اسلام ایک
برحق دین ہے اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی، اس کا ہر قانون فائدہ مند،اس میں کوئی خامی
نہیں، کوئی خرابی نہیں، اس میں کوئی نقص و عیب نہیں، ایسا اس لیے کہ اسلام اللہ
تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ دین ہے۔اور اس دین کی تعلیمات ہمیں حضور ﷺ نے دی
اور تعلیمات پر سر فہرست عقیدہ ہے اور عقیدے میں سب سے اہم عقیدہ عقیدہِ توحید ہے۔
اور یہ سب سے بنیادی عقیدہ ہے یہی وہ عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا اطلاق ہوتا ہے
اور یہ عقیدہ ایسا ستون ہے جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔اور تمام انبیاء
کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکز عقیدہ ہی رہا ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر
آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک جتنے انبیاء کرام علیہم السلام اس جہاں میں
مبعوث فرمائے تمام نے اپنے احسن انداز میں فریضہ انجام دیتے ہوئے اپنی قوموں کو
بہترین انداز میں اللہ عزوجل کی وحدانیت بیان فرمائی ۔ اللہ عزوجل نے قرآن مجید کی
بیشتر آیات میں واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کیسے
اللہ عزوجل کی واحدنیت بیان فرمایا کرتے تھے ۔
چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ
رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ
هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُؕ-فَسِیْرُوْا فِی
الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(۳۶)
ترجمہ
کنزالایمان : اور بےشک
ہر امّت میں سے ہم نے ایک رسول بھیجا کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان میں
کسی کو اللہ نے راہ دکھائی اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری تو زمین میں چل پھر کر
دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا۔(سورة النحل آیت نمبر 36 )
تفسیر
صراط الجنان :وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا:اور بیشک ہر امت میں ہم
نے ایک رسول بھیجا ۔ یعنی جس طرح ہم نے تم میں محمد مصطفٰی ﷺ کو بھیجا اسی طرح ہر امت میں ہم نے ایک رسول
بھیجا اور ہر رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے فرمائیں کہ اے لوگو!اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرو اور شیطان کی پیروی کرنے سے بچو تو ان اُمتوں میں کسی
کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دیدی تووہ ایمان سے مشرف ہوئے اور کسی پر علمِ الٰہی میں
گمراہی ثابت ہوگئی تووہ اپنی اَزلی شقاوت کی وجہ سے کفر پر مرے اور ایمان سے محروم
رہے۔ اے کفارِ مکہ! تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں کاکیسا انجام ہوا؟ انہیں اللہ تعالیٰ نے
ہلاک کر دیا اور اُن کے شہر ویران کر دئیے ،ان کی اجڑی ہوئی بستیاں اُن کی بربادی
کی خبر دیتی ہیں ،اس کو دیکھ کر سمجھو کہ اگر تم بھی اُن کی طرح کفر و تکذیب پر
مُصِر رہے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونا ہے۔ (خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳
/ ۱۲۲، مدارک، النحل، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۵۹۵، جلالین، النحل، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۲۱۸، ملتقطاً)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ توحید تمام انبیاء کرام کی دعوت کا مرکز رہا ہے اور اسی میں ہی امت کی
بھلائی ہے۔
دوسری جگہ
ارشاد خداوندی ہے :
وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ
الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس
کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (سورة البقرۃ آیت نمبر 163)
تفسیر
صراط الجنان:وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے۔
کفار نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ
تعالیٰ کی شان و صفت معلوم کی تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ تمہارا معبودایک
معبود ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۱ / ۱۰۸)
نہ اس کے اجزاء ہیں ، نہ کوئی اس کی مثل ہے ،
معبود و رب ہونے میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا
ہے، مخلوق کو تنہا اسی نے بنایا، وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔اور احادیث مبارکہ سے
بھی ثابت ہے اور بیشتر احادیث طیبہ میں ذکر ہوا ہے کہ حضور نبی اکرم خاتم النبیین ﷺ کیسے
اللہ پاک کی توحید کا بیان فرماتے تھے چنانچہ :
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا
نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ
إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ
الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ
حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأسند
رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَقَالَ:
يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ قَالَ:الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ
أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
روایت ہے
حضرت عمر ابن خطاب( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی ﷺ کی
خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے جن کے کپڑے بہت سفیداور بال
خوب کالے تھے اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ تھایہاں
تک کہ حضور( ﷺ ) کے پاس بیٹھے اور اپنے
گھٹنے حضور( ﷺ ) کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر رکھے
اور عرض کیا اَےمحمد( ﷺ )مجھے اسلام کے متعلق بتائیےفرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تم
گواہی دو کہ اللہ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمداللہ کے رسول ہیں۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:1)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى
يَشْهَدُوْا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ
روایت ہے
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله ﷺ نےکہ
مجھے حکم دیا گیا کہ لوگوں سے جنگ کروں تاکہ گواہی دیں کہ رب کے سواکوئی معبودنہیں
اورمحمد الله کے رسول ہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث
نمبر:12)
ان آیات
کریمہ اور احادیث طیبہ سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ اسلام کی اصل روح ہی توحید ہے۔اور
یہ توحید نبی اکرم ﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کا
مرکز رہا ہے۔اور ہمارے اسلاف بھی ہمیں اسی کا درس دیتے رہتے ہیں ۔ ہمیں بھی چائیے
کہ ہم اپنے عقیدے کی درست اصلاح کریں علم دین حاصل کریں کثیر مطالعہ کریں، عقیدے
کے متعلق علم الکلام پر کتابیں پڑھیں ،علمائے کرام کی صحبت میں رہیں ان کے درس و بیان
میں شرکت کریں بدمذہبوں کی بیٹھک سے دور رہیں ۔اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الامینﷺ ۔
Dawateislami