توحید
اسلام کی بنیاد اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی پیغام ہے۔
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھنا ہی انسان کی کامیابی، نجات اور بندگیِ الٰہی
کا اصل راستہ ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں توحید کی اہمیت کو بار بار بیان
کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے خالقِ حقیقی کو پہچانے اور صرف اسی کی عبادت کرے۔
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ
الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس
کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (سورۃ البقرۃ آیت نمبر 163)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِلٰهُكُمْ
اِلٰهٌ وَّاحِدٌ: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے۔ کفار نے حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اللہ تعالیٰ کی شان و صفت معلوم کی تو یہ آیت
مبارکہ نازل ہوئی کہ تمہارا معبودایک معبود ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۳، ۱
/ ۱۰۸)
نہ اس کے اجزاء ہیں ، نہ کوئی اس کی مثل ہے ،
معبود و رب ہونے میں کوئی اس کا شریک نہیں ، وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا
ہے، مخلوق کو تنہا اسی نے بنایا، وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔
اسم اعظم والی آیات:حضرت
اسماء بنت یزید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم
ان دو آیتوں میں ہے،ایک یہ آیت: وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ
الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)
دوسری سورۃ
اٰل عمران کی ابتدائی آیت:الٓمَّٓۙ(۱) اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّا هُوَۙ-الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، ۶۴-باب، ۵
/ ۲۹۱، الحدیث: ۳۴۸۹)
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ
الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ
وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا
بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا
یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ
السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ
الْعَظِیْمُ(۲۵۵) ترجمۂ کنز الایمان:اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ آپ زندہ اور
اوروں کا قائم رکھنے والا اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں
ہے اور جو کچھ زمین میں وہ کون ہے جو اس کے یہاں سفارش کرے بے اس کے حکم کے جانتا
ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور وہ نہیں پاتے اس کے علم میں سے
مگر جتنا وہ چاہے اس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اسے بھاری نہیں
ان کی نگہبانی اور وہی ہے بلند بڑائی والا۔ (سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 255)
تفسیر صراط الجنان:اَللّٰهُ
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ: اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی
اُلُوہِیَّت اور اس کی توحید کا بیان ہے اور اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ
واجبُ الوجود اور عالَم کو ایجاد کرنے اور تدبیر فرمانے والا ہے، اسے نہ نیند آتی
ہے اور نہ اونگھ کیونکہ یہ چیزیں عیب ہیں اور اللہ تعالیٰ نَقص و عیب سے پاک ہے۔
آسمانوں اور زمین میں موجود ہرچیز کا وہی مالک ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم
چلتا ہے تو جب سارا جہان اس کی ملک ہے تو کون اس کا شریک ہوسکتا ہے، مشرکین یا تو
ستاروں اور سورج کو پوجتے ہیں جو آسمانوں میں ہیں یا دریاؤں ، پہاڑوں ، پتھروں ،
درختوں ، جانوروں ، آگ وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں توجب آسمان و زمین
کی ہر چیزاللہ تعالیٰ کی مِلک ہے تو یہ چیزیں کیسے پوجنے کے قابل ہوسکتی ہیں اور
مشرکین جو یہ گمان کرتے ہیں کہ بُت شفاعت کریں گے تو وہ جان لیں کہ کفار کے لیے
کوئی شفاعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حضور اجازت یافتگان حضرات کے سوا کوئی شفاعت نہیں
کرسکتا اور اجازت والے حضرات انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
ملائکہ عَلَیْہِمُ السَّلَام ، اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اور مؤمنین
ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق لوگوں سے ماقبل کا ہو یا
مابعد کا ،امورِ دنیا کا ہو یا امورِ آخرت کا۔ اللہ تعالیٰ کے علم سے کسی کو کچھ
نہیں مل سکتا جب تک وہ نہ چاہے اور وہ عطا نہ فرمائے ۔ ذاتی علم اسی کا ہے اور اس
کے دینے سے کسی کو عطائی علم ہوسکتا ہے جیسے وہ اپنی مَشِیَّت سے لوگوں کو اَسرار
ِ کائنات پر اور انبیاء و رُسُل عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو غیب پر مطلع
فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت بے نہایت ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵۵،۱ / ۱۹۶)
اس آیت میں
اِلہِیّات کے اعلیٰ مسائل کا بیان ہے، جتنا اس میں غور کرتے جائیں اللہ تعالیٰ کی
عظمت اور اس کے بارے میں عقائد اتنا ہی واضح ہوتے جائیں گے۔توحید وہ عظیم عقیدہ ہے
جس پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی اپنی
قوموں کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی
اپنی تعلیمات، ارشادات اور عملی زندگی کے ذریعے توحید کا واضح اور کامل تصور پیش
فرمایا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو شرک، بت پرستی اور غیر اللہ پر بھروسہ کرنے سے منع فرمایا
اور صرف ایک اللہ کی عبادت، اطاعت اور اسی پر کامل اعتماد کی تعلیم دی۔
قرآنِ کریم
اور احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی خالص توحید کو
اپنانے میں ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقیدۂ توحید کو مضبوطی سے
تھامے، اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق گزارے اور دوسروں تک بھی توحید کا پیغام
پہنچائے۔
Dawateislami