محمد
عثمان عطاری(مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
جوہر ٹاؤن ،لاہور،پاکستان)
علم حاصل
کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ مطالعہ یعنی کتابیں پڑھنا ہے۔ کتابوں کا مطالعہ اسی وقت
بامقصد، کامیاب اور مفید ہوتا ہے جب ہمیں ان میں موجود الفاظ کا درست تلفظ، معنی،
مفہوم اور استعمال معلوم ہو۔ یہ تمام چیزیں ہمیں لغت (Dictionary) سے حاصل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لغت کو علم و ادب کی دنیا میں
خاص مقام حاصل ہے۔ اور مطالعہ ذہن کو روشن کرتا ہے اور لغت اس روشنی کو راستہ
دکھاتی ہے
اور یوں
بھی کہنا درست ہوگا کہ مطالعہ علم دیتا ہے اور لغت اس علم کو سمجھنے کا ہنر سکھاتی
ہے۔لغت ایک ایسا علمی خزانہ ہے جس میں الفاظ کے معنی، تلفظ، استعمال، مترادفات،
محاورات اور بعض اوقات ان کی تاریخ بھی درج ہوتی ہے۔ آئیے لغت کی مزید اہمیت و
افادیت جانتے ہیں۔
الفاظ کے معنی معلوم کرنے میں مدد:مطالعے کے
دوران اکثر مشکل الفاظ سامنے آتے ہیں۔ لغت ان الفاظ کے معنی جاننے میں ہماری مدد
کرتی ہے۔ اور جب تک کسی مشکل لفظ کا معنی معلوم نہ ہو، عبارت پوری طرح سمجھ میں نہیں
آتی۔ اور اس بات کو درسِ نظامی (یعنی عالم کورس) پڑھنے اور پڑھانے والے بخوبی
جانتے ہیں۔ کہ لغت کے بغیر ایک استاد کا پڑھانا ناممکن کے قریب ہی ہے ۔
آئندہ مطالعہ آسان ہوتا اور وقت بھی
بچتا ہے:جو شخص لغت استعمال کرنے کی عادت بنا لیتا ہے، اس کے لیے آئندہ مطالعہ آسان
ہو جاتا ہے۔ کئی الفاظ بار بار استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان کے معنی ذہن نشین ہو
جاتے ہیں۔ یوں ہر بار لغت کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور کم وقت میں زیادہ مطالعہ
ہو جاتا ہے۔
درست تلفظ اور معنی کی کثرت:مطالعے کے
دوران بعض الفاظ عربی، فارسی یا اردو کے ہوتے ہیں۔ جب ہم متعلقہ زبان کی لغت دیکھتے
ہیں تو ان کا درست تلفظ اور معنی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ
ایک لفظ کے کئی معانی ہو سکتے ہیں۔ پھر موقع کی مناسبت سے ان الفاظ کو مختلف مواقع
پر استعمال کرکے ہم اپنی گفتگو اور تحریر میں نکھار پیدا کر سکتے ہیں۔
مختصر یہ
کہ لغت کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ نہ صرف مطالعے کو آسان بناتی ہے بلکہ زبان و بیان
میں بھی نکھار پیدا کرتی ہے۔ اگر ہم مطالعے میں لغت کی اہمیت کو ایک جملے میں بیان
کرنا چاہیں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ:لغت مطالعے کی جان ہے۔
Dawateislami