تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جب اِعلان نبوت فرمایا اور لوگوں کو قبولِ اسلام کی دعوت دی تو بغض وحسد سے پاک دل رکھنے والی نیک طینت ہستیوں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعوتِ حق پر لبیک کہا، ان کے اَعْضا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِطاعت کے لیے جھک گئے اور دل ودماغ دین اسلام کی خدمت کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح یہ پاک باز ہستیاں کفر وجہالت کی تاریکیوں سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئیں۔ ان میں سے وہ حضرات جنہوں نے اسلام کو اس کے ابتدائی دنوں میں قبول کیا، قرآنِ کریم نے اِنہیں اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے دل نشین خطاب سے نوازا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تین (3)عظیم وجلیل بشارتیں بھی سنائیں کہ

٭ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن سے راضی ہے ٭وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے راضی ہیں ٭اُن کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں گے۔

چنانچہ پارہ گیارہ ، سورۂ توبہ، آیَت نمبر 100 میں ہے:

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ ۱۱، التوبۃ: ۱۰۰)

ترجمہ:اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو (پیروی کرنے والے) ہوئے، اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ ،جن کے نیچے نہریں بہیں ،ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رہیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

یہ اَلسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ جنہوں نے اِسلام کو اس کے ابتدائی ایّام میں قبول کیا اور سب سے پہلے حُضُور علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت ورِسالت کی گواہی دی، اِن میں سے جلیل القدر صَحابِی رسول حضرتِ سیِّدنا سُہیل بن عَمْرو رضی اللہُ عنہ کے بھائی حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمْرو رضی اللہُ عنہ اور آپ کی زَوْجہ حضرتِ سیِّدَتُنا سَوْدَہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا بھی تھیں۔

کفار مکہ کو جب ان لوگوں کی ہجرت کا پتا چلا تو اُن ظالموں نے اِن لوگوں کی گرفتاری کے لیے اِن کا تعاقب کیا لیکن یہ لوگ کشتی پر سوار ہو کر روانہ ہو چکے تھے اس لئے کفار ناکام واپس لوٹے۔ یہ مہاجرین کا قافلہ حبشہ کی سرزمین میں اتر کر امن وامان کے ساتھ خدا کی عِبادت میں مصروف ہو گیا۔ چند دنوں بعد ناگہاں یہ خبر پھیل گئی کہ کفارِ مکہ مسلمان ہو گئے۔ یہ خبر سن کر چند لوگ حبشہ سے مکہ لوٹ آئے مگر یہاں آکر پتا چلا کہ یہ خبر غلط تھی۔ چنانچہ بعض لوگ تو پھر حبشہ چلے گئے مگر کچھ لوگ مکہ میں رُوپوش ہو کر رہنے لگے لیکن کفارِ مکہ نے ان لوگوں کو ڈھونڈ نکالا اور ان لوگوں پر پہلے سے بھی زیادہ ظلم ڈھانے لگے تو حُضُور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر لوگوں کو حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ حبشہ سے واپس آنے والےاور ان کے ساتھ دوسرے مظلوم مسلمان کل تراسی(83) مرد اور اٹھارہ (18) عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی۔

اِس دوسری بار کی ہجرت میں حضرتِ سیِّدنا سَکْرَان بن عَمرو رضی اللہُ عنہ اور آپ کی زوجہ حضرتِ سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا بھی شریک ہوئے۔

ہجرت کے کچھ عرصہ بعد حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا اپنے شوہرحضرتِ سیدنا سَکْرَان بن عمرو رضی اللہُ عنہ کے ساتھ مکہ معظمہ واپس آ گئیں۔

اس وقت بھی کفار ناہنجار مسلمانوں کی ایذا رسانی میں اسی طرح سرگرم تھے اور ان کی تکلیف دہی میں کوئی کسر نہ چھوڑتے تھے۔ لیکن یہ دونوں مقدس ہستیاں سرکارِ رِسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قرب سے فیض یاب ہونے کے لیے مکہ میں رہائش پذیر دیگر مسلمانوں کے ساتھ یہیں مقیم ہو گئیں اور کفارِ بداطوار کے ظلم وستم نہایت صبر وتحمل سے سہتی رہیں لیکن اپنے ایمان کے لہلہاتے ہوئے چمن کو شرک وکفر کی آگ کی ہلکی سی آنچ تک نہ آنے دی۔

تعارف: سیدتنا سَوْدَہ رضی اللہُ عنہا

نام ونسب:آپ رضی اللہُ عنہا کا نام سَوْدَہ، والد کا نام زَمعَہ اور والِدہ کا نام شَمُوْس ہے جبکہ آپکی کنیت اُمِّ اَسْوَد ہے۔

والد کی طرف سے آپ کا نسب اس طرح ہے: ” زَمعَہ بن قیس بن عَبْدشَمْس بن عَبْدِ وُدّ بن نصر بن مالِک بن حِسْل بن عامر بن لُؤَیّ “

اور والدہ کی طرف سے یہ ہے: ” شَمُوْس بنتِ قیس بن زید بن عَمْرو بن لَبِیْد بن خِرَاش بن عامر بن غنم بن عَدِی بن نجار۔ “

حضرتِ لُؤَیّ میں جا کر آپ رضی اللہُ عنہا کا نسب رسولِ خُدا، صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نسب شریف سے مل جاتا ہے۔حضرت لُؤَیّ،رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے 9ویں جدِّ محترم ہیں۔

حلیہ مبارک: آپ رضی اللہُ عنہا طویل القامت اور بھاری جسم کی حامِل تھیں۔

آپ رضی اللہُ عنہا کے پہلے شوہر حضرتِ سیِّدنا سَکران بن عمرو رضی اللہُ عنہ سے آپ کے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام ”عبد الرحمن“ رکھا گیا۔

چند شرف صحابیت پانے والے قَرابت دار

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا کے ڈھیروں ڈھیر فضائل میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ رضی اللہُ عنہا کے خاندان کے بیشتر افراد کو رسولِ کریم، رَءوف رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابی ہونے کا شَرَف حاصل ہے، ان میں سے تین(03) کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

٭حضرتِ عَبْد بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: یہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دیدار کر کے شرف صحابیت سے مُشرف ہوئے۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ ان کی والِدہ عاتکہ بنتِ اَخْیَف ہیں۔

٭حضرتِ مالِک بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَودہ رضی اللہُ عنہا کے بھائی ہیں۔ قدیم الاسلام صحابی ہیں اور ہجرتِ حبشہ میں اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک ہوئے۔

٭حضرتِ عبد الرحمن بن زَمعَہ رضی اللہُ عنہ: اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا سَودہ بنتِ زَمعَہ رضی اللہُ عنہا کے باپ شریک بھائی ہیں۔ انہیں کے بارے میں حضرت عبد بن زَمعَہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہُ عنہما کے درمیان اختلاف ہوا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہُ عنہ کہتے تھے کہ یہ میرے بھتیجے ہیں اور حضرت عبد رضی اللہُ عنہ کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ میرے بھائی ہیں۔ مدینے کے تاجدار، دو عالَم کے مالِک ومختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فیصلہ کرتے ہوئے حضرتِ عبد رضی اللہُ عنہ سے فرمایا: اے عبد بن زَمعَہ! یہ تمہارا بھائی ہے۔

دو(02)مُبارَک خواب

ایک رات حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نے خواب دیکھا کہ شہنشاہِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیدل چلتے ہوئے اِن کی طرف متوجہ ہوئے حتی کہ اپنے پائے اقدس ان کی گردن پر رکھتے ہوئے گزر گئے۔ جب آپ نے اپنے شوہرحضرتِ سَکْرَان بن عمرو رضی اللہُ عنہ کو اس خواب کے بارے میں بتایا تو انہوں نے کہا: اگر تمہارا خواب سچا ہے تو عنقریب میں یقینی طور پر وفات پا جاؤں گا اور سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تجھ سے نِکاح فرمائیں گے۔

پھر ایک دوسری رات آپ رضی اللہُ عنہا نے خواب دیکھا کہ چاند ٹوٹ کر آپ پر گِر پڑا ہے اور آپ کروٹ کے بل لیٹی ہوئی ہیں۔ بیدار ہونے پر آپ رضی اللہُ عنہا نے اس خواب کا بھی اپنے شوہر سے تذکِرہ کیا۔ انہوں نے کہا: اگر تیرا خواب سچا ہے تو میں بہت جلد انتقال کر جاؤں گا اور تم میرے بعد شادی کرو گی۔جس دن حضرتِ سیدتنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نے اپنا دوسرا خواب بیان کیا تھا اسی دن حضرتِ سیِّدنا سَکران رضی اللہُ عنہ بیمار ہو گئے، کچھ دن بیمار رہے اور پھر بہت جلد اس دارِ ناپائیدار سے رخصت ہو کر دارِ آخرت کی طرف کوچ فرما گئے۔

حُضُورِاقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے نِکاح ثانی

جب حضرتِ سیدتنا خدیجہ رضی اللہُ عنہا کا اِنتقال ہوگیا تو حضرتِ خولہ بنتِ حکیم نے بارگاہِ رِسالت میں عَرض کی: یَا رَسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ سودہ بنتِ زمعہ سے نکاح فرما لیں۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ خولہ رضی اللہُ عنہا کے اِس مُخلصانہ مشورہ کو قبول فرما لیا چنانچہ حضرتِ خولہ رضی اللہُ عنہا نے پہلے حضرتِ سودہ رضی اللہُ عنہا سے بات کی تو اُنہوں نے رِضا مندی ظاہر کی، پھر آپ کے والد سے بات کی تو اُنہوں نے بھی خوشی سے اجازت دے دی، یوں اعلانِ نبوت کے دسویں سال میں یہ بابرکت نکاح منعقد ہوا۔(سیر اعلام النبلاء،ج3،ص513)

اس طرح آپ رضی اللہُ عنہا رسولِ خدا، صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زوجیت میں آکر اُمَّہَاتُ المؤمنین کی فہرست میں شامِل ہو گئیں۔ اعلانِ نبوت کے 10ویں سال، شوال المکرم کے مہینے میں حُضُور سیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ رضی اللہُ عنہا سے نِکاح فرمایا۔

اہلِ اِسلام کی مادَرانِ شفیق

بانُوانِ طہارت پہ لاکھوں سلام

مدینہ منورہ میں قیام

جب مسلمانوں کو مشرکین کی طرف سے ایذائیں دیے جانے کا سلسلہ بہت طویل ہو گیا اور ان کے ظلم وسِتَم سے مسلمانوں پر عرصہ حَیَات تنگ ہو گیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کا اپنے پیارے وطن مکۃ المکرمہ زادھَا اللہُ شرفاً وَّ تعظیماً میں زندگی بسر کرنا دُوْبَھر (دُشْوار) ہو گیا تو سید المرسلین، خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اِجازت مرحمت فرما دی اور کچھ روز بعد خود بھی ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اس کے گلی کوچوں کو اپنے جلوؤں سے جگمگانے لگے۔

مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد حُضُورِ اکرم، رسولِ محتشم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرتِ زَیْد بن حارثہ اور اپنے غُلام حضرتِ ابورَافِع رضی اللہُ عنہما کو 500 دِرْہَم اور دوا ونٹ دے کر مکۃ المکرمہ بھیجا اور یہ حضرتِ فاطمہ، حضرتِ اُمِّ کلثوم، حضرتِ سَودہ بنتِ زَمعَہ، حضرتِ اُسَامہ اور حضرتِ اُمِّ اَیْمَن رضی اللہُ عنہم کو لے کر مدینہ منورہ آ گئے۔ جب یہ حضرات مدینہ شریف پہنچے ان دِنوں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مسجدِ نَبَوِی عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اس کے گِرد حجروں کی تعمیر فرما رہے تھے۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِنہیں حجروں میں اپنے اہل وعیال کو ٹھہرایا۔

متفرق فضائل و مَناقب

حضرتِ عائشہ رضی اللہُ عنہا کی پسندیدہ شخصیت: اپنے اعلیٰ اوصاف اور حُسْن اخلاق کی بدولت آپ رضی اللہُ عنہا ، اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کی پسندیدہ شخصیت بن چکی تھیں ۔ (زرقانی علی المواھب ،ج4،ص380 ملخصاً)

ایثار وسخاوت

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سَودہ رضی اللہُ عنہا نہایَت کریم وسخی خاتون تھیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رضی اللہُ عنہا کو سخاوت کی نعمت سے بھی بہت نوازا تھا۔ ایک دفعہ کا ذِکْر ہے کہ امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہُ عنہ نے آپ رضی اللہُ عنہا کے پاس درہموں سے بھرا ہوا ایک بڑا سا تھیلا بھیجا۔ آپ رضی اللہُ عنہا نے پوچھا: یہ کیا ہے؟کہا: درہم۔ اس پر آپ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: کھجوروں کی طرح اتنے بڑے تھیلے میں.! ! پھر آپ رضی اللہُ عنہا نے یہ سب دِرْہَم راہِ خدا میں تقسیم فرما دیے۔

پردہ

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا سودہ رضی اللہُ عنہا فرض حج ادا کر چکی تھیں۔ جب آپ رضی اللہُ عنہا سے دوبارہ نفلی حج وعمرہ کے لیے عرض کی گئی تو فرمایا کہ: میں فرض حج کر چکی ہوں۔ میرے رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے گھر میں رہنے کا حکم فرمایا ہے۔ خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اب میرے بجائے میرا جنازہ ہی گھر سے نکلے گا۔ راوی فرماتے ہیں: خدا عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اس کے بعد زندگی کے آخری سانس تک آپ رضی اللہُ عنہا گھر سے باہر نہیں نکلیں۔

وِصال

ایک قول کے مطابق آپ رضی اللہُ عنہا کا وِصال ماہ ِشوال المکرّم 54ہجری کو حضرتِ امیر مُعاویہ رضی اللہُ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔(فیضانِ اُمَّہات المومنین،ص66) آپ رضی اللہُ عنہا کی قبر مُبارک جنت البقیع شریف میں ہے۔

مولانا نعمان شیخ عطاری مدنی (حیدر آباد)