سید
محمد عزیر (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد ،کراچی ،پاکستان)
اسلام و دیگر ادیانِ صحیحہ کی بنیاد ایک ہی چیز پر کھڑی
ہے اور وہ توحید ہے جب ہم نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ پڑھتے ہیں تو یہ حقیقت ہمیں
اور واضح ہو جاتی ہے۔
توحید دین کی جڑ ہے:آپ ﷺ نے
فرمایا: "أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ
حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه" مجھے حکم دیا گیا کہ لوگوں
سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ "لا إله إلا الله" کہیں۔(بخاری:
۲۵، مسلم: ۲۰)
آپ ﷺ نے
توحید کو دین کی بنیاد قرار دیاحضرت معاذ
بن جبل کو یمن بھیجتے وقت فرمایا: "فَلْيَكُنْ
أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه" سب
سے پہلے انہیں توحید کی دعوت دو۔ (بخاری: ۱۴۵۸)
توحید پر قائم رہنے کی فضیلت:آپ ﷺ نے
فرمایا: "مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه دَخَلَ الْجَنَّةَ" جو اس حال میں
مرا کہ وہ جانتا تھا "لا إله إلا الله"،
وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم: ۲۶)
ایک اور
حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم پر حرام کر دیا ہے اس شخص کو جس
نے "لا إله إلا الله"
صرف اللہ کی رضا کے لیے کہا۔ (بخاری: ۴۲۵)
لیکن توحید
صرف اقرار نہیں بلکہ اس کا تعلق دل سے ہےجو کلمہ دل میں صحیح طرح اتر جائے تو وہ
انسان کو بدل دیتا ہے۔
شرک سے تنبیہ: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ
عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ" مجھے تم پر سب سے زیادہ جس چیز
کا ڈر ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے پوچھا: چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا: "الرِّيَاءُ" ریا (دکھاوا)۔(مسند احمد: ۲۳۶۳۰)
یہ حدیث
مبارکہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شرک صرف اللہ کے ساتھ کسی اور کی بات کرنا
نہیں بلکہ دل میں اللہ کے علاوہ کے لیے عمل کرنا بھی توحید کو حد درجہ کمزور کر دیتا
ہے۔
خلاصہ بحث یہ نکلا کہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا
ہے کہ توحید ہی اسلام کی اصل اور ہر عمل کی قبولیت کی بنیاد ہے نبی کریم ﷺ نے توحید
کو دعوت اسلام کا پہلا قدم ہی قرار دیا ہے اور توحید پر وفات پانے والوں کے لیے
جنت کی بشارت بھی دی ہے یہ عقیدہ صرف چند کلموں کا نام نہیں بلکہ آپ کی پوری زندگی
کا دارومدار اس پر ہونا چاہیے۔
Dawateislami