عقیدہ توحید تمام عقائد پر مقدم ہے توحید میں زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کیے بغیر انسان مسلمان ہی نہیں ہوسکتا آج کے پر فتن دور میں عقیدہ توحید کو سمجھنا بے حد ضروری ہے اہل محبت کی اداؤں کو شرک کی طرف منسوب کیا جارہا ہے بات بات پر شرک کے فتویٰ لگائے جارہے ہیں ۔

(1)توحید کے معنیٰ ومفہوم: توحید کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کو واحد و یکتا ماننا ، اللہ پاک واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں وہ اپنی ذات وصفات میں یکتا ہے کوئی اس کی مثل نہیں ۔ ( اعتقاد الاحباب فی الجمیل والمصطفی والال والاصحاب المعروف دس عقیدے،صفحہ-339 -340 )

(2) احادیث النبویۃ فی بیان التوحید : اسلام کی عمارت پانچ چیزوں پر قائم ہے شھادت توحید و رسالت مصطفی ( ﷺ )،نماز قائم کرنا زکوٰۃ ادا کرنا،خانہ کعبہ کا حج کرنا ،رمضان شریف کے روزے رکھنا ،ان پانچ چیزوں کو ارکان اسلام کہا جاتاہے یہ تمام ستون کی حیثیت رکھتی ہیں ۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں ایک دن ہم رسول اللہ ( ﷺ ) کی بارگاہ رسالت میں حاضر تھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنے ظاہر ہوئے جن کے کپڑے بہت سفید اور بال خوب کالے تھے ان پر آثار سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سے کوئی انھیں پہچانتا بھی نہ تھا یہاں تک کہ حضور ( صلیٰ اللہ علیہ وسلم) کے پاس بیٹھے اور اپنے گھٹنے نبی (علیہ السلام)کے گھنٹوں سے مس کردئیے اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھے اور عرض کیا اے محمد (صلیٰ اللہ علیہ وسلم)۔مجھے اسلام کے متعلق بتائیے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ پاک کے علاؤہ کوئی معبود نہیں اور محمد ( ﷺ )اللہ پاک کےرسول ہیں،اور نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو، کعبہ کا حج کرو اگر وہاں پہنچ سکو ۔( مراٰۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الایمان،باب اول ،24-25 صفحہ )

حضرت ابو ھریرہ( رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ایک دن دیہاتی حضور ( ﷺ )کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمائیے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہو جائوں فرمایا اللہ کی عبادت کرو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو ، فرض زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو، وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے گھٹائوں بڑھاؤں گا نہیں پھر جب وہ چلے گئے تو حضور ( ﷺ )نے فرمایا کہ جو جنتی مرد کو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔( مراٰۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الایمان،باب 1، صفحہ 34-35 )

دونوں احادیث مبارکہ میں ارکان اسلام کا تذکرہ ہے ارکان اسلام میں سب سے پہلے تذکرہ شھادت عقیدہ توحید اور رسالت مصطفی ( ﷺ ) کا ہے اس سے مراد تمام اسلامی عقائد ہیں اس کے بعد حدیث مبارکہ میں اعمال کا تذکرہ ہےاس سے معلوم ہوا اسلامی عقائد اعمال پر مقدم ہیں اگر اسلامی عقائد درست نہ ہوں اعمال قابل قبول نہیں ،پہلے اسلامی عقائد کی اصلاح میں بھرپور توجہ فرمائیں ۔

(3) سورۃ اخلاص کے ذریعے اعلانِ توحید :اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاخلاص میں اپنے محبوب ( ﷺ ) سے اپنی توحید کا اعلان کروایا ہے :قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔ (سورۃ الاخلاص ،پارہ 30، آیت نمبر 1)

(4) توحید کی فضیلت :جہنم سے آزادی کی بشارت: حضرت انس ( رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ( ﷺ ) کجاوہ پر تھے معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) حضور ( ﷺ )کے ردیف (سواری پر نبی کریم ( ﷺ )کے پیچھے بیٹھے والے تھے حضور ( ﷺ )نے فرمایا اے معاذ (رضی اللہ عنہ)عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ خدمت میں ،فرمایا اے معاذ عرض کیا یارسول اللہ حاضر ہوں خدمت میں،فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضرہوں خدمت میں تین بار فرمایا ایسا کوئی نہیں جو گواہی دے کہ اللہ کے سوا معبود نہیں اور بیشک محمد (صلی اللہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں سچے دل سے مگر اللہ اسےآگ پر حرام فرمائےگا۔(مشکوٰۃ المصابیح فی شرح مراۃ المصابیح، کتاب الایمان، فصل الاول، صفحہ 46)

حضرت عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں رسول اللہ ( ﷺ )نے فرمایا جو گواہی دے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( ﷺ )اللہ کے بندے اور رسول ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور رسول اور اس کی بندی کے بیٹے(حضرت مریم رحمۃاللہ علیھا) اللہ کا کلمہ ہیں جو مریم میں ڈالا(اللہ پاک کا کلمہ" کن ")اور اللہ کی طرف سے روح ہیں اور جنت و دوزخ حق ہے اللہ اس جنت میں داخل کرتا عمل کے مطابق ۔(مراٰۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الایمان ،الفصل الاول ،صفحہ 48-49 )

شرک سے بچنے کی تلقین : شرک کا مفہوم: کسی کو اللہ پاک کے ساتھ ذات وصفات اور عبادت میں شامل کرنا مثلاً: جس طرح رب ذوالجلال عبادت کے لائق ہے اسی طرح وہ بندہ بھی عبادت کے لائق ہے، جس طرح اللہ پاک کی صفات ذاتی ہیں اسی طرح اس بندے کی صفات بھی ذاتی ہیں جس طرح اللہ پاک خدا ہے اسی طرح وہ بت بھی الوہیت میں شامل ہے(وہ بھی خدا ہے )۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸)ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اوراس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا توبیشک اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (سورۃ النساء ،پارہ 5،آیت نمبر 48)

سورۃ لقمان میں فرمایا: وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِﳳ-اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے! کسی کو الله کا شریک نہ کرنا، بیشک شرک یقینا بڑا ظلم ہے۔ (سورۃ القمان ،پارہ21،آیت نمبر13)

ان دو آیات میں شرک کی مذمّت فرمائی گئی ،شرک کو اللہ پاک معاف نہیں فرماتا مطلب یہ ہے جو کافر مرجائے اس کی بخشش نہیں ہوگی ،حضرت لقمان حکیم (رحمۃاللہ علیہ)نے اپنے بیٹے کو شرک سے بچنے کی وصیت فرمائی اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے وہ ہمیں ہمیشہ عقیدہ توحید کا قائل رکھے اور شرک سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ،صلو علی الحبیب ،صلی اللہ علی محمد ﷺ ۔

دعا ہے رب ذوالجلال ان کاوشوں کو اپنی بلند بارگاہ میں قبول فرمائے اور میری میرے والدین واساتذہ وپیرو مرشد کی کامل مغفرت وبخشش فرمائے اور خاتمہ ایمان پر فرمائے۔