اسلام کی بنیاد جس عقیدے پر قائم ہے وہ توحید ہے۔ تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی نقطہ یہی تھا کہ انسان صرف ایک اللہ کی عبادت کرے، اسی سے مدد مانگے اور اسی کو کائنات کا حقیقی مالک سمجھے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے اقوال، اعمال اور پوری زندگی کے ذریعے توحید کا ایسا جامع بیان فرمایا جس نے انسانیت کو شرک، گمراہی اور باطل معبودوں سے نجات دی۔

قرآنِ کریم میں توحید:(1) قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔(سورۃ الاخلاص: 1-2)

(2) وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (سورۃ البقرہ: 163)

(3) وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)

ترجمہ کنزالایمان:اور میں نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی(اسی لئے)بنائے کہ میری بندگی کریں۔(سورۃ الذاریات: 56)

احادیثِ مبارکہ میں توحید:

(1) کلمۂ توحید کی فضیلت :حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں اور ان میں سب سے افضل ‘لا الٰہ الا اللہ’ کہنا ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان عدد شعب الایمان)

توحید کی اقسام:

(1) توحیدِ ربوبیت:اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق، مالک اور رازق ماننا۔

(2)توحیدِ الوہیت:عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کرنا۔

(3) توحیدِ اسماء و صفات:اللہ تعالیٰ کی صفات کو ویسا ہی ماننا جیسا قرآن و حدیث میں آیا ہے۔

توحید کے اثرات:دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے۔خوف اور مایوسی ختم ہوجاتی ہے۔انسان شرک اور بدعات سے بچتا ہے۔معاشرے میں اخوت اور مساوات قائم ہوتی ہے۔انسان کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہوجاتا ہے۔

توحید اسلام کی روح اور ایمان کی بنیاد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پوری زندگی انسانیت کو اسی عظیم پیغام کی دعوت دی۔ آج بھی کامیابی، نجات اور دل کے سکون کا راستہ اسی عقیدۂ توحید میں پوشیدہ ہے۔ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو خالص رکھے، اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرے اور اپنی عبادات صرف اسی کے لیے انجام دے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں توحید کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔