لاہور، پنجاب (21 جون 2026ء) :

شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت 21 جون 2026ء کو لاہور، پنجاب میں قائم مدنی مرکز فیضان مدینہ، جوہر ٹاؤن میں ڈویژن ذمہ داران کا ایک اہم مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں بالخصوص نگرانِ شعبہ غلام الیاس عطاری اور صوبائی ذمہ دار محمد اقبال عطاری نے شرکت کی۔

اس مدنی مشورے کا مقصد ڈویژن ذمہ داران سمیت ناظم الامور اسلامی بھائی سے شعبے کے مختلف دینی کاموں کا جائزہ لینا اور اُن میں مزید بہتری کے آئندہ کے اہداف طے کرنا تھا جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

٭ یوسی سطح پر ہدف مقرر کرنا٭ گلی گلی مدرسۃالمدینہ،مدرسۃالمدینہ بالغات اور ہفتہ وار اجتماع میں اضافہ کرنا٭ عُشر کے اہداف٭فیضان صحابیات و رہائشی کورسز میں داخلوں کے اہداف٭ 3 دن / ایک ماہ قافلے کے اہداف٭ہر ماہ 2 محارم حلقوں کا انعقاد کرنا تھا۔(رپورٹ:محمد علی عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں صوبہ پنجاب آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


اللہ پاک نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو بہت سارے کمالات عطا فرمائے ہیں آپ کے ان کمالات میں سے ایک کمال تربیت فرمانا بھی ہے آپ نے ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی اعمال کی طرف بھی توجہ دلائی ان میں سے ایک اخلاص بھی ہے آپ نے اخلاص کی اہمیت بھی بیان فرمائی:

رضائے الٰہی کے لیے خرچ: حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِن سے ارشاد فرمایا : ’’تم رضائے اِلٰہی کے لئے جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اُس کااجر دیاجائے گا یہاں تک کہ جولقمہ تم اپنی زوجہ کو کھلاتے ہو اُس پر بھی اَجر دیا جائے گا۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:292)

زندگی خوشگواری: حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو کسی مریض کی عیادت کرے یااللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اپنے ( مسلمان ) بھائی کی زیارت کرے تو ایک پکار نے والا آواز دیتا ہے کہ تیری زندگی خوشگوار ہو اور تیرا چلنا باعث برکت ہو اور تونے جنت میں گھر بنالیا ۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:362 )

اخلاص کی برکت: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہےفرماتے ہیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)

رضائے الٰہی: رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا :جو رضائے الٰہی کی تلاش میں ایک دن روزہ رکھے توﷲ اسے دوزخ سے اتنا دور کردے گا جیسے اُڑنے والے کوّے کی دوری جب وہ بچہ ہو حتی کہ بوڑھا ہوکر مرجائے

(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2074)

گناہ معاف: حضرت معقل ابن یسار مزنی سےروایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو رضائے الٰہی کے لیے سورہ یٰس پڑھے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے لہذا اسے مرنے والے کے پاس پڑھا کرو۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2178)

اللہ پاک ہم سب کو اپنے تمام کام اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم


اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں رضائے الہٰی حاصل کرنے کا نام اخلاص ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ : وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰،سوره البينہ:5)

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع پیروکار ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

اخلاص یہ ہے کہ تمہارا ہر عمل صرف اور صرف الله عزوجل کی رضا کے لیے ہو اور اس عمل کے سبب تم لوگوں کی تعریف و توصیف سے راحت محسوس کرو نہ ہی تمہیں ان کی مذمت کی پرواہ ہو یاد رکھو!ریا کاری مخلوق کو بڑا سمجھنے کے سبب پیدا ہوتی ہے اس کا علاج یہ ہے کہ تم لوگوں کو قدرت الٰہی کے سامنے مسخر (تابع) خیال کرو اور دکھاوے سے بچنے کی خاطر انہیں جمادات (پتھروں) جیسا سمجھو کہ یہ ان کی طرح نفع ونقصان پہنچانے پر قادر نہیں کیونکہ جب تک تم لوگوں کو نفع ونقصان پر قادر سمجھتے رہو گے ریا کاری جیسے خطرناک مرض سے نہیں بچ سکتے ۔

(1) اور حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتالیکن تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والادب، رقم : 6543)

وعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهترجمہ: حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا، آپ ہمیں اجر و شہرت کے لیے لڑنے والے کے متعلق بتائیں کہ اسے کیا ملے گا؟ تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی آپ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایااللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور اسی کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔(سنن النسائی، كتاب الجهاد باب من غزا يلتمس الأجر والذكر رقم : 3140)

(3)حضور نبی کریم علیہ أَفْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلیم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِی اللَّهُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمايا: "اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

اخلاص کا حکم :کسی عمل میں فقط اخلاص ہونے یا اس کے ساتھ کسی اور غرض کی امیزش ہونے کے اعتبار سے اعمال کی تین صورتیں :(1) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور اللہ عزوجل کی ناراضگی اور عذاب کا سبب ۔(2) جو عمل خالصتا اللہ عزوجل کے لیے ہوگا تو وہ رضائے الہی اور اجرو ثواب کا سبب بنے گا ۔(3) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رضائے الہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہوں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اور اگر ریاکی قوت زیاده ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رضائے الہی کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگا جو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رضائے الہی بالکل نہ ہو اور اگر رضائے الہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگا اور جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہو جائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، صفحہ ۲۷، ۲۶)


دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لیے اسپیشل پرسنز نے دارالسنۃ ملتان، پنجاب سے  3 دن کے قافلے میں سفر کیا۔

سفر کے دوران اسپیشل پرسنز کو زیادہ سے زیادہ وقت نیکیوں میں گزارنے، دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنے اور دعوتِ اسلامی کے قافلوں میں مسلسل سفر کرنے کی ترغیب دلائی گئی۔

امیرِ قافلہ نے اسپیشل پرسنز کو ہر ماہ کم از کم 3 دن کے قافلے میں سفر کرنے کی ترغیب بھی دلائی تاکہ روحانی ترقی اور نیک اعمال میں اضافہ ہو سکے۔ اس موقع پر اسپیشل پرسنز نے نیت کی کہ ان شاء اللہ الکریم وہ ہر ماہ کم از کم 3 دن قافلے میں سفر کریں گے۔(رپورٹ: محمد جمال عطاری، اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ملتان ڈویژن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا۔ ( احیاءالعلوم،الباب الثانی فی الاخلاص الخ،بیان حقیقۃ الاخلاص، ۵ / ۱۰۷)

اخلاص دینِ اسلام کی بنیادوں میں سے ایک بنیادی اور اہم رکن ہے۔ قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر اس کو ذکر کیا گیا سلف صالحین نے بھی اس کو تفصیل سے بیان۔ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے، اور نیت کا خالص ہونا ہی "اخلاص" کہلاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)

الله تعالٰی دلوں کی طرف دیکھتا ہے: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔ ( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)

احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق الله معاف ہوجاتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت(روزہ)اور کافروں کے اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جوشخص بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 )

اس عبادت سے مراد نماز تراویح ہے جو صرف رمضان میں ادا ہوتی ہے یا نماز تہجد۔

لہذاہر مسلمان کوچاہیے کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت ونیک اعمال میں ریا کاری جیسے گناہ کو شامل نہ ہونے دے بلکہ جو بھی نیک اعمال کرے خاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کرنے کے لئے کرے کہ اس کو اخلاص کہتے ہیں اور یاد رکھے کہ اخلاص والی نیکی ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہے۔


اللہ عزوجل نے اپنے حبیب سید کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس قوم کی ہدایت کے لیے ایک نمونہ بنا کر بھیجا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی میں اعمال کو اگر دیکھا جائے تو وہ خالصتا اللہ کی رضا کے لیے ہوتے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا کہ وہ جو بھی کام کریں فقط اللہ کی رضا کے لیے کریں اور اس پر اپنی امت کو ڈھیر سارا اجر بھی بیان فرمایا چنانچہ:

(1)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا مظلوم سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا۔(المستدرک کتاب التفسیر باب خطبۃ النبی فی حجتہ الوداع جلد 3 صفحہ 65 حدیث نمبر 333)

(2) حضرتِ سیدنا ابو عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا ،یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایاکہ اپنے دین میں مخلص ہوجا ؤتھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کریگا۔ (مستدرک کتاب الرقائق،جلد 5، صفحہ 435،حدیث نمبر 7914)

(3) حضرتِ سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لئے ہے۔ا ے لوگو! اپنے اعمال میں اخلاص پیداکرو کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اخلاص کے ساتھ کئے جانے والے اعمال ہی کو قبول فرماتاہے۔ (مجمع الزوائد کتاب الزھد باب ما جاء فی الریاجلد 10 صفحہ 379 حدیث نمبر 17653)

(4)حضرت سید نا ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سرور، سلطان بحروبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اجر (انعام) اور شہرت کے لئے جہاد کرتا ہے، اس کے لئے کیا ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کیلئے کچھ نہیں ۔“ اس نے تین مرتبہ یہی عرض کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ اس کے لئے اس میں کچھ کے نہیں ۔ پھر فرمایا کہ اللہ عزوجل صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو اخلاص اور اللہ عزوجل کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔(نسائی، کتاب الجھاد، باب من غزا ایلتمس الاجروالذکر، ج 6،صفحہ 25)

(5)حضرت سیدنا ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے نور سلطان بحر و بر صل اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا مخلصین کے لئے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے۔ (الترغیب والترہیب، کتاب البعث واھوال یوم القيمة،باب الترغیب فی الاخلاص، جلد1،صفحہ23،حدیث نمبر 5)

اللہ عزوجل کی رضا کے علاوہ جو بھی اعمال کیے جاتے ہیں وہ ریاکاری کے اندر اور دوسرے گناہوں کے اندر داخل ہوتے ہیں اور اعمال کو ضائع کر دیا جاتا ہے اور جو اعمال اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کیے جائیں ان پر ڈھیروں ڈھیر ثواب عطا کیا جاتا ہے اللہ کی رضا کے خلاف عمل کرنا یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اگر ہم اپنے اعمال کو بچانا چاہتے ہیں تو اللہ عزوجل کی رضا ضروری ہے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو فقط اپنی رضا کے لیے امین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الہی


عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ترجمہ حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص ۱۳۸۷ ، حدیث: ۲۵۶۴)

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مِرقاۃ میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ نظراعتباری سے تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا کیونکہ اس کے ہاں تمہاری خوبصورتی وبد صورتی کاکوئی اعتبار نہیں اور نہ وہ تمہارے اَموال کی طرف نظر فرماتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک ان کی قِلَّت و کَثْرَت(کمی و زیادتی) کا کوئی اعتبار نہیں ،بلکہ دلوں میں موجود یقین،صِدق،اِخلاص،رِیا کاارادہ،شہرت اور بقیہ اَخلاقِ حَسَنَہ(اچھے اخلاق) اوراَخلاقِ سَیِّئَہ (برے اخلاق) کو دیکھتا ہے اور تمہارے اَعمال دیکھتا ہے یعنی ان کی اچھی بُری نیت کو اور پھر اس کے مطابق تمہیں اُن اعمال کی جزا عطا فرمائے گا۔ نِہَایَہ میں ہے کہ یہاں ’’نظر ‘‘کامعنی پسندیدگی یارحمت ہے اس لئے کہ کسی پر نظر رکھنا محبت کی دلیل ہے جب کہ ترکِ نظر( نظر ہٹا لینا) غضب ونفرت کی علامت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، باب الریاء والسمعۃ، ۹/۱۷۴، تحت الحدیث:۵۳۱۴)

علَّا مہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :حد یث میں فرمایا گیا کہ’’اللہ عزَّوَجَلَّ تمہاری صورتوں کی طرف نظر نہیں فرماتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘ ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقویٰ صرف ظاہری اعمال سے حاصل نہیں ہوتابلکہ دل میں اللہ عزَّوَجَلَّ کی عظمت ،اس کے ڈر اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس سے حاصل ہوتاہے ۔ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ۸/۱۲۱، الجزء السادس عشر)

ظاہر وباطن دونوں کادرست ہونا ضروری ہے: مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ’’دیکھنے ‘‘سے مراد ’’کرم ومحبت سے دیکھنا ہے‘‘ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو بھی دیکھتا ہے، جب اچھی صورتیں اچھی سیرت سے خالی ہوں ، ظاہر باطن سے خالی ہو(یعنی صرف ظاہر اچھا ہو اور باطن برا ہو ) مال صَدَقہ وخیرات سے خالی ہو، تو ربّ تعالیٰ اسے نظرِ رحمت سے نہیں د یکھتا، ا س حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں کہ صرف اعمال اچھے کرو اور صورت بُری بناؤ بلکہ صورت و سیرت دونوں ہی اچھی( یعنی شریعت کے مطابق ) ہونی چاہئیں۔ کوئی شریف آدمی گندے برتن میں اچھا کھانا نہیں کھاتا، رب تعالیٰ صورت بگاڑنے والوں کے اچھے اعمال سے بھی خوش نہیں ہوتا۔اگرصرف صورت اچھی ہو اورکردار برا ہو تو بھی نقصان اور اگر باطنی حالت درست ہو ظاہری حالت شریعت کے خلاف ہوتب بھی نقصان ۔ (ملخص از مراٰۃ المناجیح ، ۷ /۱۲۸)

بُری نِیَّت اعمال کو برباد کر دیتی ہے: میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! انسان کا دل اللہ عزَّوَجَلَّ کی توجہ خاص کامرکز ہے ۔ اس کی بارگاہ میں مقام ومرتبہ اور ثواب اس وقت تک نہیں ملتا جب تک دِلی کیفیت درست نہ ہو۔ اس لئے اپنے دل کوبُری صِفات سے پاک وصاف اوراچھے اخلاق واچھی سوچ سے معمور رکھنا چاہئے، وہاں دلی کیفیت پر فیصلے ہوتے ہیں ،اگر نِیَّت درست نہیں تو عمل بے کار وباعثِ وَبال ہے۔ چنانچہ

تین رِیا کاروں کا اَنجام: نبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالَمیان ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں سے سوال کیا جائے گا،ایک وہ جو راہِ خدا میں قتل کیا گیا تھا ،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا:’’ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کیا ؟‘‘ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیری رضا کے لئے جہاد کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا۔اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تو جھوٹ کہتا ہے، بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے :فلاں شخص بہت بہادرہے، تو یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی۔ پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص کہ جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قراٰن کی تلاوت کی،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھر اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا :تجھے جو علم عطا ہوا اس کے بارے میں تیرا عمل کیسا رہا؟ وہ عرض کرے گا :اے میرےرب عزَّوَجَلَّ ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور تیری رضا کے لئے قراٰن کی تلاوت کی۔اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا:تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص عالِم ہے اور تو نے قراٰن اس لئے پڑھا تاکہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے، یہ بات (دنیا میں ) کہہ لی گئی ،پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تیسرا شخص وہ ہوگا جسےاللہ عزَّوَجَلَّ نے بہت وُسعت اور کثیر مال عطا کیا تھا،اللہ عزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، پھراللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو نے اس کے شکر میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب میں نے کوئی ایسا موقع نہ چھوڑا جس میں تجھے خرچ کرنا پسند ہو اور میں نے تیری رضا کے لئے خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو یہ چاہتا تھا کہ کہا جائے: فلاں شخص بہت سخی ہے پس (دنیا میں)کہہ لیا گیا، پھر اسے جہنم میں لے جانے کا حکم ہوگا اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار،ص ۱۰۵۵، حدیث :۱۹۰۵)

حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی گِریَہ وزَارِی: جب یہ حدیث ِپاک حضرتِ سَیِّدُناامیر مُعَاوِیہ َرضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے بیان کی گئی توآپ اتنا روئے اتنا روئے ،قریب تھا آپ کی رُوح پرواز کر جاتی، پھر فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّ نے سچ فرمایاہے :مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵) ترجمۂ کنزالایمان: جودنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہو ہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے۔(پ۱۲، ہود :۱۵) (جامع العلوم والحکم من خمسین الخ، تحت الحدیث الاول،ص۲۷)

اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمَت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔

معاملہ نہایت نازک و تشویشناک ہے کہ ریا کار شہید کی جان بھی گئی اور آخرت بھی برباد ہوئی اور بروز قیامت اس سے کہا جائے گاکہ ’’جہاد سے تیرا مقصوداسلام کی سر بلندی نہیں بلکہ اپنی تعریف تھی، لہٰذا دنیا میں تیری خوب واہ واہ ہوگئی اور تجھے تیرے جہاد کا بدلہ دنیا میں مل گیا‘‘ اسی طرح عالِم نے علمِ دین سیکھنے میں کتنی مشقتیں برداشت کیں سب رائیگاں گئیں اور ایسی مصیبت ملی کہ سب سے پہلے جہنم میں نہایت ذِلّت کے ساتھ گھسیٹ کر پھینکا جائے گا، جہنم کی گہرائی آسمان و زمین کے فاصلہ سے کروڑوں گنا زیادہ ہے،اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ! عالِم سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری محنت خدمت دین کے لیے نہ تھی بلکہ عِلْم کے ذریعہ عزت و مال کمانے کے لئے تھی وہ تجھے دنیامیں حاصل ہوگئے اب ہم سے کیا چاہتا ہے ،اسی طرح ریا کار سخی کا حال ہوگا کہ مال بھی گیا اور جہنم کا عذاب بھی مقدَّر ہوا ، اگرچہ عالمِ دین، شہید اورسخی کا مقام بہت بلند ہے لیکن جب نِیَّت میں خرابی ہو تو سرَا سر خسارہ ہے حدیثِ مذکورمیں تینوں کو عمل میں اخلاص نہ ہو نے کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا گیا۔ ( مراٰۃ المناجیح، ۱/ ۱۹۱ -۱۹۲، ملخصاً)

اس حدیث پاک کو دیکھتے ہوئے بعض علمائے کرام رَحِمَہم اللہ السَّلام نے اپنی کتابوں میں اپنا نام بھی نہ لکھا اور جنہوں نے لکھا ہے وہ نامْوَری ومشہوری کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی دعا حاصل کرنے کے لیے لکھا ۔ ( مراٰۃُ المناجیح ، ۱/۱۹۱ )

اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے مُخْلِص بندوں کے صَدْقے ہمیں اِخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور ریا کاری کی تباہ کاریوں سے ہماری حفاظت فرمائے ، ہر کام اپنی رضا کے لئے کرنے کی توفیق عطا فرمائے!اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنَ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّم۔

میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اخلاص ایسا عطا یا الٰہی!


اخلاص کی تعریف:اخلاص سے مراد اپنی نیت و عمل کو صرف اور صرف اللہ عزوجل کی رضا کے لیے خالص کر لینا چاہیے جس میں شہرت و ریاکاری یا کسی دنیاوی فائدہ کی کوئی شبہ نہ رہے۔ (نجات دینے والے اعمال کی معلومات صفحہ نمبر 25)

دکھاوے والا عمل شرک اصغر ہے : حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر ہے وہ 'شرکِ اصغر' (چھوٹا شرک) ہے۔" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ریاء (دکھاوا)۔"( مسند احمد، حدیث نمبر: 23630)

اخلاص پر اجر کی بشارت :نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تم اللہ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کروں گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیویوں کے منہ میں ڈالتے ہوں۔( صحیح بخاری کتاب الجنائز حدیث نمبر 1295 جلد دو صفحہ نمبر 81 )

اعمال نیتوں پر ہے :حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اعمال نیتوں پر ہے ہر شخص کے لیے وہی ہے جو نیت کرے بس جس کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو گئی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا جو عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو اس کی ہجرت اس کی طرف ہی ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 حدیث نمبر 1)

اللہ صرف خالص عمل کو قبول کرتا ہے :حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے اللہ تعالی صرف وہی اعمال قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے ہے اور اس سے صرف اس کی رضا مقصود ہوں ۔

( سنن نسائی کتاب الجہاد حدیث نمبر 3140) 


پیارے پیارے اسلامی بھائیو!اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دارومدار صرف ظاہری صورت پر نہیں بلکہ باطنی کیفیت یعنی نیت اور اخلاص پر ہے۔ دینِ اسلام کی روح یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام افعال و اقوال صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے کرے۔ چاہے وہ نماز ہو، روزہ، صدقہ یا کوئی بھی نیکی اگر وہ اللہ کی رضا کے بغیر، ریاکاری یا دنیاوی مقصد کے تحت کی جائے تو وہ عمل بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت نہیں پاتا۔ اخلاص ہی وہ معیار ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتا ہے۔

اخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

عمل میں اخلاص کے فوائد :

(1)اعمال کی قبولیت (2)چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے (3)ریاکاری سے نجات

(4)اللہ کی مدد شاملِ حال ہوتی ہے (5)دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے

(6)قیامت کے دن نجات کا ذریعہ (7)دعا کی قبولیت

احادیث میں اخلاص:نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا ۔ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴،ج ۵،ص۴۳۵)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے اخلاص کی اہمیت کا اندازا ہوجاتا ہے کے اخلاص کے ساتھ عمل یعنی صرف اللہ پاک کے لیے عمل کرنا وہ چاہے تھوڑا سا ئی عمل کیوں ناں ہو بلکہ اگر اخلاص کے ساتھ اچھے کام کی نیت بھی کرلے تو بندہ کو اجر ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ آئیے اس سے متعلق بھی حدیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں : چناچہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶ ، ص۱۸۵)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس کے علاوہ بھی بہت ساری احادیث کریمہ اخلاص کی فضیلت پر دال ہیں

احادیث کریمہ میں اخلاص اختیار کرنے کا بھی فرمایا گیا ہے :چناچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عز وجل کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عز وجل وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !ہم نے احادیث کریمہ میں ملاحظہ کیا کے عمل وہی قبول ہوتا ہے جس میں اخلاص ہو اخلاص کے بغیر عمل قبول نہی ہوتا جس عمل میں ریا کاری ہو دکھاوا ہو وہ عمل رد کردیا جاتا ہے قیامت والے دن اس عمل کا کوئی فائدہ نہ ہوگا جس میں ریا کاری ہو اور اخلاص نہ ہو ۔اللہ پاک سے دعا ہے کے اللہ پاک ہمیں اپنے مخلص بندوں میں سے بنائے۔اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائےصرف اور صرف اپنے لیے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین۔


اخلاص دینِ اسلام کی وہ بنیادی قدر ہے جو ہر عمل کو وزن اور قبولیت عطا کرتی ہے۔ عبادت ہو یا خدمتِ خلق، علم ہو یا جہادجب تک نیت خالص نہ ہو، عمل محض ایک ظاہری حرکت رہ جاتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اسی حقیقت کو دین کی بنیاد قرار دیا اور واضح فرمایا کہ اعمال کی قدر و قیمت نیت پرہے۔

اعمال کا دارومدار کس پر:نبی ﷺ کا ارشاد ہے: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ہی عمل دو افراد انجام دیں مگر نیت مختلف ہو تو انجام بھی مختلف ہوگا کسی کا عمل اللہ کی رضا کا سبب بنے گا اور کسی کا محض دنیاوی فائدے تک محدود رہے گا۔

اخلاص کا تعلق:اخلاص کا تعلق ظاہری شکل و صورت سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت سے ہے اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ ( صحیح مسلم: 2564)

یہ حدیث ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو دکھاوے اور ریا سے پاک کریں۔

اخلاص کو ختم کرنے والے چیز:ریاکاری اخلاص کی سب سے بڑی دشمن ہے نبی ﷺ نے سخت تنبیہ فرمائی: جو لوگوں کو سنانے کے لیے عمل کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔ (صحیح البخاری 6499، صحیح مسلم 2987)یہ ارشاد واضح کرتا ہے کہ نیکی کا اصل مقصد لوگوں کی واہ واہ نہیں بلکہ اللہ کی خوشنودی ہونی چاہیے۔

بغیر اخلاص کے اعمال ضائع:ایک اور حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا اُن میں عالم، قاری اور سخی شامل ہوں گے،مگر چونکہ ان کے اعمال ریا کے لیے تھے اس لیے انہیں اجر نہیں ملے گا ۔ (صحیح مسلم: 1905)یہ حدیث ہر صاحبِ عمل کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

اخلاص ہی وہ طاقت ہے جو عمل کو دوام بخشتی ہے اور انسان کو مایوسی سے بچاتی ہے۔ مخلص انسان تنہائی میں بھی وہی کرتا ہے جو مجمع میں کرتا ہے کیونکہ اس کو دیکھنے والا اللہ ہوتا ہے اگر ہم واقعی اپنی دنیا و آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی نیتوں کی اصلاح کرنی ہوگی کیونکہ اخلاص کے بغیر کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں اللہ عزوجل ہمیں اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں رضائے الہی حاصل کرنے کا نام اخلاص ہے۔

اخلاص کی اہمیت :اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔ (الزمر:3)

صراط الجنان: اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! سن لو کہ شرک سے خالص عبادت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق ہی نہیں اور وہ بت پرست جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود ٹھہرا لئے ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں ،وہ (اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے باوجود) کہتے ہیں کہ ہم تو ان بتوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے زیادہ نزدیک کردیں تو یہ سمجھنے والے جھوٹے اور ناشکرے ہیں یعنی جھوٹے تو اِس بات میں ہیں کہ بتوں کو خدا کا قرب دلانے والا سمجھتے ہیں اور ناشکرے اِس لئے ہیں کہ خدا کی نعمتیں کھاکر اور اس کو خالق مان کر پھر بھی شرک کرتے ہیں تو ان کافروں کا مسلمانوں کے ساتھ توحید و شرک میں جو اختلاف ہے اس کا فیصلہ قیامت میں اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا اور وہ فیصلہ ایمان داروں کو جنت میں اور کافروں کو دوزخ میں داخل کرنے کے ذریعے ہوگا ۔

(1)اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْي…الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)

(2)خالص عمل تھوڑابھی زیادہ ہے : حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کایہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیا گیاہو وہ زیادہ بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)

(3) جیسی نِیَّت وَیسی مدد : حضرتِ سَیِّدُناسالِم بن عَبْدُ اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے حضرتِ سَیِّدُناعمربن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْد کولکھ کربھیجاکہ:جان لوبے شک!بندے کواللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے مدد اس کی نِیَّت کے مطابق ملتی ہے،جس کی نِیَّت مکمل(یعنی خالص)ہواس کے لئےاللہ عزَّوَجَلَّ کی مددبھی مکمل ہوتی ہے اورجس کی نِیَّت میں کمی ہواسے مددبھی کم ملتی ہے۔(یعنی انسان کی مدداسکے اِخلاص کے مطابق کی جاتی ہے) (احیاء العلوم، ۵/۸۹)


دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام کراچی سطح پر گونگے، بہرے، نابینا اور دیگر معذور افراد کے لیے 28 جون 2026ء کو  ”سنتوں بھرے اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلی معلومات کے مطابق ڈیپارٹمنٹ کے صوبائی ذمہ دار کامران عطاری نے اسپیشل پرسنز کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، جی الیون کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ سے بذریعہ مدنی چینل نگرانِ شوریٰ کے بیان میں شرکت کی۔

اس موقع پر مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے اسپیشل پرسنز اور ان کے سرپرستوں کو اللہ پاک کا شکر ادا کرنے اور نیک اعمال کے مطابق زندگی گزارنے کا ذہن دیا۔ اجتماع کے اختتام پر دعا کی گئی اور اسپیشل پرسنز کے لیے لنگر رضویہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔(رپورٹ: کامران عطاری صوبائی ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)