اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔

اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(1)حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل السادس، ۱ / ۴۴، حدیث: ۴۵)

(2)حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی نےسے روایت ہے نبی کریم نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نماز قائم کی اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ اس سے راضی تھا۔(المستدرک کتاب التفسیر باب خطبتہ النبی فی حجتہ الوداع رقم 330 ج 3 ص 65)

(3)حضرت سیدنا ابو عمران رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیں نبی کریم نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا۔(مستدرک کتاب الرقائق رقم 9147 جلد 5صفحہ 235)

(4)حضرت سیدنا مسعد بن سعب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاق کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔(نسائی ، کتاب الجھاد باب الاستنصار بالضعیف جلد 6 صفحہ 45 بتغیر قلیل)

(5)حضرت سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے کہ میں شریک سے پاک ہوں لہذا جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ میرے شریک کے لیے ہے اے لوگو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ تعالی صرف اخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اعمال کوہی قبول کرتا ہے۔(مجمع الزوائد کتاب الزہد باب ماجاء فی الریا، رقم 17653جلد 10 )

(6)حضرت سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے سوائے اس چیز کے کہ جس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہی جائے۔(مجمع الزوائد کتاب الزہد باب ما فی الریا رقم 17659جلد 10 صفحہ 381 )


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کا مقصد حیات نیک اعمال کے زریعے اپنے رب کریم کی رضا کا حصو ل ہے، جسے یہ نعمت نصیب ہو گئی وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو گیا، اللہ (عزوجل) اس عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جو عمل اس کے غیر کے لیے کیا جائے وہ نا مقبول ہے کس عمل میں اخلاص ہے اور کونسا عمل اخلاص سے خالی ہے؟ یہ جاننے کے لیے نیت کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔

بعض بزرگوں نے فرمایا اخلاص یہ ہے کہ تیرے عمل پر سوائے اللہ (عزوجل) کے اور کوئی مطلع نہ ہو اور نہ ہی اس میں تیرے نفس کو دخل ہو بلکہ یہ عقیدہ ہو کہ اللہ (عزوجل) کی مہربانی ہے کہ اس نے تجھے اپنی عبادت کا اہل بنایا اور تجھے اپنی عبادت کی توفیق بخشی اب اس سے عبادت کا اجر و ثواب اور بدلہ بھی طلب نہیں کرنا چاہیے صرف اللہ عزوجل کی رضا مقصود ہو اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ۔(روح البیان، پ ٣ البینہ ،تحت الآیۃ:٥، ١٠ /٤٨٨)

تاجدار مدینہ منورہ ،سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا : بروز قیامت کچھ مہر بند صحیفے اللہ (عزوجل) کی بارگاہ میں نصب (پیش) کئے جائیں گے تو اللہ (عزوجل) فرشتوں کو فرمائے گا :یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو فرشتے عرض کریں گے :یا رب (عزوجل) تیری عزت کی قسم! ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ، اللہ (عزوجل) جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا :یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لیے کئے گئے تھے ۔(دار قطنی ،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ١ / ٧٣ ،حدیث : ١٢٩)

انسان کو مدد الہی اس کے اخلاص کے مطابق ملتی ہے، جس کے نیک اعمال میں جتنا زیادہ اخلاص ہو گا اسے اتنی ہی زیادہ مدد الہی نصیب ہو گی نیت کی وجہ سے اعمال اچھے یا برے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں اور اچھی نیت کی وجہ سے انسان کو کبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرورت ملتی ہے ۔(ریاض الصالحین، ج، 1 :ص:32)

اللہ پاک اخلاص کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)


کسی بھی کام میں اخلاص روح کی حیثیت رکھتا ہے جیسے جسم روح کے بغیر کچھ نہیں ہے ایسے ہی عمل بھی اخلاص کے بغیر کچھ نہیں ہے ۔

اِخلاص کی تعریف:‏ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ25)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پارہ30، سورۃ البینہ، آیت نمبر: 05)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:‏حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

(2)اِخلاص کاحکم:کسی عمل میں فقط اِخلاص ہونے یااس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اَعمال کی تین صورتیں ہیں:

(1) جس عمل سے مقصود صرف ریاکاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (2) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوگا تو وہ رِضائے الٰہی اور اجرو ثواب کا سبب ہے۔ (3) جوعمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریاکاری اور نفسانی اَغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں: اگر رِضائے اِلٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہو ں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہوگا نہ ہی عذاب اوراگر ریاکی قوت زیادہ ہوتو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رِضائے اِلٰہی کا جتنا عنصر ہوگا اتنا عذاب میں کمی ہوجائے گی اوراِس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگاجو خالص ریاکاری کے ساتھ ہواور جس میں رِضائے اِلٰہی بالکل نہ ہو اور اگر رِضائے اِلٰہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہوگا اُسی قدر ثواب زیادہ ہوگااور جتنا ریا ہوگا اتنا ثواب کم ہوجائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26،27)

اِخلاص پیدا کرنے کے گیارہ (11)طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے :‏کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں: اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔ (اتحاف السادۃ المتقین،کتاب النیۃ و الاخلاص، الباب الاول فی النیۃ، 13 / 20)

(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت(خوش حالی) اور تنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔(منہاج العابدین، صفحہ 445ماخوذا)

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:‏نفس لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔

(6)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:‏عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں، لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

(7)اپنی نیکیوں کو چھپائیے :‏کہ نیکیوں کا چرچا ہی نفس کوریاکاری، حب مدح اور طلب شہرت جیسی باطنی بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے جو اخلاص کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہیں، بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِیْن بھی اپنی نیکیوں کو چھپایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت سیدنا تمیم داری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں عرض کی گئی:’’رات میں آپ کی نماز کی کیفیت کیا ہوتی ہے؟‘‘آپ اس بات سے سخت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! رات کا ایک حصہ چھپ کر نماز پڑھنا مجھے بہت محبوب ہے اس بات سے کہ میں ساری رات نماز ادا کروں، پھر لوگوں میں اسے بیان کرتا پھروں۔(الزھد لاحمد بن حنبل ،اخبار عبد اللہ بن عمر، صفحہ215، رقم:1106)

اسی طرح حضرت سیدنا ابو بکر مروزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’میں چار ماہ حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں رہا، آپ نہ تو رات کا قیام چھوڑتے، نہ ہی دن کی قراءت چھوڑتے، اس کے باوجود اُسے چھپا لیا کرتے۔(صفۃ الصفوۃ،احمد بن محمد بن حنبل، جلد2 /صفحہ 223، رقم:262)

(8) اِخلاص کے فضائل کو پیش نظر رکھیے:اِخلاص کے ساتھ عمل کرنا مومن کی نشانی ہے۔جو بندہ چالیس دن خالص رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اُس کے دل سے اُس کی زبان پر حکمت کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔جو شخص خالص رِضائے الٰہی کے لیے عمل کرتا ہے وہ شیطان کے مکروفریب سے بچ جاتاہے۔ اِخلاص کے ساتھ مانگی جانے والی دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔بعض بزرگانِ دِین کے نزدیک اِخلاص کے ساتھ کیا جانے والا عمل ستر حج سے بڑھ کر ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں:’’خلوت میں اِخلاص کے ساتھ دو رکعت پڑھنا ستر یا سات سو اَحادیث عالی سند کے ساتھ لکھنے سے بہتر ہے۔‘‘ایک بزرگ فرماتے ہیں: ’’گھڑی بھر کے اِخلاص میں اَبدی نجات ہے۔‘‘ اخلاص نیکیوں پر اُبھارتا ہے۔( اِحیاء العلوم،جلد5 ، صفحہ 256 تا263ماخوذا)

(9)مخلص کی تعریف کا علم حاصل کیجئے:کیونکہ جب اس بات کا علم ہی نہیں ہوگا کہ مخلص کسے کہتے ہیں تو خود کیسے مخلص بنیں گے؟ حضرت سیدنا یعقوب مکفوف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی علیہ فرماتے ہیں: ’’مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسے چھپائے جیسے اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے۔‘‘حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: سعادت مند ہے وہ شخص جس کا ایک قدم بھی صحیح ہوجائے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی اور کی نیت نہ ہو۔(احیاء العلوم، جلد5، صفحہ 260ملخصاً)

حضرت سیدنا ابو علی دقاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: ’’اخلاص مخلوق کی نگاہوں سے بچنے کا نام ہے۔‘‘حضرت سیدنا ذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اخلاص کی علامت یہ ہے کہ بندے کے لیے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف اور مذمت دونوں ایک جیسی ہوں۔(الرسالۃ القشیریۃ، باب الاخلاص، صفحہ243 ماخوذا)

(10)اِخلاص نہ ہونے کے اُخروی نقصانات پر غور کیجئے:مثلاً کل بروزِ قیامت ایسے اَعمال منہ پر ماردیے جائیں گے جو اِخلاص کے ساتھ نہ کیے ہوں گے، چنانچہ کل بروزِ قیامت ایک شہید سے فرمایا جائے گا کہ تونے اس لیے قتال کیا تاکہ تجھے بہادر کہا جائے، سو تجھے کہہ لیا گیا، ایک عالم سے فرمایا جائے گا کہ تونے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے، تجھے قاری کہا جائے، سو تجھے کہہ لیا گیا، ایک مال دار سے فرمایا جائے گا کہ تو نے اس لیے مال خرچ کیا تاکہ تجھے سخی کہا جائے سو تجھے کہہ لیا گیا، پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قاتل للریا والسمعۃ استحق النار، ص1055، حدیث: 1905)

(11)اخلاص سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے:حضرت سیدنا سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اخلاص یہ ہے کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا سب خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو۔حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْوَلِی فرماتے ہیں: ’’اخلاص یہ ہے کہ فقط خالق کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔‘‘ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘ فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے۔‘‘(احیاء العلوم، جلد5 /صفحہ 271 تا 274ملتقطا، الرسالۃ القشیریۃ، باب الاخلاص، صفحہ 244)(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ29تا33)

اللہ پاک ہمیں اپنے ہر عمل میں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے اور اپنا مخلص بندہ بننے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔


اسلام میں اعمال کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے، اور نیت کی روح اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال، عبادات اور نیک کام صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو تھوڑے سے عمل کو بھی بہت بڑا بنا دیتی ہے، جبکہ اخلاص کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں بے وزن ہو جاتا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں اخلاص کی بڑی تاکید آئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص نیت کے ساتھ کیا جائے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا۔(سورہ انعام 162)

تفسیر صراط الجنان:وَ مَحْیَایَ:اور میرا جینا۔ یہاں جو فرمایا گیا وہ حقیقتاً ایک مومن زندگی کی عکاسی ہے کہ مسلمان کا جینا، مرنا، اور عبادت و ریاضت سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے ہونا چاہیے۔ زندگی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے کاموں میں اور جینے کا مقصد اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دین کی سربلندی ہو۔ یونہی مرنا حالت ِ ایمان میں ہو اور ہوسکے تو کلمۂ حق بلند کرنے کیلئے ہو۔ یونہی عبادت کا شرکِ جلی سے پاک ہونا تو بہرحال ایمانیات میں داخل ہے، عبادت شرک ِ خفی یعنی ریاکاری سے بھی پاک ہو اور خالصتاً اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا و خوشنودی کیلئے ہو۔

(1)نیت کا معیار:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى۔ترجمہ:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح البخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)

یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے اور اسلام کی مشہور ترین احادیث میں سے ہے۔

(2)اللہ اخلاص ہی قبول فرماتا ہے:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا مگر وہی جو خالص اسی کے لیے ہو اور اس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن النسائی: 3140)

(3)تھوڑا مگر خالص عمل:رُبَّ عَمَلٍ صَغِيرٍ تُعَظِّمُهُ النِّيَّةُترجمہ:بسا اوقات چھوٹا عمل نیت کی وجہ سے بڑا ہو جاتا ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی)

یہ حدیث اخلاص کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔


اخلاص کا مطلب ہے ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا اخلاص کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا اخلاص انسان کے اعمال میں سچائی اور پاکیزگی پیدا کرتا ہے مخلص انسان ریاکاری اور دکھاوے سے بچتا ہے۔ اخلاص ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے۔ اخلاص سے انسان کے معمولی اعمال بھی بڑے بن جاتے ہیں۔ مخلص شخص اللہ کی مدد اور برکت کا مستحق بنتا ہے اخلاص انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہےاخلاص معاشرے میں محبت اور اعتماد پیدا کرتا ہے۔کامیاب زندگی کے لیے اخلاص نہایت ضروری ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)

سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہرایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و تَعَالٰی ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔ رسول کریم ص ﷺ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)


اخلاص انسانی زندگی کی وہ عظیم صفت ہے جو اعمال کو روح، کردار کو وقار اور نیت کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔ اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرے، وہ سچے دل، صاف نیت اور کسی دکھاوے یا ذاتی مفاد کے بغیر انجام دے۔ اسلام میں اخلاص کو اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، کیونکہ نیت کی درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں اخلاص پر غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔

جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عمل کی قدر و قیمت نیت کے اخلاص سے طے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صرف ظاہری شکل و صورت کو نہیں بلکہ دلوں کے ارادوں کو دیکھتا ہے۔ اسی لیے اگر نیت میں ملاوٹ ہو تو بہترین عمل بھی بے اثر ہو جاتا ہے۔

عبادت میں اخلاص انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات اسی وقت روحانی سکون اور اجر کا سبب بنتی ہیں جب وہ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جائیں۔ اگر عبادت ریاکاری، شہرت یا لوگوں کی تعریف کے لیے کی جائے تو وہ عبادت نہیں بلکہ ایک اخلاقی بیماری بن جاتی ہے۔ اخلاص انسان کے دل کو صاف کرتا ہے اور اسے عاجزی، انکساری اور تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

معاشرتی زندگی میں بھی اخلاص کی بڑی اہمیت ہے۔ اخلاص سے کی گئی بات دل میں اتر جاتی ہے اور اخلاص سے کیا گیا عمل اعتماد کو جنم دیتا ہے۔ استاد کی تعلیم، والدین کی تربیت، دوستوں کی نصیحت اور رہنماؤں کی قیادت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس میں اخلاص شامل ہو۔ بے اخلاص رویے معاشرے میں بداعتمادی، نفرت اور منافقت کو فروغ دیتے ہیں، جب کہ اخلاص محبت، اتحاد اور اخوت کا سبب بنتا ہے۔

اخلاص انسان کے کردار کو مضبوط بناتا ہے۔ ایک مخلص شخص مشکل حالات میں بھی سچائی کا دامن نہیں چھوڑتا۔ وہ تعریف یا تنقید سے بے نیاز ہو کر حق کا ساتھ دیتا ہے۔ اخلاص انسان کو صبر، استقامت اور قربانی کا حوصلہ عطا کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے فائدے کے بجائے اعلیٰ مقصد کو سامنے رکھتا ہے۔

آج کے دور میں، جہاں دکھاوا اور مفاد پرستی عام ہو چکی ہے، اخلاص کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا، سیاست اور کاروبار میں اکثر ظاہری نمائش کو کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں پائیدار کامیابی اخلاص ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جو کام اخلاص کے ساتھ کیا جائے، وہ دیرپا اثر رکھتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص نہ صرف عبادات کو قبولیت بخشتا ہے بلکہ انسانی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ ایک مخلص انسان اللہ کا بھی محبوب بنتا ہے اور بندوں کا بھی۔ اگر ہم اپنی نیتوں کو خالص کر لیں تو ہماری زندگی مقصدیت، سکون اور برکت سے بھر سکتی ہے۔

اخلاص اسلام کی بنیادی روح ہے۔ ہر نیک عمل کی قبولیت کا دار و مدار اخلاصِ نیت پر ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ ﷺ میں بار بار اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔ بغیر اخلاص کے عبادات اور نیک اعمال محض ظاہری شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ان کی کوئی حقیقی قدر باقی نہیں رہتی۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ

ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(سورۃ البینہ: 5)یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنز العرفان: سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔ (سورۃ الزمر: 3) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جو خالصتاً اسی کے لیے ہو۔

رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان ہے:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (بخاری،کتاب بدالوحی باب کیف کام بدالوحی الی رسول اللہ صلی علیہ وسلم حدیث 1)

یہ حدیث اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ نیت میں اخلاص نہ ہو تو عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم کتاب البر والصلۃ ولاداب باب تحریم ظلم المسلم و خذ لہ واحتیقارہ حدیث 2564)

أَخْلِصْ عَمَلَكَ يَكْفِكَ الْقَلِيلُترجمہ:اپنا عمل خالص کر لو، تھوڑا عمل ہی تمہیں کافی ہو جائے گا۔(شعب الإيمان للبيهقي باب الاخلاص وانیۃ حدیث 6483)

إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكَ الْأَصْغَرَ» قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الرِّيَاءُ

ترجمہ :بیشک مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! چھوٹا شرک کیا ہے؟فرمایا: ریاکاری۔ (مسند أحمد بن حنبل مسند محمود بن لبید رضی اللہ عنہ حدیث 23630)

اور ان میں وہ شخص بھی ہے جو صدقہ کرے تو اسے اس قدر چھپائے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دایاں ہاتھ کیا خرچ کر رہا ہے۔یہ حدیث دل کی صفائی اور نیت کی سچائی پر زور دیتی ہے۔

عبادات کے ساتھ ساتھ معاملات میں بھی اخلاص نہایت ضروری ہے۔ اخلاص انسان کو ریاکاری، منافقت اور دھوکے سے بچاتا ہے۔ ایک مخلص انسان سچائی، دیانت اور انصاف کو اپنا شعار بناتا ہے۔ اخلاص سے کیا گیا عمل تھوڑا بھی ہو تو اللہ کے ہاں عظیم اجر رکھتا ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص وہ روشنی ہے جو انسان کے ہر عمل کو قیمتی بنا دیتی ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق جو شخص اپنے اعمال کو اخلاص سے مزین کر لیتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔

اخلاص اسلام کی روح اور اعمال کی جان ہے۔ قرآن و حدیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عمل کی ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔ بغیر اخلاص کے عبادات محض رسم بن جاتی ہیں اور نیک اعمال ریاکاری میں بدل جاتے ہیں۔ ایک مخلص انسان ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے، چاہے دنیا اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ اخلاص انسان کو ثابت قدم، سچّا اور باکردار بناتا ہے۔ اگر افراد اپنی نیتوں کو خالص کر لیں تو معاشرہ خود بخود اصلاح کی راہ پر آ سکتا ہے۔ آج کے مادہ پرست دور میں اخلاص ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو دکھاوے، مفاد پرستی اور منافقت سے نجات دلا سکتی ہے


اخلاص کا مطلب ہے کہ انسان ہر عبادت اور نیک عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، اس میں ریاکاری، دکھاوا یا دنیاوی فائدے کی نیت شامل نہ ہواسلام میں اخلاص کو اعمال کی روح قرار دیا گیا ہے، کیونکہ بغیر اخلاص کے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ: آیت نمبر 5)

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ(۴۰) ترجمہ کنزالایمان: مگر جو اللہ کے چنے ہوئے بندے ہیں ۔(سورۃ الصافات: آیت نمبر 40)یعنی اخلاص والے بندے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔

عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَویترجمہ :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، حدیث نمبر 1907)

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:أَلَا إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ

ترجمہ:خبردار! اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی، حدیث نمبر 3140)

کم عمل پر زیادہ اجر:اخلاص کے ساتھ کیا گیا تھوڑا سا عمل بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا بن جاتا ہے۔

دل کا سکون اور اطمینان :مخلص انسان کا دل مطمئن رہتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کے بجائے اللہ سے اجر کی امید رکھتا ہے۔

قبولیتِ دعا:اخلاص کے ساتھ کی گئی دعا جلد قبول ہوتی ہے۔

انبیاء اور صالحین کا وصف:تمام انبیاء علیہم السلام اور اولیاء اللہ کا سب سے نمایاں وصف اخلاص تھا۔

اخلاص پیدا کرنے کے طریقے:ہر عمل سے پہلے نیت کی اصلاح،لوگوں کی تعریف یا مذمت کی پروا نہ کرنا،تنہائی میں نیک اعمال کی عادت ،موت اور آخرت کو یاد رکھنا،اللہ سے اخلاص کی دعا کرنا،اخلاص کے بغیر عبادت بے روح ہےاور اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہےاللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام اعمال میں خالص نیت عطا فرمائے آمین۔


ہر چیز میں ملاوٹ ممکن ہے جب وہ ملاوٹ سے پاک اور خالی ہو تو اسے خالص کہتے ہیں اور جس فعل سے وہ عمل صاف ہوتا ہے اس کو اخلاص کہتے ہیں۔جب کوئی کام ریاء سے خالی ہو اور رضائے الٰہی کے لئے ہو تو وہ خالص ہوتا ہے۔چنانچہ الله پاک کا فرمان ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(پ 30، سورہ البینہ، آیت: 5)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا۔ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ الخ، ص: 1387، رقم الحدیث: 34 (2564)

حضرت یزید رقاشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ہم شہرت حاصل کرنے کیلئے اپنے اموال دیتے ہیں، کیا ہمیں اس کا کوئی اجر ملے گا؟ تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی اسی عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص اس کیلئے کیا جائے۔(در منثور، سورة الزمر، زیر آیت:03، ج 8، ص 211)

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: الله عز وجل فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے ، جو میں نے اپنے ان بندوں کے دلوں میں بطور امانت رکھا ہے جن سے مجھے محبت ہے۔(فردوس الاخبار للديلمي ، باب القاف، رقم الحديث: 439 ج 2، ص 145)

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے، اور ریاکاری کی نحوست سے بچائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔


اخلاص کی مختصر وضاحت:اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے کاموں کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، اور اس میں کسی دوسرے کی رضا یا منفعت کا خیال نہ کرے، اور نہ ہی اس کا مقصد دنیا کی کوئی چیز ہو بلکہ اس کا مقصد صرف اللہ تعالٰی کی محبت اور رضا ہو۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ30، البینہ: 5)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

(1) حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)

(2) عنْ اُمِّ الْمُؤمِنِیْنَ اُمِّ عَبْدِاللہِ عَائِشَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہَاقَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْزُوْجَیْشٌ اَلْکَعْبَۃَ فَاِذَا کَانُوْا بِبَیْدَائَ مِنَ الْاَرْضِ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم قَالَتْ:قُلْتُ یَارَسُوْلَ اللہِ!کَیْفَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم وَفِیْہم اَسْوَاقُہم وَمَنْ لَیْسَ مِنْہم قَالَ یُخْسَفُ بِاَوَّلِہم وَاٰخِرِہم ثُمَّ یُبْعَثُوْنَ عَلٰی نِیَّاتِہم ۔ اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’ایک لشکر کعبہ معظمہ پرحملہ کرے گاجب وہ ’’بَیْدَاء ‘‘کے مقام پرپہنچے گاتوانکے اگلے پچھلے سب کوزمین میں دھنسا دیا جائے گا،اُمُّ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :’’میں نے عرض کی، یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انکے اگلے پچھلے سب کیسے دھنسادئیے جائیں گے حالانکہ ان میں سے بعض تودکاندار ہوں گے اورکچھ ان لشکریوں میں سے نہ ہوں گے؟فرمایا:انکے اول وآخرکودھنسادیاجائے گاپھروہ اپنی اپنی نیتوں پراٹھائے جائیں گے۔(بخاری،کتاب البیوع،باب ماذکرفی الاسواق 2/24حدیث:2118)

(3) عنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم: إِنَّ اللہَ لَا یَنْظُرُ إِلٰی أَجْسَامِِکُمْ وَلَا إِلٰی صُوَرِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ إِلٰی قُلُوْبِکُمْ ۔حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔( مسلم، کتاب البر والصلۃ والاداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ، ص 1387، حدیث: 2564)

اخلاص پیدا کرنے کے چند طریقے:

(1) دعا: اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اخلاص کی توفیق دے۔(2)نیت کی تصحیح: اپنی نیت کو پاک کریں اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کام کریں۔(3)ریاکاری سے بچنا:ریاکاری سے بچنے کے لیے اپنے کاموں کو خفیہ رکھیں۔(4)اللہ تعالیٰ کا خوف: آخرت پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونے کا احساس کریں۔(5)آخرت کی فکر:آخرت کے لیے فکر مند رہنے سے انسان کے اندر اخلاص پیدا ہوتا ہے ۔(6)صبر و استقامت:دنیا میں آنے والی مشکلات پر صبر رکھیں اور سنجیدگی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ (7)قرآن و حدیث کا مطالعہ:قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے سے انسان کے اندر خوف خدا اور عشق مصطفیٰ پیدا ہوتا ہے جس سے انسان اخلاص کا درس سیکھتا ہے ۔(8)صالحین کی صحبت: صالحین کی صحبت اختیار کریں اور ان سے اخلاص سیکھیں۔(9)نفس کی اصلاح:اپنے نفس کی اصلاح کریں اور اس کو پاک کریں۔(10)اللہ تعالیٰ کی محبت: اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے دل میں رکھیں اور اس کے لیے کام کریں ۔

اخلاص کے مقاصد :

(1) اللہ تعالیٰ کی رضا:اخلاص کا اصلی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔(2) دوزخ سے نجات: حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بجا آوری اخلاص سے کرنے سے ان شاءاللہ بروز آخرت دوزخ سے نجات حاصل ہوگی۔(3)روحانی سکون:اخلاص انسان کو روحانی سکون دیتا ہے اور اس کے دل کو پاک کرتا ہے۔(4) دوسروں کی محبت:جو شخص دوسروں کے ساتھ مخلص ہوتا ہے تو اللہ پاک اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے ۔(5)دنیاوی مشکلات میں آسانی: اخلاص انسان کی دنیاوی مشکلات کو بھی آسان کر دیتا ہے۔ (6)آخرت کی کامیابی: اخلاص کے ساتھ اللہ پاک کی عبادت اور دین متین کی خدمت کرنے سے انسان کو آخرت میں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔

اخلاص ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اپنے کاموں کو مخلص انداز سے کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ اور ہمیں اپنے کاموں کو اخلاص کے ساتھ کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں ۔


اِخلاص کی تعریف:‏ کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)

اخلاص کی اصطلاحی تعریف: اخلاص سے مراد یہ ہے کہ اپنے تمام اقوال، اعمال اور نیتوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خالص کر لے، ان میں کسی قسم کی ریاکاری، دکھاوا یا غیر اللہ کی چاہ شامل نہ ہو۔

اسلام میں اعمال کی قبولیت کا اصل مدار اخلاص پر ہے۔ اخلاص کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے ہر قول، فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصود رکھے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اخلاص کو دین کی بنیاد اور روح قرار دیا ہے، کیونکہ بظاہر نیک عمل بھی اگر خلوصِ نیت سے خالی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کوئی قدر نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَی یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(بخاری: 01 مسلم: 1907)

یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ عمل کی ظاہری صورت نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت نیت اصل چیز ہے، اور یہی نیت عمل کو مقبول یا مردود بناتی ہے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ یعنی اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس کے ذریعے اس کی رضا طلب کی جائے۔(سنن نسائی: 3140)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اخلاص کے بغیر کوئی بھی عبادت یا نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔

اخلاص کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ بندہ تنہائی اور جلوت دونوں میں ایک جیسا رہے، تعریف و تنقید کو برابر سمجھے اور عمل کے بعد بھی خود کو اللہ کے حضور محتاج جانے۔ سلفِ صالحین نیک اعمال کو چھپانے کی بھرپور کوشش کرتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خفیہ عبادت اخلاص کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاص ہی وہ روح ہے جو عبادات کو زندہ اور مؤثر بناتی ہے۔ بغیر اخلاص کے اعمال محض جسم ہیں جن میں روح نہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل کا محاسبہ کرے، اپنی نیتوں کو درست رکھے اور ہر عمل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، تاکہ اس کی عبادات اور نیکیاں بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ حاصل کر سکیں۔


اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰، البینہ: ۵)

اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل السادس، ۱ / ۴۴، حدیث: ۴۵)

عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ، وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ اِلَیْہِ۔

ترجمہ :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْی الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)

اخلاص پیدا کرنے کے 5طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے :‏کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘ (اتحاف السادۃ المتقین،کتاب النیۃ و الاخلاص، الباب الاول فی النیۃ، ۱۳ / ۲۰)

لہٰذا خود کو اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔

(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں ۔(منہاج العابدین، ص۴۴۵ماخوذا۔)

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(5)خلوت و جلوت میں یکساں عمل کیجیے:‏نفس لوگوں کے سامنے تو مشقت سے بھرپور عبادت کرنے پر رضامند ہوجاتا ہے کیوں کہ اِس طرح اُسےشہرت، تعریف اور واہ واہ جیسے میٹھے زہر ملتے ہیں، لیکن تنہائی میں رِضائے الٰہی کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اُس کے نفس پر نہایت گراں ہے۔خلوت و جلوت کا یہ تضاد بندے کے عمل سے اِخلاص کو ختم کردیتا ہے۔ لہٰذا اپنے اَعمال میں اخلاص پیدا کرنے کے لیے خلوت وجلوت دونوں میں رضائے الٰہی کی نیت سے خشوع وخضوع کے ساتھ نیک اَعمال بجا لائیے۔


اخلاص کی تعریف : اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے عمل خالص کر لینا ، جس میں شہرت، دکھاوا (ریاکاری) یا کسی دنیاوی فائدے کا شائبہ تک نہ ہو۔

(1) تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى"ترجمہ:اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔( صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 1؛ صحیح مسلم، کتاب الامارۃ، حدیث نمبر: 1907)

(2) اللہ تعالیٰ دلوں اور نیتوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"ترجمہ:اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ ( صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: 2564 (صفحہ نمبر 1211، جلد 4)

(3) دکھاوے کا عمل شرکِ اصغر ہے:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله قال: الرِّيَاءُ"ترجمہ:مجھے تم پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے، صحابہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری (دکھاوا)۔( مسند احمد، حدیث نمبر: 23630 جلد 5، صفحہ 428)

(4)خالص عمل کی قبولیت:حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ"ترجمہ:اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔( سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 3140 جلد 6، صفحہ 25)

(4) اخلاص پر اجر کی بشارت:نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا"ترجمہ:تم جو بھی خرچ کرو گے اور اس سے تمہارا مقصد اللہ کی رضا ہوگا، تو تمہیں اس پر اجر دیا جائے گا۔( صحیح بخاری، کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 1295 جلد 2، صفحہ 81)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ جو کچھ سنا ہے یا سیکھا اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔