عقیدہ ختم نبوت (یعنی پیارے آقا ﷺ کو آخری نبی ماننا اور آپ کے بعد کسی کو نبوت ملنا جائز نہ سمجھنا) پر ہر دور میں دشمنان اسلام نے حملے کئے لیکن مسلمانوں نے ہر دور میں اس فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے علمائے اہلسنت نے بہت ہی کاوشیں کیں اور ہر دور میں کامیاب بھی ہوئے علمائے اہلسنت نے کبھی تحریک کے ذریعے، کبھی تحریر کے ذریعے تو کبھی تقریر کے ذریعے عقیدہ ختمِ نبوت کو جھٹلانے والوں کو مات دی انہی علمائے کرام میں سے چند کی کاوشوں کے بارے میں جانتے ہیں:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان: عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے کام کرنے والے سنی علما میں ایک نمایاں نام اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ہے آپ نے نہ صرف اپنی کتب بلکہ ہر لحاظ سے ختمِ نبوت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا چند کوششیں درج ذیل ہیں:

(1) آپ رحمۃ اللہ علیہ نے حسام الحرمین کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں ان لوگوں کا رد کیا جو عقیدہ ختمِ نبوت کے خلاف رکھتے تھے (2) آپ نے ہندوستان اور عرب کے علما سے رابطہ کر کے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے اجتماعی موقف پیش کیا (3) آپ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں عقائد، فقہ اور ناموس رسالت پر تفصیلی بحث کی ہے (4) اعلی حضرت نے بہت سے ایسے علما تیار کئے جنہوں نے بعد میں بر صغیر میں ختمِ نبوت کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں میں بڑھ چڑ کر حصہ لیا۔

پیر سید مہر علی شاہ چشتی گولڑوی: عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے کام کرنے والے علما میں آپ کا نام سر فہرست ہے آپ کی چند کاوشیں درج ذیل ہیں:

(1) جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کا درد کیا (2) آپ نے مرزا قادیانی کو علمی مناظرے کا چیلنج دیا جس میں وہ ناکام ہو گیا (3) آپ نے قادیانیت کے رد میں سیف چشتیائی نامی کتاب لکھی جس میں بہت سے دلائل دیئے گئے ہیں۔

مفتی امجد علی اعظمی: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب بہار شریعت میں عقیدہ ختمِ نبوت کو واضح کیا اور عوام کوصحیح عقائد سکھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

شاہ احمد نورانی: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے اہم کردار ادا کیا اور 1974 کی تحریک میں حصہ لیا۔

عقیدہ ختمِ نبوت کے لیے کام کرنے والے سنی علما کی ایک لمبی فہرست ہے جسے اس مختصر تحریر میں بیان کرنا ممکن نہیں الغرض علمائے اہلسنت نے ہر دور میں دین اسلام کے عقائد خصوصاً ختمِ نبوت کے تحفظ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور امت کو گمراہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے اور حق کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔