تحریر: محمد آصف اقبال مدنی عطاری
اللہ پاک کے محبوب مکرم آخری نبی
حضرت محمد مصطفی ﷺ کا میلاد مسلمان صدیوں سے مناتے چلے آرہے ہیں ۔ ہردور میں عاشقان رسول اپنے آقاومولاﷺ سے اظہار
محبت کے مختلف طریقے اپناتے آئے ہیں۔ کوئی درودوسلام پڑھتا ہے ؛ کوئی محفل میلاد
منعقد کرتا ہے؛کوئی گھر کو سجاتا ہے؛کوئی راہوں کو چمکاتا ہے؛ کوئی جھنڈے لگاتا ہے؛ کوئی غریب امتیوں کی مالی مدد
کرتا ہے؛ کوئی لنگر کھلاتا ہے ؛ کوئی پانی وشربت کی سبیل لگاتا ہے الغرض اپنے اپنے
انداز واستطاعت کے مطابق اپنے پیارے نبی
ﷺ سے محبت وچاہت کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ بے شک یہ تمام طریقے مستحب ومستحسن ہیں لیکن حضور نبی رحمت ﷺ
کی محبت کی سب سے بڑی دلیل آپ کی اطاعت
ہے۔لہذا زندگی کا یہ اصول بنالیں کہ”
میلاد منائیں گے اور سیرت اپنائیں گے۔“ ہم
یہاں میلاد منانے کے کچھ خوب صورت اور
منفرد انداز تحریر کر رہے ہیں ۔ہرعاشق رسول مسلمان اپنی حیثیت واستطاعت کے مطابق ان پر عمل کرے اور ڈھیروں ڈھیراجروثواب کمائے۔
(1)سیرت رسول کریمﷺ
پر لکھی گئی بارہ کتابیں تقسیم کیجیے، ایک
کتاب کےبارہ نسخے بانٹ دیجیے، کتابیں
تقسیم کرنے والے اداروں سے یہ کام کروائیے ، سیرت پر کام کرنے والوں کے ساتھ بھرپور تعاون کیجیے، کتب سیرت کا مطالعہ
فرمائیے۔اس موضوع پر مکتبۃ المدینہ (دعوتِ اسلامی)نے دوبڑی پیاری اور مختصرکتابیں
شائع کی ہیں: (۱) آخری نبیﷺ کی پیاری سیرت(صفحات:155) (۲) سیرتِ مصطفی جان رحمت ﷺ (صفحات:331) ۔
(2) درس نظامی کے طلبہ کرام سے مالی تعاون کیجیے، انہیں ماہانہ
خرچ دیجیے ،کسی ایک طالب علم کوبارہ ہزار یا بارہ سو روپے کا تحفہ پیش کیجیےیا
انہیں نصابی یا دیگر دینی کتابیں دلائیے ،
عاشقان رسول میں رسائلِ امیراہل سنت تقسیم
کیجیے۔
(3)اہل سنت وجماعت کے مدارس وجامعات کے ساتھ ماہانہ
تعاون کیجیے،کسی ایک سنی ادارے کی بارہ مہینے یابارہ سال یا تاحیات مالی مدد کیجیے، اساتذہ کرام کی
فلاح وبہبود میں حصہ لیجیے، سنی
ادارے کی تعمیرو آباد کاری میں مدد کیجیے۔مدارس وجامعات اورطالب علموں پر خرچ کرنا راہِ خدا میں
خرچ کرنا ہے اور اِس خرچ پر ایک کی
700نیکیاں ہیں۔(فتاوی رضویہ،10/305)
(4)اماموں/مؤذنوں
/خادموں کی مالی خدمت کیجیے، ان کی کوئی
ضرورت پوری کردیجیے، ان کے لیے ذاتی سواری
کا انتظام کردیجیے ، ان کےلیے بارہ مہینوں
کے راشن کا انتظام اپنے ذمہ لے لیجیے، ان کے گھرکا کرایہ ادا کردیجیے۔
(5) علمائے دین کی مدد کیجیے، اسلام کے ان خادموں کو ہر موقع پر یاد رکھیے،مفتی،مصنف،
لکھاری اورمدرس علمائے کرام کو خاص اہمیت
وترجیح دیجیے، کتب کی اشاعت وتقسیم میں
تعاون کیجیے، کتب خرید کر حوصلہ افزائی
کیجیے۔
(5) غریب امتیوں کے
گھر راشن ڈلوادیجیے، ان کا قرض اتارنے میں مدد کیجیے، بجلی وگیس وغیرہ کے بِل ادا کردیجیے، ان کے بچوں کی شادیوں میں مدد
کیجیے، ان کے گھر کی مرمت کروادیجیے، کسی
کو موٹرسائیکل دلوادیجیے یا اُس کی موٹرسائیکل
کی مرمت کروادیجیے ۔
(7) یتیم وبے سہارا یا
غریب بچوں کی اسکول فیس ادا کیجیے، کسی ایک بچے کی بارہ مہینے تک فیس اپنے ذمہ لیجیے ،انہیں اسکول
بیگ دِلادیں، نیا یونیفارم لے دیں، لنچ
باکس یا پانی کا تھرماس دلا دیں۔
(8) غریب علاقوں میں
پانی کا انتظام کردیجیے، چند دوست مل کر یہ کام کرلیجیے، بارہ مقامات پر پکی سبیل کا اہتمام کیجیے، بارہ گھروں
میں پانی کے ٹینکر ڈلوادیجیے، بارہ دن کے پانی کا انتظام کردیجیے، ربیع الاول میں
بارہ دن پانی یا شربت کی سبیل لگائیے، پانی کے بارہ گیلن یا بارہ
بوتلیں ہی تقسیم کردیجیے۔اس سلسلے میں دعوتِ اسلامی کے شعبے ایف جی آر ایف سے
رابطہ کیجیے ۔
(9) بارہ دن راہِ خدا کے مسافر بن جائیے،بارہ قافلوں میں سفر کیجیے، بارہ مہینے کا سفر اختیار کیجیے اور عاشقان رسول کی صحبت میں دین سیکھیے سیکھائیے،
بارہ جمعرات دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیجیے، بارہ مدنی مذاکروں
میں شرکت فرمائیے ۔
(10) بارہ افراد کو علم دین سیکھنے کے لیے تیار کیجیے، درس نظامی
کا ذہن دیجیے، فرض علوم سیکھنے پر ابھارئیے، بنیادی عقائد اسلام و عقائداہل
سنت سیکھنے کی ترغیب دیجیے، سنتیں سیکھنے کا جذبہ بیدار
کیجیے اور ان سب کے لیے دعوتِ اسلامی کے
ماحول سے وابستہ ہوجائیے۔
(11) بارہ مسلمانوں کو نماز سیکھا دیجیے، طہارت کے مسائل
بتائیے، وضووغسل کا طریقہ سیکھائیے، نماز
کی شرائط وواجبات وسنن بتائیے، تلاوت کی
درستی کروائیے، قرآن پاک پڑھائیے۔ ”مدرسۃ المدینہ برائے بالغان“ اس کا بہترین ذریعہ ہیں۔
(12) میلاد والے آقا، دوعالم کے داتاﷺ کی بارہ سنتوں پراستقامت کے ساتھ عمل شروع کیجیے،
زہے نصیب تمام سنتوں پر عمل کی کوشش
کیجیے، بارہ لوگوں کو کسی ایک سنت پر عمل کے لیے تیار کیجیے،بارہ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھیے، درود تاج پڑھیے،
درود غوثیہ پڑھیے، درود رضویہ کا ورد
کیجیے، گھروالوں اور دوست احباب کو بکثرت درود شریف پڑھنے کی ترغیب دیجیے۔
1ربیع الاول 1448ھ
مطابق15 اگست2026ء
Dawateislami