اِخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور
ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک
طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)
آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع
(پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،صفحہ٢)
کسی عمل میں فقط اِخلاص ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی
آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں ہیں: (۱) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو
اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب
ہے۔ (۲) جو عمل خالصتاً اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا سبب ہے۔ (۳) جوعمل خالصتاً اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی آمیزش ہو تو قوت
کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں
برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو
ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ
الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی کا جتنا عنصر
ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا
ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو اور اگر
رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگااور
جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶،۲۷)
مزید تفصیل کے لیے اِحیاء العلوم،ج۵ ، ص ۲۵۵
سے اِخلاص کے باب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
اِخلاص پیدا کرنے کے پانچ (5)طریقے:
(1)اپنی نیت درست کیجیے :کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر
ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے
کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے
اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘لہٰذا خود کو
اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔
(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:ایسی دُنیوی اَغراض جن
سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے
اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات
کا فی کم ہوجاتے ہیں۔
البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے
ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں
قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور
درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا
اِرادہ نہیں۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:کیونکہ
اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور
اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود
کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب
ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔
(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی
رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون
محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے
اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا
نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔
(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:نفس لوگوں کے سامنے
تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت، تعریف
اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع
وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد
بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے
کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال
بجا لائیے۔
اخلاص کی اہمیت پر احادیث مبارکہ:
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ
نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس
کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی
ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے
جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان
الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو
اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کے اولین وآخرین کو زمین
میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے (صحیح البخاری ،کتاب
البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)
سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت
کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے
۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶ ،ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث:
۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
اللہ پاک ہمیں اخلاص نصیب فرمائے اور سچا پکا مسلمان اور
اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، امین۔
احمد
افتخار عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور
،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو !کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اردہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے انسان کومددِالٰہی اس کے
اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص ہوگااسے اتنی ہی
زیادہ مددِالٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یابُرے اور مرتبے کے
لحاظ سے چھوٹے یابڑے ہوتے ہیں اوراچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان کوکبھی نہ کبھی اچھے
عمل کی توفیق ضرورمل جاتی ہے۔آئیے میں اس ضمن میں آپ کے سامنے چند روایات پیش کرنے
کی سعادت حاصل کرتا ہوں :
(1)ایمان اور اخلاص :حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، ۱ / ۲۵، الحدیث: ۳۵)
(2)اعمال میں اخلاص پیدا کرنا :حضرت یحییٰ
بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’جسے یہ معلوم ہے کہ اس
کے اعمال قیامت کے دن ا س کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور ان اعمال کے مطابق اسے
جزا دی جائے گی تو اسے چاہئے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اعمال میں
اخلاص پیدا کرے اور جو گناہ اس سے ہو چکے ان سے لازمی توبہ کر لے۔( روح البیان،
القمر، تحت الآیۃ: ۵۳، ۹ / ۲۸۵)
(3)خالص عمل تھوڑا بھی زیادہ ہے:حضرتِ
سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورا ت شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کایہ فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری
رِضا مطلوب ہووہ تھوڑابھی زیادہ ہے اورجس عمل سے میرے غیرکاقَصدکیاگیاہووہ زیادہ
بھی تھوڑاہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
(4)بہترین عمل :اَمیرُالْمُؤمِنِیْن
حضرتِ سَیِّدُناعمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : اللہ عزَّوَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی،حرام اشیاء سے اجتناب اوراللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں نِیَّت
کاسچا(خالِص)ہونابہترین عمل ہے۔ (قوت القلوب لابی طالب المکی، ۲/۲۶۷)
(5)خالص عمل ہی قبول ہوگا:تاجدارِ
مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ص ﷺ نے ارشادفرمایا:بروزِقیامت کچھ مُہربندصحیفےاللہ
عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ
قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والاہے
ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں
گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)
محمد
بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور)
اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا :مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: خالص اسی کے بندے بن کر ۔(الاعراف:29)
اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی
عبادت صرف اس کی رضا حاصل کرنے یا اس کے حکم کی بجا آوری کی نیت سے کی جائے ،اس میں
کسی کو دکھانے یا سنانے کی نیت ہو، نہ اس میں کسی اور کو شریک کیا جائے۔ (خازن،
الاعراف، تحت الآیۃ: 29، 2 / 87، ملتقطاً)
امام راغب اصفہانی رَحْمَۃُاللّٰه تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں ’’ اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور اس کی رضا
جوئی) کے علاوہ ہر ایک کی عبادت( اور اس کی رضا جوئی) سے بری ہو جائے۔ (مفردات
امام راغب، کتاب الخاء، ص293)
(1)حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’جس مسلمان میں یہ تین اوصاف ہوں اس
کے دل میں کبھی کھوٹ نہ ہو گا:(1) اس کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ (2)وہ آئمہ
مسلمین کے لئے خیر خواہی کرے۔ (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑ لے۔ (ترمذی،
کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ السماع، 4 / 299، الحدیث: 2667)
(2) حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس امت کے
کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے اِس امت کی مدد
فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص518، الحدیث: 3175)
(3) حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو
جب تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ !
مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو
،تمہا را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، 5 / 435، الحدیث: 7914)
(4)اخلاص کے ساتھ عمل کرو:بخاری
شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولُ اللہ ص ﷺ
نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یا رسولَ اللہ!ص ﷺ ، آپ کو
بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا: ’’مجھے بھی نہیں ،مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے فضل
اور رحمت میں ڈھانپ لے، پس تم اخلاص کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار
کرو۔(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت، 4 / 13، الحدیث: 5673)
(5)صغیرہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں:حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان
اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ)
گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الایمان، باب قیام لیلۃ القدر من الایمان، 1 /
25، الحدیث: 35)
اللہ پاک ہمیں بھی اخلاص اپنانے دوسروں کے ساتھ اخلاص کے
ساتھ پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰه علیہ وسلم۔
محمد
تیمور عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی ، لاہور ،پاکستان)
اخلاص کی قرآن پاک میں اور احادیث مبارکہ میں بہت ہی اہمیت
بیان کی گئی ہے اور بہت سے اعمال تو ایسے ہیں اگر ان میں ریاکاری ہو تو وہ قبول نہیں
ہوتے تو اخلاص ان میں ضروری اور اخلاص سے عمل کا ثواب بھی بڑھ جاتا ہے ۔
(1) پچھلے گناہوں کی بخشش : حضرت
ابوہریرہ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے
رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و
اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب
قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مشکوۃ
المصابیح ، کتاب الصوم ،الفصل الاول حدیث 1860 ، صفحہ 146 )
(2) بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا :نبی
پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل
خیانت نہیں کرتا(1) خالص اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنا(2) حکمرانوں کے خیر خواہی (3)
مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا ۔(سنن ابن ماجہ کتاب السنۃ باب بلغ علما 151 ، حدیث
230 )
(3) اخلاص اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے :
حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ اللہ الکبیر فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعال علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ اللہ نے ارشاد فرمایا اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز
ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں ۔( نسائی کتاب الجھاد
باب الاستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث 3175 )
(4) زبان پر حکمت کے چشمے :نبی
پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بندہ 40 دن خالص رضا الہی کے لیے
عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشم جاری ہو جاتے ہیں ۔( الزھد
لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث 1014)
(5) قبولیت عمل :امیرمومنین حضرت سیدنا
علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ تعالی فرماتے ہیں قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت
عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا
اَخْلِصِ العملَ یُجْزیک منہ القیل اخلاص
کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔( نوادر الاصول
، الاصل السادس ، 1 ، ص 44 ، حدیث 45 )
علی
رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اخلاص اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ایک راز ہے۔اخلاص کی
حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے محض اللہ کی قربت کا طالب ہو۔اخلاص ایک ایسی کیفیت ہے جو عمل کو اہمیت بخشتی ہے اور
عمل کی قبولیت کیلئے نہایت ضرورت کی حامل ہے۔ اخلاص کی سادہ تعریف یہ ہے کہ کسی بھی
نیک عمل میں محض اللہ کی رضا کا ارادہ کرلینا اور اور اس کو اسی کی رضا کے ساتھ سر
انجام دینا۔
(1)تین چیزوں
میں خیانت نہ کرنا:روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے:الله اس بندے کو ہرا بھرا رکھے جو میرا کلام سنے اسے یاد
رکھے خیال رکھے اور پہنچا دے کیونکہ بہت سے فقہ اٹھانے والے خود غیر فقیہ ہیں
اور بہت لوگ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھاتے ہیں مسلمانوں کا دل تین چیزوں پر خیانت
نہیں کرتا اللہ کے لیے عمل خالص کرنا مسلمانوں کی خیرخواہی اور ان کی جماعت
کو لازم پکڑنا کیونکہ ان کی دعا ماسوا کو شامل ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح
جلد:1 ، حدیث نمبر:228)
(2)پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں: روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو
ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں
اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے
جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے
گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
(مشکوٰۃ
المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
(3)اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اخلاص کرنا:
دو جہاں کے تاجور، سلطان بحروبر صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ اللہ
عزوجل کے لیے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو ، کیونکہ اللہ عزوجل ہی عمل قبول
فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص سے کیا جاتا ہے۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الطھارت، باب النیتہ، الحدیث، 130 ، ج ١، ص 73)
(4)عمل قبول کرتا ہے: شفیع
روز شمار ، دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان
ہے۔ اللہ عزوجل وہی عمل قبول فرماتا ہے۔ جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے
لیے کیا جاتا ہے۔ (سنن النسائی،
کتاب الجھاد، الحدیث: 3142 ، ص 2290 )
(5)اخلاص
والا عمل قبول ہوگا: سرکار والا تبار، بے کسوں کے مددگار صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے۔ اے لوگو! اللہ عزوجل کے لیے اخلاص کے
ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اس کے لیے اخلاص کے ساتھ
کیے جاتے ہیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عزوجل اور رشتہ داری
کی وجہ سے کیا ہے۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الطہارت، باب النیتہ، الحدیث، 130،
ج ١، ص73)
اخلاص دینِ اسلام کی اساس اور عبادات کی روح ہے۔ بندہ جب
اپنے تمام اعمال، اقوال اور نیتوں میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنا لیتا ہے
تو اس کا عمل خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اللہ کے نزدیک عظیم قدر و قیمت اختیار
کر لیتا ہے۔ اخلاص دل کو ریا، نمود و نمائش اور خود غرضی سے پاک کرتا ہے اور بندے
کو خلوصِ نیت کے ساتھ حق پر قائم رکھتا ہے۔ بغیر اخلاص کے بڑے سے بڑا عمل بھی بے
وزن ہو جاتا ہے، جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا چھوٹا عمل نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہی
وجہ ہے کہ اخلاص کو تمام اعمال کی قبولیت کی کنجی قرار دیا گیا ہے۔
اخلاص کا مفہوم :انسان اپنی ہر عبادت اور
نیک عمل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود بنائے، نہ لوگوں کی تعریف مطلوب ہو
اور نہ شہرت کی خواہش دل میں ہو۔ مخلص بندہ اپنے اعمال کو خالصتاً اللہ کے لیے
انجام دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل قبولیت اسی نیت سے وابستہ ہے۔
اخلاص کی اہم علامت : انسان
کا ظاہر اور باطن یکساں ہو وہ تنہائی میں بھی ویسا ہی عمل کرے جیسا لوگوں کے سامنے
کرتا ہے۔ جب بندے کا دل، نیت اور عمل ایک ہی رخ پر ہوں اور اس کے افعال میں دکھاوا
یا دو رُخی نہ ہو، تو یہی حقیقی اخلاص کہلاتا ہے۔
اصلاح، اخلاص اور اعمال کی قبولیت :حضرت
ابو ہریرہ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و قیمت اس کے ظاہری حسن،
شکل و صورت یا مال و دولت سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل اہمیت اس کے دل کی کیفیت اور اس
کے اعمال کی ہوتی ہے۔ جس کا دل پاک، نیت خالص اور عمل نیک ہو وہ اللہ کے ہاں قابلِ
قبول ہے، چاہے وہ ظاہری اعتبار سے کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم، كتاب
البر والصلۃ والادب، رقم : 6543)
اس حدیث پاک سے
اخلاص کی اہمیت کو جانتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی کے ہاں اخلاص کی کس قدر اہمیت
ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمربیان کرتے ہیں :آپ ﷺ نے فرمایا کہ
پچھلے زمانے میں تین آدمی سفر میں تھے۔ رات کے وقت بارش اور اندھیرے سے بچنے کے لیے
وہ ایک پہاڑی غار میں داخل ہوئے۔ اچانک پہاڑ سے ایک بڑی چٹان گری اور غار کا منہ
بند ہو گیا۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اب عام تدبیر سے نجات ممکن نہیں، اس لیے انہوں
نے آپس میں مشورہ کیا کہ صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے خالص نیک اعمال کا وسیلہ دے کر
دعا کی جائے۔پہلے شخص نے اللہ کے حضور اپنی دعا میں عرض کیا کہ وہ اپنے بوڑھے والدین
کی بے حد خدمت کرتا تھا۔ ایک دن دیر سے گھر آیا تو والدین سو چکے تھے۔ اس کے بچے
بھوک سے رو رہے تھے مگر اس نے والدین کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ ہی ان سے
پہلے کسی اور کو دودھ پلایا۔ وہ ساری رات دودھ لے کر والدین کے سرہانے کھڑا رہا یہاں
تک کہ صبح ہوئی۔ اس نے عرض کیا کہ اگر یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس
مصیبت سے نجات دے۔ اس دعا سے چٹان کچھ ہٹ گئی، مگر راستہ ابھی مکمل نہ کھلا۔دوسرے
شخص نے دعا کی کہ وہ اپنے چچا کی بیٹی سے بہت محبت کرتا تھا اور ایک موقع پر گناہ
کا ارادہ بھی کر بیٹھا، مگر جب وہ عورت اللہ کا خوف دلا کر رک گئی تو اس نے اپنی
خواہش پر قابو پا لیا، حالانکہ وہ شدید رغبت رکھتا تھا، اور جو رقم دی تھی وہ بھی
واپس نہ لی۔ اس نے اللہ سے دعا کی کہ اگر اس نے یہ سب صرف اللہ کی رضا کے لیے
چھوڑا تھا تو نجات عطا فرمائے۔ اس دعا سے چٹان مزید سرک گئی، لیکن اب بھی نکلنے کی
جگہ پوری نہ بنی۔تیسرے شخص نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اس نے ایک مزدور کی
اجرت محفوظ رکھ کر تجارت میں لگا دی تھی۔ وقت کے ساتھ وہ رقم بہت زیادہ ہو گئی۔ جب
مزدور واپس آیا تو اس نے پوری جمع شدہ دولت بغیر کسی کمی کے اس کے حوالے کر دی۔ اس
نے دعا کی کہ اگر یہ عمل خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے تھا تو ہمیں اس مصیبت سے نجات
دے۔ اس دعا کے نتیجے میں چٹان پوری طرح ہٹ گئی اور تینوں افراد بحفاظت غار سے نکل
آئے۔ (بخاری،کتاب الانبیاءباب حدیث الغار،2/464حدیث :3465)
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے
کہ خالص نیت سے کیے گئے نیک اعمال، والدین کی خدمت، گناہ سے بچنا اور امانت و دیانت
داری اللہ کے ہاں بہت قدر و قیمت رکھتے ہیں، اور ایسے اعمال سخت ترین حالات میں بھی
اللہ کی مدد کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اخلاص کی تعریف: ہر نیکی، عبادت یا عمل
صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا، بغیر ریا، شہرت یا دنیاوی فائدے کی نیت کے۔ یہ
دل کی ایسی کیفیت ہے جو عمل کو خالص بناتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اخلاص کے
بارے ارشاد فرماتا ہے : اَلَا
لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ
ہی کی بندگی ہے۔ ( پارہ 23،سورۃالرمز،آیۃ
3)
رسوائی سے بچ گیا: منقول
ہے کہ ایک شخص عورتوں کی شکل و صورت بنا کر نکلتا اور جہاں شادی یا مرگ کی وجہ سے
عورتیں جمع ہوتیں وہاں جاتا ،ایک دن اتفاق سے وہ عورتوں کے مجمع میں گیا وہاں کسی
عورت کا ایک موتی چوری ہوگیا تو لوگوں نے شور مچایا کہ دروازہ بند کردو تا کہ ہم
تلاشی لیں ،وہ ایک ایک کی تلاشی لے رہے تھے یہاں تک کہ اس شخص کی اور اس کے ساتھ
ایک عورت کی باری آگئی،اس شخص نے اخلاص کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دعا کی:اے اللہ
عَزَّ وَجَلَّ!اگرآج میں اس رُسوائی سے بچ گیاتوآئندہ کبھی ایسا کام نہیں کروں
گا۔چنانچہ وہ موتی اس عورت کے پاس سے برآمد ہوگیا توانہوں نے بآوازِ بلند
کہا:ہمیں موتی مل گیا ہے اب عورتوں کی تلاشی نہ لی جائے۔ (احیاء علوم حصہ 5 صفحہ
نمبر 261)
امیر
المومنین حضرت سیدنا على رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قلت عمل کی فکر نہ کرو بلکہ
قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی
الله عنہ سےفرمايا: اخلص العمل جری عند
القليل یعنی اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل
بھی تمہیں کافی ہو گا۔ (نوادر الاصول، الاصل السادس، 44/1، حدیث: 45 ، بتغیر قلیل)
اخلاص ایک
راز ہے :حضرت سیدنا حسن بصری علیہ الرحمۃ الله القوى فرماتے ہیں:
رسول اللہ صل اللهُ تَعَالٰی عَلَيْہ وَسَلَّمِ نے ارشاد فرمایا الله عزوجل ارشاد
فرماتا ہے: اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے
دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ (فردوس الاخبار، 145/2 ، حدیث : 4539)
اخلاص
کے ذریعے مدد :حضرت سیدنا مصعب بن سعد رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں :
میرے والد ماجد حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال
دار صحابہ پر فضیلت حاصل ہے تو مصطفے جان رحمت صلی اللہ تَعَالٰی علیہ وَالہ وسلم
نے ارشاد فرمايا: اللہ تعالیٰ نےاس امت کی ان کے ناتوانوں، ان کی دعاء اخلاص اور
نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے۔(نسائی، کتاب الجهاد، باب الستنصار بالضعيف، ص518 ،
حدیث: 3175)
اخلاص ایسا وصف ہے کہ جس کے فوائد و ثمرات بہت زیادہ ہیں
جن کا تعلق دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص جیسی نعمت
عطا فرمائے آمین۔
عبد
المنان (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی، لاہور، پاکستان)
عبادت کوئی
بھی ہو اس میں اخلاص نہایت ضروری چیز ہے یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے عمل کرنا
ضرور ہے۔ دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے، بلکہ حدیث میں ریا کو شرک
اصغر فرمایا اخلاص ہی وہ چیز ہے کہ اس پر ثواب مرتب ہوتا ہے، ہوسکتا ہے کہ عمل صحیح
نہ ہو مگر جب اخلاص کے ساتھ کیا گیا ہو تو اس پر ثواب مرتب ہو مثلاً لاعلمی میں
کسی نے نجس پانی سے وضو کیا اور نماز پڑھ لی اگرچہ یہ نماز صحیح نہ ہوئی کہ صحت کی
شرط طہارت تھی وہ نہیں پائی گئی مگر اس نے صدقِ نیت اور اخلاص کے ساتھ
پڑھی ہے تو ثواب کا ترتب ہے یعنی اس نماز پر ثواب پائے گا مگر جبکہ بعد میں معلوم
ہوگیا کہ ناپاک پانی سے وضو کیا تھا تو وہ مطالبہ جو اس کے ذمہ ہے ساقط نہ ہوگا،
وہ بدستور قائم رہے گا اس کو ادا کرنا ہوگا۔
1)) گناہوں کی بخشش : روایت ہے حضرت ابوہریرہ
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے
رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و
اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب
قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
شرح حدیث
:احتساب حسبٌ سے بنا،بمعنی
گمان کرنا اور سمجھنا،احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان
اور اخلاص جمع ہوجائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
((2 اخلاص کا کلمہ :روایت
ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے
اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا الہ
الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله
اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ
الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔
شرح حدیث
:لاالہ الا الله سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس
کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا
اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو
مفید ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:3 ، حدیث نمبر:2322)
(3) اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ24)
(4)اس کے لیے خوش خبری ہے:حضرت
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو اپنی
عبادت اور دعا کو اللہ پاک کے لیے خالص رکھتا ہے، اس کی آنکھیں جو بھی دیکھیں وہ دیکھنا
اس کے دل کو مشغول نہیں کرتا اور اس کے کان جو سنیں وہ سننا اسے اللہ پاک کا ذکر
نہیں بھلاتا اور دوسروں کو عطا کی گئی نعمتیں اسے غمگین نہیں کرتیں۔(اخلاص اور نیت،ص،10،مکتبہ افکار رضا)
(5)مقبول عمل قلیل نہیں ہوتا:حضرت
عبد خیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا فرمان
عالیشان ہے : تقویٰ کے ساتھ کیا گیا کوئی عمل قلیل نہیں ہوتا اور جو مقبول ہو جائے
وہ بھلا قلیل کیسے ہو سکتا ہے۔(اخلاص اور نیت،ص،10،مکتبہ
افکار رضا)
ذیشان
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو، کی لاہور،پاکستان)
اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے
اخلاص کا حکم :جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری
ہو اس کا یقینی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ پاک ناراضگی اور عذاب کا سبب ہے جو
عمل خالصتا اللہ پاک کے لیے ہوگا تو وہ رضا الہی اور اجر و ثوابطہ سبب ہے ۔
(1) مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت
نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لئے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور (3)
(مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ ، باب من بلغ
علما، 1/151 ، حدیث : 230)
(2) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل
ارشاد فرماتا ہے : اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں
کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ ( فردوس الاخبار ، 2/ 145 ، حدیث: 2539)
(3) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد : حضرت
سیدنا مصیب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں : میرے والد ماجد حضرت سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت
حاصل ہے تو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے
اس امت کی ان ناتوانوں ، ان کی دعا ، اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی۔ ( نسائی
، کتاب الجہاد ، باب الستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث: 3175)
(4) قبولیت عمل کی فکر : امیر
المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : قلت
عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے
ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( نوادر الاصول ،
الاصل السادس ، 1/44، حدیث: 45 )
(5) حکمت کے چشمے : حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ 40 دن خالص رضائے الٰہی کے لئے عمل
کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ ( الزھد
لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث: 1014 )
گجرات، پنجاب (22 جون 2026ء) :
22 جون 2026ء کو شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں
دعوتِ اسلامی کے تحت پنجاب، پاکستان کے شہر گجرات میں
ڈویژن ذمہ داران کا ایک اہم مدنی مشورہ منعقد ہوا جس میں بالخصوص نگرانِ شعبہ غلام الیاس عطاری اور صوبائی ذمہ دار محمد
اقبال عطاری نے شرکت کی۔
اس مدنی مشورے کا مقصد ڈویژن ذمہ داران سمیت ناظم الامور
اسلامی بھائی سے شعبے کے مختلف دینی کاموں کا جائزہ لینا اور اُن میں مزید بہتری
کے آئندہ کے اہداف طے کرنا تھا جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
ارسلان
حسن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان )
(1) مومن کا دل خیانت نہیں کرتا : حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت
نہیں کرتا (1) خالص اللہ کے لئے عمل کرنا (2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور (3)
(مسلمانوں کی) جماعت کو لازم پکڑنا ۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب السنۃ ، باب من بلغ
علما، 1/151 ، حدیث : 230)
(2) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بصری رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ عزوجل
ارشاد فرماتا ہے : اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں
کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔ ( فردوس الاخبار ، 2/ 145 ، حدیث: 2539)
(3) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد : حضرت
سیدنا مصیب بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میرے والد ماجد حضرت سیدنا
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گمان ہوا کہ انہیں مال دار صحابہ پر فضیلت
حاصل ہے تو مصطفیٰ جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے اس
امت کی ان ناتوانوں ، ان کی دعا ، اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی۔ ( نسائی ،
کتاب الجہاد ، باب الستنصار بالضعیف ، ص 518 ، حدیث: 3175)
(4) قبولیت عمل کی فکر : امیر
المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں : قلت
عمل کی فکر نہ کرو بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے
ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔ ( نوادر الاصول ،
الاصل السادس ، 1/44، حدیث: 45 )
(5) حکمت کے چشمے : حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بندہ 40 دن خالص رضائے الٰہی کے لئے عمل
کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔ ( الزھد
لابن المبارک ، باب فضل ذکر اللہ ، ص 359 ، حدیث: 1014 )
فیضان
حیدر (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان )
اِخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ25)
اخلاص کا حکم: جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری
ہو اس کا یقینی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ پاک کے ناراضی اور عذاب کا سبب ہے جو
عمل خالصتا اللہ پاک کے لیے ہوگا تو رضا الہی اور اجر و ثواب کا سبب ہے۔
(احیاء العلوم ،279/5)
(1)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہےسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری
شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ
وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و
الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)
(2)رات سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا: سونے کے بعد اٹھ کر عبادت کرنا
دن کی نماز کے مقابلے میں زبان اوردل کے درمیان زیادہ مُوافقت کا سبب ہے اور اس
وقت قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور سمجھنے میں زیادہ دل جمعی حاصل ہوتی ہے کیونکہ
وہ وقت سکون اور اطمینان کا ہے، شورو غُل سے امن ہوتا ہے ،کامل اخلاص نصیب ہوتا
ہے، ریا کاری اور نمود و نمائش کا موقع نہیں ہوتا۔( خازن، المزمل، تحت الآیۃ: 6،
4 / 322، ابن کثیر، المزمل، تحت الآیۃ: 6، 8/ 264)
(3)اخلاص کے ساتھ عمل کرنا: حضور
نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:اخلاص
کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے ۔(نوادرالاصول،الا
صل السادس، 1 /67،حدیث:46)
(4)سب کچھ ملعون ہے : حضرت
سیدنا ابو دردا رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے
اس چیز کے جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہی جائے۔(جہنم میں لے جانے والے اعمال صفحہ:709)
اللہ پاک ہمیں ان حدیثوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے امین ۔
Dawateislami