اردو زبان میں لغت کے کئی اقسام ہیں جو استعمال کے مقصد اور ترتیب کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ ذیل میں لغت کے چند اہم اقسام دیے جا رہے ہیں:

عام لغت:یہ عام استعمال کی لغت ہوتی ہے، جس میں ایک زبان کے الفاظ کے معنی اور ان کے مترادفات دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر:اردو سے اردو لغت،اردو سے انگریزی لغت

ایسی لغت جس میں دو زبانوں کے درمیان ترجمہ کیا جاتا ہے، مثلاً:اردو-انگریزی لغت انگریزی-اردو لغت

مترادفات کی لغت: (Thesaurus):یہ لغت مترادفات (Synonyms) اور متضاد الفاظ (Antonyms) فراہم کرتی ہے تاکہ مختلف الفاظ کے ذریعے اظہار کو بہتر بنایا جا سکے۔

تشریحی لغت:ایسی لغت جس میں الفاظ کی مکمل وضاحت، معنی، تلفظ، اور جملے میں استعمال کی مثال دی جاتی ہے۔

تاریخی لغت:ایسی لغت جس میں الفاظ کی تاریخی پس منظر اور ان کے ارتقاء کی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔

اشاریاتی لغت:یہ لغت خاص موضوعات پر مواد تلاش کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے، جیسے کتب، رسائل، یا دیگر اشاعتی مواد کے حوالہ جات۔

ان اقسام کو استعمال کرنے کا مقصد مختلف ہو سکتا ہے، جیسے تعلیمی، تحقیقی، یا عام معلومات کے لیے۔

مطالعہ کے دوران لغت (Dictionary) کا استعمال قارئین کی فہم کو گہرا کرنے، ذخیرہ الفاظ بڑھانے اور زبان پر مکمل دسترس حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ لغت محض الفاظ کے معانی تلاش کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ علم اور تحقیق کے نئے دروازے کھولتی ہے۔مطالعہ میں لغت کی اہمیت اور افادیت کو مندرجہ ذیل نکات کے ذریعے واضح کیا جا سکتا ہے۔

صحیح تفہیم: کتاب یا مضمون پڑھتے وقت جب کوئی مشکل یا نیا لفظ سامنے آتا ہے، تو لغت اس کا درست ترین لغوی اور اصطلاحی مفہوم واضح کرتی ہے۔

سیاق و سباق کی تفہیم:ایک ہی لفظ کے کئی معانی ہو سکتے ہیں، لغت مطالعہ کرنے والے کو یہ سکھاتی ہے کہ جملے کے سیاق و سباق کے مطابق کون سا معنی موزوں ہے۔

نئے الفاظ کا سیکھنا: لغت کا باقاعدہ استعمال قاری کے ذخیرہ الفاظ کو وسعت دیتا ہے، جس سے اس کی اپنی تحریر اور تقریر کی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔

تخلیقی صلاحیتیں: الفاظ کا وسیع ذخیرہ انسان کے دماغ کے خوابیدہ حصوں کو متحرک کرتا ہے، جس سے فکری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

مطالعہ کرتے ہوئے اگر لغت کے الفاظ ذہن نشین نہ ہو تو خرابی لازم ہوتی ہے۔