محمد ساجد(درجہ دورۃالحدیث)

Tue, 27 Oct , 2026
53 minutes ago

توحید باری تعالی اسلام کی بنیاد ہے اس پرایمان لانا مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے ۔جس طرح اللہ تبارک تعالیٰ نے قرآن عظیم میں اپنی وحدانیت کو بیان کیا اسی طرح حضور جان عالم ﷺ نے بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کو واضح فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا :اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اور ان میں سب سے پہلی چیز یہ بیان کی کہ اس بات کی گواہی دینا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (بخاری شریف حدیث ۸)

امام ابو الشیخ نے العظمہ میں ابو بکر سمر قندی نے فضائل میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ کے متعلق یہ روایت بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر کے یہودی حضور ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے ابو القاسم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور حجاب سے اور آدم علیہ السلام کو گوندی ہوئی مٹی سے ابلیس کو آگ کے شعلے سے آسمان کو دھوئیں سے اور زمین کو پانی کی جھاگ سے تخلیق فرمایا تو آپ ہمیں اپنے رب کے بارے میں بتائیے تو حضور ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا پھر حضرت جبریل علیہ السلام سورۃ " قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَد" لیکر حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا " قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ" اسکی رگیں نہیں ہیں جو متفرق اور بکھری ہوئی ہوں۔" اَللّٰهُ الصَّمَدُ" وہ پیٹ والا نہیں نہ وہ کھاتا ہے اور نہ ہی وہ پیتا ہے " لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ" نہ اس کا باپ ہے نہ بیٹا جس کی طرف اس کی نسبت کی جائے " وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ" اسکی مخلوق میں کوئی ایسی شئے نہیں ہے جو اسکے مکان کی برابری کر سکے۔(تفسیر در منثور ج۶ص۱۱۶۹)

ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کتب میں جو احکام نازل فرمائے ان میں یہ بھی ہے کہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے خیر اور شر کو میں نے مقدر کیا ہے مبارک ہو اسکو جس کے لئے میں خیر کو مقدر کروں اور اس کے لئےخیر آسان بنادوں اور ہلاکت ہے اس کے لئے جس کے ہاتھ پر میں شر کو مقدر کردوں اور اس کے لیے شر کو ہی آسان بنادوں میں ہی اللہ ہو میرے سوا کوئی معبود نہیں مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کیا جاتا جو میں کرتا ہوں اور لوگوں سے سوال کیا جائے گا ہلاکت ہے اس کے لئے جو کہتا ہے یہ کیسے ہے (تفسیر در منثور ج ۴ ص ۸۵۲)

اس حدیث پاک سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت اسکی صمدیت پر دلالت ہوتی ہے کہ اس سے اسکے کسی بھی فعل کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ وہ بے نیاز ہے اور اس حدیث پاک سے اس معاملہ کے بارے میں سوال کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) خدائے تعالیٰ کے رسول ہیں۔ تواللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام فرمادیتا ہے ۔ (مسلم شریف،حدیث ۲۹)