عبدالرحمن
لیاقت علی عطاری (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان جمال مصطفی ،لاہور،پاکستان)
توحید
اسلام کی بنیاد ہے۔ حتی کہ بغیر توحید کے کسی کا مسلمان ہونے کا دعوی کرنا درست نہیں
ہے ۔ نبی کریم صل اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ لوگوں کو توحید کی
اہمیت سمجھائی اور شرک سے بچنے کی ہدایت فرمائی ۔
توحید کے معنی و مفہوم :توحید کے
لغوی معنی" ایک جاننا " اور اصطلاح میں توحید کی تعریف کچھ یوں ہے"
الله تعالی واحد لا من طريق العدد ولكن من طريق انه لا شریک له ترجمہ:اللہ
تعالٰی واحد ہے عدد کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس معنی کے اعتبار سے کہ اس کا کوئی شریک
نہیں۔( شرح الفقه الأكبر للقارى من ١٤ )
والتنزه عن الشبيه والنظير والمثيل في الذات والصفات والافعال ترجمہ:اللہ
تعالٰی ذات، صفات اور افعال میں شبیہ ، نظیر اور مثل سے پاک ہے یعنی اللہ تبارک و
تعالی نہ تو کسی کے مشابہ ہے اور نہ ہی کوئی اس کے مشابہ ہو سکتا ہے۔(حاشیہ الصاوی
پ ۳۰ الاخلاصی تحت الآیۃ 1 جلد 6)
عقیدہ توحید
کی مزید معلومات کے لیے الشاہ امام احمد رضا خان کا رسالہ اعتقاد الاحباب فی
الجميل والمصطفى والآل والاصحاب المعروف "دس عقیدے جلد 29 صفحہ 339 کا مطالعہ
فرمائیں۔
الأحاديث نبوية في بيان التوحيد:اسلام مثل خیمہ پاچھت کے ہے اور اسکے پانچ ارکان پانچ ستونوں کی حیثیت
رکھتے ہیں۔ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوجائیگا اور
اسکا اسلام منہدم ہوجائیگا ۔
(1)حضرت
ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صل علیہ وسلم نے فرمایا
اسلام پانچ چیزوں پر قائم کیا گیا ہے (1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی
معبود نہیں محمد صل الله تعالی علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اسکے رسول ہیں (2) نماز
قائم کرنا (3) زکوۃ ادا کرنا (4) حج کرنا (5) رمضان کے روزے رکھنا ۔(صحیح مسلم جلد
1 كتاب الإیمان صحیح بخاری جلد 1 حدیث 08)
ما حق الله على العباد :حق اللہ
سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کا اپنے بندوں پر سب سے لازمی اور ضروری حق یہ ہے کہ
بندے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور صرف اُسی ہی کی اور عبادت کریں جیسا
کہ حدیث نبوی ہے:
(2)حضرت
معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پیچھے اس طرح سوار تھا کہ میرے
اور حضور ﷺ کے درمیان صرف لکڑی تھی حضور ﷺ نے
فرمایا معاذ کیا جانتے ہو اللہ کا اپنے بندوں پر حق کیا ہے ۔ حضرت معاذ نے عرض کی
اللہ اور اس کا رسول جانے۔ حضور صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ
ہے کہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ (صحیح
بخاری كتاب التوحيد الذي هو حق الله العباد حدیث (7373 )
الجنة لمن قال
لا إله إلا الله:کلمہ انسان کے ایمان کی اصل ہے اسی کی پہچان اور نجات کا ذریعہ ہے ۔ قرآن و
سنت میں اس کی بار بار تاکید کی گئی ہے تاکہ انسان اپنے رب کی وحدانیت کو پہچانے
اور اسی پر اپنی زندگی قائم کرے ۔ کلمہ توحید کی فضیلت کو سمجھنے کے لئے ایک حدیث
مبارکہ جو کلمہ توحید کی اہمیت کو واضح کرتی ہے ۔
(3)حضرت
عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرا
کہ وہ لا الہ الا اللہ پر ایمان
رکھتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔( صحیح مسلم کتاب الایمان حدیث 136)
شرک کے شبہات اور حضور کی تنبیہات:اسلام میں
توحید بنیادی عقیدہ ہے جبکہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے حضور صل اللہ تعالی علیہ وسلم
نے امت کو بار بار شرک کے ظاہر اور پوشیدہ خطرات و شبہات سے آگاہ فرمایا تاکہ
انسانوں کا ایمان محفوظ رہے ۔
(1)حضرت
عبداللہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شرک باللہ کبیرہ
گناہ ہے۔ (صحیح بخاری حدیث 6675 قسموں اور نذروں کا بیان )
(2)محمود
بن لبید سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جن چیزوں سے تم پر خوف کرتا ہوں ان
سب میں زیادہ خوفناک شرک اصغر ہے۔ عرض کی گئی شرک اصغر کیا ہے ؟ فرمایا ریاکاری
کرنا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشكاة المصابیح جلد 7 حدیث5334)
خلاصہ
کلام یہ ہے کہ توحید اسلام کی سب سے بڑی تعلیم ہے نبی کریم ﷺ نے
توحید کو بذات خود سیکھایا ہے اور شرک سے منع فرمایا ہے جو اللہ کو ایک مانتا ہے
وہی کامیاب ہے۔ ہمیں شرک سے بچنا اور توحید پر عمل کرنا چاہیے اللہ تبارک و تعالیٰ
سے دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ہمیں توحید پر صحیح معنوں میں عمل کی توفیق عطاء فرمائے اور
شرک سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبین صلى اللہ علیہ وسلم۔
Dawateislami