حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہونے کا عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائدمیں سے ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آقا کریم ﷺ کی حیات ظاہری کے آخری زمانہ میں ایک بدبخت طلیحہ اسدی نے جب نبوت کا دعوی کیا اور ہزارہا لوگ اسکے گرد جمع ہوگئے اور آقا علیہ السلام کے پاس اس نے اپنے ایک قاصد کو بھیج کر اپنی نبوت منوانے کی دعوت دی۔

چنانچہ آقا علیہ السلام نے تحفظ ختمِ نبوت کی پہلی جنگ کے لیے پہلے سپہ سالار کے طور پر اپنے ایک صحابی حضرت ضرار بن ازرو رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔‎آقا علیہ السلام کی نبوت کا صریح انکار یا کوئی تاویل کرنا کفر ہے۔ جھوٹے لوگوں نے نبی ہونے کا دعوی بھی کیا جب کہ آقا علیہ السلام نے فرمادیا ہوا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(مسلم، ص 1006، حدیث : 6218)

برصغیر پاک وہند میں مرزا غلام احمد قادیانی پیدا ہوا اس بدبخت نے نبوت کا دعوی کیا، علمائے اہلسنت نے اسکی حقیقت لوگوں کے سامنے پیش کردی،‎علمائے اہلسنت نے تحفظ ختمِ نبوت میں جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ ایک بہت وسیع موضوع ہے، ان شاءاللہ اس تحریر میں چند علمائے کرام کے اس عظیم کام کے متعلق کاوش کی جھلک پیش کی جائے گی۔

چند اکابر علمائے اہلسنت کے نام مبارک پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اپنا کردار ادا کیا:‎امام احمد رضا خان فاضل بریلوی،‎پیر سید مہر علی شاہ، مولانا حامد رضا بریلوی، مولانا غلام دستگیر قصوری،‎حضرت پیر جماعت علی شاہ، مولانا شیخ محمد، مولانا ابوالحسنات رحمۃ اللہ علیہم۔

اعلی حضرت کا کردار: مجدد دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے زندگی بھر رسول کریم ﷺ کے گستاخوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النّبوۃ ، 1902ء میں السّوٓ ء والعقاب علی المسیح الکذّاب ، 1905ء میں قہر الدّیّان علی مرتدٍّ بقادیان ، 1908ء میں المبین ختم النّبیّین اور 1921ء میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدّیّانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔ یہ پانچوں رسائل فتاویٰ رضویہ (رضا فاؤنڈیشن لاہور) کی 14 اور 15 والی جلد میں ہیں۔

پیر مہر علی گولڑوی کا کردار:‎راست بیانی برشکست کیانی قادیانی یہ کتاب آپکے اور مرزا قادیانی کے درمیان ختمِ نبوت کی بعض مباحث پر مشتمل دلچسپ کتاب ہے۔ مرزا نے آپ علیہ الرحمہ کو خود ہی مناظرے کی دعوت دی اور خود ہی فرار ہوگیا۔

پیر جماعت علی شاہ و محدث علی پوری: ‎مرزا غلام احمد قادیانی سیالکوٹ پہنچا اور اپنے باطل عقائد کی تبلیغ کرنے لگا حضرت پیر جماعت علی شاہ اور محدث علی پوری نے باوجود علالت ایک ماہ سیالکوٹ میں قیام فرمایا۔ جگہ جگہ اسکا رد فرمایا اور علما کو بلواکر مرزائیت کے خلاف تقریریں کروائی۔

حضرت علّامہ ابوالحسنات سیّد محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ نے اکرام الحق کی کھلی چٹھی کا جواب، کرشن قادیانی کے بیانات ہذیانی اور قادیانی مسیح کی نادانی اس کے خلیفہ کی زبانی لکھ کر قادیانیوں کے مکر و فریب اور باطل دعووں کا رد فرمایا۔

امیر اہلسنت نے بہت پیارے نعرے عطافرمائے ہیں

‎محمد مصطفی ؛ سب سے آخری نبی

‎احمد مجتبی ؛ سب سے آخری نبی

اللہ پاک ہمیں درست عقائد پر استقامت سے نوازے۔ آمین