انسان خطاکار
ہے۔ انسان کی زندگی لغزشوں، کوتاہیوں اور غفلتوں سے خالی نہیں مگر اسی کے ساتھ
اللہ پاک نے انسان کو رجوع، ندامت اور
اصلاح کا دروازہ بھی عطا فرمایا ہے، جسے توبہ کہا جاتا ہے۔ توبہ محض چند الفاظ کی
ادائیگی یا وقتی جذبات کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی سچی
ندامت، گناہوں کو فوراً ترک کرنے اور
آئندہ نہ کرنے کے پختہ عزم کا نام ہے۔ یہی کیفیت جب اخلاص، خوفِ خدا اور محبتِ
الٰہی کے ساتھ جمع ہو جائے تو اسے حقیقی توبہ کہا جاتا ہے۔
مسلمانوں کے
چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے ایک اعرابی کو کہتے ہوئے سنا: اَللّٰهُمَّ اِنِّی اَسْتَغْفِرُكَ
وَاَتُوْبُ اِلِيْك یعنی :اے اللہ !میں
تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور میں تیری
بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔آپ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا:اے
شخص! زبان سے جلدی جلدی توبہ کہنا جھوٹوں کی توبہ ہوتی ہے۔اس نے عرض کی:پھر توبہ
کیا ہے؟آپ رَضِیَ
اللہُ عنہ نے فرمایا:بے
شک توبہ 6 چیزوں کا مجموعہ ہے:
(1):
گزشتہ گناہوں پر سچی ندامت اور پشیمانی۔
(2): فرض
عبادات کی ادائیگی یعنی اگر رہ گئی ہوں تو ان کی قضا خواہ نماز ہو، روزہ ہو، زکوٰۃ ہو یا دیگر
فرائض۔
(3): حقوق
العباد کی ادائیگی اور جن لوگوں کا حق مارا ہو ان سے معافی طلب کرنا۔
(4): پختہ
ارادہ کرنا کہ آئندہ کبھی بھی گناہ کی طرف
واپس نہ لوٹے گا۔
(5): اپنے
نفس کو اللہ کی اطاعت میں اس طرح گھلا دینا جیسے اسے گناہوں میں پروان چڑھایا تھا۔
(6):نفس
کو اطاعت کی مشقت اور کڑواہٹ چکھانا جیسے اسے گناہوں کی لذت چکھائی تھی۔
(تفسیر روح البیان ،پارہ28،سورۂ تحریم،زیرِ آیت:8،جلد:10،صفحہ:61 دارالفکر
بیروت)
اس روایت سے
معلوم ہوا کہ توبہ صرف الفاظ کا نام نہیں اور صرف اَسْتَغْفِرُكَ
وَاَتُوْبُ اِلِيْك کہہ دینا کافی
نہیں بلکہ دل کی کیفیت، ندامت اور عملی اصلاح ضروری ہے اور اسی بارے میں اللہ پاک
فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ
تَوْبَةً نَّصُوْحًا ؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو!اللہ کی طرف
ایسی توبہ کرو جس کے بعد گناہ کی طرف لوٹنا نہ ہو ۔(پارہ:28، التحریم:8)
یعنی اے ایمان
والو!اللہ پاک کی بارگاہ میں ایسی سچی
توبہ کرو جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اَعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہوجائے اور
وہ گناہوں سے بچتا رہے۔
حقیقی توبہ
کرنے والے عابد کا واقعہ ملاحظہ کیجئے؛حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ
اللہِ علیہ
فرماتے ہیں :میں نے ایک عابد کو دیکھا کہ اس کا ایک پاؤں عبادت خانہ سے باہَر پڑا
ہے اور اس سے پیپ بہہ رہی ہے ۔میں نے اس سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے جواب
دیا کہ ایک مرتبہ ایک عورت میری زیارت کرنے کے لیے آئی اور میری عبادت گاہ کے قریب
سو گئی ،میں نے اس عورت کے ساتھ بدکاری کرنے
کا ارادہ کیا۔ اس ارادے سے میں نے یہ پاؤں
باہَر نکالا تو مجھ پر خوفِ خدا طاری ہو گیا ۔میں نے قسم کھائی کہ اب اس فاجر پاؤں
کو اپنے ساتھ نہ ملاؤں گا۔
(تفسیر
روح البیان،پارہ:21،سورۂ روم،زیرِ آیت:41،جلد:7،صفحہ:47 دار الفکر بیروت)
معزز قارئین
کرام !یہ حکایت اپنے اندر زہد و تقویٰ اور
خوفِ خدا کے گہرے موتی سموئے ہوئے ہے۔ اس
سے ہمیں چند باتیں سیکھنے کو ملیں:
۞خوفِ خدا
گناہ سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیونکہ جب بندے کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہو
جائے تو وہ گناہ کے قریب جا کر بھی رک جاتا ہے۔
۞نفس کا
محاسبہ (Self-Accountability)؛کیونکہ
عابد نے اپنے نفس کو سزا دی اور عہد کیا کہ اس پاؤں کو اپنے ساتھ نہ ملائے گا۔ یہ
نفس کے احتساب کی اعلیٰ مثال ہے۔
۞بزرگ کے
تقویٰ کا اعلیٰ درجہ ؛کیونکہ بزرگانِ دین
کی حساسیت عام انسانوں سے کہیں زیادہ ہوتی
ہے؛ وہ چھوٹی سی لغزش کو بھی بڑی کوتاہی سمجھتے ہیں۔عام لوگ گناہ کرنے کے بعد بھی بے پرواہ رہتے ہیں ۔
۞برے ارادے
سے فوراً رجوع کر لینا نجات کا سبب ہے؛ عابد نے فوراً گناہ کا ارادہ چھوڑ دیا۔ یہ سچی توبہ اور رجوع الی اللہ کی علامت ہے۔
لہٰذا ہمیں
گناہوں کے ایسے اسباب، حالات اور مواقع سے
بچنا ضروری ہے جو انسان کو لغزش کی طرف لے جائیں۔حقیقی توبہ دراصل روح کی پاکیزگی،
دل کی بیداری اور کردار کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کو مایوسی سے نکال کر امید
کی روشنی عطا کرتی ہے اور گناہوں کی تاریکی سے نکال کر قربِ الٰہی کے انوارکی
منازل تک پہنچاتی ہے۔
اللہ پاک ہمیں حقیقی توبہ کی توفیق عطا فرمائیں ۔اٰمین بجاہِ النبیین الامین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم
تحریر:
ابو مبین محمد امین مدنی
Dawateislami