عقیدہ توحید اسلام کی اساس، ایمان کی جڑ اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا محور ہے۔ توحید کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات اور عبادت میں اکیلا اور بے مثال ماننا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی اس عقیدے کی تبلیغ اور اس کی حفاظت فرمائی۔

توحیدِ باری تعالیٰ اور احادیثِ نبوی ﷺ:نبی کریم ﷺ نے نہ صرف زبانی طور پر توحید کی تعلیم دی، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اس کی ایسی شمع روشن کی جس نے شرک کے تمام اندھیروں کو مٹا دیا۔ درج ذیل احادیث اس بات کی گواہی دیتی ہیں:

(1) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:"فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا"ترجمہ: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔( صحیح بخاری ،حدیث نمبر: 2856)

(2) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ"ترجمہ: جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہو، وہ جہنم میں جائے گا۔( صحیح مسلم،حدیث نمبر: 269 )

(3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لاَ تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً" ترجمہ: اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے، پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، تو میں تیرے پاس اتنی ہی بڑی مغفرت لے کر آؤں گا۔( جامع ترمذی،حدیث نمبر: 3540)

(4)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ"ترجمہ: ایمان کی ستر یا کچھ اوپر (یا ساٹھ یا کچھ اوپر) شاخیں ہیں، ان میں سب سے افضل 'لا الٰہ الا اللہ' (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کہنا ہے۔( صحیح مسلم،حدیث نمبر: 152)

(5)حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف (گورنر بنا کر) بھیجا تو فرمایا:"إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"ترجمہ:تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، لہٰذا سب سے پہلی چیز جس کی طرف تم انہیں دعوت دو گے، وہ اللہ عزوجل کی عبادت (توحید) ہونی چاہیے۔(صحیح بخاری،حدیث نمبر: 1458)

ان تمام احادیثِ مبارکہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اسلام میں سب سے پہلا، سب سے اہم اور سب سے بنیادی حکم توحید ہے۔ یہ وہ رسی ہے جسے مضبوطی سے تھام کر انسان دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو ہر قسم کے شرک، ریاکاری اور وہم سے پاک رکھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توحیدِ خالص پر زندہ رکھے، اسی پر موت عطا فرمائے اور ہمیں بروزِ قیامت نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔