سبق:1
امام مالک رحمۃُ اللہِ
علیہ سے روایت ہے: مَاتَ بِالْمَدِينَةِ مِنَ الصَّحَابَةِ نَحْوُ عَشَرَةِ
آلَافِ نَفْسٍ۔
یعنی تقریباً 10 ہزار صحابہ کرام جنت البقیع میں آرام فرما ہیں۔ (ترتیب
المدارک و تقریب المسالک 1/46، فتح المغیث 4/111)
مبارک قبریں
1: بی
بی فاطمہ زہرا، حضر ت عباس، امام حسن مجتبیٰ ، امام زین العابدین،
امام محمد باقر، امام جعفر صادق۔
2:بی بی
زینب ، بی بی رقیہ، بی بی ام کلثوم(بناتِ رسول)۔
3:امہات
المومنین کی:حضرت
عائشہ، حضرت زینب بنتِ جحش، حضرت زینب بنتِ خزیمہ، حضرت
جُویریہ، حضرتِ اُمِّ حبیبہ ، حضرت صفیہ، حضرت ام سلمہ ، حضرت مار یہ، حضرت
حفصہ ۔
4:حضرت
عقیل ، حضر ت جعفر طیار۔5: امام نافع ، امام
مالک 6:حضرت
عبدالرحمن ابن فاروق اعظم۔7: حضرت ابراہیم ابن ِرسولُ اللہ ، حضرت عبدللہ بن
مسعود، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت ابوہریرہ، بی بی فاطمہ بنت
اسد(والدہ
ٔمولا علی) ، حضرت
محمد بن حنفیہ۔8:شہدائے واقعہ حرہ، ايك يا دو
شہدائے احد۔ 9:حضرت عثمان غنی۔10:بی بی حلیمہ سعدیہ اور ان کی بیٹی بی بی شیما۔11: حضرت سعد ابن معاذ، حضرت ابو سعید خدری۔ 12:بی بی صفیہ، بی بی عاتکہ(رسول اللہ کی
پھوپھیاں ) اور
بی بی ام البنین(زوجہ
ٔمولا علی)۔
رضی
اللہ عنہم اجمعین
13:وضو
خانہ۔ (جستجوئے
مدینہ ص609)
سبق:2
منعِ زیارت کے لیے عدمِ مزارکایقین چاہئے
اورجوازِزیارت کے لیے ایک روایت واحتمال کافی ہے ۔ انہیں جہاں سے پکاروگے فیض
پہنچائیں گے۔ حضرتِ فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا کے
مزارِاطہر میں بھی دوروایتیں ہیں :
(1):بقیع شریف میں اور(2):خاص جوارِروضۂ اَقدس( یعنی گنبد
خضرا کے ساتھ متصل ان کے اپنے مکان) میں۔ ایک صاحبِ دل نے مدینے شریف کے ایک
عالم سے کہا:میں دونوں جگہ حاضرہوکر سلام عرض کرتاہوں، اَنوار پاتا ہوں۔ فرمایا:
یہ کریم ذاتیں جگہ کی پابندنہیں تمہاری توجّہ چاہئے پھر نورِباری ان کاکام ہے۔
(فتاویٰ رضویہ ج26ص432سے مختصراً)
سبق:3
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ’’بہار شریعت جلد اوّل صفحہ 1228پر
لکھتے ہیں :
بقیع قبرستان میں قریب
دس ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مدفون ہیں
اور تابعین و تبع تا بعین و اولیا و علما و صلحا وغیرہم کی گنتی نہیں۔ یہاں جب
حاضر ہو پہلے تما م مدفونین مسلمین کی زیارت کا قصد کرے اور یہ پڑھے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ
قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ اَنْـتُمْ لَنَا سَلَفٌ وَّ اِنَّا اِنْشَاءَ اللہُ تَعَالٰی
بِکُمْ لَاحِقُوْنَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِاَھْلِ الْبَقِیْعِ بَقِیْعِ
الْغَرْقَدِ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَـنَا وَلَھُمْ .
تمام اہلِ بقیع میں افضل امیر
المومنین سید نا عثمان غنی رضی اﷲ عنہ ہیں، اُن کے مزار پر
حاضر ہوکر سلام عرض کرے۔
قبہ 2:حضرت
سیدنا ابراہیم ابن رسول اﷲ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور اسی قبہ شریف میں ان حضراتِ کرام کے بھی مزارات طیبہ
ہیں، حضرت رقیہ (حضورِ
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صاحبزادی)
حضرت عثمان بن مظعون (یہ حضور اقدس صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رضاعی بھائی ہیں) عبدالرحمن بن عوف و سعد
بن ابی وقاص (یہ
دونوں حضرات عشرہ مبشرہ سے ہیں) عبداﷲ بن مسعود (نہایت
جلیل القدر صحابی خُلفائے اربعہ کے بعد سب سے اَفقہ) خنیس بن حُذافہ سہمی
واسعد بن زرارہ رضی
اﷲ عنہم اجمعین۔
ان حضرات کی خدمت میں سلام عرض کرے۔
قبہ 3:حضرت
سیدنا عباس رضی
اﷲ عنہ،
اسی قبہ میں حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ و سر مبارک سیدنا امام حسین و امام زین
العابدین و امام محمد باقر و امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہم
کے مزاراتِ طیبات ہیں، ان پر سلام عرض کرے۔
قبہ 4:اَ
زواج مطہرات حضرت اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا
کا مزار مکہ معظمہ میں اور میمونہ رضی اﷲ عنہا کا سرف میں ہے۔ بقیہ
تمام ازواج مکرّمات اسی قبہ میں ہیں۔
قبہ 5:حضرت
عقیل بن ابی طالب اس میں سفیان بن حارث بن عبدالمطلب و عبداﷲ بن جعفر طیار بھی ہیں
اور
6:
اس کے قریب ایک قبہ ہے جس میں حضور اقدس صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تین اولادیں ہیں۔
قبہ 7:صفیہ
رضی
اﷲ عنہا
حضور انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پھوپھی۔
قبہ 8:
امام مالک رضی
اﷲ عنہ۔
قبہ 9:نافع مولیٰ ابن عمر رضی
اﷲ عنہما۔
ان حضرات کی زیارت سے فارغ ہو کر مالک
بن سِنان و ابو سعید خدری رضی
اﷲ عنہما
و اسماعیل بن جعفر صادق و محمد بن عبداﷲ بن حسن بن علی رضی اﷲ عنہم
و سیّد الشہدا امیر حمزہ رضی اﷲ عنہ کی زیارت سے مشرف ہو۔(بہار
شریعت)
(تفصیلی معلومات کے لیے دیکھئے: ’ارشاد الساری الیٰ مناسک ا لملا علی
قاری‘ ، مبطوعہ: المکتبۃ الامدایۃ ، مکۃ المکرمۃ صفحہ730تا733)
سبق:4
1… بی
بی عائشہ صدیقہ رضی
اللہ عنہا
فرماتی ہیں : نبی
پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رات کے آخری حصے میں بقیع تشریف لے جاتے اور یہ
دعا کرتے :
اللهم اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ۔ اے اللہ ! تواہل بقیع
کی مغفرت فرما۔ (صحیح
مسلم، حدیث: 974مختصراً)
2… اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان
عالی شان ہے :
قیامت کے دن بقيع
الغرقد سے 70 ہزار اَفراد ایسے اُٹھیں گے جن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح
روشن ہوں گے اور وہ سب بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ (مسند ابو داؤد
طیالسی، ج 3 ص 206حدیث:1740)
3… رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
تم
میں سےجس سےہوسکےکہوہ مدینے میں فوت ہو، بے شک میں اُس شخصکی شَفاعت کروں گاجو مدینے میں فوت ہوگا۔
(سنن
ترمذی، حدیث:3943)
4…حضرت ابن
عمر رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:
(جب لوگ اٹھائیں جائیں گے)سب سے پہلے میری قبر کھلے گی، پھر ابو بکر پھر عمر(رضی اللہ عنہما)
کی قبریں کھلیں گی پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گاتو وہ بھی اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ میرے ساتھ ہوں گے۔ (مستدرک ،حدیث:4486)
وضاحت: جب
قیامت میں دوسرے نفخہ پر قبریں کھلیں گی، مردے نکلیں گے زندہ ہوکر تو اس کی ترتیب
یہ ہوگی کہ سب سے پہلے حضور انور (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی قبر کھلے گی اور
نبیوں کی بعد میں،پھر سب سے
پہلے حضرت صدیق و فاروق(رضی اللہ عنہما) کی قبریں کھلیں گی دوسرے لوگوں کی بعد میں۔ (مرآت شرح
مشکات ج8ص28)
5… حضرت ا بو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :بقیع کابطور قبر ستان انتخاب رسول
اللہ صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
خود کیااور ارشاد فرمایا :
’’ مجھے اس جگہ (یعنی بقیع کے انتخاب )کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ اس قبرستان میں (مہاجرین) میں سب سے پہلے حضرت عثمان بن مظعون کی تدفین ہوئی، رسول اللہ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے (بطورِ
نشانی ) ان کے سرہانے کی جانب ایک اینٹ رکھ دی۔ (مستدرک،حدیث:4919)
سبق:5
بقیع
مسجدِ نبوی شریف کے جنوب مشرقی جانب واقع ہے ۔’بقیع ‘عربی زبان میں درختوں والے
کھلے میدان کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے خو درَو گھاس ، پودے ہوں۔ چونکہ اس
میدان میں غرقد کے درخت تھے اسی لیے اس جگہ کو ’ بقیع الغرقد ‘کہا جاتا ہے اور
جب یہ مقام بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مرقد ومدفن بنا تو اِن حضرات کو جنّتی ہونے کی بشارت ملی ہے
اِس مناسبت سے یہ قبرستان عرب وعجم میں ’ جنت البقیع ‘ کے نام سے مشہور ہے ۔
حاضری کا طریقہ: جنت
البقیع کے مَدْفُونِین کی خدمت میں باہر ہی کھڑے ہوکر سلام عرض کریں اور باہر ہی
سے دعا کریں کہ اب جنت البقیع میں موجود تقریباً تمام مزارات کو شہیدکردیا گیا ہے،
اگر آپ اندرگئے تو کیا معلوم آپ کا پاؤں کس صحابی یا ولی کے مزار پر پڑرہا
ہے۔شرعی مسئلہ: عام
مسلمانوں کی قبروں پر بھی پاؤں رکھنا حرام ہے۔ فتاویٰ شامی میں ہے : (قبرِستان
میں قبریں مِٹا کر) جونیاراستہ نکالا گیاہو اُس
پرچلنا حرام ہے۔ (فتاویٰ
شامی1/612)بلکہ نئے راستے کا صِرف گمان ہو تب بھی اُس پر چلنا ناجائز وگناہ ہے۔ (دُرِّمُختار3/183 ) (رفیق
الحرمین ص235تا236سے خلاصہ)
میں ہوں سُنّی رہوں سُنّی مروں سُنّی مدینے میں // بقیعِ
پاک میں بن جا ئے تُربت یارسولَ اللہ
یا
اللہ! ہمیں ایمان کے ساتھ مدینے میں وفات،
جنت البقیع میں تدفین اور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شفاعت نصیب فرما۔ آمین۔
Dawateislami