توحید دین کی بنیاد اور ہر عمل کی روح ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جس کے لیے تمام انبیاء مبعوث ہوئے، اور یہی وہ دعوت ہے جسے نبی کریم  ﷺ نے اپنی زندگی کا محور بنایا۔ توحید کا مطلب صرف زبان سے "لا الہ الا اللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے توحید کو نہایت سادہ، واضح اور دل نشین انداز میں بیان فرمایا تاکہ ہر خاص و عام اسے سمجھ سکے اور اپنی زندگی اس کے مطابق ڈھال سکے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص، آیات 1-4)

نبی کریم ﷺ کے بیان میں توحید کے کئی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ توحید کا تعلق اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُواترجمہ: کہو لا الہ الا اللہ، کامیاب ہو جاؤ گے۔ (مسند احمد، مسند الانصار، حدیث نمبر: 23078)

اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ نجات اور فلاح کا مدار صرف اللہ کی وحدانیت کے اقرار پر ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ توحید میں اللہ کی صفات میں کسی کو شریک نہیں کیا جاتا۔ نبی کریم ﷺ نے دعا سکھاتے ہوئے فرمایا: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَترجمہ: اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔(صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب افضل الاستغفار، حدیث نمبر: 6306)

یہ دعا بتاتی ہے کہ خالقیت، ربوبیت اور الوہیت سب اللہ کے لیے خاص ہیں۔

تیسرا پہلو یہ ہے کہ توحید کا تقاضا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے خالص ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًاترجمہ: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ (صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب ما جاء فی دعاء النبی ﷺ امتہ الی توحید اللہ، حدیث نمبر: 7373)

اس حدیث میں عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنے کا حکم ہے، کیونکہ عبادت میں شرک توحید کو باطل کر دیتا ہے۔

چوتھا پہلو یہ ہے کہ توحید دل کے یقین کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ دَخَلَ الْجَنَّةَترجمہ: جو شخص دل کے یقین کے ساتھ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب من لقی اللہ بالایمان وھو غیر شاک فیہ دخل الجنۃ، حدیث نمبر: 31)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ توحید صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کا یقین بھی ضروری ہے۔

نبی کریم ﷺ نے توحید کو بیان کرنے میں مثالوں اور تشبیہات کا بھی سہارا لیا تاکہ عام فہم کے لیے آسانی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ

ترجمہ: جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجل، حدیث نمبر: 6407)

اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور ذکرِ الہی دل کو زندہ رکھتے ہیں۔

توحید کا نبوی بیان شرک کی تمام صورتوں سے براءت کا اعلان بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر لوگوں کو بتوں کی عبادت، قبروں کی پرستش اور غیر اللہ سے مدد مانگنے سے روکا۔ آپ ﷺ کا ہر خطبہ، ہر وعظ اور ہر دعا توحید کی دعوت پر ختم ہوتی تھی۔توحید کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا، اور توحید کے ساتھ چھوٹا عمل بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا بیان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اللہ کو ایک مانو، اسی سے مانگو، اسی پر بھروسہ کرو، اور اسی کے لیے جیو۔ یہی وہ راہ ہے جو انسان کو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات عطا کرتی ہے۔