مطالعے میں لغت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ لغت نہ صرف نئے الفاظ کے معنی سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ زبان دانی، فہمِ مطالعہ اور اظہارِ خیال کو بھی بہتر بناتی ہے۔ جب طالبِ علم مطالعہ کرتے ہوئے کسی مشکل لفظ سے واقف نہیں ہوتا تو لغت اس کی رہنمائی کرتی ہے اور صحیح مفہوم تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

لغت کے استعمال سے الفاظ کا ذخیرہ بڑھتا ہے۔ زیادہ الفاظ جاننے والا شخص اپنی بات زیادہ مؤثر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لغت تلفظ، ہجے اور الفاظ کے درست استعمال کی معلومات بھی فراہم کرتی ہے، جس سے زبان کی غلطیاں کم ہوتی ہیں۔

مطالعے کے دوران لغت انسان میں تحقیق اور خود سیکھنے کی عادت پیدا کرتی ہے۔ طالبِ علم ہر نئی بات کو سمجھنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود تلاش اور تحقیق کرتا ہے۔ یہی عادت آگے چل کر علمی ترقی کا سبب بنتی ہے۔لغت کو علم کا خزانہ کہا جاتا ہے۔ یہ ہر طالبِ علم، استاد، ادیب اور قاری کے لیے نہایت ضروری کتاب ہے۔ مطالعے کے دوران جب ہم کسی نئے یا مشکل لفظ سے گزرتے ہیں تو لغت اس لفظ کے معنی، تلفظ اور استعمال کو واضح کرتی ہے۔ اس طرح قاری عبارت کا صحیح مفہوم سمجھ لیتا ہے اور اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔

مطالعے میں لغت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ انسان کی زبان کو مضبوط بناتی ہے۔ جو شخص لغت کا باقاعدگی سے استعمال کرتا ہے، اس کے الفاظ کا ذخیرہ وسیع ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی گفتگو اور تحریر میں مناسب اور خوبصورت الفاظ استعمال کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیاب لکھنے والے اور مقررین لغت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

لغت صرف الفاظ کے معنی ہی نہیں بتاتی بلکہ ان کے مترادفات، متضاد الفاظ اور جملوں میں استعمال بھی سکھاتی ہے۔ اس سے زبان میں روانی اور خوبصورتی پیدا ہوتی ہے۔ جدید دور میں آن لائن لغات اور موبائل ایپس نے اس کے استعمال کو مزید آسان بنا دیا ہے، جس سے طلبہ فوری طور پر کسی بھی لفظ کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ لغت انسان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے۔ جب قاری الفاظ کے صحیح معانی جان لیتا ہے تو وہ مطالعے میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے اور اس کی سمجھ بوجھ بہتر ہو جاتی ہے۔ یوں مطالعہ ایک خوشگوار اور مفید عمل بن جاتا ہے۔

نتیجتاً، لغت مطالعے کی روح ہے۔ یہ نہ صرف زبان سیکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ علم میں اضافہ، سوچ میں وسعت اور اظہار میں بہتری بھی پیدا کرتی ہے۔ ہر طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ لغت کے استعمال کی عادت اپنائے تاکہ وہ علمی اور ادبی میدان میں ترقی حاصل کر سکے۔لغت استعمال کرنا بہت آسان لیکن اصولی طریقہ ہے۔ جب آپ مطالعہ کر رہے ہوں اور کوئی نیا یا مشکل لفظ سامنے آئے تو سب سے پہلے اس لفظ کو غور سے پڑھیں اور ااس کا ہم وزن کیا جائے پھر جو ف،ع ،یا ایک یا دو یا تین لام کے مقابلے میں آںٔیں تو انکو لےکر۔۔ عربی سے اردو کرنے والی ڈکشنری ۔۔میں انکا معنی تلاش کیاجاتا ہے (جیسے۔ لفظ۔ کتاب۔ کوہم وزن کریں کہ ۔کتاب۔ بروزن ۔فعال۔ تواب اس میں ک ت ب حروف ااصلیہ ہیں اور الف اس میں زائدہ ہے ۔

تو اس کا معنی دیکھنے کے لیے ڈکشنری میں ک ت ب والےصفحہ میں دیکھیں گے تو آپ کو اسکا معنی مل جاے گا

جب آپ کو مطلوبہ لفظ مل جائے تو اس کے سامنے دیے گئے معنی، تلفظ، مترادفات اور مثالوں کو غور سے پڑھیں تاکہ لفظ کا صحیح مفہوم سمجھ سکیں۔اگر ایک معنی سمجھ نہ آئے تو اسی لفظ کے دوسرے معانی یا مثالیں بھی دیکھیں تاکہ مکمل سمجھ حاصل ہو جائے۔پڑھنے کے بعد کوشش کریں کہ اس لفظ کو خود اپنے جملے میں استعمال کریں، اس سے یادداشت مضبوط ہو جاتی ہے اور لفظ دیر تک ذہن میں رہتا ہے۔لغت استعمال کرنے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان نئے الفاظ کے معنی، تلفظ اور درست استعمال کو سمجھ لیتا ہے۔ اس سے زبان کی سمجھ بہتر ہوتی ہے اور مطالعہ آسان ہو جاتا ہے۔لغت الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ کرتی ہے۔ جو شخص زیادہ الفاظ جانتا ہے وہ اپنی بات بہتر، واضح اور مؤثر انداز میں بیان کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لغت مترادفات اور متضاد الفاظ سکھا کر زبان کو خوبصورت بناتی ہے۔یہ انسان میں خود سیکھنے کی عادت پیدا کرتی ہے۔ قاری کسی لفظ کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود تلاش کرتا ہے، جس سے اس کی علمی صلاحیت بڑھتی ہے۔

لغت کی اہمیت:لغت علم کی بنیاد ہے۔ یہ ہر زبان سیکھنے والے کے لیے ضروری ذریعہ ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی متن کو مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ صرف معنی نہیں بتاتی بلکہ درست جملے بنانے، الفاظ کے درست استعمال اور زبان کی باریکیوں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ، ادیب اور محققین سب لغت پر انحصار کرتے ہیں۔جدید دور میں لغت کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ نئی اصطلاحات اور الفاظ تیزی سے زبان میں شامل ہو رہے ہیں۔

لغت استعمال نہ کرنے کے نقصانات:اگر لغت استعمال نہ کی جائے تو سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ قاری بہت سے الفاظ کے صحیح معنی نہیں سمجھ پاتا، جس سے متن کا مفہوم غلط ہو سکتا ہے۔اس سے زبان کا ذخیرہ محدود رہتا ہے اور انسان اپنی بات درست اور مؤثر انداز میں بیان نہیں کر پاتا۔ غلط فہمیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔لغت نہ استعمال کرنے سے مطالعے میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے کیونکہ مشکل الفاظ سمجھ نہ آنے کی وجہ سے قاری جلدی بور ہو جاتا ہے۔

اس کے علاوہ علم میں اضافہ رک جاتا ہے اور زبان کی کمزوری زندگی کے تعلیمی اور عملی دونوں شعبوں پر اثر ڈالتی ہے۔