توحید عربی
زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اکیلا تنہا اور
یکتا ماننے کے ہیں ۔توحید باری تعالی سے
مراد اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اس کی ذات میں
اس کا کوئی ہمسر نہیں اور نہ صفات میں اس کا کوئی شریک ہے ۔توحید اسلام کی اصل اور بنیاد ہے۔یاد رہے کسی شے کی اصل وہ ہوتی ہے جس پر
وہ شے قائم ہو ۔گویاکہ قصر اسلام کا ستون توحید باری
تعالیٰ ہے اور اسی پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے ۔چونکہ اسلام توحید باری تعالیٰ
پر مبنی ہے ۔تو اسی لئے قرآن و سنت میں جا بجا توحید کا ذکر ملتا ہے بلکہ سب کا سب
قرآن توحید کے بیان اور اہل توحید کے حقوق اور مدح و ستائش اور اہل شرک کی سزا و
جزا اور مذمت کے بیان میں ہے اور احادیث اس سب کی پختگی اور توضیح ہے جو کچھ قرآن
کریم نے بیان کیا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی نے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو مخاطب
کرتے ہوئے فرمایا کہ تم فرماؤ وہ اللہ ایک ہے اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ سانجھینہ اس کی کوئی نظیر ہے نہ مثل اور نہ ہی ذات و صفات میں اس کا کوئی برابر
ہے نہ جوڑ۔قرآن کریم میں اسی کا بیان ہے :
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ
كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد
اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص،1تا4)
دین اور توحید باری تعالیٰ:جیساکہ ماقبل میں ذکر ہوچکا کہ توحید دین کی اساس اور اصل ہے اور تمام
عبادات خواہ وہ فرائض ہوں یا مستحبات یعنی اعمال صالحہ ،نماز و روزہ ، حج و زکوٰۃ
سبھی کے سبھی فروعیات ہیں، اور جب ہم بغور قرآن و احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو
پاتے ہیں کہ جہاں عبادات، نیک اعمال کی ترغیب اور ان کے انعام کا ذکر کیا ہے تو
وہاں توحید و ایمان کو مقدم رکھا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ
جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷)
ترجمہ کنز الایمان: بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے فردوس کے باغ ان کی
مہمانی ہے۔ (الکہف آیت 107)
نبی علیہ افضل الصلوۃ والسلام نے اسلام کے ستون و ارکان کو بیان کرتے ہوئے
توحید باری تعالیٰ پر شہادت کو باقیوں پر اول الذکر رکھتے ہوئے فرمایا ۔
بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا
اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ
الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ یعنی اسلام کی بنیاد
پانچ چیزیں ہیں اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود بر حق ہے اور نبی ﷺ اسکے
بندے اور رسول ہیں نماز کو قائم کرنا ،
زکاة و حج کی ادائیگی کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔ (صحیح البخاری حديث 8 ، 89/1)
بندوں پر اللہ کا حق:وعن معاذ رضي الله عنه قال: كنتُ
رِدْفَ النبي ﷺ على حمارٍ، ليس بيني وبينه إلا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ، فقال: يا معاذ!
هل تدري ما حقُّ اللهِ على عبادِهِ، وما حقُّ العبادِ على اللهِ قلتُ: اللهُ ورسولُهُ أعلمُ. قال: فإنَّ حقَّ اللهِ
على العبادِ أن يعبُدُوه ولا يُشرِكُوا به شيئاً، وحقُّ العبادِ على اللهِ أن لا
يُعذِّبَ مَنْ لا يُشركُ به شيئاً فقلتُ: يا رسول اللهِ! أفلا أُبشِّرُ به الناسَ قال:
لا تُبشِّرْهُم فيَتَّكِلُوا۔
حضرت معاذ
بن جبل حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے ایک دراز گوش پر اس طرح سوار تھے کہ ان
کے اور نبی علیہ السلام کے درمیان پالان کے لکڑی کے سوا کچھ بھی نہ تھا حضور نے
فرمایا کیا جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے ؟
انہوں عرض کی اللہ عزوجل اور اس کا رسول جانیں تو حضور نے فرمایا بیشک بندوں پر
اللہ کا حق ہے کہ اسکی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کوئی شریک نہ ٹھہرائیں ، اور اللہ
پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ کرے اسے عذاب نہ دے ۔(صحیح
بخاری شریف ج1 ، 2856)
سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟یہی سوال ایک صحابی رسول نے حضورِ انور ﷺ سے پوچھا اور آپ نے شرک کو سب سے
بڑا گناہ قرار دیا ۔حدیث پاک میں ہے:قال رجل
اي ذنب اكبر عند الله قال ان تدعو لله ندا وهو خلقك
یعنی ایک شخص نے حضور اکرم کی بارگاہ میں عرض کی یا رسول اللہ سب سے بڑا
گناہ اللہ کے نزدیک کیا ہے ؟تو آپ نے فرمایا کہ تم
اللہ کا کوئی شریک ٹہراؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ۔(صحیح بخاری ج2 : 6811)
اور دوسری جگہ بھی حضور اکرم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ،اللہ
کے ساتھ شریک ٹھہرانا ،والدین کی نافرمانی ،جان کا قتل ، جھوٹی قسم بڑے گناہ ہیں ۔(صحیح
بخاری ج11: 6675)
دو واجب کرنے والی چیزیں: اسی ضمن میں حضرت جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم نے فرمایا دو چیزیں لازم کرنے والی ہیں تو ایک شخص نے عرض کی اے
اللہ کے رسول دو چیزیں لازم کرنے والی کیا ہیں ؟
تو فرمایاجو اللہ کا شریک مانتا ہوا مرگیا وہ
آگ میں جائے گا ۔اور جو اس طرح مرا کہ کسی کو الله
کا شریک نہ ٹھہرایا جنت میں جائے گا۔(مسلم ج1: 151)
توحید پر
استقامت:نبی علیہ السلام کا فرمان جنت نشان ہے جو شخص لا الہ الا اللّٰہ کہے اور اسی پر مرجائے تو جنت میں
داخل ہوگا ۔چنانچہ ابو ذر رضی عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں،اتيت
النبي صلي الله عليه وسلم وعليه ثوب ابيض وهو نائم ثم اتيته وقد استيقظ فقال ما من
عبد قال لا اله الا الله ثم مات علي ذلك الا دخل الجنة قلت وان زني وان سرق قال
وان زني وان سرق قلت وان زني وان سرق قال وان زني وان سرق قلت وان زني وان سرق قال
وان زني وان سرق علي رغم انف ابي ذریعنی حضرت ابو ذر رضی
عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ سفید کپڑا اوڑھے
ہوئے سو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد پھر آیا پھر آپ جاگ چکے تھے ۔ آپ نے فرمایا جو بندہ
بھی لا الہ الا اللہ کہہ لے
اور پھر اسی پر مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ابو ذر رضی اللہ عنہ نے
عرض کی اگرچہ زنا و چوری کرے ! آپ نے فرمایا اگرچہ زنا و چوری کرےانہوں نے دوبارہ
عرض کی ؛ اگرچہ اس نے زنا و چوری کی ہو۔آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا و چوری کی ہو،تیسری مرتبہ استفسار کیا بعد آپ نے فرمایا ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو (یعنی
وہ ناپسند ہی کیوں نہ کرے)، اگرچہ وہ زنا و چوری کرے۔(صحیح بخاری5827)
اسی مضمون میں سفیان بن عبداللہ ثقفی سے مروی ہے انہوں نے حضور کی بارگاہ
اقدس میں عرض کی ،یارسول مجھے اسلام کے بارے ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعد میں وہ
کسی سے نہ پوچھوں ،تو حضور نے فرمایا ۔کہو
کہ میں اللہ پر ایمان لایاپھر اس پر استقامت رکھو۔(مسلم : ج1: ح62)
آپ نے دیکھا
کہ اسلام میں توحید کو کس قدر خصوصیت و اہمیت حاصل ہے۔ یقیناً توحید اسلام کی وہ
بنیاد ہے جس کے بغیر اعمال کی عمارت کی کوئی حیثیت نہیں ، اسی توحید کا درس دینے کی
خاطر ہی تمام انبیاء و رسل تشریف لائے، اور سب نے لا الہ الالله کا پیغام دیا ، فقط اللہ موجود ہے کے کہنے پر اکتفا و اقتصار نہ کیا ، یہ
بھی یاد رہے جہاں تعلیماتِ نبویہ نے ہمیں توحید کی فضیلت و اہمیت سے آشکارا کیا
وہاں شرک جیسی مہلک مرض سے بھی متنبہ کیا بایں طور مسلمان و مؤمن کو چاہیے کہ توحید
کے علم کو مضبوطی سے تھامے رکھے، شرک و کفر کی ناپاکی سے اپنی دل و ایمان کو صاف
رکھے اور آخرت میں رضائے الٰہی و شفاعت مصطفیٰ ﷺ کا حقدار ٹھہرے۔
Dawateislami