مطالعہ انسان کی علمی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انسان جب کسی کتاب، مضمون یا تحریر کو پڑھتا ہے تو اس کا مقصد علم حاصل کرنا اور مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ‏الفاظ کے معانی معلوم نہ ہوں تو مطالعہ ادھورا رہ جاتا ہے ۔ لغت نہ صرف الفاظ کے معنی بتاتی ہے بلکہ زبان کی درست سمجھ، تلفظ، استعمال اور وسعتِ علم میں بھی مدد دیتی ‏ہے۔ ایک کامیاب طالبِ علم، محقق اور قاری کے لیے لغت کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ ‏

لغت کا مفہوم‎:‎لغت ایسی کتاب کو کہتے ہیں جس میں الفاظ کے معانی، تلفظ، استعمال اور ان کی اصل بیان کی جاتی ہے۔ ہر زبان کی اپنی لغات ہوتی ہیں۔ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی ‏سمیت دنیا کی تمام زبانوں میں لغات کو بنیادی علمی حیثیت حاصل ہے۔

مطالعہ میں لغت کی ضرورت‎:‎مطالعہ کے دوران انسان کو بہت سے مشکل الفاظ کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر ان الفاظ کے معانی معلوم نہ ہوں تو پوری عبارت سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لغت ان مشکل الفاظ ‏کو آسان بناتی ہے اور قاری کو اصل مفہوم تک پہنچاتی ہے۔قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ، فقہ، ادب اور تاریخ کی کتابوں میں کئی ایسے الفاظ ہوتے ہیں جنہیں سمجھے بغیر صحیح مفہوم حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے علماءِ کرام رحمۃ ‏اللہ علیہ نے لغت کے علم کو بہت اہم قرار دیا ہے۔

فہمِ قرآن و حدیث میں لغت کی اہمیت:‏قرآنِ مجید عربی زبان میں نازل ہوا۔ عربی زبان نہایت وسیع اور فصیح زبان ہے۔ ایک لفظ کے کئی معانی ہو سکتے ہیں۔ اگر لغت سے مدد نہ لی جائے تو بعض اوقات معنی ‏میں غلطی پیدا ہو جاتی ہے۔

امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے"المفردات فی غریب القرآن" جیسی کتاب لکھی تاکہ قرآنِ کریم کے مشکل الفاظ کو آسانی سے سمجھا جا سکے۔ اسی طرح محدثین ‏اور مفسرین نے بھی لغت سے بہت فائدہ اٹھایا۔

زبان دانی میں لغت کا کردار‎:‎لغت انسان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرتی ہے۔ جو شخص لغت کے ذریعے مطالعہ کرتا ہے، اس کی زبان زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو جاتی ہے۔ وہ بہتر انداز میں گفتگو اور ‏تحریر کر سکتا ہے۔

طلبہ جب مضمون نویسی کرتے ہیں یا تقریر تیار کرتے ہیں تو لغت ان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس سے نئے الفاظ، محاورات اور درست استعمال معلوم ‏ہوتے ہیں۔ یوں انسان کی تحریر میں خوبصورتی اور روانی پیدا ہوتی ہے۔‎ ‎

تحقیق اور علمی کام میں لغت کی اہمیت‎:‎تحقیقی کام میں ہر لفظ کی درست تعبیر ضروری ہوتی ہے۔ اگر کسی لفظ کا معنی غلط لیا جائے تو پورا مفہوم بدل سکتا ہے۔ اسی لیے محققین ہمیشہ معتبر لغات سے رجوع کرتے ‏ہیں۔

عربی علوم میں "لسان العرب"، "القاموس المحیط" اور اردو میں "فرہنگِ آصفیہ"،"فیروز اللغات" جیسی لغات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ان لغات کی مدد سے الفاظ کی ‏اصل، استعمال اور تاریخی پس منظر بھی معلوم کیا جاتا ہے۔‎ ‎

طلبہ کے لیے لغت کے فوائد‎:‎مشکل الفاظ کے معنی معلوم ہوتے ہیں۔ ‏مطالعہ میں دلچسپی بڑھتی ہے۔ ‏یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔ ‏زبان اور بیان بہتر ہوتا ہے۔ ‏امتحانات میں بہتر کارکردگی سامنے آتی ہے۔ ‏جو طالبِ علم لغت سے دوستی کر لیتا ہے، وہ علمی میدان میں زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں لغت کی آسانی‎:‎آج کے دور میں صرف کتابی لغات ہی نہیں بلکہ ڈیجیٹل لغات بھی موجود ہیں۔ موبائل ایپس اور آن لائن ڈکشنریاں چند لمحوں میں الفاظ کے معانی فراہم کر دیتی ہیں۔ ‏اس سے مطالعہ مزید آسان ہو گیا ہے۔ تاہم معتبر اور مستند لغات کا انتخاب ضروری ہے۔مطالعہ اور لغت کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ لغت کے بغیر نہ زبان کی گہرائی سمجھی جا سکتی ہے اور نہ ہی علم کے خزانوں تک صحیح رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ طالبِ علم، استاد، ‏محقق اور عام قاری سب کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنے مطالعہ کے ساتھ لغت کے استعمال کی عادت اپنالیں تو ہمارا علم، فہم اور زبان سب بہتر ہو جائیں گے۔ اسی ‏لیے کہا جاتا ہے کہ لغت علم کی کنجی اور مطالعہ کی بہترین ساتھی ہے۔