قبروں کی زیارت کو جانا پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقۂ کار رہا ہےنیز نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارت کیا کرو“۔(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب استئذان النبی ربہ۔۔۔الخ، ص482، حدیث:977)

22 جون 2026ء کو سنتِ رسول پر عمل کی نیت سے خلیفۂ امیرِ اہلسنت مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے دیگر اسلامی بھائیوں کے ہمراہ صحرائے مدینہ، کراچی میں موجود اپنی مرحومہ زوجہ حافظہ امِ اُسید اور دیگر مرحومین کی قبور پر حاضری دی۔

اس موقع پر خلیفۂ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی نے مرحومہ کی قبر کے قریب بیٹھ کر فاتحہ خوانی پڑھی اور اُن کے لیےایصالِ ثواب کیا نیز مرحومہ سمیت دیگر مرحومین کے لیے دعا بھی کی۔


عالمی سطح پر دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت میں مصروفِ عمل تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام شہرِ قائد کے علاقے لانڈھی میں ایک عظیم الشان ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس روحانی اجتماع میں لانڈھی اور کورنگی سمیت پور ےشہر سے عاشقانِ رسول شرکت کریں گے۔

نگرانِ شوریٰ کا خصوصی بیان:

اجتماع کی سب سے اہم خصوصیت دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران، ممتاز مذہبی اسکالر مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کا خصوصی بیان ہوگا جو اپنےمخصوص اور مدلل انداز میں حاضرینِ اجتماع کی دینی و اخلاقی تربیت کے حوالے سے گفتگو فرمائیں گے۔

وقت اور تاریخ کا شیڈول:

تنظیمی معلومات کے مطابق یہ اجتماع 02 جولائی 2026ء بروز جمعرات کو منعقد ہوگا۔ اجتماع کی باقاعدہ آغاز رات 10:00 بجے ہوگا جبکہ نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری کا اہم بیان رات 10:15 بجے شروع ہوگا۔

مقامِ اجتماع:

لانڈھی اور کورنگی کے عاشقانِ رسول کے لیے خوشخبری ہے کہ اس بار اجتماع کے لیے سوشل گراؤنڈ، لانڈھی نمبر 06، کراچی کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وسیع تر انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

براہِ راست (Live) نشریات:

وہ لوگ جو کسی مصروفیت یا دوری کی وجہ سے گراؤنڈ میں حاضر نہیں ہو سکیں گے، ان کے لیے بھی وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہ پورا اجتماع مدنی چینل اور حاجی عمران عطاری کے آفیشل Facebook Pageپردنیا بھر میں براہِ راست (Live) نشر کیا جائے گا۔

تمام عاشقانِ رسول سے وقت کی پابندی اور اجتماع میں اول تا آخر شرکت کی پُرخلوص اپیل کی جاتی ہے۔


اخلاص کے حروف اصلیہ خ ل ص ہے یہ باب نصر ینصر سے ہو تو اس کا معنی ہوگا خالص ہونا کھرا ہونا اور صاف ہونا اور باب تفعیل سے ہو تو کھوٹ اور آمیزش سے پاک ہونا یعنی ہمیں جو بھی نیک عمل کرنے چاہیے تو وہ عمل خالص ہونےچاہیے ریا اور باطنی بیماریوں سے پاک ہونے چاہیے تب جا کر وہ عمل الله عزوجل کی بارگاہ میں قبول ہوتے ہیں ۔

تاجدار مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بروز قیامت مہربند صحیفے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں نصب (پیش) کئے جائیں گے تو اللہ عزوجل فرشتوں سے فرمائے گا : یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو ۔ فرشتے عرض کریں گے : یا رب عز و جل تیری عزت کی قسم ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ، اللہ عزو جل جو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا : یہ اعمال میرے غیر کے لیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی كتاب الطہارت باب النية ١/٧٣، حديث (١٢٩ )

جتنا اخلاص زیادہ اتنی مدد الہی زیادہ انسان کو مدد الہی اس کے اخلاص کے مطابق ملتی ہے جس کے نیک اعمال میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ مدد الہی نصیب ہوگی نیت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یا برے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں ۔

حضرت سیدنا سالم بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃ اللہ المجید کو لکھ کر بھیجا کہ جان لو بے شک بندے کو اللہ عزوجل کی طرف سے مدد اس کی نیت کے مطابق ملتی ہے جس کی نیت مکمل (یعنی خالص) ہو اس کے لئے اللہ عزوجل کی مدد بھی مکمل ہوتی ہے اور جس کی نیت میں کمی ہواسے مدد بھی کم ملتی ہے (یعنی انسان کی مدد اسکے اخلاص کے مطابق کی جاتی ہے)(احیاء العلوم (۵/۸۹).

اخلاص بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا راز ہے جسے نہ فرشتہ لکھ سکتا ہے نہ شیطان بگاڑ سکتا ہے نہ نفس چھو سکتا ہے جب بندہ اپنے اخلاص پر نظر رکھتا ہے تو وہ خود پسندی سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ اخلاص عمل کا نور باطن ہے، جس کے بغیر عمل بے روح ہے۔

علامات اخلاص:

(1) نیت کو شہرت، تعریف اور غرض سے پاک کرنا ۔(2) اپنے اخلاص کو بھی اخلاص نہ سمجھو (3)خلوت میں عبادت کرو تاکہ ریا سے بچو۔(4)ہر عمل سے پہلے خود سے پوچھو " یہ میں اللہ عز وجل کے لیے کر رہا ہو یا اپنے لیے ؟"ہر عمل کا مقصد صرف رضائے الہی ہو۔ یہی توحید عمل کی روح ہے

باطنی بیماری ریا خود پسندی، شہرت طلبی اور اجر یا فائدے کی حرص: (1) فنا فی اللہ : اپنی خواہش کو رضائے الٰہی میں مٹا دینا. (2) صدق : نیت میں سچائی (3) مجاہدہ: نفس کے خلاف جدوجہد (4) خلوت :تنہائی میں تزکیہ جو اپنے اخلاص کو دیکھنے لگے وہ اخلاص کھو دیتا ہے عمل کی قبولیت نہیں قربت الٰہی پر نظر رکھو تھوڑا سا اخلاص بھی وسوسوں سے نجات دیتا ہے اخلاص ہی ولایت کی کنجی ہے۔

حقیقی محبت وہی ہے جو صرف ذات الٰہی کے لیے ہو جو نہ ثواب کی لالچ میں کرے نہ خوف جہنم سے وہی "مخلص" عاشق اور حقیقی موحد ہے علم بیج ہے عمل کھیتی ہے اور اس کا پانی " اخلاص" ہے اگر پانی خالص نہ ہو تو کھیتی بھی مر جاتی ہے۔


اخلاص کیا ہے؟دینِ اسلام کی پوری عمارت جس بنیاد پر قائم ہے، اسے "اخلاص" کہا جاتا ہے۔ اخلاص محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسی قلبی کیفیت ہے جو انسان کے ہر عمل کو روح عطا کرتی ہے۔ لغوی اعتبار سے اخلاص کا معنی کسی شے کو ملاوٹ سے پاک کرنا ہے، جبکہ شرعی اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول اور فعل کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے خاص کر لے۔

اعمال کی قدر و قیمت اور نیت کا مقام:اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبولیت کا معیار مقدار نہیں بلکہ نیت کی صفائی ہے۔ اخلاص وہ کیمیا ہے جو معمولی عمل کو بھی پہاڑ جیسا وزنی بنا دیتی ہے، جبکہ اس کی عدم موجودگی میں بڑے بڑے اعمال (جیسے جہاد، سخاوت اور علم) بھی روزِ قیامت گرد و غبار کی طرح اڑا دیے جائیں گے۔

ایک مخلص بندہ جب تنہائی میں اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو اس کی وہ خاموش بندگی ہزاروں سال کی اس عبادت سے بہتر ہوتی ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کی جائے۔ اگر عمل میں ذرہ برابر بھی دنیاوی دکھاوا یا مخلوق کی تعریف کا ارادہ شامل ہو جائے تو وہ عمل "ریاکاری" بن جاتا ہے، جسے احادیث میں شرکِ اصغر قرار دیا گیا ہے۔

‎‎اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے اخلاص کو دین کا مرکز قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح حکم فرمایا ہے کہ بندگی صرف اسی کے لیے خالص کی جائے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورہ البینہ، آیت نمبر 5)

(1) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے:حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف مانی جائے گی۔"(صحیح بخاری، حدیث نمبر 1)

(2) اللہ دلوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں (کی نیتوں) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)

(3) اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کا اجر:"تم اللہ کی رضا کے لیے جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر دیا جائے گا، یہاں تک کہ اس لقمے پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔"(صحیح بخاری، حدیث نمبر 56)

اخلاص کے دنیاوی و اخروی ثمرات:دنیاوی کاموں کا عبادت بننا: جب ایک مسلمان اپنی تجارت، ملازمت یا گھریلو ذمہ داریاں اللہ کی خوشنودی اور حلال رزق کے لیے انجام دیتا ہے، تو یہ دنیاوی کام بھی عبادت بن جاتے ہیں اور آخرت کا اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔

شیطان سے حفاظت: اخلاص انسان کو نفس کے دھوکے اور شیطان کے وسوسوں سے بچاتا ہے۔ شیطان نے خود تسلیم کیا تھا کہ وہ اللہ کے مخلص بندوں پر کبھی غالب نہیں آ سکے گا۔

‎‎استقامت اور سکون: مخلص شخص لوگوں کی تعریف یا تنقید کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کا تعلق براہِ راست رب سے ہوتا ہے، اس لیے وہ ذہنی سکون اور استقامت کے ساتھ خیر کے راستے پر گامزن رہتا ہے۔

‎‎اخلاص کے بغیر زندگی ایک بے معنی مشقت ہے، مثال اس مسافر کی سی ہے جو ریت کے ڈھیر کو سونا سمجھ کر سمیٹتا ہے لیکن منزل پر اسے صرف مٹی ملتی ہے۔

اخلاص قلب کی وہ جلا ہے جو زنگ آلود روحوں کو دوبارہ زندہ کر دیتی ہے۔ یہ وہ نور ہے جو قبر اور حشر کی تاریکیوں میں مومن کا راستہ روشن کرے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر عمل سے پہلے، اور بعد میں اپنی نیت کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ ریاکاری کا چور ہمیں اجر سے محروم نہ کر دے۔

مخلص انسان ہی اللہ کا حقیقی مقرب ہے اور اسی کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہر قول و فعل میں سچا اخلاص نصیب فرمائے اور ہمیں نفاق سے محفوظ رکھے۔ آمین!


اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

(احیاءالعلوم،بیان حقیقۃ الاخلاص، ۵ / ۱۰۷)

معلوم ہوا کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے قول و فعل، عبادت و خدمت اور ہر نیکی میں صرف اللہ کریم کی رضا مقصود رکھے، نہ تعریف کی خواہش ہو اور نہ دنیاوی مفاد کی طلب۔

قرآن پاک میں مخلص مومن کی مثال :وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵) ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس با غ کی سی ہے جو بھوڑ(ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کا م دیکھ رہا ہے۔( پ ۳ ، البقرۃ: ۲۶۵)

خَزائنُ العرفان میں ہے: یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کاباغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ! ایسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور انفاق خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ کریم اس کو بڑھاتا ہے اور وہ تمہاری نیت اور اخلاص کو جانتاہے ۔(خزائن العرفان،ص۸۱)

نبی کریم ﷺ کے 3 فرامین سے اخلاص کی اہمیت کو سمجھئے:

(1)اخلاص کے ساتھ عمل کرو:نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے :اے لوگو! اللہ کریم کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عزوجل وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کئے جاتے ہیں اوریہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ کریم اور رشتہ داری کی وجہ سے کیا ہے۔( سنن الدارقطنی، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰)

(2)امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی:حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب آخری زمانہ آئے گا تو میری امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی ۔ایک گروہ خالصًا اللہ کریم کی عبادت کرے،دوسرا گروہ دکھاوے کے لیے اللہ کریم کی عبادت کرے گا اورتیسرا گروہ اس لیے عبادت کرے گا کہ وہ لوگوں کا مال ہڑپ کرجائے ۔جب اللہ کریم بروزِ قیامت ان کو اٹھائے گا تو لوگو ں کامال کھاجانے والے سے فرمائے گا :میری عزت اورمیرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیاارادہ تھا ؟‘‘ عرض کرے گا : ’’تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم! لوگوں کو دکھانا۔‘‘ اللہ کریم فرما ئے گا : ’’اس کی کوئی نیکی میری بارگاہ میں مقبول نہیں، اسے دوزخ میں ڈال دو۔‘‘ پھر خالصًا اپنی عبادت کرنے والے سے فرمائے گا: ’’میری عزّت اور میرے جلال کی قسم ! میری عبادت سے تیرا کیا مقصود تھا؟‘‘ وہ عرض کرے گا:’’ تیری عزت و جلال کی قسم !میرے اِرادے کو تو بہتر جانتا ہے ، میں نے تیری رضا چاہی۔‘‘ارشاد فرمائے گا :’’میرے بندے نے سچ کہا،اسے جنت کی طر ف لے جاؤ ۔‘‘( المعجم الاوسط ،رقم الحدیث ، ۵۱۰۵ )

(3)دِلی استغناء اور لوگوں کی محتاجی:حضرت سیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ کریم اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ کریم فقیری اس کی آنکھوں کے سامنے کردے گا اور اس پر اس کے کام پراگندہ کردے گا اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتنی اس کے لیے لکھی گئی ۔( مشکاۃ المصابیح،کتاب الرقاق،الحدیث، ۵۳۲۰ )

ہمارے اسلاف کے اخلاص پر مبنی دو انمول واقعات ملاحظہ فرمائیں :

(1)بعدِ وصال سخاوت کا پتا چلا:حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں دو مرتبہ اپنا سارا مال راہِ خدا عزوجل میں خیرات کیا اور آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ بہت سے غرباء اہل مدینہ کے گھروں میں ایسے پوشیدہ طریقوں سے رقم بھیجا کرتے تھے کہ ان غرباء کو خبر ہی نہیں ہوتی تھی کہ یہ رقم کہاں سے آتی ہے؟مگر جب آپ کا وصال ہو گیاتو ان غریبوں کو پتا چلاکہ یہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سخاوت تھی۔( سیر اعلام النبلاء،ج ۵ ،ص ۳۳۶ ، ۳۳۷ )

(2)مسلسل چالیس سال تک روزے:حضرتِ سَیِّدُنا داوٗد طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل چالیس سال تک روزے رکھتے رہے مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اِخلاص کا یہ عالَم تھاکہ اپنے گھر والوں تک کو خبر نہ ہونے دی۔ کام پر جاتے ہوئے دوپہر کا کھانا ساتھ لے لیتے اور راستے میں کسی کو دے دیتے،مغرِب کے بعد گھر آکر کھانا کھا لیا کرتے۔( فیضان سنّت،ج ۱ ،ص ۱۴۴۵ بحوالہ مَعْدِنِ اَخلاق حصّہ اول ص ۱۸۲)

اولیائے کرام کی زندگیاں ہمیں یہی سبق دیتی ہیں کہ اصل کامیابی تعریف، شہرت یا اثر میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ عمل رب کریم کے لیے ہو اور رب کریم ہی کے لیے چھپا رہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم نیکیاں چھوڑنے کے بجائے اپنی نیتوں کو سنواریں، دل کو اخلاص کے صابن سے دھوئیں اور ہر عبادت کے بعد قبولیت کی بھیک مانگیں کہ یااللہ عزوجل اپنے محبوب ﷺ کا واسطہ ہماری خالی جھولیوں کو دولتِ اخلاص سے بھر دے۔

میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الہی عزوجل


اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ ۳۰، البینہ: ۵)

اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:‏عَنْ عُمَرَبْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِءٍ مَّانَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرتُہٗ اِلَی اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ لِدُنْیَایُصِیْبُہَااَوْاِمْرَاَۃیَنْکِحُہَافَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَاہَاجَرَ اِلَیْہِ۔

ترجمہ :اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ،سردارِمَکَّۂِ مُکَرَّمَہ ص ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا:’’اعمال نِیَّت ہی پرہیں ،ہرشخص کیلئے وہی ہے جواُس نے نِیَّت کی،جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہوتواس کی ہجرت اللہ اوررسول ہی کی طرف ہے اورجس کی ہجرت حُصُولِ دنیایاکسی عورت کے لئے ہوجس سے وہ نکاح کرناچاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔‘‘( بخا ری،کتاب بدء ا لوحی ،۱/۳۴، حدیث۵۴)

خالص عمل ہی قُبول ہوگا: تاجدارِ مَدِیْنَۂ مُنَوَّرَہ،سُلطَا نِ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :بروزِقیامت کچھ مُہربند صحیفےاللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب(پیش)کئے جائیں گے تواللہ عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا:یہ چھوڑدواوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے : یاربّ عزَّوَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیرہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والاہے ارشادفرمائے گا:یہ اعمال میرے غیرکیلئے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں گاجومیری رِضاکے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث:۱۲۹)

اِخلاص پیدا کرنے کے(5)طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے :‏کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے،جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اِخلاص پیدا نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اِخلاص ہے۔ بعض اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں:’’اپنے اَعمال میں نیت کو خالص کرلو، تمہیں تھوڑا عمل بھی کفایت کرے گا۔‘‘لہٰذا خود کو اچھی اچھی نیتوں کا عادی بنائیے ۔

(2)دُنیوی اَغراض کو دُور کیجئے:‏ایسی دُنیوی اَغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری ومُعاوَنت نہ ہو اگر ہر عمل سے اُن کو دُور کردیا جائے اور صرف رِضائے اِلٰہی پیش نظر ہو تو اَعمال میں رِیاکاری یعنی دِکھاوے کے اِمکانات کا فی کم ہوجاتے ہیں۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت وتنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تَعَالٰی انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادتِ الٰہی بجالاسکیں اور درس وتدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اِس طرح کا اِرادہ نیک اِرادہ ہے دنیا کا اِرادہ نہیں۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے:‏کیونکہ اَعمال وہی قبول ہوں گے جو ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیے ہوں گے اور اعمال کو ریاکاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے کہ بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتا رہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہوگا اتنا ہی عمل میں ریاکاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہوگی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے:کہ اِخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پرچند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریاکاری پر اُبھارتا ہے جو اِخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائیے اور اَعمال میں اِخلاص حاصل کیجئے۔

(5)اپنے گناہوں کو یاد رکھیے:‏عموماً لوگ اپنی نیکیوں کو یاد رکھتے اور گناہوں کو بھول جاتے ہیں جس سے وہ ریاکاری اور خود پسندی جیسی موذی بیمار ی میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو اِخلاص کی سخت دشمن ہیں، لہٰذا اپنے گناہوں کو یاد رکھیے، نفس کو اُن پر ملامت کرتے رہیے کہ تو فلاں فلاں گناہوں کا مجموعہ ہے پھر کسی نیک عمل پر اِترانے کا کیا معنی؟ یوں کافی حد تک اسے تکبر وریاکاری سے دور رکھنے میں معاونت ملے گی اور اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔


اخلاص اسلام کی بنیاد اور تمام عبادات کی روح ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول، فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ اگر عمل میں اخلاص نہ ہو تو وہ عمل اللہ کے نزدیک بے وقعت ہو جاتا ہے، چاہے بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے متعدد احادیث میں واضح فرمایا ہے۔سب سے مشہور اور بنیادی حدیث جو اخلاص کی اصل کو بیان کرتی ہے، وہ یہ ہے:

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ:إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔(صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث نمبر 1907)یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ عمل کی قبولیت نیت پر موقوف ہے۔ اگر نیت خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو عمل ضائع ہو جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے ریاکاری کو نہایت خطرناک قرار دیا اور اسے چھوٹا شرک فرمایا:إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُقَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الأَصْغَرُ قَالَ: الرِّيَاءُترجمہ: مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔صحابہ نے عرض کیا: چھوٹا شرک کیا ہے؟فرمایا: ریا (دکھاوا)۔(مسند احمد، حدیث نمبر 23119)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ اگر عمل لوگوں کو دکھانے کے لیے ہو تو وہ اللہ کے نزدیک شرک کے درجے تک پہنچ جاتا ہے، چاہے وہ نماز، روزہ یا صدقہ ہی کیوں نہ ہو۔

اخلاص کی اہمیت کو ایک اور حدیث میں نہایت سخت انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس میں قیامت کے دن سب سے پہلے حساب لیے جانے والے تین افراد کا ذکر ہے:قیامت کے دن سب سے پہلے جس کا فیصلہ ہوگا وہ عالم، مجاہد اور سخی ہوگا، مگر چونکہ انہوں نے اعمال اللہ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی تعریف کے لیے کیے تھے، اس لیے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث نمبر 1905)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بڑے سے بڑا عمل بھی اگر اخلاص کے بغیر ہو تو انسان کی نجات کا ذریعہ نہیں بنتا بلکہ ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ خَالِصًا وَّابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُترجمہ: اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا گیا ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی، کتاب الجهاد، حدیث نمبر 3140)

ان تمام احادیث سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اخلاص کے بغیر نہ عبادت معتبر ہے، نہ علم، نہ جہاد اور نہ صدقہ۔ اخلاص انسان کے عمل کو وزن دیتا ہے اور اسے اللہ کے ہاں قابلِ قبول بناتا ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل کی اصلاح کرے اور ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کو پرکھے۔ جو شخص اخلاص اختیار کرتا ہے، وہی اللہ کے نزدیک کامیاب اور سرخرو ہوتا ہے، اور جو دکھاوے میں مبتلا ہو، وہ اپنا سب کچھ ضائع کر بیٹھتا ہے۔


اللہ تعالیٰ نے جب انسان کی تخلیق فرمائی تو اسکو بہت ساری صفات سے متصف کیا ان میں اچھی صفات بھی ہیں اور بری بھی ہیں۔ تو آج ہم بات کرتے ہیں اچھی صفات میں سے ایک صفت اخلاص کی۔

اخلاص اسلامی تعلیمات کی روح اور تمام اعمال کی بنیاد ہے۔ اخلاص سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے اور کسی قسم کی ریاکاری یا نمود و نمائش سے اجتناب کرے۔ اسلام میں اعمال کی قبولیت کا انحصار ان کی ظاہری شکل پر نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی پر ہے۔ ایک مخلص انسان نہ صرف اپنی ذات کی اصلاح کرتا ہے بلکہ اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس مقالے میں اخلاص کے مفہوم اور اس کی اہمیت پر چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

(1) حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)

(2)شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)

(3) سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ ‘‘ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲ ،ج۶،ص۱۸۵)

(4)نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ ‘‘ (المستدرک ،کتاب الرقاق ، الحدیث ۷۹۱۴، ج۵، ص۴۳۵)

(5) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)

ان احادیث سے ہمیں یہی درس ملتا ہے کہ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اپنے اعمال کے موتیوں کو اخلاص کی لڑی کے ساتھ آراستہ کریں اور ریاکاری اور دکھاوے سے خود کو اور اعمال کو محفوظ رکھیں۔

اللہ پاک ہم سب کو اخلاص کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


اخلاص کی تعریف :اخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص، ص ۳۲۸)

سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا  ۔ وہ ہرایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا  ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں  ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا  ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و  تَعَالٰی ہوتاتھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں  ۔

رسول کریم ص ﷺ   نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل۔(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴ ، ج۵، ص)

اخلاص کی اہمیت اور فضائل: جب ہم نے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے فضل، اس کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں خصوصًا  ’’ اِحْیَائُ عُلُوْمِ الدِّیْن ‘‘  میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ  تَعَالٰی کے کلام کی بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح، مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت کرنے والی چند احادیث مبارکہ پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دوری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

(1) حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک  ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے :  ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘

 (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)


اخلاص کی تعریف:اخلاص یہ ہے کہ خود اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا اخلاص، اخلاص کا محتاج ہوتا ہے۔ (لباب الاحیاء ، فصل في الاخلاص، ص ۳۲۸)

اللہ عَزَّ وَ جَل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ ( البینہ: ۵)

اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ کر اللہ عَزَّ وَجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار ) ہو کر نماز قائم نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کا حکم علم دیا گیا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

اخلاص کی تعریف:دو کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ارادہ کر نا خلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۵)

عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَ إِنَّمَا لِإِمْرِي مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِمْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ۔

روایت ہے عمر ابن خطاب (راضی ہو اللہ ان پر ) سے لے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : کہ اعمال نیتوں سے ہیں ہر شخص کے لئے وہ ہی ہے جو نیت کرے سے بس جس کی ہجرت اللہ ورسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ ورسول ہی کی طرف ہو گی ۴ اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو اس کی ہجرت اس طرف ہو گی جس کے لئے کی ۔(مرآةالمناجیح شرح مشکوٰةالمصابیح جلد1)

اخلاص کے ساتھ تھوڑاعمل بھی کافی:حضور نبی کریم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلِين حضرت معاذ بن جبل رَضِيَ اللهُ تعالى عنہ سے فرمایا: ”اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۶)

رسول کریم صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عنه کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دينك يكفك العمل القليل.کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔(المستدرك على الصحيحين، كتاب الرقاق الحديث : ۷۹۱۴ ، ج ۵، ص ۴۳۵)

اخلاص كا حكم: کسی عمل میں فقط اخلاص ہونے یا اس کے ساتھ کسی اور غرض کی آمیزش ہونے کے اعتبار سے اعمال کی تین صورتیں ہیں :

(1) جس عمل سے مقصود صرف ریا کاری ہو اس کا قطعی طور پر گناہ ہو گا اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی اور عذاب کا سبب ہے۔ (۲) جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو گا تو وہ رضائے الہی اور اجر و ثواب کا سبب ہے۔ (۳) جو عمل خالصتا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے نہ ہو بلکہ اس میں ریا کاری اور نفسانی اغراض کی آمیزش ہو تو قوت کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں ہیں : اگر رضائے الٰہی اور دوسری غرض دونوں قوت میں برابر ہوں تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہو کر ساقط ہو جائیں گی اور اس عمل کا نہ تو ثواب ہو گا نہ ہی عذاب اور اگر ریا کی قوت زیادہ ہو تو یہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان اور عذاب کو لازم کرے گا، البتہ اس میں رضائے الہی کا جتنا عنصر ہو گا اتنا عذاب میں کمی ہو جائے گی اور اس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہو گا جو خالص ریاکاری کے ساتھ ہو اور جس میں رضائے الٰہی بالکل نہ ہو اور اگر رضائے الہی کا عنصر غالب ہو تو یہ جس قدر قوی ہو گا اُسی قدر ثواب زیادہ ہو گا اور جتنا ریا ہو گا اتنا ثواب کم ہو جائے گا۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، صفحہ ۲۷، ۲۶)

اخلاص پیدا کرنے کے کچھ طریقے:

(1)اپنی نیت درست کیجیے : کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ، جب تک نیت خالص نہ ہو گی عمل میں اخلاص پیدا نہیں ہو گا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے۔

(2)دنیوی اغراض کو دور کیجئے : ایسی دُنیوی اغراض جن سے مقصود آخرت کی تیاری و معاونت نہ ہوا گر ہر عمل سے اُن کو دُور کر دیا جائے اور صرف رضائے الہی پیش نظر ہو تو اعمال میں ریا کاری یعنی دکھاوے کے امکانات کا فی کم ہو جاتے ہیں۔

البتہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندوں کا عسرت و تنگی کے ایام میں قرآنی سورتیں و وظائف وغیرہ اس نیت سے پڑھنا کہ اللہ تعالیٰ انہیں قناعت عطا کرے اور اتنی مقدار میں روزی عطا کرے جس سے عبادت الٰہی بجالا سکیں اور درس و تدریس وغیرہ کی قوت بحال رہے تو اس طرح کا ارادہ نیک ارادہ ہے دنیا کا ارادہ نہیں۔

(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیے: کیونکہ اعمال وہی قبول ہوں گے جو ریا کاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ کیسے ہوں گے اور اعمال کو ریا کاری جیسی موذی بیماری سے بچانے کا ایک بہت مفید حل یہ ہے که بندہ خود کو ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈراتار ہے کہ جس قدر خوفِ خدا نصیب ہو گا اتنا ہی عمل میں ریا کاری سے بچے گا اور اخلاص کی دولت نصیب ہو گی۔

(4)نفسانی خواہشات کو ختم کیجیے : کہ اخلاص میں بہت بڑی رکاوٹ نفسانی خواہشات ہیں کیوں کہ ہر عمل پر چند تعریفی کلمات سن کر نفس بے حد سکون محسوس کرتا ہے اور یہی سکون نفس کو ریا کاری پر ابھارتا ہے جو اخلاص کی دشمن ہے اور یوں اُخروی فائدے کے لیے کیا جانے والا عمل نقصان کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا نفسانی خواہشات پر قابو پائے اور اعمال میں اخلاص حاصل کیجئے۔

اس سے ہمیں یہ معلوم ہواکہ ہمیں ہر کسی سےاچھا سلوک رکھنا چاہیے اگرچہ دشمن ہو یا دوست اگرچہ وہ ہم سے سلوک نہ کرے پھر بھی ہمیں اچھا سلوک کرنا چاہیے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے دشمنوں سے بھی اچھا سلوک کرتے تھے۔


اخلاص وہ باطنی کیفیت ہے جو عمل کو روح عطا کرتی اور بندے کے عمل کو قبولیت کے آسمان تک پہنچا دیتی ہے۔ ظاہری طور پر نیک اعمال کی کثرت اگر اخلاص سے خالی ہو تو وہ محض ایک صورت رہ جاتی ہے، جبکہ معمولی سا عمل اگر خالص اللہ کے لیے ہو تو وہ وزن میں پہاڑ بن جاتا ہے۔ اسلام نے نیت کی اصلاح کو اعمال کی بنیاد قرار دیا ہے، اسی لیے شریعتِ مطہرہ میں اخلاص کو ایمان کی جان اور عبادت کی روح کہا گیا ہے۔ جو دل اخلاص سے روشن ہو جائے، اس کی عبادت، اخلاق اور معاملات سب میں نورِ صدق نمایاں ہو جاتا ہے۔

اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے:رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث نمبر 1؛ صحیح مسلم، کتاب الإمارة، حدیث نمبر 1907)۔

اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ عمل کی اصل قدر اس کی نیت میں پوشیدہ ہے، اور اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں وزن نہیں رکھتا۔

ریا اخلاص کو کھا جانے والی بیماری ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ صحابۂ کرام رضی الله عنهم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟ فرمایا: الرِّيَاءُ یعنی مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ پوچھا گیا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا: ریا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند محمود بن لبید، حدیث نمبر 23630)۔ اس فرمانِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص کے مقابلے میں ریا اتنی خطرناک ہے کہ اسے شرکِ اصغر قرار دیا گیا، جو اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ عنوان کے مطابق نہیں

اخلاص اللہ کے لیے دین کو خالص کرنا ہے:حضور ﷺ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ یعنی اللہ تعالیٰ کسی عمل کو قبول نہیں فرماتا مگر وہ جو خالص اسی کے لیے کیا گیا ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔ (سنن النسائی، کتاب الجهاد، حدیث نمبر 3140)

یہ حدیث اخلاص کا وہ میزان ہے جس پر ہر عمل کو تولنا چاہیے، کیونکہ قبولیت کا دروازہ صرف اخلاص سے کھلتا ہے۔

اخلاص نجات کا ذریعہ ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی جس نے لا إله إلا الله اخلاص کے ساتھ کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند معاذ بن جبل، حدیث نمبر 22007)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص محض اعمال تک محدود نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد میں شامل ہے، اور یہی اخلاص بندے کو ابدی نجات تک پہنچاتا ہے۔

اخلاص دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان وہ راز ہے جسے نہ فرشتے پوری طرح جان پاتے ہیں اور نہ مخلوق۔ یہی وجہ ہے کہ مخلص بندہ شہرت کا طالب نہیں ہوتا بلکہ رضاے الٰہی اس کا واحد مقصد ہوتا ہے۔ جب دل اخلاص سے لبریز ہو جائے تو عمل میں سچائی، عبادت میں لذت اور کردار میں استقامت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسی زندگی دوسروں کے لیے نمونہ اور اہلِ بصیرت کے لیے باعثِ رشک بن جاتی ہے، کیونکہ اخلاص ہی وہ جوہر ہے جو انسان کو اللہ کے قریب اور عمل کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتا ہے۔


الله تعالٰی انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ اس کے دل کو دیکھتا ہے دل کی پاکیزگی اور نیت کی سچائی کو ہی اخلاص کہا جاتا ہے اخلاص کے بغیر عبادات محض رسم بن کر رہ جاتی ہیں اس لیے ہر مسلمان کو اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے۔

اسلام میں اعمال کی اصل بنیاد اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہر قول و فعل میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، نہ کہ لوگوں کی تعریف، شہرت یا دنیاوی فائدہ۔ اگر عمل بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ اللہ کے نزدیک بے وزن ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کو دین کی روح قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں اخلاص کی اہمیت کو واضح فرمایا ہے۔

(1) نیت کی بنیاد پر اعمال کا دار و مدار:حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"(بخاری: 1، مسلم: 1907)یہ حدیث اس بات کی اصل بنیاد ہے کہ عمل کی قبولیت اخلاص پر منحصر ہے۔

(2) اللہ صرف خالص عمل قبول کرتا ہے:حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں کرتا جو صرف اسی کی رضا کے لیے نہ کیا گیا ہو۔"(سنن نسائی: 3140)اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ریاکاری والا عمل اللہ کے ہاں مردود ہے۔

(3) ریاکاری سے خبردار فرمایا گیا:حضرت محمود بن لبیدسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔" صحابہ نے پوچھا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا: "ریاکاری"۔(مسند احمد: 23630)ریاکاری اخلاص کے بالکل خلاف ہے اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔

(4) نیت کی وجہ سے اجر مل جاتا ہے:حضرت ابو کبشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن کر نہ سکے، اللہ اسے مکمل اجر عطا فرماتا ہے۔(ترمذی: 2325)

اخلاص کے ساتھ نیت کرنا بھی اللہ کے ہاں قیمتی ہے۔

(5) اللہ دلوں کو دیکھتا ہے:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"(مسلم: 2564)

اصل چیز دل کی صفائی اور نیت کا خالص ہونا ہے۔

اخلاص وہ عظیم صفت ہے جو معمولی عمل کو بھی عظیم بنا دیتی ہے، اور اس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی بے کار ہو جاتا ہے۔ ایک مومن کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے۔ اگر ہم نماز، روزہ، صدقہ، خدمتِ خلق اور دیگر اعمال میں اخلاص پیدا کر لیں تو ہماری زندگی سنور سکتی ہے اور آخرت میں کامیابی یقینی ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہر عمل میں اخلاص نصیب فرمائے، آمین۔