علم کی دنیا میں داخل ہونے کا سب سے پہلا دروازہ "لفظ" ہے۔ اور ہر لفظ کے معانی و مفاہیم تک پہنچنے کا سب سے معتبر ذریعہ "لغت" ہے۔ مطالعہ چاہے دینی ہو یا دنیاوی، لغت کے بغیر ادھورا اور ناقص رہتا ہے۔ جس طرح مسافر کے لیے نقشہ ضروری ہے، اسی طرح طالبِ علم کے لیے لغت ایک رہنما کا درجہ رکھتی ہے۔ اگر الفاظ کے درست معانی معلوم نہ ہوں تو نہ عبارت سمجھ آتی ہے، نہ مفہوم واضح ہوتا ہے اور نہ ہی علم کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلافِ امت نے لغت کو علم کی کنجی قرار دیا ہے۔

لغت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید کو سمجھنے کے لیے بھی عربی لغت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم فصیح عربی جانتے تھے، اس کے باوجود جب کوئی لفظ مشکل ہوتا تو اس کا معنی اہلِ لغت سے معلوم کرتے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مشکل الفاظ کے معانی قدیم عربی اشعار سے تلاش کیا کرتے تھے۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "لغت کی معرفت تفسیر کے لیے شرط ہے"۔ (الاتقان فی علوم القرآن، النوع التاسع والثلاثون، ج 2، ص 179)

لغت مطالعے کے دوران تین بڑے فائدے دیتی ہے:

اول: صحیح فہم :بہت سے الفاظ کے کئی معانی ہوتے ہیں۔ سیاق و سباق کے مطابق درست معنی کا انتخاب لغت ہی سے ممکن ہے۔ مثلاً عربی لفظ "عین" کے 20 سے زائد معانی ہیں۔ آنکھ، چشمہ، جاسوس، اصل، سونا وغیرہ۔ اب اگر طالبِ علم بغیر لغت دیکھے اپنی طرف سے معنی لے لے تو پوری عبارت کا مفہوم بدل جائے گا۔

سوم: علمی غلطیوں سے حفاظت :بہت سے لوگ صرف سنی سنائی بات پر یا اندازے سے معنی لے لیتے ہیں جس سے سنگین علمی غلطیاں جنم لیتی ہیں۔ خاص طور پر احادیث اور فقہی عبارات میں ایک زبر زیر کا فرق معنی بدل دیتا ہے۔ لغت ان غلطیوں سے بچاتی ہے۔ محدثین کرام کا اصول تھا کہ وہ "غریب الحدیث" یعنی حدیث کے مشکل الفاظ پر مستقل کتابیں لکھتے۔ امام ابو عبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ کی "غریب الحدیث" اس کی بہترین مثال ہے۔

دورِ حاضر میں مطالعہ کے رجحان میں کمی کی ایک بڑی وجہ لغت سے دوری ہے۔ طلبہ کتاب کھولتے ہیں، دو چار مشکل الفاظ سامنے آتے ہیں، سمجھ نہیں آتے، تو کتاب بند کر دیتے ہیں۔ اگر ساتھ لغت رکھنے کی عادت ہو تو یہ مشکل آسان ہو جائے۔ اب تو موبائل میں بھی مستند لغات میسر ہیں جیسے "المعانی"، "فیروز اللغات"، "اردو لغت بورڈ" کی لغت۔

یاد رکھیں، لغت دیکھنا کم علمی کی علامت نہیں بلکہ علم سے محبت کی دلیل ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جس نے لغت میں مہارت حاصل نہ کی اس نے علم کا ایک بڑا حصہ کھو دیا"۔ (مناقب الشافعی للبیہقی، ج 2، ص 155)

من جملہ یہ کہ مطالعہ اور لغت کا تعلق ایسا ہی ہے جیسا جسم اور روح کا۔ لغت کے بغیر مطالعہ بے روح ہے۔ ہر طالبِ علم کو چاہیے کہ دورانِ مطالعہ لغت اپنے پاس رکھے، نئے الفاظ نوٹ کرے اور انہیں یاد کرے۔ یہی طریقہ علم میں پختگی اور فہم میں گہرائی پیدا کرے گا۔ جو قومیں الفاظ کی قدر کرتی ہیں، وہی علم کی معراج پاتی ہیں۔