اخلاص (نیت کی پاکیزگی) دینِ اسلام کی بنیاد اور ہر عمل
کی روح ہے۔ بندہ اگر سچے دل سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیک عمل کرے، تو وہ
عمل قبول ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا ہو۔ اگر عمل ریاکاری، دکھاوے یا دنیاوی
مقاصد کے لیے ہو، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں مردود ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے
فرامینِ مبارکہ میں بارہا اخلاص کی ضرورت و اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔
(1)حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:رسول الله
ﷺنے فرمایا: إنما الأعمال بالنيات، وإنما
لكل امرئ ما نوىترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو
وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث: 1، صفحہ: 3)
(2)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:إن الله لا ينظر إلى صوركم ولا إلى أجسامكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم
ترجمہ :اللہ نہ تمہاری شکلوں کو دیکھتا ہے نہ جسموں کو،
بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔( صحیح مسلم، کتاب البر و الصلۃ، حدیث:
2564، صفحہ: 1176)
(3)نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللهُ بِهِ ترجمہ:جو
دکھاوے کے لیے عمل کرے گا، اللہ اسے قیامت کے دن رسوا کرے گا۔( صحیح مسلم، کتاب
الزہد والرقائق، حدیث: 2986، صفحہ: 1284)
(4) آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو
قبول کرتا ہے جو صرف اسی کے لیے کیا جائے اور جس میں اس کی رضا مطلوب ہو ۔( سنن
نسائی، کتاب الجهاد، حدیث: 3140، صفحہ: 728)
خلاصہ یہ ہے کہ اخلاص ہر نیکی کی اصل بنیاد ہے۔ اگر نیت
خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں بڑا درجہ پاتا ہے، اور اگر نیت میں ریاکاری
ہو تو بڑا عمل بھی ناقبول ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں یہی درس دیتی ہیں
کہ ہر کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دل کو صاف رکھیں
اور اعمال کو صرف اللہ کے لیے انجام دیں تاکہ وہ قبول ہوں اور آخرت میں نجات کا
سبب بنیں۔
علی
اکبر بن شبیر احمد (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور،پاکستان)
کسی بھی عمل کو صرف اللہ جل کی رضا کے لیے کرنا اس میں ریاکاری
دکھلاوا یا کوئی دنیاوی غرض نہ ہو اسے اخلاص کہتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کی دعا غیب
لوگوں کے حق میں بھی قبول کی جاتی ہے سے اب ہم اخلاص کے متعلق فرامین مصطفی صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں
(1)حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےروایت ہے رسول کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا ہو اور وہ
اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں
ہے وہ نماز قائم کرتا ہو وہ زکوۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو تو اللہ
تعالی اس سے راضی ہو جاتا ہے (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر
31)
(2)ابو فرانس سے روایت ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول
اللہ ایمان کیا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص (الترغیب والترہیب جلد
نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 31)
(3)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے حضور اقدس صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخلاص والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ وہ لوگ روشد
و ہدایت کے چراغ ہیں جن کے سبب ہر فتنے کی تاریخی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔(الترغیب
والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 32)
(4)حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی رضی
اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا ایک دفعہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ان لوگوں پر
فضیلت رکھتے ہیں جو کم درجے کے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے
شک اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں نمازوں اور اخلاص کے سبب
فرمائے گا (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب الایمان صفحہ نمبر 33)
(5)حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے
کہا جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ
مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے دین کو
خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا (الترغیب والترہیب جلد نمبر 1 کتاب
الایمان صفحہ نمبر 32)اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تو جلد ہمیں اخلاص
کے ساتھ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے تمام اعمال میں اخلاص عطا
فرمائے امین ثم امین۔
محمد
شہریار عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
اسلام میں اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اخلاص کا مطلب
یہ ہے کہ انسان ہر نیک عمل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ
لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی فائدے کے لیے۔ شریعتِ اسلامیہ میں
اعمال کی قبولیت کا دار و مدار اخلاص پر رکھا گیا ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے سب سے
پہلے نیت اور اخلاص کی اصلاح پر زور دیا۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:"اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"(صحیح بخاری، کتاب بدء
الوحی، حدیث نمبر 1،صحیح مسلم، حدیث نمبر 1907)
یہ حدیث اخلاص کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اگر عمل کتنا ہی
بڑا کیوں نہ ہو، جب تک نیت خالص نہ ہو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ نماز،
روزہ، صدقہ، حج سب کی بنیاد نیت اور اخلاص ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"سب سے پہلے جن لوگوں کا قیامت
کے دن فیصلہ کیا جائے گا ان میں ایک وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا اور قرآن
پڑھا، لیکن یہ سب اس لیے کیا کہ لوگ اسے عالم کہیں چنانچہ اسے جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔"(صحیح مسلم، کتاب الامارہ، حدیث نمبر 1905)
یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ بغیر اخلاص کے دینی خدمات بھی
انسان کو نجات نہیں دلا سکتیں۔ اگر مقصد اللہ کی رضا کے بجائے شہرت ہو تو عمل وبال
بن جاتا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف اسی
عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔"(سنن
نسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 3140)
یہ روایت اس بات کو بالکل واضح کر دیتی ہے کہ اخلاص قبولیت
کی شرط ہے، اختیار نہیں۔
ایک اور ایمان افروز حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"بندہ
کبھی اللہ کی رضا کے لیے کوئی ایسا چھوٹا سا عمل کر لیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا
ہے، مگر اللہ اس کے ذریعے اسے بلند درجات عطا فرما دیتا ہے۔"(صحیح بخاری،
کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6478)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا
چھوٹا عمل بھی اللہ کے نزدیک بڑا بن جاتا ہے، جبکہ ریاکاری کے ساتھ کیا گیا بڑا
عمل بے وزن ہو جاتا ہے۔
اسی مضمون کی تائید میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: جو
شہرت طلب کرے گا( قیامت کے دن) اس کے عیبوں کی تشہیر ہو گی اورجو شخص لوگوں کو
دکھانے کے لئے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ دے گا۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6499،صحیح مسلم، حدیث
نمبر 2986)
ان تمام احادیث سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ
اخلاص دین کی روح ہے۔ اعمال کی کثرت نجات کی ضمانت نہیں بلکہ دل کی سچائی اور نیت
کی پاکیزگی اصل معیار ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ساتھ
ساتھ اپنی نیت کا بھی محاسبہ کرے، کیونکہ اخلاص کے بغیر عبادت صرف ایک ظاہری عمل
بن کر رہ جاتا ہے، جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا معمولی عمل بھی اللہ کی رضا اور
نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے آمین یارب
العالمین۔
سرفراز
ذوالفقار (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اخلاص اسلام کی روح ہے۔ بغیر اخلاص کے نہ عبادت کا وزن
ہے اور نہ عمل کی قبولیت۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر عمل صرف اور صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ لوگوں کو دکھانے، تعریف حاصل کرنے یا دنیاوی
فائدے کے لیے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، اور نبی کریم ﷺ
نے بار بار اس کی تاکید فرمائی۔
(1) نیت اور اخلاص:إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا
نَوَىترجمہ:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس
کی اس نے نیت کی۔(صحیح البخاری: حدیث 1،صحیح مسلم: حدیث 1907)
یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے۔ اگر نیت خالص نہ ہو تو بڑا
عمل بھی بے وزن ہو جاتا ہے، اور اگر نیت خالص ہو تو چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم
بن جاتا ہے۔
(2)اللہ صرف خالص عمل قبول فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا
كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اللہ
تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود ہو۔(سنن نسائی:
حدیث 3140،مسند احمد: حدیث 20659)
یہ حدیث واضح کر دیتی ہے کہ ریاکاری یا دکھاوے والا عمل
اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں، چاہے وہ بظاہر کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔
(3) قیامت کے دن
سب سے پہلے ریاکاروں کا انجام:إِنَّ
أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهِمْ
ترجمہ:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا ان
میں وہ بھی ہوں گے جنہوں نے علم، جہاد اور صدقہ اس لیے کیا کہ لوگ تعریف کریں۔(صحیح
مسلم: حدیث 1905)
یہ حدیث ریاکاری کے خطرناک انجام کو بیان کرتی ہے اور
اخلاص کی اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے کہ بغیر اخلاص کے بڑے بڑے اعمال بھی ہلاکت کا
سبب بن سکتے ہیں۔
(4) اخلاص نجات کا ذریعہ:مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا دَخَلَ الْجَنَّةَ۔
ترجمہ: جس نے اخلاص کے ساتھ لا إله
إلا الله کہا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسند احمد: حدیث 14636،المعجم
الأوسط للطبرانی)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ صرف کلمہ کہنا کافی نہیں بلکہ اس میں
اخلاص ہونا ضروری ہے، تبھی نجات حاصل ہوگی۔
اخلاص وہ صفت ہے جو عمل کو زندہ کرتی ہے۔ بغیر اخلاص کے
عبادت ایک رسم بن جاتی ہے اور اخلاص کے ساتھ معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم ہو
جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ہر عمل، عبادت، خدمت اور دعوت میں نیت کو خالص کریں
اور صرف اللہ کی رضا کو مقصد بنائیں، کیونکہ اخلاص ہی قبولیت کی کنجی اور نجات کا
راستہ ہے۔
اسلام دینِ نیت اور دل کی سچائی کا نام ہے۔ ظاہری اعمال
کی قبولیت کا دارومدار دل کی کیفیت، نیت کی درستگی اور عمل کے پیچھے چھپے اخلاص پر
ہوتا ہے۔ اگر کوئی عمل ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا اور خوبصورت ہو، لیکن اس کے پیچھے
نیت خالص نہ ہو، تو وہ اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں
اصل قیمت نیت اور اخلاص کی ہے، نہ کہ صرف ظاہری عمل کی۔ اس مضمون میں ہم اخلاص کی
اہمیت، فضیلت اور اس کی کمی کے نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
اخلاص کی اہمیت: جب ہم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل، اس
کی تائید، مدد واعانت اور توفیق سے اس بدترین کبیرہ گناہ اور اس کے ان متعلقات کے
بارے میں گفتگو مکمل کر لی جن کی مخلوق کو حاجت پیش آتی ہے اور کتاب کے موضوع کے
اعتبار سے اس پر تفصیلی کلام کر لیا اگرچہ ریا کاری اور اس کے توابع کے بیان میں
خصوصًا ’’ احیاء علوم الدین ‘‘ میں علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہ تَعَالٰی کے کلام کی
بنسبت ہمارا کلام نہایت ہی مختصر ہے اب ہم اپنے کلا م کا اختتام اخلاص کی مدح،
مخلصین کے ثواب اور ان کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتوں پر دلالت
کرنے والی چند آیات اور احادیث مبارکہ سے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ مخلوق کے لئے
اخلاص کو اپنانے اور ریاکاری سے دو ری اختیار کرنے کا سبب بن سکے کیونکہ اشیاء کی
کامل معرفت ان کی اضداد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)
نیکی کا ارادہ بھی باعثِ ثواب:عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ
وَالذِّكْرَ، مَالَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا
شَيْءَ لَهُ فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا شَيْءَ لَهُ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ
الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:اور
حضرت ابوامامہ باہلی روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو
عرض کیا، آپ ہمیں اجر و شہرت کے لیے لڑنے والے کے متعلق بتائیں کہ اسے کیا ملے گا؟
تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اسے کچھ نہیں ملے گا۔ اس آدمی نے تین مرتبہ یہ بات
دہرائی، آپ ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی ارشاد فرمایا کہ اسے کچھ نہیں ملے گا۔ پھر آپ نے
ارشاد فرمایا:اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو خالص ہو اور اسی کی رضا کے لیے کیا
گیا ہو۔(سنن النسائی، كتاب الجهاد، باب من غزا يلتمس الأجر والذكر، رقم : 3140)
اللہ کی رحمت اور بندے کی نیت:وحدثنا أبو هريرة عن محمد رسول الله ﷺ فذكر أحاديث منها قال: قال
رسول الله ﷺ: قال الله عز وجل: إذا تحدث : عبدى بأن يعمل حسنة فأنا أكتبها له حسنة
ما لم يعمل . فإذا عملها فأنا أكتبها بعشر أمثالها . وإذا تحدث بأن يعمل سيئة فأنا
أغفرها له ما لم يعملها فإذا عملها فأنا أكتبها له بمثلها . وقال رسول الله ﷺ:
قالت الملائكة: رب ذاك عبدك يريد أن يعمل سيئة وهو أبصر به فقال: ارقبوه فإن عملها
فاكتبوها له بمثلها ، وإن تركها فاكتبوها له حسنة ، إنما تركها من جرائي۔ترجمہ:اور
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
کہ جب میرا بندہ کسی نیکی کے کرنے کا ارادہ و نیت کرتا ہے تو میں اس کے عمل کرنے
سے پہلے ہی اس کی ایک نیکی لکھ لیتا ہوں اگر عمل کر لے تو میں دس گنا لکھ لیتا ہوں
اور جب کسی برائی کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو جب تک وہ برائی اس سے سرزد نہ ہو تو
میں اس کو معاف کرتا ہوں اگر وہ برائی کر لے تو میں اس کے بدلے ایک گناہ ہی لکھتا
ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:فرشتے کہتے ہیں اے رب! یہ بندہ برائی کا
ارادہ کرتا ہے، (حالانکہ وہ اس کے معاملہ کو زیادہ جانتا ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے:اس کا انتظار کرو اور اس کو مہلت دو اگر یہ برائی کر لے تو ایک لکھنا اور اگر
اس برائی کو ترک کر دے اور اس سے باز آ جائے تو ایک نیکی لکھ لینا کیونکہ اس نے یہ
گناہ میری وجہ سے ترک کیا۔(صحیح مسلم، کتاب الإيمان، رقم : 244)اللہ تعالیٰ ہم سب
کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
محمد
اسداللہ عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ،پاکستان)
اخلاص ایک قلبی کیفیت کا نام ہے جو کہ"ریا" کی
متضاد ہے۔ اسکا ایک معنی "عبادت بے ریا" بیان کیا گیا ہے ، یعنی بندہ ہر
نیک کام خالصتا (essentially) اللہ ہی کیلئے کرے ۔
اخلاص کی تعریف :’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
جس طرح علم کے بغیر عمل ممکن نہیں اسی طرح اخلاص کے بغیر
عمل بیکار اور فضول ہے۔ ان دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک بھی فوت ہو جائے تو سمجھنا
چاہیے کہ ابھی بندے کا دین وایمان ناقص اور نامکمل ہے۔ ان امور کے باہمی امتزاج سے
ہی بندہ مومن کامل ہوتا ہے۔ مذہب اسلام میں اخلاص اور حسن نیت کی بڑی اہمیت ہے۔
اعمال کی در ستی اور افعال کی صحت کا دارومدار اخلاص اور حسن نیت پر ہے۔
احادیث کریمہ میں کثیر مقامات پر اخلاص کی اہمیت اور رِیا
کی مذمت ملتی ہے آئیے چند احادیث ملاحظہ کیجئے ۔
(1)حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر تھا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: خوشخبری ہے مخلصین کے لیے، وہ تاریکیوں میں ہدایت کے چراغ ہیں،
ان لوگوں کے ذریعے ہر تاریک فتنہ چھٹ جاتا ہے۔ (أخرجہ ابو نعيم فی الحلیۃ: 16/ 1
والبيہقی الشعب 5/343 والديلمی فی الفردوس 2/448)
(3)حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن
جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے
ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
(4)شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ
پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل
قبول فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی رضا کے لئے کیا جاتا ہے ‘ ‘ ۔ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اے لوگو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی اعمال قبول فرماتاہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیے جاتے
ہیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رشتہ داری کی وجہ
سے کیا ہے۔ ‘‘ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہار ت ، باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
اللہ پاک اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے ہمیں اخلاص کی دولت
سے مالا مال فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد
ابرار احمد (درجہ اولی جامعۃُ المدینہ فیضان
عثمان غنی کراچی ،پاکستان )
ہم اللہ پاک کے بندے ہیں اللہ پاک نے ہم پر عبادت کو
لازم کیا ، عبادت اور نیک اعمال کے قبول ہونے اور ان پر اجرو ثواب پانے کے لیے
اخلاص ایک نہایت ضروری چیز ہے ۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : کسی بھی نیک عمل
میں محض رضائے الہی حاصل کرنے کا ارادہ کرنا اخلاص کہلاتا ہے ۔( احیاء العلوم ج
104/5 کتاب النیتہ و لاخلاص و الصدق الباب الثانی فی لاخلاص )
اخلاص کی حقیقت یہ
ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کی عبادت کے علاوہ ہر ایک کی عبادت سے بری ہو جائے۔ (مفردات
امام راغب کتاب الخاء ص293)
کثیر آیات و
احادیث میں اخلاص اپنانے کے فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ اللہ پاک نے قرآن مجید میں
ارشاد فرمایا:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(البینہ:5)
ایک مقام پر
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا :اپنے دین میں
اخلاص رکھو تمہارا تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)
ایک مقام پر
ارشاد فرمایا : جس مسلمان میں تین اوصاف ہوں اس کے دل میں کھوٹ نہ ہوگا :
(1) اس کا عمل خالص اللہ پاک کے لیے ہو(2) وہ آئمہ مسلمین
کی خیر خواہی کرے (3)اور مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑلے۔(ترمذی کتاب العلم ما
جاء فی الحث علی تبلیغ السماع 299/4 الحدیث 2667)
جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کے حصول کے
فضائل بیان فرمائے وہیں ترک اخلاص کی مذمت بھی بیان فرمائی۔ چنانچہ فرمایا "
اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے میں شریک سے بے نیاز ہوں جس نے کسی عمل میں میرے ساتھ
میرے غیر کو شریک کیا میں اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔(مسلم کتاب الزھد والرقائق
باب من اشرک فی عملہ غیر اللہ ص 1594 الحدیث 2985)
ان باتوں سے
معلوم ہوا کہ نماز و روزہ حج و زکوۃ جہاد الغرض کوئی بھی عبادت ہو اس کی قبولیت کا
دارو مدار اخلاص پر ہے بغیر اس کے کوئی بھی نیک عمل اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول
نہیں گویا عبادت کی کنجی اخلاص ہے۔
اخلاص دینِ اسلام کی روح اور ہر نیک عمل کی بنیاد ہے۔
انسان کے ظاہری اعمال خواہ کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں، اگر ان میں خلوص نہ ہو تو
وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوتے۔ قرآنِ مجید نے بارہا اس حقیقت کو بیان
کیا کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خالص ہونی چاہیے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی
اخلاص کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد
مواقع پر فرمایا کہ عمل کی اصل قدر و قیمت نیت کے ساتھ وابستہ ہے۔ چنانچہ حدیثِ
پاک إنَّما الأعمالُ بالنِّيَّاتِ
یعنی اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 4927 )
اس حدیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک
عمل اس وقت قیمتی بنتا ہے جب اس کے پیچھے پاکیزہ نیت موجود ہو۔ اگر انسان نیک عمل
اس لیے کرے کہ لوگ اسے نیک کہیں، یا اس کی تعریف کریں، تو اس کے دل میں ریاکاری
داخل ہو جاتی ہے جو اخلاص کے خلاف ہے۔ عبادت کی قبولیت کا معیار محض ظاہری اداکاری
نہیں، بلکہ دل کا اخلاص ہے۔اخلاص کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کی شخصیت
میں پاکیزگی اور عمل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ کے لیے کام کرتا ہے وہ
مشکلات سے گھبراتا نہیں، لوگوں کی تعریف یا تنقید سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس کے دل میں
صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جائے۔ عمل کا وزن اخلاص کے
ساتھ بڑھ جاتا ہے، چاہے وہ عمل بظاہر چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔
اخلاص انسان کی زندگی میں برکتیں بھی پیدا کرتا ہے۔
اخلاص انسان کی مشکلات آسان کرتا ہے، اس کے دل میں سکون پیدا کرتا ہے، اور اس کے
کاموں میں اللہ تعالیٰ خیر اور برکت عطا فرماتا ہے۔ اخلاص کا ایک ثمرہ یہ بھی ہے
کہ انسان کے عمل میں اخفا یعنی خاموشی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اپنے نیک کام چھپ کر کرنے
کو پسند کرتا ہے تاکہ اس کا عمل خالص رہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
اکثر نیک اعمال چھپ کر کیا کرتے تھے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اخلاص
انسان کو تکبر سے بچاتا ہے۔ ریاکاری اور دکھاوا تکبر کی طرف لے جاتے ہیں جبکہ
اخلاص انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔ جب دل میں صرف اللہ کی رضا کا مقصد ہو تو انسان
خود کو کمزور اور محتاج سمجھتے ہوئے اس کے در پر جھک جاتا ہے۔ یہی کیفیت بندگی کی
اصل روح ہے۔ اخلاص ہر مسلمان کی زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔ احادیثِ نبویہ ﷺ سے معلوم
ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں اصل قیمت نیت کی ہے، اور وہی اعمال معتبر ہیں جو اللہ کے لیے
کیے جائیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نیک کام سے پہلے اپنی نیت کو درست کریں، اپنے دل کی
اصلاح کریں، ریاکاری سے بچیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں۔ اخلاص کے
ساتھ کیے گئے نیک اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ
تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت نصیب فرمائے۔ آمین۔
نعیم
اکرم (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف:’’کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔‘‘ (نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۵)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے
متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ (نجات
دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضورنبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل
بھی تمہیں کافی ہے۔‘‘(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
اخلاص کو تمام عبادات اور نیک اعمال میں روح کی حیثیت
حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے اخلاص کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ
الْخَالِصُترجمہ کنز الایمان: ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔
(الزمر:3)
حضرت سیدنا سہل تستری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
اخلاص یہ کہ بندے کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا بھی خالصتاً اللہ رب العزت کیلئے ہو
جائے۔حضرت سیدنا ابو عثمان نیشاپوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اخلاص یہ ہے کہ
بندہ فقط خالق کی طرف ہمہ وقت متوجہ رہنے سے مخلوق کو دیکھنا بھولنا جائے۔حضرت سیدنا
جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اِخلاص اللہ اوراس کے بندے کے درمیان ایک
راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور
خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف مائل کرے۔( احیاء العلوم، ۵ / ۲۷۱ تا ۲۷۴ملتقطا، الرسالۃ القشیریۃ، باب
الاخلاص، ص۲۴۴)
محمد
رفیق عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے،
اور اس کی عبادت کی بنیاد اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ ہر عمل خلوص نیت اور صرف
اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کے اعمال کو قبولیت کا درجہ
دلاتی ہے اور اسے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
نیَّت کی تعریف: نِیَّت دل کے پختہ
اِرادے کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی چیز کا ہو اور شریعت میں عبادت کے ارادے کونِیَّت
کہتے ہیں۔‘‘ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، ۱
/ ۲۲۴)
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا
لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے۔ (البینہ،آیت،5)
تاجدارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:بروزِ قیامت کچھ مُہر
بند صحیفے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں نَصْب (پیش)کئے جائیں گے تو اللہ
عزَّوَجَلَّ فرشتوں سے فرمائے گا: یہ چھوڑ دو اوریہ قبول کرلو۔ فرشتے عرض کریں گے
: یاربّ عزَّوَجَلَّ! تیری عزت کی قسم!ہم تواس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ،اللہ عزَّوَجَلَّ جوسب سے زیادہ جاننے والا ہے
ارشاد فرمائے گا:یہ اعمال میرے غیر کیلیے کئے گئے تھے آج میں وہی عمل قبول کروں
گا جو میری رِضا کے لئے کئے گئے تھے۔ (دار قطنی،کتاب الطہارۃ، باب النیۃ، ۱/۷۳، حدیث: ۱۲۹ )
اللہ
عزَّوَجَلَّ کے مَحبوب،دانائے غُیُوب ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جو نیکی کا ارادہ کرے
لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے نامۂ اعمال میں ایک کامِل نیکی کاثواب لکھ دیتا ہے۔‘‘
(مسلم،کتاب الایمان،باب اذا ہم العبد بحسنۃ کتبت الخ، حدیث:۱۳۱، ص۸۰)
انسان کو
مددِ الٰہی اس کے اِخلاص کے مطابق ملتی ہے،جس کے نیک اَعمال میں جتنا زیادہ اِخلاص
ہوگا اسے اتنی ہی زیادہ مددِ الٰہی نصیب ہوگی۔نِیَّت ہی کی وجہ سے اعمال اچھے یا
بُرے اور مرتبے کے لحاظ سے چھوٹے یا بڑے ہوتے ہیں اور اچھی نِیَّت کی وجہ سے انسان
کو کبھی نہ کبھی اچھے عمل کی توفیق ضرور مل جاتی ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ تورات شریف میں اللہ عزَّوَجَلَّ کا یہ
فرمان لکھا ہے:’’جس عمل سے میری رِضا مطلوب ہووہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے
میرے غیر کا قَصد کیا گیا ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم،۵/۸۹)
اخلاص ایمان کی ایک صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی
ہے۔ یہ ایمان کی ایسی طاقت ہے جو انسان کو دنیا کے وسوسوں سے بچاتی ہے اور اسے
آخرت کی کامیابی نصیب کرتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کو اخلاص کے ساتھ گزارنے کی کوشش
کرنی چاہیے اور ہر عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔
اخلاص کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔نیت کی درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں
قبول نہیں ہوتا۔اخلاص اعمال کو وزن اور روح عطا کرتا ہے، ورنہ عمل ظاہری ہونے کے
باوجود بے فائدہ رہتا ہے۔ریاکاری اخلاص کی ضد ہے، جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ بندے کے دل اور نیت کو دیکھتا ہے، نہ کہ ظاہری شکل و صورت کو۔اخلاص کے
ذریعے ہی بندہ اللہ کی رضا اور جنت کا مستحق بنتا ہے۔
(1) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا
جس کی اس نے نیت کی"۔(صحیح بخاری، حدیث: 1 ؛ صحیح مسلم، حدیث: 1907)
(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف وہی
عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے کیا جائے"۔(سنن نسائی، حدیث: 3140)
(4) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تمہاری صورتوں اور
مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے"۔(صحیح مسلم،
حدیث: 2564)
(5) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تین آدمیوں کا
واقعہ):"قیامت کے دن سب سے پہلے شہید، عالم اور سخی کا حساب ہو گا، مگر ریاکاری
کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا"۔(صحیح مسلم، حدیث: 1905)
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ۔ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ۔(سورۃ البینہ: 5)
قُلْ
اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱) ترجمہ
کنز الایمان: تم فرماؤ مجھے حکم ہے کہ اللہ کو پوجوں نرا اس کا بندہ ہوکر۔ (سورۃ
الزمر: 11)
مَنْ
كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ ترجمہ
کنز الایمان: جو آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں ۔(سورۃ
الشوریٰ: 20)
اخلاص دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ نیت کی پاکیزگی کے بغیر
کوئی بھی عبادت یا نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر
لازم ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال کو ریاکاری سے بچا کر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
انجام دے۔
اِخلاص کی تعریف: ’’ کسی
بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ ‘‘ (
نجات دلانے والے اعمال کی معلومات ، ص 25 )
اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں اخلاص کے متعلق
ارشاد فرماتا ہے :وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ
سیدھا دین ہے۔ (پ 30 ، سورةالبینہ 98 ، آیت 5 )
اس آیت مبارکہ میں اخلاص کے ساتھ شرک و نفاق سے دور رہ
کر اللہ عزوجل کی بندگی کرنے اور تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع ( پیروکار)
ہوکر نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے ۔
آیے اب ہم اخلاص
کی اہمیت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے: روایت ہے عمر ابن خطاب رضی اللہ
عنہ سے فرماتے ہیں فرمایانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے: کہ اعمال نیّتوں
سے ہیں ہرشخص کے لئے وُہ ہی ہے جو نیّت
کرے بس جس کی ہجرت اللہ و رسول کی طرف ہو تو اُس کی ہجرت اللہ
ورسول ہی کی طرف ہوگی اور جس کی ہجرت دنیاحاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کے لئے
ہو اس کی ہجرت اس طرف ہوگی جس کے لئے کی ۔
( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف جلد 1 ، ص 31 ، حدیث 1 )
(2) اللہ تبارک و
تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے:حضرت مصعب بن سعد اپنے والد سے
روایت کرتے ہیں کہ بے شک ان کے والد سعد نے خیال کیا کہ انہیں اپنے سے کم درجہ
صحابہ پر فضیلت حاصل ہے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ
تعالیٰ اس امت کی مدد فرماتا ہے کمزوروں کی دعا اور ان کی نماز اور ان کے اخلاص کی
وجہ سے ۔ (عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص29 )
( 3) اللہ رب
العزت دلوں کی طرف دیکھتا ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تمہارے
جسموں کی طرف اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں دیکھتا لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا
ہیں ۔ ( عنایتہ الملھم شرح اتحاف المسلم ، ص 31 )
(4)
تھوڑا عمل ہی کافی ہے:حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن
جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کافی ہے ۔ ( فرض علوم ، اخلاص کا بیان ، ص 630)
(5)
گناہ بخش دیئے جائے گے: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ
بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس
کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت
کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
، روزے کا بیان ، ج 3 ، ص 145، حدیث
1862 )
اخلاص ایمان کی جان ہے ، عبادت کی زینت ہے اور ہر اعمال
کی قبولیت کی کنجی ہے ، جو شخص اخلاص کو اپنا شعار بنا لیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا
قرب اور دائمی کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے ۔
امیر اہلسنت
دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں۔
مِرا ہر عمل بس
ترے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا
عطا یاالٰہی
عطا کردے اِخلاص
کی مجھ کو نعمت نہ نزدیک آئے ریا یاالٰہی
Dawateislami