محمد
ارسلان(درجہ ثالثہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ رضویہ ،سرگودھا،پاکستان)
توحید کا
لغوی معنی ایک ماننا اور یکتا جاننے کے ہیں اور شریعت کے آئینے میں توحید کا مطلب
اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار اور تمام معبودان باطلہ کا انکار ہے اللہ جل شانہ
کے علاوہ کوئی ہستی ہے ہی نہیں جو عبادت و پرستش کے لائق ہو وہ واجب الوجود ہے لیکن
وہ مرکب اور متعدد ہونے سے پاک ہے اس کی صفات کمالیہ میں کوئی شریک نہیں توحید اس
کی سب سے اعلی صفت ہے آئیے چند احادیث پڑھیے جن میں نبی رحمت ﷺ نے
اس کی اعلی صفت توحید کی وضاحت، اساس اور اہمیت کو بیان فرمایا ہے ۔
توحید کی توضیح بزبان نبی ﷺ : یا بنی فلاں انی رسول الیکم امرکم ان تعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وان
تخلعوا ماتعبدون من دونہ من ھذہ الانداد
امام ابن اسحاق ربیعہ بن عبادہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی
علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنی فلاں میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں میں تمہیں
حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ
اللہ تعالی کے سوا جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو ان کی بندگی کے طوق اپنے گلے سے
اتار پھینکو۔( السیرت النبویہ لابن کثیر جلد دوم صفحہ 155دار المعرفہ بیروت)
اس حدیث میں توحید کے علمبردار دعوت حق کے مبلغ اعظم نے
اعلان کر دیا کہ اے لوگو رب واحد کی بندگی کا طوق گلے میں سجا لو اور کہسار شکن
ضرب سے مشرکوں والے افکار و نظریات کے بت کدوں کو پاش پاش کر دو اور اس رب واحد کے
علاوہ جن معبودان باطلہ کی بندگی کے لبادے تم نے اوڑے ہوئے ہیں انہیں اتار پھینکو
اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ۔
اساس الاسلام بزبان حبیب الرحمن ﷺ :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى
خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ
اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ،
وَحَجُّ الْبَيْتِترجمہ:ابن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اسلام پانچ چیزوں پر قائم کیا گیا
ہے اس بات کی گواہی کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں نماز قائم کرنا زکوۃ دینا حج کرنا اور رمضان کے روزے
رکھنا۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 16 صفحہ 31 باب بیان ارکان الاسلام کتاب الایمان دار
الکتب العلمیہ بیروت)
اس حدیث میں ہادی برحق نے عقیدہ توحید کو بڑی
جامعیت اور دلکش انداز میں واضح فرمایا ہے کہ اسلام مثل چھت یا خیمہ کے ہے اور
پانچ ارکان اس کے پانچ ستون ہیں ان میں سے سب سے پہلا اور بنیادی رکن لا الہ الا
اللہ ہے یہی اس کی بنیاد و اساس ہے جس کے
بغیر اسلام کی عمارت منہدم ہو جاتی ہے اور کسر رفیع اس کی بنیادوں پر ہی تعمیر
ہوتا ہے اس کے بغیر اعلی سے اعلی عمل بھی بے معنی اور بے سود ہے۔
انعام التوحید بزبان حبیب الرشید صلی اللہ تعالی
علیہ وسلم:
عَنْ
عُثْمَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ
أَنَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ترجمہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا جو یہ جانتے مانتے مر گیا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے
لائق نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح مسلم حدیث نمبر 26 کتاب الایمان باب الدلیل
علی ان من مات علی التوحید دخل الجنت قطعا صفحہ نمبر 35 دار الکتب العلمیہ بیروت)
زبان سے
اقرار احکام شرعیہ جاری کرنے کی شرط ہے توحید پر گامزن رہنے والے پر جنت لازم ہو
جاتی ہے اگر باعث لغزش جہنم میں چلا بھی جائے تو آخر کار نکال لیا جائے گا توحید
کے علمبردار نے کلام الہی کے ذریعے شرک کے تمام شبہات کو دور فرما دیا شرک کبھی
عدد میں ہوتا تھا پیغمبر اعظم نے احد کے اعلان
سے اس کی نفی فرما دی کبھی مرتبہ و منصب میں ہوتا تھا صمد کہہ کر اس کا بطلان کر دیا کبھی نسب میں ہوتا تھا لَمْ
یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْسے اس کا ابطال
کر دیا اور کبھی کوئی کام کرنے اور اثر اندازی میں ہوتا تھا اس کی تردید وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌسے کر دی یوں اس ہادی
برحق نے شرک کے تمام شبہات کو پاش پاش کر دیا عقیدت توحید کی یہ نبوی تعلیمات اللہ
تعالی کی وحدانیت پر ایمان اور اس پر توکل کا درس دیتی ہیں اس کے علاوہ شرک کے
شبہات سے بچنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہیں اور ان پر عمل کرنے والے کے کردار
کو ایسے نکھارتی ہیں کہ اہل نظر رشک کرنے لگتے ہیں اللہ تعالی ہمیں تمام نبوی تعلیمات
پر عمل کرنے، شرک کے شبہات سے بچنے اور عقیدہ توحید پر گامزن رہنے کی توفیق نصیب
فرمائے۔
Dawateislami