اسد
عبدالستار(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
جب کوئی
بندہ اس پورے جہان کے اندر غور و فکر کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے کوئی چلانے
والا اور اسے کوئی پیدا کرنے والا موجود ہے اسی دعوت کو عام کرنے کے لیے اللہ تعالی
کی ذات بابرکات نے اپنے انبیاء کرام کو دنیا کے اندر بھیجا اور انہوں نے اللہ تعالی
کی وحدانیت کی طرف لوگوں کو بلایا جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:
(1)حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا اے معاذ کیا تو جانتا ہے اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے حضرت معاذ نے فرمایا
اللہ ورسولہ اعلم پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ بندے اللہ کی عبادت کریں اسکے
ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے بندوں
کا حق اللہ پر کیا ہے تو حضرت معاذ نے دوبارہ فرمایا اللہ ورسولہ اعلم رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ ان کو عذاب نہ دے۔(شرح صحیح البخاری،جلد
25 ، حدیث نمبر 7373)
لفظ توحید
کی تحقیق :اصل میں توحید جو ہے وہ مصدر ہے وحد یوحد توحیدا سے آتا ہے جس کا معنی یہ
بنتا ہے ۔
عرب کے
اندر مقولہ ہے : وحدت اللہ یعنی میں نےرب تعالیٰ کی ذات کا اعتقاد رکھا اس اعتبار
سے کہ وہ اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے واحد ہے اور یکتا ہے اسکا کوئی شبیہ و نذیر
نہیں ہے ۔(کتاب التوحید عمدۃالقاری شرح صحیح البخاری )
(2) حضرت
ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ
اپنے دائیں دست ِ قدرت سے زمین کو اپنے ہی قبضے میں لے گااور آسمان کو لپیٹ لے
گا، پھرفرمائے گا:حقیقی بادشاہ میں ہوں ،آج زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟( صحیح بخاری،
کتاب الرقاق، باب یقبض ، 2/ 251، الحدیث: 2519)
اس حدیث
کریم سے معلوم ہوا کہ واجب الوجود صرف رب تبارک و تعالی کی ذات ہے باقی جتنی بھی ہیں
وہ سب کچھ وقتی طور پر ہیں اور حاکمیت اور حکم اسی کی ذات کا ہی رہنا ہے جو ذات
اپنے وجود کے اندر تنہا ہے نہ اس کا کوئی شریک، نہ ثانی ،نہ کوئی شبیہ نہ اس کا نظیر
،ساری دنیا اپنے وجود کے اندر اس ایک کی محتاج ہے اور اپنے باقی رہنے کے اندر اسی
ذات کے محتاج ہیں۔
جیسا کہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَىترجمہ کنزالایمان:میرا رب نہ بہکے
نہ بھولے۔
(7)حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ دے گا۔ پھر انہیں اپنے
(شایانِ شان معنوں میں ) دائیں ہاتھ میں لے گا، پھر ارشادفرمائے گا: میں بادشاہ
ہوں ، کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبُّر والے لوگ؟ پھر زمینوں کو اپنے (شایانِ
شان معنوں میں ) بائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھرارشاد فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں
،کہاں ہیں جابر لوگ؟ کہاں ہیں تکبُّر و غرور کرنے والے لوگ۔( مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ
والجنّۃ والنّار، ص1299، الحدیث)
Dawateislami