توحید وہ
حقیقت ہے جس پر انسان کی نجات کا دارومدار ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جسے نبی کریم ﷺ نے
مکہ کے اندھیرے میں کھڑے ہو کر سب سے پہلے بلند کیا۔ نہ شاعری، نہ فصاحت کا دباؤ،
بس ایک صاف اعلان: "لا الہ الا اللہ"۔
نبی کریم ﷺ کا اسلوب یہ تھا کہ توحید کو دلوں کی گہرائی تک
پہنچایا جائے، نہ کہ صرف ذہن کی حد تک محدود رکھا جائے۔ اسی لیے ان کا بیان سادہ،
براہ راست اور عمل سے بھرپور تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ
اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(۲۵)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی
فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو
مجھی کو پوجو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 25)
نبی کریم ﷺ کے بیان
میں توحید کے چند پہلو اس طرح ابھرتے ہیں۔
پہلا پہلو
یہ ہے کہ توحید انسان کو خوف و طمع سے آزاد کرتی ہے۔ جب بندہ یہ سمجھ لے کہ رزق،
عزت اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہ مخلوق کے آگے جھکنا چھوڑ دیتا ہے۔ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:
وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ
بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَترجمہ:
"جان لو کہ اگر تمام لوگ جمع ہو کر تمہیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں
اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے"۔ (سنن
الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث نمبر: 2516)
یہی یقین
انسان کو بے خوف اور بے نیاز بنا دیتا ہے۔
دوسرا
پہلو یہ ہے کہ توحید عبادت کو ریاکاری سے پاک کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا
وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُترجمہ: "اللہ اس عمل کو قبول نہیں کرتا مگر جو خالص اسی کے لیے ہو اور
اس سے اللہ کی رضا مقصود ہو"۔ (سنن النسائی، کتاب الجہاد، حدیث نمبر: 3140)
اس لیے
توحید کا تقاضا ہے کہ نماز، روزہ، صدقہ ہر چیز میں نیت صرف اللہ کی ہو۔
تیسرا
پہلو یہ ہے کہ توحید اللہ کی صفات میں کسی کو شریک نہ کرنے کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
لوگوں کو اس بات سے روکا کہ وہ آپ ﷺ کی تعریف میں غلو کریں۔ فرمایا: لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا
أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُترجمہ: "مجھے اس
طرح مت بڑھاؤ جیسے نصاریٰ نے مریم کے بیٹے کو بڑھایا، میں تو صرف اس کا بندہ ہوں،
سو کہو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول"۔ (صحیح البخاری، کتاب احادیث الانبیاء،
حدیث نمبر: 3445)
اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ توحید صرف اللہ کو معبود ماننا ہی نہیں، بلکہ نبی کو بھی ان کے مقام
پر رکھنا ہے۔
چوتھا
پہلو یہ ہے کہ توحید امید اور رحمت کا دروازہ کھولتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ترجمہ: "جو اس حال
میں مرے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل
ہوگا"۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر: 26)
یہ حدیث
مایوس دلوں کے لیے روشنی ہے کہ گناہوں کے باوجود توبہ اور توحید نجات کا راستہ
کھول دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے
توحید کو صرف وعظ میں نہیں رکھا، بلکہ عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ راتوں کو قیام، دن
میں دعوت، مشکلات میں صبر، اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع۔ یہی اسلوب تھا جس نے
قلوب کو بدل دیا۔
توحید کا
نبوی بیان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کا ہر لمحہ اللہ سے جڑنے کا موقع ہے۔ جب
بندہ یہ جان لے کہ کائنات کا مالک ایک ہے تو اس کی فکر، اس کی محبت اور اس کی امید
سب اسی ایک ذات کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔ یہی وہ توحید ہے جو دل کو زندہ اور آخرت
کو کامیاب کر دیتی ہے۔
Dawateislami