اللہ تبارک و تعالی نے اس دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء اور رسول بھیجے ان کا صرف ایک ہی کام تھا وہ اللہ تبارک و تعالی کی وحدانیت اور عبادت کا حکم دینا اور سب سے آخر میں ہمارے پیارے نبی  ﷺ تشریف لائے آئیے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی احادیث مبارکہ سے توحید باری تعالی کے بارے میں علم حاصل کرتے ہیں ۔

(1) عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:الْاِ يمَانُ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْنَ اَوْ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ شُعْبَةً فَاَفْضَلُهَا قوْلُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ وَاَدْنَاهَا اِمَاطَةُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ وَالْحَيَاءُشُعْبَةٌ مِنَ الْاِيمَانِ.

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ایمان کےساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ہیں۔ ا ن میں سے افضل لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہنا اورسب سے ادنیٰ درجہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے اورحَیا(بھی)ایمان کا ایک شعبہ ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد5 ، حدیث نمبر:683)

(2) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ شَھِدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ النّارَ

حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے رسولِ کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام فرما دیتا ہے ۔( مشکاۃ المصابیح کتاب الإیمان،الفصل الأول،الحدیث:7،ج1)

(3) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اَلْمُسْلِمُ اِذَا سُئِلَ فِى الْقَبْرِ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ فَذٰلِكَ قَوْلُهُ تَعَالٰى : یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ.

حضرتِ سَیِّدُنا براء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : مسلمان سے جب قبر میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان سے یہی مراد ہے یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ- ( پ13 ،ابراھیم :27 )ترجمۂ کنزالایمان : اللہ ثابت رکھتا ہے کہ ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 حدیث نمبر:427)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ان احادیث کو پڑھنے اور سمجھنے اور آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین