مطالعہ علم حاصل کرنے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔ یہ معلومات کے حصول کے ذرائع میں سے ایک ایسا ذریعہ ہے جسکو اختیار کر کہ بندہ علم کی منازل بتدریج مضبوط انداز سے طے کر سکتا ہے ۔

مطالعہ کے جہاں کافی فوائد اور اہمیت ہے، وہیں مطالعہ کے دوران استمداد باللغة یعنی لغت سے مدد لینا بھی بہت ضروری ہے ۔خصوصاً اس میدان کے ابتدائی افراد کے لئے اور جبکہ مطالعہ والی کتاب مطالعہ کرنے والے کی مادری زبان میں نہ ہو۔ اس مضمون میں لغت کے استعمال کے کچھ فائدے اور نہ کرنے کے کچھ نقصانات کا مختصر بیان ہے۔

مطالعہ کے دوران لغت کا استعمال کرنا ایک اچھی اور مفید عادت ہے جسکے اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

اسکا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ مشکل معنی کی وضاحت ہو جاتی ہے، مضمون یا عبارت کے دوران کوئی ایسا لفظ آگیا جسکا معنی مطالعہ کرنے والے کے علم میں نہ ہو یا اسے فی الوقت مستحضر نہ ہو تو اس صورت میں لغت سے اس لفظ کا معنی تلاشنا اور وہاں فٹ کرنا، یہ ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جو اگرچہ مشکل معلوم ہوتا ہے پر اس کچھ دیر کی مشکل کے بعد آسانی اور درست معنی مل جانے کی راحت، جو اسے حاصل ہوتی ہے، یہ ایک طریقہ سے اسے مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ مسلسل لغت کے استعمال کرنے والے اور لفظ کے معنی تلاش کرنے والے شخص کیلئے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ عبارات یا مضامین پڑھتے ہوئے اسے عام طور پر لغت کی طرف محتاجی نہیں رہتی، اسکی ماضی کی محنت اسے مستقبل میں آسانی فراہم کرتی ہے ۔

اب جب آپ نے جان لیا کہ مطالعہ کرنے میں لغت کا کیا کردار ہے، تو اب مطالعہ کرتے ہوئے لغت کا استعمال نہ کرنے کا نقصان بھی ملاحظہ فرمائیں کہ مطالعہ کرتے ہوئے لغت کا استعمال نہ کرنے سے مشکل معانی کی معرفت نہیں ہوتی جسکی بنا پر عبارت یا مضمون سمجھ نہیں آتے۔ اس کے علاوہ ایک لفظ کے بعض اوقات کئی معانی ہوتے ہیں جن کا دیگر الفاظ سے مل کر معنی مختلف ہو جاتا ہے، ایسے الفاظ کے معانی کو لغت سے پہچاننا اشد ضروری ہے ورنہ قوی امکان ہے کہ مطالعہ کرنے والا غلط مفہوم سمجھ جائے۔یہ مطالعہ کرتے ہوئے لغت کے استعمال کے کچھ فوائد اور استعمال نہ کرنے میں کچھ نقصانات کا اختصار کیساتھ بیان ہوا۔

عبارت کے تالے کی کنجی لغت بھی ہے۔لغت کا الگ سے علم بھی ہے۔لغت کے استعمال پر زور اس لئے بھی دیا جاتا ہے تاکہ مطالعہ کرنے والا اپنے مطالعہ اچھے اور درست انداز میں کرے سکےاور پر اثر نتائج حاصل ہوں، محض فارمالٹی کیلئے لغت دیکھنے یا کبھی کبھی دیکھنے سے وہ فوائد حاصل نہ ہونگے۔

جو طالب علم، مطالعہ کیساتھ لغت کو لازم پکڑتا ہے ، وہ علم کی گہرائی اور اس کی حلاوت پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، الفاظ کے کمالات اس پر ظاہر ہونے لگتے ہیں، اور اسے اللہ پاک وسعتِ ذہنی کی دولت سے مالا مال بھی فرماتا ہے، بس نیت الله تعالیٰ کے دین کی خدمت ہو، رب العزت کرم فرماتا ہے۔لغت کے استعمال کی اہمیت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جب کتاب مطالعہ کرنے والے کی مادری زبان کے علاوہ میں لکھی گئی ہو، کیونکہ مادری زبان میں لکھی گئی کتاب کا مطالعہ کرنا اس کی نسبت قدرے آسان ہے کہ اس میں عموماً معنی سمجھ آجاتے ہیں۔جبکہ دوسری زبان میں لکھی گئی کتب میں لغت کے بغیر اچھے نتائج کا حصول کافی مشکل ہے ۔

اس لئے ہر مطالعہ کرنے والے کو چاہئے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں لغت دیکھنے سے نہیں گھبرائے ، لغت سے اپنا تعلق گہرا بنائے اسکے ذریعے اس کے علوم میں پختگی اور مضبوطی آئے گی۔