اسرار
احمد (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، کراچی ،پاکستان)
کائنات کا
سب سے بڑا، سب سے سچا اور سب سے وزنی لفظ "توحید" ہے۔ یہ صرف ایک عقیدہ یا
فلسفیانہ بحث نہیں، بلکہ انسانیت کی فلاح، آزادی اور کائنات کے نظام کا محور ہے۔
کائنات کی تخلیق سے لے کر انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت تک، ہر دور میں اس نظریے
کو انسانی ذہنوں میں راسخ کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو
اچھوتا، پرتاثیر اور انقلابی اسلوب سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ
نے توحید کی اشاعت کے لیے اختیار فرمایا، اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں
ملتی۔ نبوی اسلوبِ توحید نے صرف نظریات کو نہیں بدلا، بلکہ صدیوں سے جہالت کے اندھیروں
میں ڈوبی قوم کے دلوں کی دنیا بدل کر رکھ دی۔عہدِ رسالت سے قبل عرب کا معاشرہ بت
پرستی اور اوہام پرستی میں جکڑا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں کسی جبر یا زبردستی کے بغیر،
کائنات کے کھلے مناظر کے ذریعے سوچنے پر مجبور کیا۔قرآن کریم کے نبوی بیانیے میں
جابجا سورج، چاند، ستاروں، رات اور دن کے بدلنے، اور بارش کے برسنے کو اللہ کی
وحدانیت کی نشانیاں بنا کر پیش کیا گیا۔
آپ ﷺ کا
اسلوب یہ تھا کہ انسان پہلے اپنے وجود اور پھر اس کائنات کے نظم و ضبط پر غور کرے
کہ کیا یہ سب کچھ ایک واحد مدبر اور خالق کے بغیر ممکن ہے؟ اس عقلی اپیل نے مکے کے
فصیح و بلیغ ذہنوں کو تسلیمِ حق پر مجبور کر دیاعرب کے لوگ پتھر کے بتوں کے سامنے
اس لیے جھکتے تھے کہ وہ ان سے نفع یا نقصان کی امید رکھتے تھے۔ توحید کے نبوی
اسلوب نے سب سے بڑا حملہ انسان کے اسی داخلی خوف پر کیا۔ آپ ﷺ نے انسان کو یہ باور
کرایا کہ کائنات کی ہر طاقت اللہ کے تابع ہے۔
یہ وہ
انقلابی اسلوب تھا جس نے انسان کو انسان کی غلامی، بادشاہوں کے خوف اور جھوٹے
خداؤں کی ہیبت سے آزاد کر کے صرف ایک اللہ کا وفادار بنا دیا۔عقیدہ توحید کو دلوں
میں اتارنے کے لیے آپ ﷺ کا اسلوب سخت گیر یا مناظرانہ نہیں تھا، بلکہ اس میں
انتہائی مٹھاس اور ہمدردی تھی۔ آپ ﷺ نے اللہ کا تعارف ایک ایسے رب کے طور پر کرایا
جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے، جو گنہگاروں کی توبہ سے خوش ہوتا ہے، اور
جو پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے۔ جب اللہ کی محبت دلوں میں گھر کر گئی، تو بتوں
کی محبت خود بخود کافور ہو گئی نبوی اسلوبِ توحید محض ایک زبانی اقرار تک محدود نہیں
تھا، بلکہ اس کا براہِ راست اثر معاشرے پر پڑا۔ جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ
"خالق ایک ہے"، تو یہ نتیجہ خود بخود نکل آیا کہ "مخلوق بھی برابر
ہے"۔
اسی توحید
کے سائے میں قریش کے سرداروں اور حبشہ کے غلام (حضرت بلال) کو ایک ہی صف میں کھڑا
کر دیا گیا۔
رنگ، نسل،
زبان اور قبیلے کے تمام بت پاش پاش ہو گئے اور انسانیت کو حقیقی معراج ملی۔
آج اگر ہم
اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو امتِ مسلمہ عقیدہ توحید کی قائل ہونے کے باوجود فکری
انتشار، دنیا کے خوف اور داخلی کمزوریوں کا شکار ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم
نے توحید کو صرف کتابوں اور بحثوں کی حد تک محدود کر دیا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم
توحید کے اسی "نبوی اسلوب" کو دوبارہ اپنائیں، جو انسان کو کائنات پر
غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، اسے ہر قسم کے باطل خوف سے نجات دلاتا ہے، اور معاشرے
میں عدل و مساوات قائم کرتا ہے۔ جب تک توحید ہمارے نظامِ زندگی، ہمارے اخلاق اور
ہمارے کردار سے نہیں جھلکے گی، ہم دنیا میں وہ انقلاب برپا نہیں کر سکتے جو اسوۂ
حسنہ نے عرب کے ریگزاروں میں کر کے دکھایا تھا۔
Dawateislami