مال کی دعا کا مقصد

Tue, 2 Jun , 2026
2 hours ago

حضرت سعد بن عبادہ کی دعا

حضرت سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ عنہ یہ دعا مانگا کرتے تھے : اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي مَالًا وَفَعَالًا فَاِنَّهُ لا يَصْلُحُ الْفَعَالُ اِلَّا الْمَال ترجمہ:اے اللہ! مجھے مال اور اچھے کام کرنے کی توفیق عطا فرما کیونکہ اچھے کام مال کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔

(روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،صفحہ: 263 دار الكتب العلمیہ )

ایک مسلمان کو مال کی دعا اور مال کی خواہش کا مقصد صرف دنیاوی آرام و سکون اور آسائشوں کے لیے نہیں بلکہ نیکی کے کاموں خرچ کرنے ، خدمتِ خلق اور اعمالِ صالحہ کرنے کے لیے کرنی چاہئے۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مال کی دعا کرتے وقت یہ نیت کریں کہ اللہ پاک ہمیں ایسا پاکیزہ مال اور رزق عطا فرمائے جو دین کی خدمت، محتاجوں کی مدد اور دیگر بھلائی کے کاموں میں معاون ثابت ہو۔

پیارے اسلامی بھائیو!ہم اللہ پاک سے مختلف اچھے کاموں کی توفیق مانگ سکتے ہیں ؛مثلاً: ۞ گھر والوں ۞والدین ۞رشتہ داروں اور ۞پڑسیوں سے حسنِ سلوک کرنا ،نیز۞ صدقہ و خیرات کرنا ۞نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا اور ۞دیگر دین کے کاموں میں اپنا خرچ کرنا وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ عنہ نے پہلے مال کی دعا کی پھر مختلف اچھے اور دینِ اسلام کے کاموں خرچ کرنے کی توفیق مانگی کیونکہ مال سے ہونے والے اچھے کام ا ب فی زمانہ مال کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ہمیں بھی اللہ پاک سے حلال مال کی دعا کرنی چاہیے اور پھر اس مال کو اچھے کاموں میں خرچ کرنے کی بھی توفیق مانگنی چاہیے۔اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ۔

نیکی اور احسان کی ابتدا کس سے کریں؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سب سے پہلے ہم اچھے کاموں کی ابتدا کس سے اور کن سے کریں؟تو اس حوالے سے حضرت ابو حاتم رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:عقلمند پر لازم ہے کہ نیکی اور احسان کی ابتدا سب سےپہلے فرض اور ضروری کاموں سے کرے ،اس کے بعد سب سے پہلے اپنے بھائیوں اور پڑسیوں پر پھر جو درجہ بدرجہ قریب ہوں ۔نیکی اور احسان کرنے میں علمائے کرام اور دینداروں کا خاص خیال رکھے ۔

(روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء ،صفحہ: 255 دار الكتب العلمیہ )

اس سے معلوم ہوا کہ نیکی اور مدد کا آغاز اپنے گھر والوں سے کرنا چاہیے، پھر رشتہ داروں، پڑوسیوں اور قریبی لوگوں کی طرف بڑھنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور دیندار افراد کے ساتھ خاص طور پر احسان اور حسنِ سلوک کرنا چاہیے۔

از قلم:ابو مبین محمد امین عطاری مدنی