فیضانِ مدینہ، کراچی میں اسپیشل پرسنز کی خلیفۂ
امیرِ اہلسنت کے ساتھ ملاقات
فیضانِ مدینہ، کراچی:
گزشتہ روز دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں منعقدہ
تقریب کے دوران اسپیشل پرسنز نے خلیفۂ امیرِ
اہلسنت حضرت مولانا ابو اُسید حاجی عبید
رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی سے ملاقات کی۔
اس موقع
پر خلیفۂ امیرِ
اہلسنت حضرت مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ
العالی نے وہاں موجود تمام اسپیشل
پرسنز کو دعاؤں سے نوازا اور انہیں تحائف دیئے جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
واضح رہے یہ تقریب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے
والے افراد بالخصوص اسپیشل پرسنز کے درمیان
رابطوں کو مضبوط بنانے اور ان کی عزت افزائی کے لیے منعقد کی گئی۔
دور حاضر میں
ہر طرف جہالت کا اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ خود ساختہ رسومات اور لا علمی کی وجہ سے جو
معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اس سے اللہ پاک کی پناہ۔ جہاں مسلمانوں کو عروج کی
طرف جانا چاہیے تھا وہاں مسلمان دن بدن تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ وجہ صرف اور صرف
علم دین کی کمی ہے۔ دور حاضر فتنوں کا دور ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہرمسلمان ہوا
مرد ہو یا عورت دین کی دعوت و تبلیغ کےذریعے گوشے گوشے میں حق کا پیغام پہنچائے۔
اللہ پاک قرآن
پاک میں فرماتا ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ
هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ
اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷) (پ 14، النحل: 97) ترجمہ: جو اچھا کام
کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جلائیں گے اور ضرور
انہیں ان کا نیگ دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے لائق ہو۔
جیسا کہ
دیکھنے میں آتا ہے مرد تو دین کا کام کر رہے ہیں کبھی قافلوں میں سفر کر کے یہ
بیانات کی صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا خواتین دین کا کام کیسے کریں؟
اس سوال کا
جواب ہماری پیاری تحریک سنتوں بھری تحریک دعوت اسلامی ہمیں بتاتی ہے کہ خواتین دین
کا کام کیسے کریں؟
انفرادی
کوشش: نئی
نئی اسلامی بہنوں پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے انہیں مدنی ماحول سے منسلک کیجیے
معلمہ مبلغہ اور مدارسہ بنا کر دعوت اسلامی کا مدنی کام بڑھائے۔وہ اسلامی بہنیں جو
پہلے آتی تھی مگر اب نہیں آتیں بالخصوص ان پر انفرادی کوشش کر کے انہیں مدنی ماحول
سے دوبارہ وابستہ کیجئے جیسا کہ امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: دعوت
اسلامی کا 99 فیصد کام انفرادی کوشش سے ممکن ہے۔
گھر
درس: گھر
میں دینی ماحول بنانے کے لیے اور گھر والوں کو علم دین کی طرف لانے کے لیے کم از
کم دن میں ایک بار درس فیضان سنت دینے یا سنانے کی ترکیب بنائیں۔
سعادت
ملے درس فیضان سنت کی روزانہ دو مرتبہ
یا الہی
بیان
یا مدنی مذاکرہ: اسلامی
بہن روزانہ انفرادی طور پر تمام گھر والوں کو جمع کر کے امیر اہل سنت کے سنتوں بھرے
بیانات اور مدنی مذاکرے اور دیگر مبلغین کے سنتوں بھرے بیانات ضرور سنائے۔تربیتی
حلقے میں ماہانہ مدرسۃ المدینہ (بالغات) میں ہفتہ وار جامعۃ المدینہ (للبنات) میں
روزانہ سنتوں بھرا بیان یا مدنی مذاکرہ سنے۔
مدرسۃ
المدینہ (بالغات): فی ذیلی حلقہ کم از کم ایک مدرسۃ المدینہ کا اہتمام
کیجئے۔
ہفتہ
وار سنتوں بھرا اجتماع: ہفتے کا کوئی ایک دن مقرر کر کے ذیلی حلقہ ؛حلقہ
علاقہ یا شہر سطح پر باپردہ جگہ میں ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع کیجیے دن اور وقت
مخصوص رکھیے۔
مدنی
دورہ: ہفتے
کا کوئی ایک دن مقرر کر کے جگہ بدل بدل کر مدنی دورے کے ذریعے نیکی کی دعوت کی
سعادت حاصل کیجیے کم از کم سات اسلامی بہنیں اپنی ذیلی حلقے یا حلقے کے اطراف میں (پردے کی احتیاط کے ساتھ) گھر گھر جا کر ایک
گھنٹہ 12 منٹ مدنی دورے کی ترکیب بنائیں۔ اسلامی بہنیں اپنے تمام تر کاموں سے فارغ
ہو کر اذان مغرب سے پہلے اپنے گھر پہنچ جائیں۔
ماہانہ
تربیتی حلقہ: مہینے
کا کوئی ایک دن مقرر کر کے ڈویژن سطح پر تربیتی حلقے کی ترکیب کیجیے۔تربیتی حلقے
کے لیے باپردہ جگہ دن اور وقت مخصوص رکھیے۔مدنی پھولوں میں دیے گئے جدول کے مطابق
ترکیب بنائی جائے۔
دین اسلام کی
خدمت کا شرف ایک نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ دین کے لیے کاوشیں، کوششیں جتنی بھی کی
جائے اتنی کم ہیں۔دین کی خدمت کرنا،دین سیکھنا،سکھانا اور اسے آگے لوگوں تک
پہنچانا ایک نہایت اہم امر ہے، جس کی بناء پر ہم اللہ تبارک وتعالیٰ اور رسول اللہ
ﷺ کی خاص توجہ میں آنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
آج کے دور میں
جہاں مرد حضرات دین اسلام کی خدمت کر رہے ہیں،کبھی دوسرے شہر میں جا کر،کسی گاؤں
میں جا کر دوسرے ممالک میں جا کر دین پھیلا رہے ہیں،وہیں دوسری جانب عورتیں بھی
دین کا کام کر سکتی ہیں اور کرتی ہوئی نظر بھی آتی ہیں۔ دین کا کام عورتوں کے لیے
اس دور میں جہاں مشکل نظر آتا ہے کہ عورت گھر سے باہر کیسے جائے گی جس طرح دوسری
عورتوں کو دین کی دعوت دے گی وہاں دوسری طرف سوشل میڈیا کے مثبت استعمال نے یہ کام
عورتوں کے لیے بے حد آسان کر دیا ہے۔
اگر کسی عورت
کو باہر جانا کسی شہر، کسی گاؤں میں جانا منع ہے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تو
وہ اللہ و اس کے حبیب ﷺ کی رضا کے لیے گھر میں ٹھہری رہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے
سوشل میڈیا پہ اسلامی بہنوں کو دین کی دعوت دے، درود و سلام کی دعوت دے، درود و
سلام پڑھنے اور لکھنے کی دعوت دے،مختلف اسلامی شارٹ کورسز کروائے۔ قرآن پاک کی
تلاوت کا شوق دوسروں تک دلوں میں منتقل کرے، قرآن کریم کے فضائل و برکات بتا بتا
کر دوسروں کے دلوں میں قرآن کریم کی تلاوت کا شوق اور دوبالا کرے۔سنتیں سکھائے اس
پر عمل کرنے کی ترغیب دلائے۔ یہ سب کچھ ممکن ہو گا اگر ایک عورت کا نظریہ یہ ہو گا
کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کی اسلامی بہنوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ ان شا ء
اللہ
سوشل میڈیا کے
ذریعے دین کی دعوت کچھ اس طرح سے بھی دی جا سکتی ہے آپ ایک گروپ بنائیں اسلامی
بہنوں کا اس میں اپنے جاننے والی اسلامی بہنوں کو ایڈ کیجیے اور پھر ایسے دین کی
دعوت کا سلسلہ شروع کیجیے ایسے مزید اسلامی بہنیں دوسری اسلامی بہنوں کو ایڈ
کرواتی جائے اور دین کی دعوت کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
عورتوں کی
اصلاح کرنا ایک نہایت پاکیزہ عمل ہے عورتوں کو دین کی طرف لانا عورتوں کو پردے و
حیا کا درس دینا۔ اس پر عمل کروانا، روزانہ کی بنیاد پر مدینے والے آقا جان ﷺ کی
ایک ایک سنت سکھانا اس پر عمل کی نیتیں کروانا،پھر ان سے کارکردگی وصول کرنا۔ درود
پاک کا ایک ٹارگٹ دینا چاہے وہ 313، 500، 700، 1200 یا جتنا بھی آپ نیکی کی دعوت
کی نیت سے دینا چاہے درود و سلام کے فضائل و برکات بتا کر انہیں درود پاک کی طرف
لانا اور ٹارگٹ مکمل کرنے کی ترغیب دینا۔
ایسے ان میں
مزید جذبہ پیدا ہو گا۔ ان شا ء اللہ
دین اسلام کی
دعوت کو دوسری عورتوں تک پہنچانے کے لیے ہر دن کوشاں رہنا ہے ان شاء اللہ اور اللہ
پاک سے دعا کرتے رہیے اللہ پاک ہمیں استقامت عطا فرما! ہم دین کا کام کریں ہمارے
لیے آسانیاں پیدا فرما پھر ایک دن وہ دن بھی آئے گا ان شا ء اللہ جب یہ قافلہ بڑا
ہو گا اور ہر طرف عورتوں کو نیکی کی دعوت پہنچانے میں عورتیں کامیاب ہو جائیں گی
پردہ میں رہ کر۔ ان شا ء اللہ
اللہ پاک ہمیں
خوب ہر طرف دین اسلام کی دعوت کو پھیلانے میں کامیاب فرمائے۔ آمین
اسلام میں
خواتین کو بہت عزت اور مقام دیا گیا ہے۔ دین کی خدمت صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں
بلکہ خواتین بھی اس میدان میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر عورت نیک نیت اور
اخلاص کے ساتھ دین کا کام کرے تو وہ اپنے گھر، خاندان اور معاشرے میں مثبت تبدیلی
لاسکتی ہے۔
سب سے پہلے
خواتین کو چاہیے کہ وہ خود دین کا صحیح علم حاصل کریں۔ قرآن مجید کا ترجمہ اور
تفسیر پڑھیں، حدیث کا مطالعہ کریں اور مستند علما سے رہنمائی لیں۔ علم کے بغیر دین
کا کام کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے سیکھنا بنیادی قدم ہے۔ جب علم حاصل ہو جائے تو
اپنے عمل کو درست کریں، کیونکہ اچھا کردار سب سے بڑی دعوت ہے۔
خواتین اپنے
گھروں سے دین کا کام شروع کر سکتی ہیں۔ بچوں کی اسلامی تربیت، نماز کی عادت ڈالنا،
سچائی اور اچھے اخلاق سکھانا بہت بڑی خدمت ہے۔ ایک ماں اپنی اولاد کو نیک بنا دے
تو یہ پورے معاشرے کی اصلاح کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح خاندان کی خواتین کو نرمی
اور محبت کے ساتھ دین کی بات سمجھائی جا سکتی ہے۔
آج کے دور میں
خواتین سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی دین کی صحیح معلومات پھیلا
سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ حیا اور حدود شرعی کا خیال رکھیں۔ درس و تدریس، دینی حلقوں
میں شرکت اور فلاحی کاموں میں حصہ لینا بھی دین کی خدمت کے طریقے ہیں۔
علم
دین حاصل کرنا: سب
سے پہلے قرآن و حدیث کا علم حاصل کریں۔ دینی کتب کا مطالعہ کریں اور مستند علما سے
رہنمائی لیں۔ علم کے بغیر تبلیغ مؤثر نہیں ہوتی۔
اپنے
گھر سے آغاز کرنا: اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سکھائیں، نماز اور
اخلاق کی تربیت دیں۔ گھر کا ماحول دینی بنانا بھی بہت بڑی خدمت ہے۔
حسن
اخلاق کا مظاہرہ: اچھا
کردار خود ایک دعوت ہے۔ سچائی، صبر اور نرمی سے پیش آنا لوگوں کو دین کی طرف مائل
کرتا ہے۔
خواتین
کی محفلیں اور دروس: خواتین آپس میں دینی نشستیں رکھ سکتی ہیں جہاں قرآن
کی تلاوت اور اس کی سمجھ بوجھ حاصل کی جائے۔
سوشل
میڈیا کا مثبت استعمال: آج کے دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے اسلامی پیغام،
آیات، احادیث اور اچھی نصیحتیں شیئر کی جا سکتی ہیں، لیکن پردہ اور شریعت کی حدود
کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ضرورت
مندوں کی مدد: صدقہ
و خیرات، بیماروں کی تیمارداری اور محتاجوں کی مدد بھی دین کی خدمت ہے۔
خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت منیر حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
دین اسلام کی
تبلیغ و اشاعت مردوعورت دونوں کی یکساں ذمہ داری ہے اور ہر مرد و عورت کو چاہیے کہ
وہ دین اسلام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق پیارے آقا ﷺ کے
اندازِ زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے دین کا کام کریں۔ معاشرے میں مرد کی نسبت عورت
کا کردار زیادہ اہم ہوتاہے۔
دین کا کام
کرنے کے لیے بنیادی اور سب سے اہم چیز علم ہے، فی زمانہ تعلیم ایک عورت کیلئے اس
کی زندگی کے مختلف گوشوں میں کام آتی ہے مگر یہ بھی یادرہے کہ صرف عصری علوم پر اکتفا
کرنا اور ان میں اپنی مہارت وصلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئےکسی اچھے عہدے پر فائز
ہونا ہی روشن مستقبل کی ضمانت نہیں بلکہ عورت اگر بیٹی کی حیثیت سےکسی کی لخت جگر
ہے تو کل اسی نے کسی کی شریک حیات بھی بننا ہے، بیوی کے بعد ماں کاکردار نبھاکر
اولاد کی تربیت بھی کرنی ہے، پھر اچھی بہو اور ایک اچھی ساس کی حیثیت سے بھی زندگی
بسر کرنی ہے تو صرف عصری علوم کے حصول سے ہی ایک عورت اپنی یہ ذمہ داریاں اچھی طرح
نہیں نبھا سکتی بلکہ اس کو ایک اطاعت گزار بیوی،خدمت گزار بہواور ایک سلیقہ شعار
ماں بننے کیلئے دینی تعلیمات سے آشنا ہونا بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ ایک دینی تعلیم
یافتہ عورت اپنی اور اپنی اولاد،خاندان اور رفتہ رفتہ اصلاح معاشرہ کیلئے اہم
کردار ادا کرسکتی ہے۔
ماضی میں اس
کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ خواتین اسلام نے ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے
افراد کی اصلاح کیلئے اہم کردار ادا کیا۔خواتین کو چاہیے کہ وہ دنیاوی تعلیم کے
ساتھ ساتھ دین کا علم بھی حاصل کریں کہ دین کا علم حاصل کیے بغیر دین کا کام کرنا
ممکن ہی نہیں، اس لیے ضروری ہےکہ دین کا کام درست طریقے سے کرنے کے لیے علم دین
حاصل کیا جائے، خواتین دینی اداروں مثلاً جامعات مدارس وغیرہ سے اور آن لائن علم
دین حاصل کرسکتی ہیں، علم دین کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ خواتین
دعوت اسلامی کی تنظیمی ذمہ داریوں میں حصہ لے کر اپنی استطاعت کے مطابق دین کا کام
کریں جیسے گھر درس کے ذریعے گھر والوں کو نیکی کی دعوت دیں۔
ماں کی گود
بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے بالخصوص اگر ایک ماں دینی تعلیم یافتہ ہو، شریعت و سنت
کی عالمہ ہو،اچھے اخلاق وکردار کی جامع ہو تو وہ اولاد کو پیارے آقا ﷺ کا مبارک
اندازِ زندگی،صحابہ کرام اور بزرگان دین کے واقعات سنا کر اور آداب زندگی سیکھا کر،ان
کی اچھی تربیت کرکے انہیں معاشرے کا بہترین فرد بنا سکتی ہے۔ فرد سے معاشرہ بنتاہے
اس طرح خواتین نسلوں کی اسلامی طریقہ کے مطابق تربیت کرکے ایک اسلامی معاشرہ تشکیل
دیں اور اسلام کی تعلیمات عام کریں ـ یوں خواتین آنے والی نسلوں کی
اچھی تربیت کرکے ان کے ذریعے دین کی خدمت کا فریضہ انجام دیں۔
اس کے علاوہ
خواتین دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعات میں شریک ہوں اور دیگر اسلامی بہنوں
کو بھی نیکی کی دعوت دے کر ساتھ لے جائیں ـ اسلامی بہن
خود نیک اعمال کی عاملہ ہو اور دوسری اسلامی بہنوں کو بھی مدنی انعامات کے رسالے
کے مطابق عمل کرنے اور روزانہ رسالہ فل کرنے کا ذہن دیں ـخواتین
دعوت اسلامی کے آٹھ دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور نیکی کی دعوت خوب عام
کریں۔
درس
و تدریس کے ذریعے دین کی خدمت: خواتین قرآن کریم کی تعلیم دے کر بھی
دین کا کام کریں اور اس کا بہترین ذریعہ مدرسۃ المدینہ بالغات ہے کہ پہلے مدرسۃ
المدینہ میں داخلہ لے کر خود درست تلفظ سے قرآن کریم سیکھیں اور پھر دیگر اسلامی
بہنوں کو سکھائیں۔
سوشل
میڈیا کے ذریعے دین کی خدمت: خواتین اپنے گھروں میں مدنی چینل چلائیں
اور دیگر اسلامی بہنوں کو بھی اپنے گھروں میں مدنی چینل چلانے کی ترغیب دیں، اس کے
علاوہ خواتین آن لائن ہونے والے شارٹ کورسز میں خود بھی شرکت کریں اور سیکھ کر
دوسروں کو سکھائیں۔
عطیات
کے ذریعے دین کی خدمت: دعوت اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں کو آگے بڑھانے
دکھیارے مسلمانوں کی خیر خواہی کےلیے دعوت اسلامی کےلیے عطیات جمع کرنے کی مہم میں
خوب حصہ لیں اپنے عطیات دعوت اسلامی کو دیں اور دیگر اسلامی بہنوں کو بھی ترغیب
دیں۔
اللہ پاک ہمیں
اخلاص کے ساتھ دین اسلام کی خوب خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت طاہر حسین،جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
دین اسلام کی
خدمت صرف مردوں کی ہی نہیں بلکہ خواتین کی بھی اہم ذمہ داری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ
خواتین کس طرح دین کی خدمت کریں۔تو اس کے لیے ضروری ہے خو اتین پہلے خود دین کی
تعلیم حاصل کریں۔اور پھر اس پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کو بھی دین کی دعوت دیں۔ اس
دور میں ہماری پیاری تحریک دعوت اسلامی خواتین کو شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے
دین اسلام کی خدمت کے اہم مواقع فراہم کر رہی ہے۔
اسلامی
بہنوں کے دینی کام: ذیل میں چند دینی کام بیان کیے گئے ہیں جن کے ذریعے
اسلامی بہنیں بھی دین کی خدمت کا اہم فریضہ سر انجام دے سکتی ہیں۔
گھر
درس: دین
اسلام کی اشاعت کے لیے سب سے پہلا زینہ گھر ہی ہے۔ شیخ طریقت امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ کی چند کتب و رسائل کے علاوہ باقی تمام کتب وسائل بالخصوص فیضان
سنت سے گھر میں درس دینے کو تنظیمی اصطلاح میں گھر درس کہتے ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ 28، التحریم: 6) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے
گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
اپنے آپ کو
اور گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا ایک ذریعہ گھر درس بھی ہے۔ اس سے گھر
والوں کے عقائد کی درستگی کے ساتھ گھر میں مدنی ماحول بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
بیان
یا مدنی مذاکرہ: ایک
اہم دینی کام بیان یا مدنی مذاکرہ سننا بھی ہے۔ اسلامی بہنوں کو چاہیے کہ وہ ایک
ہر ہفتہ کو بعد نماز عشاء ہونے والے مدنی مذاکرے کو پابندی سے سنیں اور سوشل میڈیا
کے ذریعے اس کی دعوت خوب عام کریں کہ اس کی برکت سے ظاہر و باطن کی اصلاح ہوتی ہے۔
مدرستہ
المدینہ بالغات: دعوت
اسلامی کے مدنی ماحول میں روزانہ ذیلی حلقے میں بڑی عمر کی اسلامی بہنوں کو درست
مخارج سے قران کریم پڑھانے کا سلسلہ ہوتا ہے جس سے مدرستہ المدینہ بالغات کہتے
ہیں۔ پیاری اسلامی بہنوں قرآن کریم کو عربی لب و لہجے میں پڑھنے کا حکم کچھ یوں
ارشاد ہوا: قرآن کو عربی لب و لہجے میں پڑھو۔ (معجم اوسط، 5/247، حدیث:
7223)
مگر بد قسمتی
کے مخارج کی درستی کے ساتھ اب قرآن کریم پڑھنے والیاں بہت کم ہیں۔ لہذا اسلامی
بہنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا تلفظ درست کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اسلامی بہنوں
کو درست قرآن کریم پڑھانے کی بھرپور کوشش کریں۔
ہفتہ
وار اجتماع میں شرکت: اس کے علاوہ اسلامی مہینے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت
کر کے نیکی کی دعوت اور انفرادی کوشش کا کام کر سکتی ہیں۔ ارشاد نبوی ہے: نیکی کی
طرف رہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔ (اسلامی بہنوں کے آٹھ مدنی
کام، ص 11)
ہفتہ
وار رسالہ مطالعہ: دعوت اسلامی کی طرف سے ہر ہفتے ایک رسالہ پڑھنے کے
لیے دیا جاتا ہے جسے پڑھنے اور سننے والوں کو امیر اہل سنت دعاؤں سے نوازتے ہیں
لہذا اس رسالے کی دعوت خوب عام کریں،اپنے کانٹیکٹ میں موجود اسلامی بہنوں کو یہ
رسالہ سینڈ کیجیے تاکہ اس سے دینی اور دنیاوی فوائد حاصل کیے جا سکیں اور دین
اسلام کی تعلیمات عام ہو سکیں۔
ڈونیشن
جمع کرنا: اس
کے علاوہ اور بھی کئی طریقے ہیں جن کے ذریعے اسلامی بہنیں شریعت کی حدود کے اندر
رہتے ہوئے دین کی خدمت کر سکتی ہیں جیسا کہ اپنی پیاری تحریک دعوت اسلامی کے دینی
اور فلاحی کاموں کے لیے عطیات جمع کرنا اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلانا۔
اللہ پاک ہم
سب کو اخلاص کے ساتھ دین متین کا خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت محمد طارق،فیضان عائشہ صدیقہ مظفرپورہ سیالکوٹ
خواتین دین کے
کام میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، خاص طور پر آج کے دور میں جہاں معاشرتی
تبدیلیاں بہت تیزی سے ہو رہی ہیں۔ خواتین کو دین کے کام میں شامل کرنے کے کچھ
طریقے یہ ہیں:
1۔
تعلیم و تربیت: خواتین
کو دین کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے۔ انہیں قرآن و حدیث کی تعلیم دینی چاہیے تاکہ
وہ اپنے گھر والوں کو دین کی تعلیم دے سکیں۔
2۔
سماجی خدمات: خواتین
سماجی خدمات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکتی ہیں۔ انہیں غریبوں، یتیموں اور بیواؤں
کی مدد کرنی چاہیے۔
3۔
دعوت و تبلیغ: خواتین
اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور دوستوں کو دین کی دعوت دے سکتی ہیں۔ انہیں دین کی
باتیں بتانی چاہیے اور لوگوں کو دین کی طرف راغب کرنا چاہیے۔
4۔
تربیت اولاد: خواتین
اپنی اولاد کی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہیں اپنی اولاد کو دین
کی تعلیم دینی چاہیے اور انہیں اچھے اخلاق سکھانے چاہئیں۔
5۔
معاشرتی اصلاح: خواتین
معاشرتی اصلاح میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔ انہیں معاشرے میں پھیلی برائیوں کے خلاف
آواز اٹھانی چاہیے اور لوگوں کو اچھائی کی طرف راغب کرنا چاہیے۔
6۔
قرآن و حدیث کا درس: خواتین قرآن و حدیث کا درس دے سکتی ہیں اور لوگوں
کو دین کی تعلیم دے سکتی ہیں۔ انہیں اپنے گھر میں یا کسی مدرسے میں درس دینے کا
اہتمام کرنا چاہیے۔
7۔
اسلامی کتابوں کا مطالعہ: خواتین اسلامی کتابوں کا مطالعہ کر
سکتی ہیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ انہیں دین کی کتابیں پڑھنی چاہئیں
اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرنا چاہیے۔
8۔
دعا اور ذکر: خواتین
دعا اور ذکر میں وقت گزار سکتی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ سکتی ہیں۔ انہیں
اپنے گھر والوں کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔
9۔
معاشرتی مسائل کا حل: خواتین معاشرتی مسائل کا حل نکالنے میں مدد کر سکتی
ہیں۔ انہیں اپنے گھر اور پڑوس میں معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
10۔
تعلیمی ادارے قائم کرنا: خواتین تعلیمی ادارے قائم کر سکتی ہیں
جہاں بچیوں کو دین کی تعلیم دی جا سکے۔ انہیں تعلیمی اداروں میں بچیوں کو تعلیم
دینے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
11۔
تربیت اولاد میں مدد کرنا: خواتین اپنی اولاد کی تربیت میں مدد کر
سکتی ہیں اور انہیں دین کی تعلیم دے سکتی ہیں۔ انہیں اپنی اولاد کو اچھے اخلاق
سکھانے چاہئیں۔
یہ کچھ طریقے
ہیں جن سے خواتین دین کے کام میں شامل ہو سکتی ہیں۔ انہیں اپنے گھر والوں، پڑوسیوں
اور دوستوں کو دین کی تعلیم دینی چاہیے اور معاشرے میں اچھائی کو فروغ دینا چاہیے۔
خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت محمد شریف،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام میں
خواتین کو دین کی خدمت، تعلیم و تربیت اور اصلاح معاشرہ میں اہم مقام حاصل ہے۔
قرآن و سنت سے واضح ہوتا ہے کہ مرد و عورت دونوں کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی
سے روکنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
سب سے پہلے
نیت کی درستگی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا
لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ (پ 30، البینۃ:
5) ترجمہ: انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خالص اللہ کی عبادت کریں۔
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ دین کا ہر کام اخلاص کے ساتھ ہونا چاہیے۔
دوسرا اہم
اصول علم حاصل کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
(ابن ماجہ، 1/146، حدیث: 224)
خواتین کے لیے
ضروری ہے کہ وہ قرآن، حدیث، فقہ اور سیرت کا بنیادی علم حاصل کریں تاکہ صحیح
رہنمائی دے سکیں۔
قرآن کریم میں
خواتین کی دعوتی ذمہ داری واضح طور پر بیان ہوئی ہے: وَ
الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ
بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (پ 10، التوبۃ: 71) ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان
عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔
یہ آیت واضح
دلیل ہے کہ خواتین بھی دعوت و اصلاح کے کام میں شریک ہیں۔
خواتین کو
چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھر سے دین کا کام شروع کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا (پ 28، التحریم:
6) ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور
اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔
گھر کی تربیت
دین کا بنیادی میدان ہے۔ پردے اور حیا کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: وَ قَرْنَ فِیْ
بُیُوْتِكُنَّ (پ
22، الاحزاب: 33) ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو۔
اس آیت سے معلوم
ہوتا ہے کہ خواتین کا اصل مقام گھر ہے، البتہ ضرورت اور شرعی حدود کے ساتھ باہر
بھی دینی خدمت کی جا سکتی ہے۔
عملی طریقے
درج ذیل ہو سکتے ہیں:
خواتین کی
تعلیم کے حلقے قائم کرنا۔ قرآن کی تفسیر اور حدیث کی نشستیں منعقد کرنا۔ سوشل
میڈیا کے ذریعے دینی پیغام پہنچانا، لیکن شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے۔ بچوں کی
اسلامی تربیت پر توجہ دینا۔ اخلاق و کردار کے ذریعے دین کی عملی دعوت دینا۔
امہات
المؤمنین خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علم و فتویٰ میں نمایاں مقام
رکھتی تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت خدیجہ رضی
اللہ عنہا نے دعوت اسلام کے ابتدائی دور میں مالی و اخلاقی حمایت فراہم کی۔
نتیجہ یہ کہ
خواتین دین کا کام علم، اخلاص، حکمت، حیا اور صبر کے ساتھ کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے: اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ
رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (پ 14، النحل:
125) ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔
خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت محمد جمیل،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو مرد و عورت دونوں کو دین سیکھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے
آگے پہنچانے کی ترغیب دیتا ہے۔ عورت معاشرے کی بنیاد ہے، اگر عورت دین دار بن جائے
تو نسلیں سنور جاتی ہیں۔ اسی لیے خواتین کا دین کا کام کرنا نہایت اہم، ضروری اور
باعث ثواب ہے۔ لیکن یہ کام پردے، حیا اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔
سب سے پہلا
اور بنیادی کام علم دین حاصل کرنا ہے۔ جب تک خود کو دین کی صحیح سمجھ نہ ہو،
دوسروں کو دین کی طرف کیسے بلایا جا سکتا ہے؟ خواتین کو چاہیے کہ فرض علوم (عقائد،
نماز، روزہ، طہارت وغیرہ) سیکھیں۔ دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے مدنی کورسز، سنتوں
بھرے بیانات، اور اسلامی بہنوں کے اجتماعات اس سلسلے میں بہترین ذریعہ ہیں۔ گھروں
میں رہتے ہوئے بھی آن لائن بیانات اور مدنی چینل کے ذریعے علم حاصل کیا جا سکتا
ہے۔
دوسرا اہم کام
عمل کے ذریعے دعوت دینا ہے۔ عورت کا بہترین دعوتی انداز اس کا کردار ہوتا ہے۔
پردہ، حیا، نرم گفتگو، صبر، شکر، والدین کی خدمت، شوہر کی اطاعت اور بچوں کی اچھی
تربیت، یہ سب خاموش دعوت ہیں۔ جب ایک عورت سنتوں پر عمل کرتی ہے تو اس کے گھر والے
اور اردگرد کی خواتین خود بخود متاثر ہوتی ہیں۔
خواتین دین کا
کام گھریلو دائرے میں بہت مؤثر انداز سے کر سکتی ہیں۔ بچوں کو نماز، دعائیں، سیرت
مصطفیٰ ﷺ اور صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم کی زندگیاں سکھانا عظیم دینی خدمت ہے۔
اسی طرح بہنیں، کزنز، پڑوسنیں اور رشتہ دار خواتین کے ساتھ نرمی سے دینی بات کرنا
بھی دین کا کام ہے۔
دعوت اسلامی
نے اسلامی بہنوں کے لیے ایک محفوظ اور شرعی نظام فراہم کیا ہے۔ اسلامی بہنوں کے
ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات، نیکی کی دعوت، مدنی مشورے، اور فیضان سنت دروس
خواتین کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہیں۔ یہاں نہ بے پردگی ہے اور نہ غیر شرعی اختلاط،
بلکہ مکمل اسلامی ماحول میں دین کی خدمت کی جاتی ہے۔
خواتین سوشل
میڈیا کو بھی مثبت اور شرعی انداز میں استعمال کر سکتی ہیں۔ بغیر تصویر، بغیر غیر
محرم سے غیر ضروری گفتگو کے، اسلامی پیغامات، احادیث، اقوال بزرگان دین اور نیکی
کی دعوت شیئر کرنا بھی دین کی خدمت ہے، بشرطیکہ نیت درست ہو اور شریعت کے مطابق
ہو۔
امیر اہل سنت
دامت برکاتہم العالیہ بارہا ارشاد فرماتے ہیں کہ نیت کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔
دین کا کام شہرت، تعریف یا مقابلے کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہونا
چاہیے۔ خواتین کو چاہیے کہ عاجزی، اخلاص اور ادب کے ساتھ دین کی خدمت کریں اور ہر
قدم پر شریعت کی پابندی کریں۔
آخر میں یہ
بات یاد رکھنی چاہیے کہ عورت کا اصل میدان اس کا گھر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں
کہ وہ دین کا کام نہ کرے۔ بلکہ وہ گھر میں رہ کر، پردے میں رہ کر، اپنے اخلاق اور
علم کے ذریعے دین کی شمع روشن کر سکتی ہے۔ اگر خواتین دعوت اسلامی کے مدنی ماحول
سے وابستہ ہو جائیں تو ان شاء اللہ دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں گی۔
خواتین
دین کا کام کیسے کریں؟ از بنت سکندر خاور، جامعۃ المدینہ لطیف آباد حیدرآباد
خواتین معاشرے
کا حصہ ہیں اور معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اسلام میں عورت کو عزت، وقار،
تحفظ اور مقصد بھی دیا گیا ہے دین کی خدمت اور دین کا کام صرف مردوں تک محدود نہیں
بلکہ خواتین بھی اس میں اپنا حصہ اور اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خواتین علم،
تربیت، دعوت،اور خدمت خلق کے ذریعے دین کے کام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس کے متعلق
قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے: وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ
اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
(پ
10، التوبۃ: 71) ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں
بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔
مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ
اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةًۚ-وَ
لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۷) (پ 14،
النحل: 97) ترجمہ: جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو ضرور ہم اسے
اچھی زندگی جلائیں گے اور ضرور انہیں ان کا نیگ دیں گے جو ان کے سب سے بہتر کام کے
لائق ہو۔
خواتین اس
عظیم اور نیک کام میں یہ بات بھی پیش نظر رکھیں صحابیات اور ازواج مطہرات نے دین
کی دعوت دینے اور اس کی خدمت کے لئے بھر پور ساتھ دیا ہمیں بھی چاہیے کہ ان عظیم
ہستیوں کے دین کی خدمت اور دعوت کے واقعات یاد رکھیں اور ان کے طریقے کو اپنائیں۔
حضرت خدیجہ
رضی اللہ عنہا نے آغاز نبوت میں نبی کریم ﷺ کو حوصلہ دیا اور اپنا تمام مال دین کی
رہ میں خرچ کر دیا۔
دین کی رہ میں
مال خرچ کرنا بھی دینی خدمت ہے۔
حضرت عائشہ
صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہزاروں احادیث روایت کی خواتین کو خصو صی تعلیم دیتی تھیں۔
حضرت زینب بنت
جحش رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھ سے کام کرتی اور کثرت سے صدقہ و خیرات کرتی تھی۔
صدقہ کرنا دین
کی خدمت اور دعوت کا عملی نمونہ ہے۔
ایسے بہت سے
انداز ہیں جن کے ذریعے خواتین کے کام اور خدمات کر سکتی ہیں۔
علم
سیکھ کر آگے پہنچانا: خواتین درست تجوید و قوائد کے ساتھ قرآن کریم پرھنا
سیکھئے حدیث اور بنیادی فقہی مسائل سیکھئے اور احسن انداز میں دوسری خواتین کو بھی
سیکھا ئیں۔
گھر
کو دینی درس گاہ بنائیں: گھر میں نماز قرآن کریم کی تلاوت،
مسنون دعائیں سنتوں پر عمل اور گھر کے دوسرے افراد اور بچوں کو ترغیب دیں اچھے
اخلاق اور نرمی سے پیش آئیں گھر میں مدنی چینل اور مدنی مذاکرہ دیکھنے کی ترغیب
دیں۔
خواتین کے دینی اجتماعات میں شرکت: خواتین
اپنے علاقوں میں دعوت اسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار اجتماعات میں شرکت کر کے
وہاں ذمہ دار کا ساتھ دے کر دوسری خواتین کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دے کر بھی
دين کی خدمت کر سکتی ہیں۔
اچھے اخلاق سے دعوت: نرم لہجہ، صبر،
معافی، درگزر، حسن سلوک، رشتے داروں اور پڑوسیوں سے اچھا برتاؤ، بیمار پرسی، ضرورت
مندوں کی ضرورت پوری کر کے بھی دین کی خدمت کی جاسکتی ہے۔
دینی باتوں کی تحریر و شیئرنگ: موبائل
کے ذریعہ بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ مستند اقوال، آیات، احادیث لکھ کر یا کوئی
اچھی پوسٹ جس میں اسلام اور نیکی کے متعلق مستند بات ہو شئیر بھی کی جاسکتی ہے۔
مال کے ذریعے: راہ خدا میں
خرچ کر کے اپنے مال کے ذریعے ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کر کے یا کسی دینی
ادرے جہاں دین اسلام کی تعلیمات دی جاتی ہو وہاں ماہانہ رقم دے کر یا کچھ خرچ اپنے
ذمے لے کر بھی دین کا کام اور اسکی خدمات انجام دی جاسکتی ہیں۔
حضور
کی اصحاب بدر سے محبت از بنت عابد علی، جامعۃ المدینہ کرباٹھ گاؤں لاہور
غزوہ بدر میں
مسلمانوں نے جنگی سازو سامان نا ہونے کے باوجود بڑی بہادری سے کفار کا مقابلہ کیا
پیارے آقا ﷺ کو اصحاب بدر سے بہت محبت تھی۔
اللہ تعالیٰ
کے پیارے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے امید ہے جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک
تھے، ان میں سے کوئی بھی ان شاء اللہ جہنّم میں نہیں جائے گا۔ (1)
دعائے
نبوی: حضور
سرور عالم ﷺ اس نازک گھڑی میں جناب باری سے لو لگائے گریہ وزاری کے ساتھ کھڑے ہو
کر ہاتھ پھیلائے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ خداوند تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے آج
اسے پوار فرما دے آپ ﷺ پر اس قدر رقت اور محویت طاری تھی کی چادر مبارک دوش انور
سے گر پڑتی تھی مگر آپ کو خبر نہیں ہوتی تھی کبھی آپ سجدے میں سر رکھ کر اس طرح
دعا مانگنے الہی! اگر یہ چند نفوس ہلاک ہو گئے تو پھر قیامت تک روئے زمین پر تیری
عبادت کرنے والے نہ رہیں گئے۔ (2)
یہ آپ ﷺ کی
اصحاب بدر سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔
پیارے آقا ﷺ
نے ارشاد فرمایا: بے شک اﷲ کریم اہل بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ
تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنّت واجب ہو چکی ہے یا (یہ فرمایا) کہ میں
نے تمہیں بخش دیا ہے۔ (3)
مراٰۃ
المناجیح میں ہے: اصحاب بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں تو ان شاء اللہ قبول
ہوں۔ ( 5)
اللہ پاک ہمیں
اصحاب بدر کا صدقہ عطا فرمائے۔ آمین
حوالہ
جات
(1)ابن ماجہ، 4/508، حدیث: 4281
(2) سیرت ابن
ہشام، 2/627
(3) بخاری، 3/12،
حدیث:3983
غزوہ بدر 17
رمضان المبارک 2 ہجری کو پیش آیا، جو اسلام کی تاریخ کا پہلا اور عظیم معرکہ تھا۔
اس میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار مکہ کے لشکر میں 1000 افراد شامل تھے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح عطا فرمائی، جس سے اسلام کو طاقت اور عزت
ملی۔ یہ جنگ حق و باطل کے درمیان فرق کا دن تھا، جسے قرآن میں یوم الفرقان کہا گیا
ہے۔
اس غزوہ میں
مسلمانوں کی قیادت نبی کریم ﷺ نے کی، اور صحابہ کرام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ
کیا۔ کفار مکہ کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے، جن میں ابو جہل بھی شامل تھا۔ اس فتح سے
مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے اورمہاجر مدینہ میں ان کا مقام مضبوط ہوگیا۔ غزوہ بدر
اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے جو ایمان، قربانی اور اللہ کی نصرت کی عظیم مثال
ہے۔
حضور علیہ
السلام کی اصحاب بدر سے محبت ایک عظیم موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
اصحاب بدر وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور اسلام کی خاطر
اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ السلام نے ان سے بہت محبت فرمائی اور ان
کی فضیلت کو بیان فرمایا۔
حضور علیہ
السلام نے اصحاب بدر کی فضیلت اور محبت کو بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے:
اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر خصوصی نظر فرمائی اور فرمایا: تم جو اعمال چاہو کرو
میں نے تم کو بخش دیا۔ (بخاری، 2/312، حدیث: 3007) اس حدیث سے اصحاب بدر کی فضیلت
اور حضور علیہ السلام کی ان سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث
میں ارشاد ہے: میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو
گے ہدایت پاؤ گے۔ (مشکاۃ المصابیح،2/414، حدیث: 6018) اس حدیث سے اصحاب بدر کی
فضیلت اور حضور علیہ السلام کی ان سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضور علیہ
السلام نے اصحاب بدر سے بہت محبت فرمائی اور ان کی فضیلت کو بیان فرمایا۔ ایک
روایت میں ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: بدر والوں کو دیکھو، وہ تم میں
سے بہترین ہیں۔
حضور علیہ
السلام نے اصحاب بدر کی فضیلت کو بیان فرمایا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے: بدر میں
شریک ہونے والوں کو جنت کی بشارت ہے۔ (بخاری، 3/12، حدیث:3983) اس حدیث سے اصحاب
بدر کی فضیلت اور ان کے لیے جنت کی بشارت کا اندازہ ہوتا ہے۔
ایک اور حدیث
میں ارشاد ہے: بدر والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک خاص مقام تیار کیا ہے۔
اس حدیث سے اصحاب بدر کی فضیلت اور ان کے لیے جنت میں خاص مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضور علیہ
السلام کی اصحاب بدر سے محبت ایک عظیم موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
اصحاب بدر وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور اسلام کی خاطر
اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حضور علیہ السلام نے ان سے بہت محبت فرمائی اور ان
کی فضیلت کو بیان فرمایا۔ ہم بھی اصحاب بدر کی زندگی سے سبق لے سکتے ہیں اور اسلام
کی خاطر اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔
Dawateislami