اللہ تعالیٰ کو تمام اسماء و صفات کے ساتھ ایک ہونے پر یقین رکھنا توحید کہلاتا ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے پیارے آخری نبی  ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام اپنی امت کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے رہے ان میں جو خوش نصیب تھے وہ ایمان لائے اور جو بدنصیب و بد بخت تھے وہ ایمان کے دولت سے محروم رہے۔یاد رکھیں تمام اعمال کا مدار ایمان پرہے ۔

‎توحید کا بیان قرآن سے:‎اور اللہ کے ایک ہونے کی تائید اللہ پاک کے کلام قرآن مجید میں بھی موجود ہے:

‎ قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔(سورۃ الاخلاص ،1)

‎قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ: تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔عرب میں کفار کی بہت سی قسمیں تھیں، دہریہ، مشرک،اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر اور اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ماننے والے وغیرہ، اس سورت میں ان سب کی تردید ہے، ’’هُوَاللّٰهُ‘‘ فرمانے میں دہریوں کی تردید ہے۔ ’’اَحَدٌ‘‘ فرمانے میں مشرکین کا مکمل رد ہے اور اگلی آیات میں بقیہ کفار کا رد ہے۔ ارشادفرمایا کہ وہ اللہ ایک ہے یعنی رَبُوبِیَّت اوراُ لُوہِیَّت میں عظمت و کمال کی صفات کے ساتھ موصوف ہے ۔ اس کی نہ کوئی مثل ہے، نہ نظیر اور نہ شبیہ ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠(۱۱۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک بشر ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہےتو جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔(پ16،الکہف،110)

‎ وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، بڑی رحمت والا، مہربان ہے۔ (پارہ 2 سورۃ البقرۃ آیت 163)‎

‎سبحان اللہ کتنی پیاری حدیث ہے اور اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ نیکوں کی صحبت اختیار کرنے سے اللہ کے پیاروں کی صحبت اختیار کرنے سے نیکیوں اور عبادت کے ساتھ ساتھ علم میں اضافہ بھی ہوتا اسی وجہ ہمیں بھی چاہیے کہ خود بھی نیکوں کی صحبت اختیار کریں کو اور اپنے بچوں کو بھی نیکوں کی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت کرتے رہیں۔ یہ اتنا نازک دورچل رہا ہے ہر طرف ایمان کے لٹیرے کھڑے ہیں کہ ہمارے اور ہمارے بچوں کے ایمان کو لوٹ نہ لیں اس پرفتن دور میں دعوت اسلامی کا مدنی ماحول آپ کے سامنے ہے جو اس اس وابستہ ہوتا اللہ کی رحمت سے وہ سنت کے سانچے میں ڈھل جاتا اور اپنا ایمان بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔