اللہ پاک نے انبیاء کرام کو دنیا میں لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجا اور ساتھ ہی اس اہم فریضے کی ادائیگی کا حکم بھی ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو میری وحدانیت اور معبود برحق ہونے کے بارے میں بتاؤ۔ انبیاء مخلوق میں سے سب سے زیادہ فضیلت اور مرتبے والے ہیں۔ ان کا کلام وہی ہوتا ہے جس کا اللہ پاک کی طرف سے حکم ہو۔

آئیے جانتے ہیں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اللہ پاک کے وحدہ لا شریک ہونے کے بارے میں کس طرح لوگوں کی رہنمائی فرمائی۔ ابتدائے اسلام میں صحابہ کرام کو جب دوسرے شہروں اور ملکوں کی طرف پیغام الہی پہنچانے کے لیے روانہ فرمایا تو ان میں بھی اولین ترجیح اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کے بارے میں تھی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب نبی پاک ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم اہل کتاب کی طرف جا رہے ہو، پہلے ان کو اللہ پاک کے وحدہ لا شریک ہونے کے بارے میں بتانا، پھر اسلام کے بقیہ احکام کی طرف رہنمائی کرنا۔ (بخاری ج 5 حدیث 6824 ملخصاً)

توحید کی اہمیت:مسئلہ توحید کی اہمیت اس بات سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو اللہ پاک کو ایک نہ مانے ان سے جہاد کیا جائے یہاں تک کہ وہ رب تعالی کے معبود برحق ہونے کا اقرار کر لیں۔

بندوں پر اللہ کا حق:یہ بات اس قدر اہم ہے کہ مخلوق پر جو حقوق ہیں ان میں سے اہم ترین حق کے بارے میں خاتم النبیین ﷺ کا فرمان ہے:حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقا ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا حق کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر آقا ﷺ نے فرمایا: کہ اس پروردگار کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ (بخاری ج3 حدیث 6825 ملخصاً)

احادیث کریمہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ دنیا کی سب سے بڑھ کر قیمتی چیز اس بات پر ایمان رکھنا ہے کہ اللہ پاک وحدہ لا شریک ہے۔

جنت کی چابی لا الہ الا اللہ ہے۔ تمام تر عبادات اور نیک اعمال کا دارومدار اس بات پر ہے کہ بندہ اللہ پاک کو واحد یکتا جانے۔