محمد
حمزہ سلطان(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان جمال مصطفی،لاہور،پاکستان)
(1) توحید اسلام کا عظیم ترین
رکن:توحید (لا الٰہ الا اللہ) اسلام
کا سب سے بڑا اور پہلا ستون ہے۔ کوئی شخص اس وقت تک دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو
سکتا جب تک وہ توحید کی گواہی نہ دے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا
اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ"ترجمہ:
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے
سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"(صحیح بخاری، کتاب
الایمان، حدیث: 8؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 16)
(2)توحید اولین فریضہ ہے:نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے توحید کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ حضرت معاذ
بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا:"إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا
تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"ترجمہ:
"تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، پس سب سے پہلے جس چیز کی طرف تم
انہیں بلاؤ وہ "لا الہ الا اللہ" کی
گواہی ہے" ۔(صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث: 7372)
(3)توحید کی فضیلت:رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید کی فضیلت میں فرمایا:"مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،
وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ... أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى
مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ"ترجمہ: "جو شخص گواہی دے
کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس
کے بندے اور رسول ہیں ... تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا چاہے اس کے اعمال کیسے
ہی ہوں" ۔(صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، حدیث: 3435؛ صحیح مسلم، کتاب
الایمان، حدیث: 28)
ایک اور
حدیث میں فرمایا:"فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى
النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ"ترجمہ:
"بیشک اللہ نے اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیا جو اللہ کی رضا کے لیے"لا الہ الا اللہ" کہے"۔(صحیح بخاری، کتاب الصلوۃ، حدیث: 425؛ صحیح مسلم، کتاب
المساجد، حدیث: 263)
(4) شرک سے بچنے کی تلقین:رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شرک کے بارے میں سخت وعید سنائی اور فرمایا:
"أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ
اللَّهِ، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ"ترجمہ: "کیا میں تمہیں
سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں بتاؤں؟" صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول
اللہ! فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا"۔(صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث:
13)
حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا:"مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو مِنْ
دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَ"ترجمہ: "جو شخص اس حال میں
مرا کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہو گا"۔(صحیح بخاری، کتاب التوحید، حدیث: 7401)
(5) تفسیر صراط الجنان کی روشنی میں:تفسیر
صراط الجنان (سورۃ الانعام، آیت 82) وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کو
نہ ملایا تو انہی کے لیے امان ہے اوریہی ہدایت یافتہ ہیں ۔کے تحت ہے: حضرت عبداللہ
بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی
توصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے رسولُ
اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کی ’’ہم
میں سے ایسا کون ہے جو اپنی جان پر ظلم نہیں کرتا۔ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :’’اس سے یہ مراد نہیں بلکہ
اس سے مراد شرک ہے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی: ولقد آتینا
لقمان الحکمۃ الخ، ۲ / ۴۵۱، الحدیث: ۳۴۲۹)
Dawateislami