کے وقت کم
کھاتی ہیں ۔عورتوں کا رو دھو کر اپنا غم ہلکا کر لینا جبکہ مردوں کا ایسا نہ کر
پانا ، اسی طرح عورتوں کی بنسبت مردوں کا نشے میں زیادہ مبتلا ہونا ،شراب نوشی
کرنا ۔سگریٹ پینا وغیرہ وہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے ان میں ہا رٹ اٹیک زیادہ ہوتے ہیں
۔
سوال: کون سی تین ہستیوں کا زیادہ رونا مشہور ہے ؟
جواب:تین شخصیات کازیادہ رونامشہورہے ۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام خوفِ خدا کی
وجہ سے بہت روتے تھے جبکہ حضرت امام زین العابدین علی اوسط رضی اللہ عنہ کے دل میں کربلا کے واقعات اس طرح گھرکر گئے
تھے(یعنی میدانِ کربلا میں اپنے پیاروں کے شہیدہونے کامنظر
دل میں بیٹھ چکا تھا) جب انہیں
یاد آتے تو بے اختیارآنسو جاری ہو جاتے تھے ۔
سوال:کیا کوئی ایسے
بزرگ بھی ہیں جن کا رونا ان کے شاگرد پر زیادہ
اثر کر گیاہو ؟
جواب: جی ہاں! حضرت عبدالرحمن ابن ِجوزی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں کہ مَیں اپنے ایک استاذ کے پاس حدیث پا ک سننےکے لیے جاتا تھا، وہ حدیث پاک بیان کرتے ہوئے روتے تھے توان کا
رونا حدیث سے زیادہ مجھ پر اثر انداز اور مفید ہوا۔
سوال: کیا ہم اپنے ایصالِ
ثواب کے لیے اپنی زندگی میں ہی کلمہ شریف وغیرہ پڑھ کر محفوظ کر لیں ؟
جواب: بندہ جو بھی نیکی
کرتا ہے اس کا ثواب تو اُسے مل ہی جاتا ہے ،اپنے آپ کو ایصال ِثواب کرنے کے کوئی معنیٰ نہیں بلکہ اپنی نیکیوں کا ثواب جتنوں کو ایصال کریں گے تو اتنا اس کے
نامہ اعمال میں بڑھا دیا جائے گا۔(ایصال کا معنی ہے
پہنچانا۔عموماًیہ لفظ ”ایصالِ ثواب“ میں استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کسی کی روح
کو ثواب پہنچانا)
سوال: نیکیاں محفوظ کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟
جواب: اپنی نیکیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے آپ کو گناہوں
اور دوسروں پر ظلم کرنے، مال چھین لینے وغیرہ سے بچانا ہو گا۔ورنہ اپنی نیکیاں مظلوموں کو دینی
پڑیں گی اور بندہ نیکیوں سے محروم ہو جائے گا۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”چار بُرائیاں‘‘پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
Dawateislami