اخلاص کے لغوی معنی پاک صاف ہونا، خالص ہونا، اور کھوٹ سے پاک ہونا ہے، اور اصطلاح میں کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ اخلاص کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بغیر اخلاص کے یعنی دکھاوے کے لیے عمل کرنا یہ قابل قبول نہیں ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اخلاص سے عمل پختہ ہوتا ہے اور اللہ پاک کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔ احادیث کریمہ میں بھی اخلاص کی بہت اہمیت بیان ہوئی ہے
۔
سیِّدُ المبلِّغین، رَحمۃ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے
بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل
کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا
دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘(المعجم الکبیر،الحدیث:
۵۹۴۲ ،ج۶،ص۱۸۵)
شفیعُ
المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی
نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:
۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
اِخلاص پیدا کرنے کے چند مدنی پھول:
(1)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی
دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری
ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے
اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی
پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے
اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے
رہیے:کیونکہ اَعمال
وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص
کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی
موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے
کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے
ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل
میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب
ہوگی۔
اللہ پاک سےد عا ہے کہ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو ایک اور نیک بنائے اور اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
لیاقت
علی عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ، کراچی،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی
حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمۂ کنزالایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں
اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (البینہ:5)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کاحکم:کسی عمل میں فقط اِخلاص
ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں
ہیں: (۱) جس عمل
سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہونا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی
ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (۲) جو
عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا
سبب ہے۔ (۳) جوعمل
خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی
آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری
غرض دونوں قوت میں برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی
اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ
نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی
کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے
عذاب سے ہلکا ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو
اور اگر رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ
ہوگااور جتنی ریا ہوگی اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۶،۲۷)
اِخلاص پیدا کرنے کے (7)طریقے:
(1)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی
دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو
دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی
دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں
کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ
تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی
بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ
ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(3)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ
اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات
سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے
جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب
بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(4)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس
لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح
اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے
الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت
و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں
اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے
ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔
(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:عموماً
لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور
خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں،
لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں
گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے
تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی
راہ ہموار ہوگی۔
عبد
الرحمن امجد عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم ، لاہور،پاکستان )
اخلاص دینِ اسلام کی روح اور تمام اعمال کی بنیاد ہے۔
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو
مقصود بنائے، نہ لوگوں کی تعریف مطلوب ہو اور نہ ہی دنیاوی فائدہ پیشِ نظر ہو۔
بظاہر نیک عمل بھی اگر اخلاص سے خالی ہو تو اللہ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں رہتی۔مگر
اخلاص سے کیے جانے والا تھوڑا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے ۔جیسا کہ حضرت سیدنا مطرف بن
عبداللہ بن شخیر علیہ الرحمہ اخلاص کے بارے میں فرماتے ہیں: جس کے عمل میں اخلاص
ہو اس کے لیے ویسا ہی اجر ہوگا اور جس کے عمل میں اختلاط یعنی ملاوٹ ہو تو اس کے لیے
اجر بھی ویسا ہی ہوگا ۔(احیاء العلوم مترجم،
ج:5،صفحہ: 260)
پیارے اسلامی بھائیو! اخلاص اللہ پاک کی وہ نعمت ہے جو
کہ خاص اس کے فضل اور کرم سے ہی حاصل ہوتی ہے تو آئیے اس کی اہمیت کو حدیث مبارکہ
کی روشنی میں سنتے ہیں۔
(1) حکمت کی باتیں: ما من عبد يخلص لله العمل اربعين يوما الا ظهرت ينابيع
الحكمة من قلبه على لسانهترجمہ: جو بندہ 40 دن خالص
رضائے الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری
ہوتے ہیں۔ ( الزھد لابن المبارک ،باب فضل ذکر اللہ ، ص: 359، حدیث: 1014)
(2) راز الٰہی: حضرت سیدنا حسن بصری علیہ
الرحمہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے :الاخلاص سر من السر استودعته قلب من احببته من عبادي ترجمہ:
اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت
رکھتا ہوں ۔(فردوس الاخبار، ج:2 ، ص:145، حدیث نمبر: 4539)
(3) قبولیت کا راز :امیر
المومنین حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہ الکریم فرماتے ہیں قلت عمل کی فکر
نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا: اخلص العمل یجزیک منہ القلیل ترجمہ: خلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔(نوادر الاصول ،اصل السادس ،
ج1،ص:44، حدیث نمبر:45،بتغیر قلیل)
(4) اللہ کی مدد کا ذریعہ: حضرت سیدنا
مصعب بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مالدار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے
تو مصطفی جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انما نصر الله تعالى هذه الامة بضعافائها ودعوتهم
واخلاصهم وصلاتهمترجمہ: اللہ تعالی نے اس امت کی ان کے ناتوانوں ان کی
دعا اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ۔(نسائی، کتاب الجہاد، باب الاستنصار
بالضعیف، ص:518 ، حدیث نمبر:3175)
(5) دل خیانت نہیں کرتا: ثلاثه لا يغل عليهن قلب رجل اخلاص العمل لله والنصيحه للولاة ولزوم
الجماعة ترجمہ: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت
نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لیے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی (3)(مسلمانوں
کی) جماعت کو لازم پکڑنا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب من بلغ علما ،ج:1 ، ص:
151، حدیث نمبر: 230)
دعا ہے اللہ عزوجل ہمیں اخلاص جیسی عظیم نعمت سے مالامال
فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ۔
دنیا میں انسان کی پہچان اس کے اوصاف، کردار اور نیت سے
ہوتی ہے۔ اگر وہ کوئی کام اخلاص سے کرے گا تو لوگوں میں اس کا کردار اچھا رہے گا۔
اخلاص ایک ایسی صفت ہے جو ریاکاری اور خود غرضی جیسی چیزوں سے پاک ہے۔ اگر عمل میں
اخلاص ہوگا تو اللہ کے نزدیک وہ عمل زیادہ پسندیدہ ہوگا۔
اخلاص کی تعریف:’’کسی
بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۵)
اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی ہے:حضور
نبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۶)
اخلاص کے پانچ حروف کی نسبت سے پانچ اہم نکات:
اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:
عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے ہیں اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں، جس سے وہ ریاکاری
میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ ریاکاری اخلاص کی سخت دشمن ہے۔
خلوت اور جلوت میں یکساں عمل کیجئے: انسان
لوگوں کے سامنے تو مشقت والا عمل بھی کر لیتا ہے کیوں کہ اسے شہرت چاہیے ہوتی ہے،
لیکن تنہائی میں اخلاص کے ساتھ دو رکعت پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
نفس پر قابو: اگر نفس پر قابو ہوگا تو عمل میں
اخلاص پیدا ہوگا، کیونکہ نفس اپنی تعریف سن کر بے حد سکون پاتا ہے جس سے انسان کے
عمل میں ریاکاری آجاتی ہے۔
نیکیوں کو چھپائیں: اپنی
نیکیوں کو چھپائیں ورنہ نفس ریاکاری، حبِ مدح (تعریف کی محبت) اور طلبِ شہرت میں
مبتلا ہو جائے گا جس سے عمل میں اخلاص نہیں رہے گا۔
اخلاص کے فضائل: اخلاص کے فضائل کو ہمیشہ
پیشِ نظر رکھیں، (مثلاً) جو دعا اخلاص سے مانگی جائے وہ جلد قبول ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں "اخلاص" وہ جوہرِ نایاب ہے
جو انسانی اعمال کو اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے
اخلاص کے معنی کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک اور صاف کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس
کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول اور فعل سے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
اور خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ کرے۔ اخلاص محض ایک صفت نہیں بلکہ دین کی جڑ ہے۔
جس عمل میں اخلاص نہ ہو، وہ اس بے جان جسم کی مانند ہے جس میں روح موجود نہ ہو۔
اخلاص
کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
قرآن
کریم نے جا بجا اخلاص کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"اور ان
کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے
لیے خالص کر کے۔" (سورۃ البینہ: 5)
اسی
طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی شرطِ اول قرار دیا گیا
ہے۔
(1) نیت کا عمل دخل:اسلامی فقہ اور اخلاقیات کی سب سے بنیادی
حدیث، جس سے امام بخاری نے اپنی کتاب کا آغاز کیا، وہ اخلاص ہی سے متعلق ہے۔ حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ
امْرِئٍ مَا نَوَى"( اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے
وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
یہ
حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں عمل کی ظاہری شکل سے زیادہ اس کے پیچھے چھپی نیت
اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے۔
(2)اللہ کی نظر
قلبِ انسانی پر:انسان دنیا کو دکھانے کے لیے ظاہری ٹپ ٹاپ تو کر سکتا ہے، لیکن
اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ
وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ:بے
شک اللہ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم: 2564)
اخلاص
اور قبولیتِ عمل:بغیر اخلاص کے کیا گیا عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے ہاں
اس کی کوئی وقعت نہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ایک سخی، ایک عالم
اور ایک شہید کو لایا جائے گا اور ان سے سوال ہوگا کہ انہوں نے اللہ کی دی ہوئی
نعمتوں کا کیا مصرف کیا؟ جب وہ اپنے اعمال گنوائیں گے تو اللہ فرمائے گا کہ تم نے یہ
سب "دکھاوے" (ریاکاری) کے لیے کیا تھا تاکہ لوگ تمہیں سخی، عالم یا
بہادر کہیں۔ چونکہ ان کی نیت میں اخلاص نہیں تھا، اس لیے انہیں جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔ (صحیح مسلم: 1905)
یہ
حدیث ایک طالبِ علم، ایک استاد اور ایک سماجی کارکن کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے
کہ اگر ان کے عمل کا مقصد واہ واہ سمیٹنا ہے، تو وہ عمل رائیگاں ہے۔
اخلاص
کے انفرادی و اجتماعی ثمرات:جب ایک انسان کے اندر اخلاص پیدا ہو جاتا ہے، تو اس کی
زندگی میں درج ذیل تبدیلیاں آتی ہیں:
استقامت:
مخلص انسان حالات کی تبدیلی سے نہیں گھبراتا۔ اگر اسے تعریف ملے تو وہ مغرور نہیں
ہوتا اور اگر لوگ تنقید کریں تو وہ دلبرداشتہ ہو کر کام نہیں چھوڑتا، کیونکہ اس کا
ہدف اللہ کی رضا ہے۔
پریشانیوں
سے نجات: اخلاص وہ ہتھیار ہے جو بڑی سے بڑی مشکل کو ٹال دیتا ہے۔ غار میں پھنس
جانے والے تین افراد کا قصہ (جس کا ذکر صحیح بخاری میں ہے) اس کی بہترین مثال ہے،
جنہوں نے اپنے خالص ترین اعمال کا واسطہ دے کر اللہ سے مدد مانگی اور چٹان ہٹ گئی۔
شیطانی
حملوں سے حفاظت: شیطان نے اللہ سے کہا تھا کہ وہ سب کو گمراہ کرے گا سوائے
"مخلص بندوں" کے۔ اخلاص انسان کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر دیتا ہے۔
عملی
زندگی میں اخلاص کیسے پیدا کریں؟
اخلاص
پیدا کرنے کے لیے چند امور ناگزیر ہیں:
خفیہ
عبادت کا اہتمام: اپنے کچھ نیک اعمال ایسے رکھیں جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہ
ہو۔
خوفِ
خدا: ہر کام شروع کرنے سے پہلے اپنے دل سے سوال کریں کہ "میں یہ کیوں کر رہا
ہوں؟"
دعا:
اللہ سے مسلسل یہ دعا مانگتے رہنا کہ "اے اللہ! میرے عمل کو صرف اپنے لیے
خالص کر لے اور اس میں کسی اور کا حصہ نہ رہنے دے۔"
اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر کھوٹے اور کھرے عمل کی پہچان ہوتی ہے۔
ایک طالبِ علم جب کلاس میں پڑھتا ہے یا ایک مصنف جب کتاب لکھتا ہے، تو اسے چاہیے
کہ اپنی نیت کو پاک کرے۔ اخلاص کے بغیر علم محض ایک بوجھ ہے اور اخلاص کے ساتھ
معمولی عمل بھی پہاڑ جیسا وزنی بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام معاملات میں اخلاصِ نیت کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اسلامی تعلیمات میں "اخلاص" وہ جوہرِ نایاب ہے
جو انسانی اعمال کو اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے
اخلاص کے معنی کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک اور صاف کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس
کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول اور فعل سے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
اور خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ کرے۔ اخلاص محض ایک صفت نہیں بلکہ دین کی جڑ ہے۔
جس عمل میں اخلاص نہ ہو، وہ اس بے جان جسم کی مانند ہے جس میں روح موجود نہ ہو۔
قرآن
کریم نے جا بجا اخلاص کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ کنز
العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ
سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ: 5)
اسی
طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی شرطِ اول قرار دیا گیا
ہے۔اسلامی فقہ اور اخلاقیات کی سب سے بنیادی حدیث، جس سے امام بخاری نے اپنی کتاب
کا آغاز کیا، وہ اخلاص ہی سے متعلق ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ
امْرِئٍ مَا نَوَى"ترجمہ : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی
کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
یہ
حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں عمل کی ظاہری شکل سے زیادہ اس کے پیچھے چھپی نیت
اور اخلاص کو دیکھا جاتا ہے۔انسان دنیا کو دکھانے کے لیے ظاہری ٹپ ٹاپ تو کر سکتا
ہے، لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔
یہ ہے کہ اخلاص ہی وہ کسوٹی ہے جس پر کھوٹے اور کھرے عمل
کی پہچان ہوتی ہے۔ ایک طالبِ علم جب کلاس میں پڑھتا ہے یا ایک مصنف جب کتاب لکھتا
ہے، تو اسے چاہیے کہ اپنی نیت کو پاک کرے۔ اخلاص کے بغیر علم محض ایک بوجھ ہے اور
اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی پہاڑ جیسا وزنی بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے
تمام معاملات میں اخلاصِ نیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
وقاص
صدیقی (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
اسلامی تعلیمات میں ”اخلاص“ ایک ایسی بنیادی صفت ہے جس
کے بغیر انسان کا کوئی بھی عمل، خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے
ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ اخلاص کے لغوی معنی "خالص کرنا" یا "پاک
کرنا" کے ہیں، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب ہے کہ ہر نیک کام صرف اور صرف
اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے، اس میں شہرت، دکھاوا یا دنیاوی مفاد شامل نہ ہو۔
اخلاص دل کی اس کیفیت کا نام ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو ایک کر دیتی ہے۔
اخلاص کی اہمیت:قرآن و
حدیث میں اخلاص پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ترجمہ کنز
العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ
سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ: 5)
اخلاص وہ روح ہے جو اعمال کے مردہ جسم میں زندگی پھونکتی
ہے۔ اگر اخلاص نہیں تو بڑے سے بڑا عمل بھی رائیگاں چلا جاتا ہے۔
اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت
عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار نیتوں
پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔" (صحیح بخاری: 1)
اللہ دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے:حضرت
ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں
اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا
ہے۔" (صحیح مسلم: 2564)
بغیر اخلاص کے جہاد، علم اور سخاوت کا انجام:ایک
طویل حدیث میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک شہید، ایک عالم اور ایک
سخی کا فیصلہ ہوگا، لیکن انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ ان کی نیت اللہ کی
رضا نہیں بلکہ دنیا میں "بہادر"، "عالم" اور "سخی"
کہلوانا تھا۔ (صحیح مسلم: 1905)
خالص عمل قبول ہو گا:نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: "بے شک اللہ عزوجل صرف وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے
ہو اور اس سے اس کی رضا مقصود ہو۔" (سنن نسائی: 3140)
تنگدستی میں نجات کا ذریعہ:غار میں پھنس جانے والے تین
افراد کا قصہ (واقعہ اصحابِ غار) ثابت کرتا ہے کہ جب انہوں نے اپنے خالص اعمال کا
واسطہ دیا تو اللہ نے ان کی مصیبت دور کر دی۔ (صحیح بخاری: 2272)
ریاکاری کا وبال:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے
سنانے کے لیے (نیکی) کی، اللہ اسے (لوگوں کو) سنا
دے گا اور جس نے دکھانے کے لیے (نیکی) کی، اللہ اس کا
دکھاوا ظاہر کر دے گا۔" (صحیح بخاری: 6499)
اخلاص اور قلبی سکون:نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں جن پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا: عمل کو
خالص اللہ کے لیے کرنا، حکمرانوں کی خیر خواہی اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ
رہنا۔" (سنن ابن ماجہ: 3056)
اخلاص کے ثمرات:جو شخص
اپنی زندگی میں اخلاص پیدا کر لیتا ہے، اسے دنیا میں قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے
اور آخرت میں بلندیِ درجات۔ مخلص انسان لوگوں کی تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو کر
صرف اپنے رب کو راضی کرنے میں مگن رہتا ہے۔ اخلاص ہی وہ ڈھال ہے جو انسان کو شیطان
کے وار سے بچاتی ہے، جیسا کہ شیطان نے خود کہا تھا کہ ترجمہ کنز العرفان:اور ضرور
ان سب کو گمراہ کردوں گا۔سوائے ان کے جوان میں سے تیرے چنے ہوئے بندے ہیں
۔(الحجر:39،40)
مختصر یہ کہ اخلاص دین کی جڑ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے
ہر قول و فعل کا جائزہ لیں اور اسے دکھاوے کی آمیزش سے پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں "مخلصین" میں شامل فرمائے اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے اعمال
کو اپنی رضا کے لیے قبول فرمائےآمین۔
اسلام آباد، زون 1میں واقع جامع مسجد چشتیہ میں ”دعائے
شفا اجتماع“ کا انعقاد
اسلام آباد، زون 1، سیکٹر G-7/3 میں واقع
جامع مسجد چشتیہ میں شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت ”دعائے شفاء اجتماع“
انعقاد کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن اور نعت خوانی سے ہوا۔
اس موقع پر زون 1 کے نگران غلام شبیر عطاری نے ”اوراد
و وظائف کی اہمیت“ کے موضوع پر بیان کیا اور حاضرین کو دعوتِ اسلامی کے دینی
کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔
بعد ازاں باجماعت نمازِ حاجات ادا کی گئی اور
اجتماعی دعا کروائی گئی جس میں سب نے مل کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام پریشان حال مسلمانوں کو صحت و
سلامتی اور کشادگی عطا فرمائے۔
اس کے علاوہ حاضرین نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود و سلام پڑھ کر نذرانۂ عقیدت پیش کیا جس کے بعد آنے والے پریشان
حال اسلامی بھائیوں کو تعویذات عطاریہ دیے گئے نیز اُن کے مسائل کے حل اور روحانی علاج کے لیے
استخارہ بھی کیا گیا۔
اس موقع پر اسلامی بھائیوں کو بالخصوص دعوتِ
اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع و ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں شرکت کی ترغیب دلائی گئی
اور قافلوں میں سفر کرنے کی دعوت دی گئی جس پرانہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار
کیا۔(رپورٹ: محمد عاقب عطاری صوبائی ذمہ دار شعبہ روحانی
علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
علم جب تک تربیت اور کردار کے ساتھ نہ جڑے
بامقصد نہیں بنتا، حاجی عمران عطاری
”ایک ذمہ دار معاشرے کی تعمیر کے لیے صرف رسمی
تعلیم کافی نہیں ہے۔جب تک تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت اور کردار سازی شامل نہ ہو،
معاشرہ بدعنوانی اور اخلاقی زوال سے نجات نہیں پا سکتا“ ان خیالات کا اظہار دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ
کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے کراچی میں ہونے والے ” Tarbiyah Congregation“ میں بیان کرتے ہوئے کیا۔
یہ خصوصی ”Tarbiyah Congregation “ دعوتِ اسلامی کے ایجوکیشن کونسل دعوتِ اسلامی کے زیر
اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں اسٹوڈنٹس،
فیکلٹی ممبران اور تعلیمی ماہرین نے شرکت کی۔
اپنے بیان کے دوران نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی
عمران عطاری کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں بہت سے لوگ تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان
میں بڑی کامیابیاں تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن اخلاقی تربیت اور جوابدہی کے احساس کی
کمی کی وجہ سے معاشرے میں بے ایمانی اور اخلاقی زوال کا شکار ہوجاتے ہیں۔
نگرانِ شوریٰ
نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایسے نوجوان
تیار کرنے ہوں گے جواخلاقی اور نظریاتی طور پر مضبوط ہوں٭روحانی طور پر بیدار اور
خوفِ خدا رکھنے والے ہوں٭اللہ عزوجل اور معاشرے کے سامنے اپنی ذمہ داریوں کا پورا
احساس رکھتے ہوں۔
اس ٹریننگ سیشن کی ایک خاص بات طلبہ اور نگرانِ
شوریٰ کے درمیان ہونے والا ”انٹرایکٹو سیشن“ (Interactive Session) تھا جہاں اسٹوڈنٹس نے تعلیمی، عملی اور اخلاقی امور سے
متعلق مختلف سوالات کیے جن کے مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے جوابات دیے۔
اس موقع پر ایجوکیشن کونسل کے بورڈ آف سیکنڈری اینڈ
ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے اعلیٰ اراکین اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا مقصد:
دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (DMIU) کے مستقبل کے تعلیمی منصوبوں کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ
منعقد کی گئی جس میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد
عمران عطاری کی خصوصی شرکت ہوئی۔
اس اہم میٹنگ میں دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی
کے چانسلر، وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،
فیکلٹی ممبران اور مختلف شعبہ جات کے سربراہان (Heads of Departments) موجود تھے۔
معاشرتی اصلاح میں جامعات کا کردار:
میٹنگ میں نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران
عطاری نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی
کو ایسے تعلیم یافتہ افراد تیار کرنے کے لیے تعمیری و بامقصد کردار ادا کرنا چاہیے
جو نہ صرف علمی میدان میں آگے ہوں بلکہ اخلاقی طور پر ذمہ دار بھی ہوں۔
نگرانِ شوریٰ کا میٹنگ میں مزید کہنا تھا کہ نوجوانوں
میں سماجی بیداری پیدا کی جائے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اپنا
فعال کردار ادا کر سکیں۔
مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر بریفنگ:
میٹنگ کے دوران یونیورسٹی کی انتظامیہ نے نگرانِ
شوریٰ کو مستقبل کے تعلیمی اقدامات و دیگر اداروں کے ساتھ باہمی تعاون (Institutional Collaborations) کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ میٹنگ دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اس
عزم کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت اعلیٰ تعلیم کو محض ڈگری کے حصول تک محدود رکھنے
کے بجائے ایک واضح مقصد، اعلیٰ اقدار اور سماجی ذمہ داری کے مضبوط احساس کے ساتھ
آگے بڑھایا جا رہا ہے۔(رپورٹ: سید ذیشان حسین بخاری
عطاری ہیڈ آف سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
دعوتِ اسلامی کے زیرِا ہتمام عالمی مدنی مرکز فیضان
مدینہ، کراچی میں خلیفہ امیرِ اہلسنت مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی 1 جولائی 2026ء بروز بدھ عام ملاقات فرمائیں گے۔
ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ ملاقات
فیضانِ مدینہ کراچی میں بعد نمازِ عصر ہوگی جبکہ عصر کی جماعت تقریباً 5:45 پر ادا
کی جائے گی۔
ملاقات کے دوران خلیفۂ امیرِ اہلسنت مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی عاشقانِ رسول
کو نیکی کی دعوت دیتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں اور دعاؤں سے بھی نوازیں گے۔
اہم نکات:
٭تمام عاشقانِ رسول سے درخواست ہے کہ اس بابرکت
موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
٭شرکت کے لیے بروقت پہنچیں اور اپنے دلوں کو دینی
محبت سے بھر لیں۔
محرم الحرام کے مدنی مذاکروں میں شرکت کرنے
والوں کی خلیفۂ امیرِ اہلسنت سے ملاقات
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام محرم الحرام 1448ھ
کے مدنی مذاکروں میں شرکت کرنے والے عاشقانِ رسول نے گزشتہ روز خلیفۂ امیرِ
اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی سے ملاقات کرنے کی سعادت حاصل کی۔
اس
دوران خلیفۂ امیرِ اہلسنت نے ملاقات کرنے والے عاشقانِ رسول کو مدنی پھولوں اور دعاؤں سے نوازا نیز انہیں دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اسی
کے مطابق زندگی گزارنے کا ذہن بھی دیا۔
معلومات کے مطابق اس موقع پر 3 ہزار 795
عاشقانِ رسول موجود تھے جنہوں نے
وقتاً فوقتاً خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی سے ملاقات کی۔
Dawateislami