امام ابو عبد اللہ محمد بن محمد علی کاشغری (متوفی 705ھ) کی کتاب ’’منیۃ المصلی‘‘ کو طہارت ونماز کے مسائل میں بہت اہمیت وشہرت حاصل
ہے، متاخرین فقہائے احناف جیساکہ ابن نجیم حنفی (متوفی970ھ)، محشی شلبی (متوفی 947ھ)، در مختار کے مصنف امام حصکفی (1088ھ) اور علامہ ابن عابدین شامی (متوفی 1252ھ) رحمہم اللہ تعالیٰ نے کئی مسائل میں اس کو ماخذ بنایا
ہے، اس کتاب کی بہت سی شروحات لکھی گئی جن میں امام ابراہیم محمد بن ابراہیم حلبی (متوفی 956ھ) رحمۃ اللہ علیہ کی شرح ’’غنیۃ المتملی‘‘ اور امام محمد بن محمد ابن امیر الحاج (متوفی879ھ ) رحمۃاللہ علیہ کی شروح بہت معروف ہیں اور انہی کی ایک اور شرح حلبی صغیر کے نام سے بھی ہے
اس کے علاوہ محمد بن ابراہیم سیاح رومی (متوفی 1080ھ)کی شرح ’’زخر
النجاۃ‘‘، مستقیم زادہ رومی(متوفی 1202ھ) کی شرح ’’وسیلۃ التعلی‘‘، قاضی محمد بن محمد قاضی زادہ(متوفی 1143ھ) کی شرح ’’حلیۃ المحلی‘‘ اسی طرح عمر بن سلیمان اور یحی صاروخانی کی شروحات
مزید امام اہلسنّت کی تعلیقات اور محدث وصی احمد سورتی (متوفی 1334ھ) رحمہم اللہ تعالیٰ کا حاشیہ ’’التعلیق المجلی‘‘ (جس پر مفتی حسان رضا عطاری مدنی سلمہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی وسرپرستی میں کام جاری ہے) ہیں، ’’غنیۃ المتملی‘‘ تو عرصۂ دراز سے چھپتی رہی ہے لیکن
’’حلبۃ المجلی‘‘ مخطوط کی شکل میں تھی، 2015ء میں دنیائے عرب کے مشہور مکتبہ دار
الکتب العلمیۃ نے اسے 2 جلدوں میں شائع کیا لیکن اس طبع شدہ کتاب میں کئی جگہ یجوز
لایجوز کی نوعیت کی اغلاط تھیں جس کا اظہار ہم نے کچھ مقامات کا جدول الخطا
بناکردار تراث العلمی کے نگران مولانا احمد رضا گھانچی صاحب کے ذریعے مکتبہ والوں
سے کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر اس کی اوریجنل فائلیں مل جائیں تو دعوتِ اسلامی
کے ادارے المدینۃ العلمیۃ کا شعبہ کتب اعلیٰ حضرت اس کتاب کو محقق ومحشی کرکے دے
گا، جواب میں مکتبہ والوں نے وہ فائلیں بھیجیں جس کے بعد ہم نے اس پر باقاعدہ کام
کا آغاز کیا اور الحمد للہ یہ کام 3 جلدوں (753+756+701=2210 صفحات) پر مکمل ہوا، اس پر جو کام کئے گئے اس کی کچھ تفصیل درج
ذیل ہے:
تصحیح متن وشرح:
صرف شرح کی تحقیق وتصحیح کا اہتمام
نہیں کیا بلکہ متن منیۃ المصلی کی تحقیق وتصحیح کیلئے ہم نے 3 مطبوعہ اور 2 مخطوط نسخوں
کو مد نظر رکھاجس کی تفصیل یہ ہے:
(1)مطبع ہوپ لاہور پاکستان، سن طباعت:1283ھ (2)دارالطباعۃ العامرۃ مصر ،سن طباعت: 1284ھ (3)دار القلم دمشق، سن طباعت: 1428ھ (4)مخطوط بخط محمد بن اسماعیل (5)مخطوط محمد علاء
الدین ۔
اور حلبۃ المجلی میں بھی 5 مخطوطوں کو مدنظر رکھا جو درج ذیل ہیں:
(1)نسخۂ فاضل احمد،
صحت عبارت کی وجہ سے اسے نسخۂ ام قرار دیا (2)نسخۂ ولی الدین جار اللہ (3) نسخہ ملکیت علی
بن حسام (4)نسخہ جو مکتبہ سلیمانیہ استنبول ترکی میں ہے (5)نسخۂ وقف خلیل احمد پاشا۔ ان کے علاوہ محقق اہلسنّت مفتی
علی اصغر صاحب دام ظلہ العالی نے بھی ایک مخطوط فراہم کیا تھا جسے بھی پیش نظر رکھا گیا۔
تحشی وتعلیقات امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ:
اس کتاب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ
اس میں امام اہلسنّت امام احمد رضا خان حنفی ماتریدی (متوفی: 1340ھ) رحمۃ اللہ
علیہ کے اس کتاب پرتعلیقات کو
شامل کیا گیا ہے جو کہ مخطوط کی صورت میں تھیں اوراس سے پہلے شائع نہیں ہوئی تھیں
اس کے ساتھ ساتھ امام کی دیگر تصانیف جد
الممتار، فتاوی رضویہ وغیرہ سے بھی حواشی لگائے گئے ہیں۔
فتاوی المحشی :
اس کام کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ کتاب کے آخر میں امام اہلسنّت رحمۃ
اللہ علیہ کے فتاوی رضویہ
میں طہارت اور نماز کے مسائل سے متعلق جو عربی فتاوی ہیں ان کا اضافہ کیا گیا ہے۔
تقابل:
ایک سے زیادہ مرتبہ متن وشرح کا تقابل کیا گیا ہے ۔
پروف ریڈنگ:
لفظی ومعنوی اغلاط سے کتاب کو محفوظ رکھنے کیلئے کئی مرتبہ اس کی پروف ریڈنگ
کی گئی ہے۔
جدید رسم الخط وعلامات ترقیم:
جدید عربی انداز سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جدید رسم الخط کا اہتمام کیا گیا ہے
نیز فہم میں آسانی کیلئے علاماتِ ترقیم (کالن، سیمی کالن، کاما، فل اسٹاپ، انورٹڈ کاماز وغیرہ) کا بھی اہتمام رکھا گیا ہے۔
تخریج:
فقہ حنفی کی مجلدات پر مشتمل کتابوں پر تخریج کا اہتمام رائج نہیں ہے نیز یہ
کام کرنے کی صورت میں کام کے دورانیے اور جلدوں کی تعداد میں بھی بہت اضافہ
ہوجاتااس لئے صرف امام اہلسنّت رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیقات وحواشی کی تخاریج کی گئی ہیں۔
آیات واحادیث:
قرآنی آیت کو عرب میں رائج مصحف عثمانی میں رکھا گیاہے اور ساتھ اس کا حوالہ
بھی دیا گیا ہے اور احادیثِ قولیہ یعنی اللہ پاک کے آخری نبی صلی
اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو
ڈبل بریکٹ میں ذکر کیا گیا ہے ، آیات واحادیثِ قولیہ دونوں کو الگ رنگ دیا گیا
ہے۔
متن منیۃ المصلی:
ہر جلد کے شروع میں جتنا اس جلد میں منیۃ المصلی کا کلام تھا صرف اتنا متن بھی
علیحدہ سے ذکر کردیا گیا تاکہ اگر کوئی صرف متن کا مطالعہ کرنا چاہے تو اس کو
آسانی ہو۔
تقدیم وفہارس:
شروع میں مقدمہ لکھا گیا جس میں کام کا انداز، نسخوں کے عکس، منیۃ المصلی کے
مصنف کے حالات اور اس کتاب کا انداز واسلوب، حلبۃ المجلی کے مصنف ابن امیر الحاج
کا تعارف اور ان کی شرح کی تفصیل اور امام اہلسنّت کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔
اسی طرح ہر جلد کے آخر میں فہرست موضوعات بنائی گئی ہے اور آخری جلد میں
مصادر التحقیق کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے۔
معاون افراد:
اس کتاب میں وقتاً فوقتاً جن اسلامی بھائیوں کا تقابل پروف ریڈنگ وغیرہ کاموں
میں تعاون رہا ان کے نام یہ ہیں:
مولانا شعیب رئیس عطاری مدنی ، مولانا حسین کھتری عطاری مدنی، مولانا ندیم
حنفی عطاری مدنی، مولانا عدیل ذاکر اشرفی، مولانا شہروز عطاری مدنی ، ابو الحقائق
مولانا راشد عطاری مدنی اور مولانا اسد عطاری مدنی۔
اللہ کریم اس کوشش کو قبول فرمائے اور اس کام میں جوکوتاہیاں ہوئیں انہیں معاف
فرمائے اور ہمیں دونوں جہاں میں برکتیں
اور اخلاص کی دولت عطا فرمائے اور دینِ متین کی مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
یہ سب بانیٔ دعوتِ اسلامی شیخ طریقت امیر اہلسنّت ابو بلال مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی
ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی برکتیں اور
ان کا فیضان ہےکہ انہوں نے ہمیں دعوتِ اسلامی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی اور اس کے
شعبہ المدینۃ العلمیۃ کے کتب اعلیٰ حضرت میں خدمت کا موقع فراہم کیا، اللہ کریم
میرے شیخ طریقت کو صحت وعافیت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے اور دعوتِ اسلامی کو
مزید ترقیاں اور عروج عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
کاشف سلیم عطاری
مدنی
23/01/2026
Dawateislami