توحید
اسلام کا بنیادی رکن اور تمام انبیاء کی دعوت کا مرکزی نکتہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی
پوری زندگی اللہ عزوجل کی وحدانیت کو ثابت کرنے میں گزاری اور شرک(شریک ٹھہرانے) کی
ہر صورت میں نفی کی۔ جس طرح قرآن پاک میں اللہ پاک کی وحدانیت کا ذکر ہیں اسی طرح
حدیث پاک میں بھی اللہ پاک کی وحدانیت، ربوبیت، الوہیت اور اسماء و صفات کا واضح بیان
ملتا ہے۔
حضرت معاذ
بن جبل فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سواری پر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اے
معاذ! کیا تم جانتے ہو اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے؟میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے
رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اسی کی
عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 2856)
حضرت عبداللہ
بن مسعودسے روایت ہے:میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟آپ ﷺ
نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا
ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 4477)
حضرت ابو ہریرہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جس نے لا إلہ إلا اللّٰه کہا اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی
جاتی ہے ان کا انکار کیا، اس کا مال اور خون محفوظ ہوگیا، اور اس کا حساب اللہ کے
ذمہ ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 23)
حضرت ابو ذر
روایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے
خوشخبری دی کہ آپ کی امت میں سے جو اس حال میں مرے کہ اللّہ کے ساتھ کسی کو شریک
نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری، حدیث: 1237)
حضرت ابن عمرسے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس
بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔(صحیح
بخاری، حدیث: 8)
اللہ پاک
میری اس کوشش کو اپنی پاک بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔
Dawateislami