سید
محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ عالمیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،کراچی،پاکستان)
اسلام کی
پوری عمارت جس بنیاد پر قائم ہے، اسے "توحید" کہتے ہیں۔ توحید کا آسان
مطلب یہ ہے کہ سچے دل سے یہ مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات، اور اختیارات
میں اکیلا ہے۔ کائنات کی ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور چلانے والا صرف وہی ہے۔ تاریخ
میں جتنے بھی انبیاء علیھم السلام آئے، ان سب کی پہلی اور بنیادی دعوت یہی تھی۔
ہمارے پیارے نبی حضور جان عالم ﷺ نے بھی اپنی پوری زندگی توحید کی اہمیت واضح کرنے
اور شرک (اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے) سے بچنے کی تاکید میں گزاری۔نبی کریم ﷺ نے جب مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا، تو سب سے پہلے لوگوں کے
سامنے یہی پیغام رکھا:لا الٰہ الا اللہ کہو، کامیاب
ہوجاؤ گے۔( مسند احمد جلد 25 صفحة 404 مؤسسۃ الرسالۃ)
یہ ایک جملہ دراصل کامیابی کی وہ چابی ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں
میں سرخرو کرتی ہے۔
توحید بندے پر
اللہ کا پہلا حق:اللہ نے ہمیں پیدا کیا،
زندگی دی اور بے شمار نعمتوں سے نوازا۔ اس لیے ہمارا بھی یہ فرض ہے کہ ہم اس کا حق
پہچانیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
بندوں پر
اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ
ٹھہرائیں۔(صحيح البخاری جلد 4 صفحہ 78
حديث 2873 دار التأصيل - القاهرة)
اس کے برعکس، شرک کو کائنات کا سب سے بڑا گناہ اور ظلم قرار دیا گیا ہے۔ جب
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے بڑا گناہ کون سا
ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:یہ کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا
ہے۔(صحيح البخاري جلد 6 صفحة 10 حديث 4456 دار التأصيل - القاهرة)
توحید کا اصل
مقصد: اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ
توحید صرف زبان سے "لا الٰہ الا اللہ"
کہہ دینے کا نام ہے۔ لیکن اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ توحید کا اصل اثر انسان کے عمل
اور اس کے اخلاق پر ظاہر ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:اللہ تمہاری صورتوں
اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحيح مسلم
جلد 8 صفحہ 11 حديث 2564 دار الطباعة العامرة - تركيا)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ہمارے دل میں اخلاص نہیں ہے اور ہم نیک کام
صرف لوگوں کو دکھانے (ریاکاری) کے لیے کر رہے ہیں، تو یہ بھی توحید کے خلاف ہے۔
جب ایک مسلمان کا عقیدۂ توحید سچا اور پکا ہو جاتا ہے، تو اس کی سوچ اور
زندگی میں درج ذیل تبدیلیاں آتی ہیں:
خوف اور مایوسی
کا خاتمہ: جب انسان کا یہ یقین ہو جاتا ہے کہ نفع اور نقصان، عزت اور ذلت، اور زندگی
اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو وہ بندوں کے سامنے جھکنا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ کسی
ظالم سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی حالات سے مایوس ہوتا ہے۔
عاجزی اور انکساری: توحید انسان
کے اندر سے تکبر اور غرور کو ختم کرتی ہے۔ انسان یہ جان لیتا ہے کہ اس کے پاس جو
کچھ بھی ہے وہ سب اللہ کی امانت ہے، اس لیے وہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتا۔
گناہوں سے دوری:
یہ یقین کہ اللہ ہر وقت مجھے دیکھ رہا ہے اور میری نیتوں سے واقف ہے، انسان
کو تنہائی میں بھی گناہ کرنے سے روکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سچے دل سے توحید کی گواہی دے، اللہ اس پر
جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم جلد 1 صفحة 42 حديث 29 دار الطباعة
العامرة - تركيا)
آج ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ صرف زبان سے توحید
کا اقرار کرنا چاہیے، بلکہ اپنے ہر عمل کو دکھاوے سے پاک کر کے صرف اللہ کی رضا کے
لیے ہی عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خالص عقیدۂ توحید پر جینے اور اسی پر
مرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Dawateislami