محمد
ذیشان (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم،کراچی،پاکستان)
اسلام کا
سب سے بنیادی عقیدہ توحید ہے ، جتنی تاکید عقیدہ توحید کے متعلق قرآن وحدیث میں ہمیں
ملتی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی، اور رسول پاک ﷺ اور تمام انبیاء کرام کی بعثت کا
مقصد بھی یہی تھا کہ وہ معبودان باطلہ سے لوگوں کو نجات دلا کر اس ایک اللہ وحدہ
لاشریک کی عبادت کی طرف متوجہ کریں ، اس لئے جب ہم کتب احادیث کی طرف متوجہ ہوتے ہیں
تو ہمیں احادیث کا ایک ذخیرہ ملتا ہے جو اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ کرتا اور
معبودان باطلہ کی نفی کرتا ہے اور نہ صرف نبی پاک ﷺنے ہمیں دعوت توحید دی بلکہ اس
پر خوب برانگیختہ کیا اور فرمایا :مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ”جس شخص
نے یہ اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ پھر وہ اسی پر فوت ہو گیا۔
تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (متفق عليه، رواه البخاري کتاب اللباس باب: الثياب
البيض رقم 5827 ص: 1473 مکتبہ دار ابن کثیر۔ و مسلم کتاب الایمان باب من مات لا
يشرك بالله شيئا دخل الجنة، ومن مات مشركا دخل النار. رقم: 94 ناشر: بیت الافکار
الدولیہ)
اور جن لوگوں
پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے توحید کے دلائل دیکھ لئے اور ایمان نہیں لاتے تو ان
لوگوں کے لئے رسول الله صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِكَ
عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ
عَلَى اللَّهِ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال
کروں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور مجھ پر اور اس
دین پر ایمان لائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ ایسا کرلیں تو ان کے خون اور
مال مجھ سے محفوظ ہوجائیں گے، مگر حقِ اسلام کے مطابق (کسی شرعی سبب کی صورت میں)،
اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔”(صحیح مسلم کتاب الایمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول اللہ رقم الحدیث
21، بیت الافکار الدولیہ )
توحید ہے
کیا اس کے متعلق امام بدر الدین عینی لکھتے ہیں " توحید اصل میں وحد سے بنا
ہے جس کا معنی ہے میں نے اللہ کو ایک مانا یعنی میں اعتقاد رکھتا ہوں کہ وہ اپنی
ذات وصفات میں منفرد ہے جس کی کوئی نظیر نہیں۔ (عمدۃ القاری جلد25, ص81)
جس طرح
اللہ کی ذات میں شریک ماننے سے شرک لازم آتا ہے ایسے ہی اسکی صفات میں بھی غیر کی
شرکت ماننے سے شرک لازم آتا ہے۔
اقسام توحید :علمائے کرام نے توحید کی
تین اقسام ذکر کی ہیں:
(1)توحید
ربوبیت (اللہ کا خلق، ملک اور تدبیر میں واحد و یکتا ہونا)
(2) توحید
صفات (اللہ اپنے اسماء و صفات میں تنہا ہے)
(3) توحید
الوہیت (معبود برحق صرف اللہ ہے) احادیث میں ان تینوں اقسام کو بیان کیا گیا ہے
توحید الوہیت :توحید
الوہیت کو نبی پاک ﷺ نے واضح ارشاد فرمایا اور اپنے جان نثار صحابہ
کو حکم دیا کہ علی الاعلان اللہ کی وحدانیت کو بیان کریں " ابن عباس کے غلام
ابو معبد کہتے ہیں میں نے ابن عباس کو فرماتے سنا " جب نبی پاک ﷺ نے
حضرت معاذ کو یمن روانہ کیا تو ان سے فرمایا بے شک تم اہل کتاب کی ایک قوم کی طرف
جاؤ گے فَلْيَكُنْ أَوَّلُ مَا تَدْعُوهُمْ
إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَى، فَإِذَا عَرَفُوا ذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ
أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ
وَلَيْلَتِهِمْ۔ پس سب سے پہلے تم ان کو اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں تو جب
وہ اسے مان لیں تو انہیں خبر دینا کہ اللہ نے ان پر دن رات پانچ نمازیں فرض کی ہیں الخ (بخاری کتاب التوحید باب: ما جاء في دعاء
النبي صلى الله عليه وسلم أمته إلى توحيد الله تبارك وتعالى رقم7371،7372 ص:1820
مکتبہ دار ابن کثیر)
حضرت معاذ
کو حکم دیا گیا کہ یہود کو توحید کی طرف بلائیں حالانکہ وہ اہل کتاب میں سے تھے
اللہ کو خدا مانتے تھے لیکن حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اگرچہ غیر اللہ کی
عبادت نہ کرتے لیکن خدائی (رب ہونے) میں خدا کا شریک ٹھہراتے(یعنی توحید الوہیت میں
شریک نہیں ٹھہراتے تھے مگر توحید ربوبیت ضرور شریک ٹھراتے تھے) جیسے قرآن نے بیان
کیا " وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ ابْنُ اللّٰهِ ترجمہ کنز الایمان:اور یہودی
بولے عزیر اللہ کا بیٹا ہے (سورۃ توبہ آیت 30)
اس لئے
فرمایا کہ توحید کا اقرار کرانا اور اللہ کی عبادت کی طرف بلانا تاکہ غیر کی نفی
ہو جائے۔
توحید ربوبیت (خلق، تدبیر، تکوین میں
تنہا ماننا)اور جب تو حید ربوبیت کو بیان فرمایا تو اس بات کی طرف اشارہ دلایا کہ اس کی
قدرت و ملکیت کا انکار اس کی ذات کا انکار ہے عن ابي هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله علیه وسلم قَالَ اللَّهُ
تَعَالَى: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ
يَكُنْ لَهُ ذٰلِكَ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي
كَمَا بَدَأَنِي، وَلَيْسَ أَوَّلُ الْخَلْقِ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ
إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا،
وَأَنَا الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ
لِي كُفُوًا أَحَدٌ۔ ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:“ابنِ آدم نے مجھے
جھٹلایا، حالانکہ اسے اس کا حق نہ تھا، اور اس نے مجھے برا کہا، حالانکہ اسے اس کا
حق نہ تھا۔ پس اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے: ‘اللہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں
کرے گا جیسے اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا حالانکہ پہلی بار پیدا کرنا میرے نزدیک
دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں اور اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے
اللہ نے اولاد بنا لی ہے حالانکہ میں اکیلاہوں بے نیاز ہوں؛ نہ میں نے کسی کو جنا
اور نہ میں جنا گیا، اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے۔” (مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث
نمبر:20)
یہاں فرمایا
کہ دوبارہ پیدا کرنے کا انکار کرنا جو اس کی قدرت خلق ہے یہ درحقیقت اللہ کی تکذیب
ہے، واضح اور دوٹوک بیان فرمایا کہ اللہ پر ایمان تب کامل ہے جب اسکی شان خداوندی
پر بھی کامل یقین ہو۔
توحید اسماء و الصفات :احادیثِ
نبویہ میں توحیدِ اسماء و صفات کا بھی کثرت سے ذکر ملتا ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی
دعاؤں کے ذریعے بھی امت کو اللہ تعالیٰ کی عظمت، وحدانیت اور صفاتِ کاملہ کا اقرار
سکھاتے تھے۔نبی پاک ﷺ جو دعائیں ارشاد فرماتے وہ تعلیم امت کے لیے ہوتی ان دعاؤں میں
بھی آپ امت کو دعوت توحید اور اس پر استقامت کی طرف بلاتے بخاری شریف کی ایک حدیث
میں ہے ،عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه
وسلم کان يقول أعوذ بعزتك الذي لا إلاه إلا أنت الذي لا يموت والجن والإنس يموتونترجمہ: میں
تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ (ذات) جو کبھی نہیں
مرے گی، جبکہ جنات اور انسان سب مر جائیں گے۔"(صحيح البخاري کتاب التوحید
باب: قول الله تعالى: وهو العزيز الحكيم، رقم الحدیث : 7383 دار ابن کثیر)
اس طرح کی
کثیر دعائیں ہیں جن میں آپ نے اللہ کی توحید کا اقرار کیا اور دوسروں کی نفی کی
اور توحید کے اقرار کے ساتھ ساتھ اس کی شان و صفات کو بھی بیان فرمایا کہ جن و انس
مرجائیں گے مگر تو ہمیشہ زندہ رہے گا۔
مخالف توحید کیا ہے؟ مذکورہ
حدیث میں اللہ کی صفت حیات کو ذکر کیا اور یہ بات شروع میں معلوم ہوئی کہ توحید یہ
ہے کہ اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے تو یہاں سے یہ سوال اٹھتا
ہے کہ حیات اللہ کی صفت ہے، اگر کسی دوسرے کے لئے مانیں تو کیا یہ شرک ہوگا؟ تو اس
کا جواب یہ ہے ہماری جو حیات ہے وہ عارضی اس کی عطا کردہ ہے جب کہ اس کی حیات حقیقی
ازلی ابدی ہے(ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گی) اور یہ حقیقی اور عطائی کا فرق ہی ہے جو
شرک سے محفوظ رکھتا ہے اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں کثیر مقامات پر شرک کے خطرات سے ڈرایا
اور اگر کسی میں صفت عطائی ماننا بھی شرک ہوتی تو نبی پاک ﷺ اس سے بھی تنبیہ
فرماتے مگر ایسا نہیں ہوا بلکہ نبی پاک ﷺ نے بھی صفت عطائی کو ثابت رکھا اور اسے
توحید کے مخالف نہیں ٹھرایا جیسے کائنات کا مالک اللہ ہے مگر مجازاً فرمایا زمین
اللہ و رسول کی ملک ہے بخاری میں ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اعلموا ان الارض لله ورسولہ" یقین جان لو کہ زمین کے مالک
اللہ و رسول ہیں۔ (بخاری کتاب الاکراہ باب: في بيع المكره ونحوه، في الحق وغيره
رقم:6944 ص:1820)
اور اسی
طرح حاجت روائی اللہ کرتا مگر اس کے حکم سے جبریل بھی اور یہ شرک نہیں کیونکہ ان
کا حاجت روائی کرنا حقیقی ذاتی نہیں بلکہ عطائی باذن الٰہی کے ہے۔ حدیث پاک میں ہے
عن انس بن مالک قال رسول اللّٰہ ﷺ "إِنَّ
الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ لِيَدْعُوا اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى :
لِجِبْرِيلَ لَا تُجبُهُ فإني أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ وَ إِذَا دَعَاهُ
الْفَاجِرُ، قَالَ يَا جِبْرِيلُ : أَقْضِ حَاجَتَهُ فَإِنِّي لَا أُحِبُّ أَنْ
أَسْمَعَ صَوْتَهُ.بے شک بندہ مومن اللہ عز وجل سے دعا کرتا ہے تو رب جل و علا جبریل علیہ
الصلوة والسلام سے فرماتا ہے اس کی دعا قبول نہ کر، میں اس کی آواز سننے کو دوست
رکھتا ہوں اور جب فاجر دعا کرتا ہے۔ رب جل
جلالہ فرماتا ہے اے جبریل اس کی حاجت روا ئی کر دے کہ میں اس کی آواز سننا نہیں
چاہتا۔ (جامع کبیر جلد2، ص:366, رقم 5747 الازہر الشریف القاہرہ)
اور آج
کے پرفتن دور میں ہمیں ضرورت ہے کہ توحید کے معانی و مطالب کو عام کیا جائے اور
توحید کا درست تصور لوگوں کو بتایا جائے اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب
العزت ہمیں توحید پر استقامت عطا فرمائے اور شرک جیسی نحوست سے محفوظ و مامون
فرمائے۔امین بجاء خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
Dawateislami